Skip to main content

Full text of "Dars e Nizami Darja Sabeaa Maoqoof Alai 7th year"

See other formats


١ جلرروازدگم‎ ۱ 


الرکتاب الااراتتاکتاب العغصب 
رف ۱ 
١ 7‏ 0 9ك 
ش اما زار ۷ بح یل فان غیان 
تلع تھیْل‌عنوانات وٹخریج 
ای یی دم یں مل اصیب تمانی صاحب 


اقرا سن غڑف ست .ارد ازاز لاهو ر ) 
:355743 37224228-37- 042( 


ان ان و ان ان تل ا رکز ون ف کا ری 
می ںکرسکتا و کر ہو نے وای تیو ں کی ج داصلا کے لی بھی مار ےادار وش تقل شع ائم سے اور 
مس یبھ یکا بکی طباعت کے دوران انلا کی رسب سے زیادو راد عرقی ریو یکی ہا ےم 
کہ رسب کام انما نول کے پاتھوں ہوتا ہے اس لیے پل کی کی کے دہ جان ےکا امکان ہے۔لہغرا قا رین 
کرام زاریش س ےک اکر ار یکو یی نظ رہ سے تو ادار مکیلع فر ہا دی اکھد و اشن ٹیل ا یکی 
املا ہو کے مکی کےا کا م شآ پکا تواو ن صرق چارےہوگا-(ادارہ) ۱ 


اود 

اجارے میک سکیسا ہونا چا ہے؟ 

۱ و ین کف سورس ۱ 
باب الأجر منتى یستحق 

ابر تکاوجو بکب ہوگا؟ ۱ 


شی بنا وا ےم ردورو ںکی ا جرت 
کون سااج رچزرو کک ے؟ ۱ 
چ رکد روک کین وا اجر 
ا2 پل خودکرن ےکی شرط ۱ 
فضل أى هذا فض فی بيان اسحقاق 
بعض الأجر 
| جو ی لک اج ت کیان 
٠‏ | باب ما يجوزمن الإجارة وما يكون 
| کایہدارکی اکا م کت ے؟ 
۱ زرگ ز کناچا ے دیا 
إ۱ رداراشی کے لاف ال 


جانو رگا ڈ ی ےرایس سا ما نک لیت 
کرای لی موی سوار یکی بلاکت 
زیا دہ مہات ےکر ےکی صورت 
وار یکی کا بد ل د ےکم 
عزوو راگرراستہ پرل جا ےلو اک ۴ 
گند کی ما ےہر لو ں کی کا شت 
درز 1 رحاباںل 

باب الإجارة ة الفاسدة 
١‏ فماداچار ۃکی وج بات 


| سالا ت ذیادوں پکرابیداری 

مام او ھن لگان ےکی اجرت 

| دی کا موں ا جرت نکممان 

آلا تیاہووا بکااچارہ 

رکچ اجار ے پد یا 

دودھ پلا نے وا یکی ا جرت 

۱ برت رصت کی وکیت 

دال ڈ مدا یال ادرف 

قق ریا کا ستل 

اجار هک پا ای صورٹیں 
فت کے پر نے منفع تکااچارہ 
ایک شیک در ےک ار نکاے؟ 
۱ زین کےاجار ےکی ایک ورت 


باب الإجارة على أحد الشرطين 
| ووشقوں یں رار اچارہ 

| رورتڑں مل دار اہارہ 

کا مکی کیت کےلحاظ سے اجار ہکرت 

| باب إجارةالعبد ‏ 


ا الاختلاف 
| اچ روما کک کےودریان اخلاف 


! باب فسخ الإجارة 
جارخ کر کیان 
ا ارے نود و ہونےکیسورت 


| اجارے میں ش رط ضار 

رک یناب اجار ےکا 

| کار وبا رشپ ہو کی صورت می ںکر ا ےکم 
| 


ارک ایک صورت ۱ 


]2-010 و 


رکم تکی ایک عمورت 
کیادداجارے ٹل شال موک یں ؟ 
ہی سیت 


تج و ری الاک 1 
و ر 


6 e 


۶ کت5 
تچھوے ےک مکاحبت 
روط مکا قب تکی صورت 
فلا مکی ذات پر مک تب تکااڑ 
مکا تہ بائ دک یہ ماکان اضر ف کیان 

فضل فی الكتابة الفاسدة 
77 اشا کے بد نے میں مک ہت 
ل خراب ہون ےک صورت می سآ زاو یکام 
قراب ہو ن ےکی ورت ںآ اد کا گم 
کن چیا تت 
ای خا ی رط بر مکاقبت 
ین انور پمک تبت 
عیسا کی غلا مکی نم رب کا تبت 

باب ما یجوز للمکاتب أن یفعلہ 

مکاح کارا راتا ر ۱ 
2 2 رط رایت 


ہیں کس 
ماب کے پا نرگان 

ا لکیت س کو 3 کم 

خطاوارغلام یکتایت 

مک موس 5 


ا ند یک زاد پک رمیا کرم 

| کل نے دا بانری ہاگ م 

مکاتبہ با ندکی کے م رجا ےکیصصورت و ۱ 

٘ ولاءکی دو ںکابیان 

ولا ء5 ا 

ولاء یں شر طکایان 

فلا کی باتری ےشادی 

پزگور وصورت ٹل ولا رام 

عر بکیآ زاوکردوبا لے ٹ۱اں 

ولا خا حصب ے 

موی اورغلا مکی بار تیب وفا تک ۴م 
فضل فى ولاء الموالات 

ا ملام لان ےکی ولا موالات 

موالات ں درجا تک اغتار 


ون پا ام 2 سح 31 4 


کے 
اکور مت ےکا خلاصہ 


ام ٭ 


ادا کی میں خی گم ۱ تہ 


ا فا پ4 باندی ا کامیان 

| فصل فی حد البلوغ 
کی اورا ابا نکب کے ہا یں گے؟ 
ریب الاو چ اام 

ارز اداورت ٹین رسالت پر اکراہ باب الحجر بسبب الدين 
ملمان بھاٹ یکا ما لت فکر نے پراکراہ کال مت یٹ کے مال کابیان 

یوی کی طلاقی کو رکا الت افلاسل می عد لو نکاترار 

کیل لاق براکراہ ٣‏ | تروش کے ل م 

ار اد ړا راہ شی ت کا اپار دلو نک چ کنا 

مرو کے پا ی ری مو چز 


ر : رر 5 
یناب احا م راو را مہا بے کے بیان شل ہے ١‏ ڪا الجاذؤن 
5 کاب احا م ماذون کے بیان ل ے 7 


ماذون فلام ا6ا م 
عحب مازون کےصرفات 
کید باذو نکی متیراجازت 
اؤ ن کےا ہت ہوگا؟ 
عحبد مازون کے انختیارات 
پد ازو نکااندازتچارت 
|r‏ عبدماذون کے رضوں کم 
پیت دک کے بارے میں دوقاضو ںکااخلاف عبدماذون کے ر ضو ں کم 
| ےو فلا لب دیاچاے؟ 
| بوژ انلام اورمحا لا تک پابندی 
کرو رکا رار 
رضوں میں ڑوپاہواظلام: 
ایے فلا مکا مو لی ے معام ل بدوفروشت 


و O‏ اد تا رت e‏ 


سپ ا 

زور فلا مک یآ زار - 

مرکورو فلا مکی کن 

موی سے اب ہو ےکا مسلہ 

اذ ن تھارت منرم ٘ | مفصو ہز ن کارت وخ ردبتانا ۱ 

"أفصل ای هذا فصّل فی بیان احکام إذن| اضہٹ:پڑےلرگ/دیا 
الصبى والمعتوه ٰ : 

بدا کے ماللا کم 


3ے 7 
اس 


یکنا بقصب کے بیان ٹل ے 


فصب شد ہچ ز بلاک ہہو نے کایان | فصو چ کے ماع کاضان ٠‏ 


خصو برچ ےک داہی و ا فضل فی غصب ما لا يتقوم 


قو لاورغ رقو ل اشیاءم فص بک وضاحت رتوم اش مکاخصب 
فصب شد کانقتصان ر 
غص ب شر قول چ رک بلاکت 
فصب شر و غلا مکوکراۓ پد ینا 
فصب شره 4 ۶ 1 رز دا رت 

فصل فیما یتغیر بفعل الغاصب 
غصب شد ہچ کاتبد بی کے حدم 


م۳2۰۳ 


rrr: 


rrr 
rro 


م٣۷‎ 


rrq 
fn 
rrr 


rer 


rra f 
2 


ra» 
rar 
rar 
۳۵۵ 
ے۳۵‎ 


۹ 


| ج 


سم 


rra 


و انال برم کک ہو UL er AER‏ 


ال سے پیل اب امان کیاگیاےءکیوکلہ ہیس اعا نکی تملیک مون ہے ادراب اجار کو ییا نکد ہے ہیں ال 
ےک اجادہ میس منا نکی لی ہو ے اور اعیان منانح سے مقدم ہوتے ہیں اک لیے صاح بکتاب نے ب ہک اچارہ پر مقدم 
کے یا نکیاے۔ ٍ 

اجارہ کے افو کن ہیں :اجرت کر امنا ع کی ری _ 

اجارہ کے شرگن ہیں کسی سے گوس اورا جرت نےکر اسے متاح اما کک بتانا۔ 
الإجارة عَقد يرد على المتافغ بعوّضء ان لإِجَارَة في اللغة بيع المنافعء وَالقیّاس يَابٰی جوازۂء لن المعقود 


رووور9 9ار 9 


ھک رگ ے کس 7 ن3 ت لس 7: ق۵ ے۔ د2“ ا و 32 م 
عَليه المتفَعَة وهي مَعْدُوْمَة وَاِصاقة اميك إلى ما سَيوْجَد لأيصح إلا آنا جَوَزنَاه لَحَاجَة الناس إِليْه وقد 


ارد صظ ور و ا 1 © 9ر 92)9۴ 5ر2 7 O0‏ عا 
سهدت بصكتها اک وهي ره اق ((اغطوا الجیر اجره قبل ان يَف عرق»»» وَقوله “ اتا 


7 وسے ‏ > دیس بود وں ٤2ے‏ می ےا 2 یی و 2 0 2ے 27ےے ور رہ ہی 
((من استاجر أجيرا فَلَیعِلمَةُ َجْرَه))ء وَیَنعَقَد سَاعَة فَسَاعَة على حَسٗب حَدَوْثٍ الْمََفْعَقہ وَالڈار اَقْمَتُ 
ہے ت 9ر ےرل 9ے یں ےر ٹرڈ کور روہ 9ور ووو ۶پ ےر ر2 رو ےر ںی ر ۔ 0 
مَقَامَ المنفَعَة فی حَق إِصَاقَة الْعقد ليها ربط الإْجاب بِالْقبول ثم عَمَله يَظھَر في حَيٍ المَنفَعَةٍ تملگا 
روہ روا ھا و عو او و و کر و 0 :- 7 و و ر دلو ٭ ے اود ےئگ د۴6درےگ5گ,ر ےد ص كت 
وَاسْتَِحْقَاقًا حَال وجو المنقعةء وَلَايّصح ختی تکونَ المَنافع مَعلومَة والاجرٰة معلومة لما رویناء ولان 
ا 2ے ود ۔>+ھ5 2-27 وو دي و ےے ۴ ۰ ا دو 
الْجَهَالَة في الْمَعقَرد عَليه وَفی بده تفضي إلى الْمََارَعَة كجَهالة امن وَالمعمَنِ فی الع 
ٹر چه: اجار ایا عت ے جوش کے ات متا روا موتا سے اس ل ےک اغت می منا کی ئ کواجارہ کچ ہیں اورتیاں 
اس کے جوا زک مگکر ہے ا ل ےک تقو وعل مفحعت ہے اور بوقت عقد وہ معدوم موی ہے اور جو جن پائی جانے والی موا کی طرف 


1( ہے بر9 READ‏ اکا م اہارات کے با نل .7 
تلی ےکی اضاقت کچ نیس ہے تا ہم اجار ہک طرف لوگو ںکی ضرورت کے تیش نظ رہم نے اسے جئار دیاے اور اعاد یٹ کی ا 
کی کت پردال ہیں چنا ئ ضرت رسول اکم کا نے ارشادف ماک مرد رکا پیینرخنگ ہو سے سے پل اسے ا لکی اجرت دیدو- ۱ 
دور چ ارشا اک ولس سرن سے اس 
اور متاح اکل ہونے کے اتپا ر ےا ہار وھ یتھوڑاتھوڑامنعقہوتا ےا ورگ مک طرف عق رک اضاف تک نے کے جوالے سے 
اسے فصت کے قائم مقا مکرد یا گیا ہے کاراب تبول پر مرب ہوتا رہے۔ قد ا کاک منقعت کےا جس با کک سے اور 
ا ےت و ا از 
عق اپار اک صورت میں ہا جب مزاح معلوم ہوں اوراہجرت معلوم ہوا ی صد ی ٹک وجرے جو ہم روا تکر کے یں ۔ 
اوراس ل ےک حقو دعلیہ اور کے بد لک چہاات "فی ای امنا ہے جیب من اور کی جات ھی الی النزاحے۔ 
اللَات: 
یرد ہہ واردہوناءآ نا - ڑعوض پہ برل ڈ ابی بہ انا رتا ہے۔ اباءکرتا ے۔ ظامعقود علیہ چڑ عق ہوا 
ہو۔ چ(یحف ہہ تل ہوا عرق ) پيد إساعة فساعة 4 قاذ ق E‏ »ناء 2 0-تفضى یب 
نا ء باععث ہو نا ظا الٹمن ہہ نع - 
© روہ ابن ماجہء رقم الحدیث: .۲۰٣٢‏ والبیھقی ء رقم الحدیث: ۱۱۹۸۸. 
9 روا البیھقی. رقم الحدیث: ۱۱۹۸۵ و ابن ابی شیبہء رقم الحدیث: ۰۹. 
اجار ہک تښ او رحفیقت: 
صو رت مسل ہے ن ےک عق اجارہ ٹل ما لیک گن اورا جرت ےکر اپنی یت کے ماح کا دوس ر ےکو ا 7 کر چو 
کہ اوقت عقر سب دعلیرمعدوم ہو سے اورتقودعلکا معدوم مون کی عقر نے مال ےء ای لے تیا ارہ درست : 
نیس سے کن لوکو ںکی ماجت اورض رورت کے کی لظ را ے جا قر ردیل گیا سے »کوت ضرورت کے تحلق ہے ضا یل کہتہمشبور سے 
”الضرورات تبیح المحظورات“ بج راحادریٹ می کی اچ راو رمزدور کے تلق پالم بیان کے کے ہیں مجن سے اس با تک 
ایت ہ ےکہاجارہ درست اود ہا ہے:(ا) کی عد یٹ ہے ے اأعطوہ الأجير أجره قبل ن یجف عرقه “کی مز دو رکا پر 
نک ہو کے سے پیل اسے اک کی مدو ری دے دو (۴) دوسرکی جگ اشاق دی ہے جو کی مزدورکواجرت بر کے اسے چا ہے 
کک مدو رکو ای SEO aE Sl‏ کا ہےکہاچارہ 
درست اور چا ہے الہنتہ یشرو رک س ےک اچارہ کے ھوانے سے بیا نکر دہ احکا مکی رعایی تک جائۓ- 
وینعقد ساعة فساعة الخ الک مکل یہ ےکک ط ررح پیکبارگی اد یلت متا رکو تفع یں مت امیر ہرگ 
اپار وکگی ثاب ت کٹا ہوتء بک کے اعتبارےتھوڑاتھوڑ ا بھی خابت ہہوتا ہے اورااکی سے برقا نون اخ کیا چا کا ےک ہاگ اجارہ یر 


ر ابلط بک ھجڑ ھی RR‏ رع e‏ 
پی مول چڑکی فصت ونوں کل ہو ا کی اججرت مکی کی دفوں میس داجب ہوگی اور موج کے لے ایک بی درن لور ےکک 
اجر یکا مطال کنا متاس ب یں سے (شارح فی عن) ۱ 
والدار أقیمت الخ 21ت ےکوی مکان اچارہ پ لیا و اہر ےک مان کی منفع تآ ہت ہآ بست حاصل ہوگی ٠اس‏ لیے 
نس دارج یکومضفعت کے ام متنا مک ر کے ا یکی طرف عق کی اضاف تک ردک جا ےکی ال ل ےک دار اور رکا بای منفح تکا مبب 
ہے اورسب بکومسبب کے تام مقا مکر کے پچ کا راست ر الاش اعت شی درست اور چا تا ہے اور ایا کر نے سے ایچاپ اورقول دووں 
یں تریب اور مطابق کی پیا مہا ےکی اورک یکول کشا کوک موتح نیس ے ےگگا۔ادر اجار ٹل وقت عقر بی سے متا رکا 
اخحقاق یں ہوگاء بک جب منفعت موجود موی تو ایک اتی اسے اختراق او رجمیک نات نل کان وولوں کی ین 
گی۔ اس کے برخلاف تع رفس عق ہی ےم شت ر کی ککیت خابت ہوجائی ہے اور ا یکا قاق نکی ادا کی کک موز 
کا ہے ۳ ۱ 
و لایصح الخ فراۓ ہی ںک عق اہارہ ٹل ج ب کک مان اوراجرت دونو معلوم اور ن یں ہوں کے اس وق میک عقر 
نیس و کوک حدیٹ من استاجر أجیرا فلیعلمه انز بس اجر کی تل کو لا زم قرا دید یاگیا ے اورپ راگ رمحتو دعلیہ 
ول ہو یا ای کے پل یں ا جت میس جچہالت موتو ہی چہالتمضضی الی النزاع ہوگی اویمضصی الی الت زار ججاات مض ر عقر مون ے 
یک اشن کے بول ہونے سے عق رک فاسدہوجا ا ہے ای رح منضحعت یا اجر تک جہالت عقر ار ہک ےڈ و ےکی ۱ 
اجار أن يكو کمن في اليم جار ان َون اجره في الإجارة لان الاجر َم الْمقَعةِ هر يمن 
ٹر و ہے رو۶و رظ رواو ۶ررےعھیروھء ے در ےر 9 د ےے ر a‏ اھ 
لمیع ومَالأيَصلح تَمَنا يَصلح اجرة ایضا كالاعيان قهذا الفط لاينفي صَلَاحیَة عَیْرہء لان عو مَاليء 
والْمتافع تاره تَصِير َعَم بالمُدة ايجار الدُور لِلسُکُلی وَالرْضِيْنَِلزَرَاعَة صح الکقدُ على مدو 
مَعلوْمَةٍ ای مدو گاتٹ» ا الْمدَةَ إا گائث مَعلوْمَةَ گان كدر المَفَعَة يها مَعَلوْما إِذَا انت الْمَفعَةً 
اََتقَاوَتُ, وَقولَه ي مو گات إِفَارَۃإإلی ائه َجُوْرُ ڪاِ ْمُه از صرت لگونها مَعلَوْمة وََِحَقُي 
لَحَاجَة ليها عملی, 9 آي في ا قاف لَامَجُوْز جاه الڪريلة گي لايعي الْمُستاجر ِلگھا وهي کا راڌ 
على لث يِن َه محر 
رزچه: چچ کے ن ہوکتی ہے دہ اجارہ یں اجرت م نکن چ ای س ےک اجرت تفع ت کان موق ےلپ اا ےئ کے 
ن تا کیا ما ےگ اور ج چس یں ب کن ووک اجرت یکن ے بے اعیان ۔ اور لفظ باچاز دوسرے کے ےک 
صطاخی ت کی کرجا اس س ےکا جرت مال قوش ہے اورمنا لم بھی رت تتانے سے مھلوم ہو تے ہیں جی ےگھرو نکور اش کے لیے 
دیااورزیٹو ںکوزراعت کے لیے دبیا ڑا عقر علوم مرت پر ہوگا وا کی می مت ایل لیک جب رت معلوم بوک تو اس 
.ہیں مقع تک مقرارکھی معلوم ہوک بش ی منفعت یس ناوت ہو . 


ج E er SAL DIOR D4 Ha‏ 
اورامام تد ری لپ کا تول أي مدة اس با تک طرف اشا ہے اجارہ برصصورت جات ےخواو مرت لی ہو تہ 0 
رت معلوم ہے اور بدت طوی لک ض رو رت سلم ےکن اوقاف اا ر طویلہ چا ہیں ےرت چ وف متا جر لیت 
کادگوکی نکر کے ۔ اور دت طو یل ہے وہ مدت مراد ے چون سال سے زا ہو می متارے۔ 
جاز کن ہوناء ہوسکناء صلاحیت رگھنا ۔ ڑا لاعیان پچ مادکی اشیاء تار ی ۔ ل(استیجار کہا پر لیا 
الارط ین کہ زمشیں۔ [تعفاوت تالف ہوناء غار ہوا لإقصر ت ہونا۔ لإعسی )شای ۔ کی لا یدعی کک 
وو ‹ رار 
اجارے می کپ کیا ہوا پا ے؟ 
صورت لہ ےسب ک اجار ہکی جواجرت ہولی ے ا یکی یت ی کے نکاىی ہو ے اداج زی کان ہکن سے وہ 
روش اجرت بی نکتی ہے کے نقدی اورکیل دموزون چززی یز ج یع اش نیس مکی دوھی دروم اجرت مرک سے 
یس منفحعت س کن یں ب کن لیکن اسے اجرت بای ہا کا ے یا جیے دہ اعیان ہیں جو زوا - ت الامشا لیس ہیں شلا وان اور 
کپڑڑے دفر ہک و یں بن کے یکن ان کے ارت بے مم کوٹ پان یں ے۔ای لے صا حب راقرا ے ہیں۶ ام 
نر ورک وماجاز أن یکون ٹمنا یا نم کے ساوزاس سے ممقھوڈہیں سے ر ج طط E RE‏ 
والمنافع الخ اتل میس جومنانح ک ےی مکیصسحت اجارہ کے رور ی قراردیاگیاہے بیہا لی سے ا لک قشم لکرتے ہو ئۓ 
صاح بکتاب ہر ماتے ہی ںک ماح کےمعلو مک رن ےکا ای ےکی او رآ سان کر تہ می ےک اججرت پک موی نکی مت اجارہ بیان 
کروی جاۓ اور ایک ہہ نامہ ہنوالیا ا ل OE ES‏ وضاحت 
ہوجا ےگ تو نفع بھی معلوم ہوا ےکی بش طییکل اورکام کے تیار سے اس جم ں ناوت نہ ہوتا ہو یکن اگرکل کے اتقار سے 
او تکا امکاان ہو برت اارہ کے سات نویک کی وضاح بھی ضروری ہوگی۔ نل اکر زرا عت کے لیے یک سا لم یکو 
زشن اجارے پے فو نوحیت زراع تکی وضاحت ضردرکی سے اس ل کہ زرا عت کے الف شت ہیں اور ہر رشت ےک نے ایک 
دوہرے سے منفادت ے۔ 
وقوله أي مدة الخ ا یکا ال مد ےک مت جیا نکر نے سے اجار ہج ہوچاتا ا ہے اہ دت اجار م ہو یازیاددہ ای لے 
کہ بس اقات ھت مد ید کک کے کی اجار دکی ضر ورت درکار ہوٹی سے ال یکی الا طلاقی مرد تکا اجارہ د وک الت اہتاف 
میں گی سن تین سال عزارت٤ااول‏ خ ت یرتک ہی رکا ری لیت ہوئی ہے اور مستا جاک پر ماکان وگو یکر متا سے» 
الاک اوقا فک مایت و رات کے لیس بی تین مال سے زائدکا اجار ہیں ہی 


جم ےہک سم ہہ ےس ججچيسيسًى یس ہے سے 
قال وتارة تصیر مَعَلَوَمَة تیم گن اجر رجلا لی ضبع تر ار اوآ اجر يتيل علق 


27 سے ہے ب‎ ET 


يدارا معلوما و ير كبها مَسَاقَة سَعَاھَاء أنه إا ين الوب ب وَلونَ الصَبْغ وَقَذرَه جنس الْخياطة وَالقَدر 


DL‏ سے ھت 
الْمَحْمُولِ وَجِنَسَة وَاْمَسَاقَةً صَارَتٍِ المَفَعَة معلومَة فَصَع عفد ريما يقال الإجارة قد يحون عَفْا على 
لعل سيار الصا وَالَْیَطِء ول بد أن يَكُونَ العمَل مَعْلوْمَا ذلك في الجیْر امرك وقد يَکُوْنْ 
قدا عَلی الْمَنقعَةِ گمَا في ایر الَرَاجلِ» ولا بد مِن بيان الوَفْتٍ . قال وتار 5 تیر المَفعَة مَعلَوْمَة با َة الین 
وَالإِشَارَةِ گَمَنِ اسَتَاجَر رجلا ا بان يفل لَه ها الطَعَامٌ إلى مضع علوم 7 إِهَا ارما وَالَْرضِع 
لذي يحمل اِليه كات الْمََفَعَة مَعلوْمَة يصح الَْقَد . 
تنچہ: فرماتے ہی ںک :کی فس عقد ہی سے منانع معلوم ہوجاتے ہیں کے کی نے ایا کپار نے کے لے کیکوا جرت پررکھایا 
لے کے لیے رکھا کو سوار یکر اہ پر لی کہ ایک معلوم اور تین مق دار اس پروزن لاد ے کیا ج نکردہ مراف ت کک ای ر 
سوا ہوگا۔ اس لی کہ جب متا ج رپ ےکوء ر کے کے رت اور ا یکی متت را رکوہ سلا یک یج کو اور لاد ن ےکی مقدار اود ا سک یجن کو 
اورصاف تک ییا نکر د ےگا تو ہنع تبھی معلوم ہوجات ۓےگی اور عقر ہوا ۓےگا۔ اور ی کی کہا اا ےک امار وگ بی وات 
بوتا سے ییسے وکو نی اور درز یکواچارہ یر ینان اس صورت می ہم ل کا معلوم ہوا ضروری ہے اورعق ی امل ابی رشت رک میں (زیاوہ) 
ہوا ے بھی منفعت پراارومنعقہونا ے کے اع نوک یس ے اوراس م بس وش کی صراحت ضروری ے۔ 

فراتے ہیں بھی شی نکرنے اوراشارکرنے نے مخت معلوم ہو ہے یی ےکی 0 +۸) 
ھا کہ وا ین ینک اچاد سے ا ےک جب متا سے زوش کر ےکی کلاپ مخت اد ای 
ا عق ہوجا ےگا۔ 
اللَات: 

ات ےصبغ گے پڑ ےکور ۔ [خباطة لال لداب پ پاپ جاور ڑمسافة مقر ر مقار اور عد_ ڈڑالقصار ہہ 

رعو الخیاط پ4 درزی ۔ ڈنل ق لکرے اٹھا ئے۔ 
1 اجرتاورنل ن ہون ےکی مغلف صورتیں: 

مضقعت' “علو مک ےکا ایک ط ربت بال میں جیا نکیا چ اور دور سے ال عبارت می بور یں گی ایا ہوتا س کسی عتتد می 
سے تفع معلوم اور ین مو چان ے اورا سللے یں ت اون کی ضرو ری ہوئی شلا ایس 0+02۶ 
موا ات la Se‏ نز رای اکر اور رک اورا یکی مقدار ہیا نکر وی۔ کیا 
لے کے لیے درز یکواجرت پر لیا اور لای کی نوعیت ص4 سلتا ہے۔ یا بار برداری کے ےکوی چاتور یا 
وای را انان ا ےا سکیس( نہ اج نے )اورا ر( وکل ے یں )یا نکر دی و اہر نان 
ناو ںکاصراحت ادروضاحت ے خودو تخت معلو ےکی اراک چات روز رش کی طت صاف ہرک چا سے 


کی اورعق د سح تکا راس تب کیک رہو جا ےگا۔ 


9 اہك برا 7ور تب .7کک ام اجارات کے مان مم 
وربما یقال اللخ اکا مال ہہ س ےک امار ہک مو ید یشمیں ہیں () کشم اجار وع امل ہے ۲ )اور دمر اچارہ 
لی افع _ یمم کی شال ىہ ہے یی کول ٹس دو لی یدرز یادا رت پ سے ای می وش مستائجہ عو لی اور ورز یی ہوں گے 
کا نکئل ہوگااس نی ا سکیصسحت کے لکل او رکا مک معلوم وشن ہونا شرط ہے اورا تم مس اتی رعام ہوتا ادر ہرکوئی ال 
برع عزوو ر کوک رکا مکراتا ے۔دوسر یک مثال بے جی سی کاکو تسو ٹوکرہواوراس کے ملک مو کی ضعت اک اک 
کو حاصل ہوا ییے اچارہ مل مرت اور وق کی مرحت شرو رک ہے کہ "نفعت اور اجر یکا ساب لگانے میں دشواریی نہ ہو_ )٣(‏ 
مقت کے معلوم ہو ےک تیر طریقہ ےس ےک متا جک لک یکرد سے با نکی طرف اشا کرد سے تی ےای مل تر رکھا ہوا 
ہے اوت ب نے عزدور ےک اک ےا فک یرس ےگھ رس قلا تک پٹینا اھ رہے کے اک روشا حت اورم راح 
کے و EY‏ گی اور جب منفحعت معلوم ہوجائۓے گی اجر بھی معلوم وما سے گی اورا جن 
رعق ہوجاےگا۔ و الله اعلم وعلمه أتم. 


44 


Er SORE عوجر‎ i ر‎ 


ہے باب اقا اجرت کے وفت کے مان میں سے 


ارت کا اتتا عقداجارہ کے !عر ہوتا ہے ای لیے صاح ب کاب نے عقد اہارہ کے بیا نکو ا ختقاقی اجرت کے بیان سے 
پچ میا نکیا ے۔ 


قال تا و یج رو و 
و 


ا باستيفاءِ الْمَعقوِ عَليهء وَقَالَ الشافعي رید تملك بنفس الَْفْدِء لن المَافع المَعْدُوْمَةَ صَارّثْ 


و و 


ہے اہ وت گر تھ A‏ رلا أن الَقَد ينقد شيا فَسَیتا 
على عَسْبِ خُدُوْتِ المتافع على مَاييناء وَالْعَفد مُعَاَصَة وَمِنْ لضِيّھا المُسَاوَاة فمن صَرَورَة التراخي في 
انب المَتفَعَة الترّاخي في ادل الأخرء إا استوفی المَفَعَة يغبت الك في الجْرَة لمأتي اللَسویَة 
وَگذا ذا شرط العْجِیْل أوْ عل ت ر سرطب ان ال تل رت اك > وَإِذَا قب 
المُستاجر الڈار فَعَليْه قعليه الاجر وَإِن لم یسکٹھا هاء أن تَسْلِيْم عَين المْفعَة لايتصور اتا تشيم المَحَلٍ ات 


EOE‏ ر لا تَسلیمالْمَحَلِ إا اقيم 


مَقَا م تَسلیم الْمنفَعَة للعمکن من ويفا ع 55ا قات المکنْ قات الَسْلیم وَانْفَسَمَ مخ العقد فیسقط الجر . 
ارچه: فر نے ہی ںکہ(اجارہ می )فس عقر سے اج یں داجب ہو ہیں بانوں ی ےکی ایک کے سے جاتے ' 
ےاج تکا اتان :وا ہے(۱) خواءاجرت گی لی کی شرط کدی جاۓ (۳)یابدون ش امت ج شی دے دے( )ی متا جر 
اورا قووعل ی ہک کر نے .امام شاق لٹ فر ے ہی ں کرس عت ری ے اجر ت موجرکمملوک ہو جا ےکی ال اك عق رل 
ضرورت کے کیش نظ راچارہ کے محدوم مناش غکوعکرأ موجود مان لیا چاتا ہے اپا ای کے مقائل جو پرل سے اس یں کی ورا عم ایت 
ہوجا ۓگا۔ ہار وکل یہ ےک متا کے ہآ ہت ہمحر وجو شآ نے کے اختبار سے عق اجار ہچھی وت ر ے دم رے عقر ہوتا 
ہے جی اک ہم جیا نکر کے ہیں اور چو لک تقد عق محاوضہ ہے اور موا وض رماوا ی ےلپ ا فصت می جا رہونے سے 


7 آ ا بل لر 0) EOLA SODPUER‏ اام اجارات کے بان س ۹ 
لجال بدل خای ن اج رت می کی رہوگی۔ ہاں جب مت جرمنفعت وصو کر لگا تو ا چرس می موہ رکی ایت ایت ہو لئے 
کو ےن ہوجاۓے سر تر ےت وت 
اتزت میں فور مو رکی یت خابت وچا ےکی یوگ ماداس متا رکا عم ب نکر اہ تھی عا لاہ ال نے خودا سے پاط لکردیا۔ 

اگرمتا جر مکان برقا ی وجا ےلو اس براجت واجب ہوجام ےکی اکر چ روہ ال ٹل د ہنا ش روغ کے کیرک مین منفعت 
کب وکرنامنک نہیں چ زا م نگ یکی لیکن منفع تکیتلیم کے قاع مقا م کرد یا چ ای ریکل یلیم ےن کل 
ےی ت وال 

اگ رمتتا بر کے قضہ ےنا صب نےعین متا جم رقص بکرلیا او ا رست ساقط مو چا ےکی ءال ل ےک اقا قد ر کی غر 
ےھ ضمت کے ام کردا با ےن جن تہ وی لی فت کی اتر ی اا 
کی ساقط وچا ۓگیا۔ 
اللغأت: 

فإتستحق ہہ اتقات پیا ہوتا ے۔ م التعجیل ) جلر یکرن۔ استیفاء ) لرا ورا وضو لکرنا_ لإقضية 4 تقاضاء 

مال ڑالمساداة) برابر سرام ہوا لالت ر اضی چ دیرہ کل :تقر م[ العسویة) بام برا رکرنا۔ فال مکن کے اغا ررکناء ‏ 
مرکا الفسخ )مونم ہوا۔ 
اج تکا وج بلب ہوگا؟ 

صورت مہ یہ س کہ ار ے بیہاں اچارہ س یں عق بی سے موہ فی اہر ت نہیں ہوتا بل جن بانوں ج تن 4 
بات کے ہا جانے سے اجرتکااخخقاق ہونا ہے (ا) پا مور گی اجرت لی کی شرط کا ے(۴) یا شرط گے ای متا خود 
یٹ ارت نے کت .( )ی ماع اس کر لےان یں مھ سے چاو بات ہگ حب متا جم ہا جرت لام می 
اوراں وقت موہ رخ ا جرت بے گا۔ ال کے برغلاف امام شای ولچ ھی کے بیہا یں عقد ہی سے مو خی ارت ہو جانا ےہ 
کیوئک قد کے متاح ا اگ چظاہ معدوم ہوتے میں کن مع اور عق دک ضرورت کے تت جک یں موجود مان لیا جات ےءپزا 
جب منانع را موجود ہو گے تو منفعت کے بدل لی ا برت کےبن ہیں کی انیس موجودقراردیا جا ےگا اورعقد ہو کے بی موم ری 
ا جت ہو جا مۓگا۔ 

مار ول ہے س ےک عقر اجارہ س ماح آہتہآ ہہ وصول ہوتے ہیں "برا مناخ کے اعنبار سے ار تگگ یآ ہت ہآ ہتہ 
واجب ہوگی اوس عقر ے کیا ا و ا ا ےئ کہا ری اتس واجب موی »کوک عقر اجارہ 
عقر معاوضہ ے اور محا وض مل مہا وات ضروری سے لہا جب معت سرا آہتہ وصول موی تو مراوا کا تقاضہ ہے ےکہ ا کا 
برل من ابر ت کی آ ست ےآ ہت وصول ہو او ر یی پادگی واجب نہ ہو۔ پال جب مستا جر بوری مشقعت وصو لکر نے تو اس پر لوری 
اجکی داجب وگ ءال ل ےکر اب پورگ اجرت واچ بکر نے یں مساوات ہے۔ ائی طرں جب ی لکی شط کے ساتح متا جر 


2 انال 27 EAA SOIR‏ اتکاماجارات کے مان یا پچ 
نے عقد اجار ہکیا ادن شرط کے یی انس نے ارت اداکرو یا و ان دوٹوں سورتوں کن ا پر ار اجرت واجب ہوگ٠‏ ال 
ےک ہمساوات متا کان تھی کان اس نے موی رک ش راقو ل کر کے با بدو ن شر شی ارت د ےکر ابا یق ساقطکردیا ے پا 
دوس ےلوک غرم ہکوہ سہاوا تک رعا کر ے۔ 
وإذا قیض الخ ستل یہ ےک اگر متا جراجرت لیے ہو ےک کو اپنے زف میں نے ےلو ال پا جرت واجب ہو جا ےکی 
اور ورکرا ےکا شر جال ہو جا ےگا خواو وا گر کر ہناش رو )کے پا کر ے؛کیوگکہاچارے می مو باحین تفع کوپ ردک ناجوز ر 
ہوتا سے اور منفحعت اور سیپ منفد کی ایم منفع ت کی لیم کے قاعم متام کروی چان ك,", ‏ ل اا 
قدرت ہو پا ی تی ےا ہن اتیل سے موج رشن اجرت ہوجا گا 
فان غصبھا الخ فرماتے ہی ںکہاگر متا جج کے پا ےکوی نا صب مین متا ج رفص بکر ےو اجرت سا قط موا ۓےگی اور 
کا ےکا سر بن د مو چا ےکا کی ولا ب اققا ک ند رت م موی اور عقر رع ریاس اجر تکیاغا ا اخ 


ِن وج قصب في مض المد سَقط مدرم إا اناخ في بَعْصِهاء وَمَنِ سجر دارا قَلِلمرْجر أن 
باه بجر كل يوم ته اسْتوقی مَنقَعَة مفْصودة إلا أن ن وَفُت الاسیخقاق في العقَدِء انه بمنرلة 
لتَجِیْلِ وَكَذِلِكَ إِجَارَة الارَاضٍي لما ناء ومن استاجر بعیرا إلى مک فَللْعَعَالِ أن يالب بجر كل 
eS‏ لی ول أو يجب اجره إل بعد اْقضَاءِ 


و 727 رمو وو 


لمدّة َالْهَاِ السَقر وهر قول رر واه »كن الْمَعْقَود عليه جُمْلة الْمَتافع في المد يتور ع الجر 
ار رن و تہ عن مر وَوَجْه اقول المَرْجُوع اليه أن القاس اسيَحقَاق الَجْر 
اة قاع قق المُسَاواة 5 ان لطا في کل سَاعق بي إِلی ن فرع يرم يضر یہ 
ره با گر قال وَس لِلْقصَارِوَلْعًَط أن كالب بالجْرَة حتى يقرع من َء لان العمل في 


و میس ہیں و إا عمل في بي الْمُستاجر لاوجب اجر قبل 
الا غ لما بنا قال إل أن شترط التعجيل لما مر أن الشرط فيه لازم . 

ترچه: رنب ب مدت مس پیا جا ے تو ای کے بترا جرت اط ہو ہا ےکی وگ 798097 سن 
کن ےک یکرت ل و رن کے ر م کے مرون کی ارت کنا ار ےی کے رم ر کے 
قصووم م لک رلیا ے الا ےک متا جر عت یں اتتا قک یکول ہت جیا نکر د ے ای لی کہ ہی ل کے در ے میں ہے زک کے 
اجار کا بھی یم ہے اس دی لکی دج سے جم ییا نکر چ ہیں۔ 
۱ رواٹ نے کیکر رٹک جانے کے اون فکرامے ریا یٹ وانےک یق موک اکتا سے ہر ہرم تک ابت 


رر e‏ درم جو مور AER‏ ابات سانش م 
پا لیا کرت ای یی کہ ہرم رع کی سر متقصود ہے۔امام الوعیفہ وھ لے ال بات کے قائل س کہ مت پورگ ہونے اور رم 
ہونے کے بعد ھی اججرت واجب ہوگی۔امام ذف لٹ بھی ای کے قات ہیں اس س ےک حقو دعلیرال مرت کے پور ے متا ہیں زا 
ا تاا سے متا نشی یں ہوگی جی اگ رممتودعلیکام ہو ۔ قول مر جو کی ۰ "و اخانق 
ہو 7 00 کن اتک مطال کر نے سے متا چ دوکر ےکا م کے لیے فارغ نیش ہو سیکا اور ای یز سے 
ا ںکوضر ہوگاء لپا بم نے جھ با نکیا ے ای سے انداز ہیا جات ےکا 
فرماتے ہی کہ دو لی اور ور زی کے لی ےکم سے فاس ہونے سے لے ا رت کے مطال ہکا یں ہے کیہ یج کا کر نا 
ی تفار ہوتا سے اپا اک سے مستا رشن ابت یں ہوگاہ ای بی اگ رمستا ج ک ےگ میں یں دعولی وغمیرہ ن ےکا مکیا بھی فار 
ہونے سے پیل و و سخ اج ت نیس ہوک .ابی ہی اکر متا ج ےکی وعو لی وی رد ن ےکا مکیا و بھی فار ہونے سے کے دہ 
سک اجر تنس موک ای ول کی وجرسے ج ہم یا نکر گے ہیں فرماتے ہی ںک اق کہ موجر نے شی لک شرط اوی ہوا .ا 
را ےک عقداجارہ مس شرط لازم موی e‏ ۱ 
اللغاث: 
طو جد با گیاء سان ےآ ا [الانفساخ )م ہوا ۔ فإیطالب ‏ مطل ہکرناء و رکرن al‏ 
کرناء ادھا رکرناء جاخ رکرنا۔ یعورع تم ہوناء بٹنا۔ یضر رہہ نقتصان اٹھاے گا۔ [القصار پچ دجو ۔ [الخیاط با 
درزی یتفر غ فار ہونا ءکا متخ ہونا۔ 


وی اجر تکی پحوصورتیں: 
عبارت می سجن کل بیان کے کے ہیں٠‏ 


(۱)اگرمتا جر نے تین متا جر بے قح ہک رلیا اور دوفو کک دہ یزاس کے باک ری ری نے اس ےقص بکرلیااور چندونوں 
ت کے رکا ھر واب یکرو تو نے و کک وہ نز تا صب کے پاک رہ گی ان دفو کی ارت ساقط ہو جا ےکی 027 
ایام مخو ہہ یش متا جج نے کین تابر سے کی اٹھایا ے لبا ای بر ان ایا مکا کرای یں واجب ہوگا_ 

( حی رکا رک کر رت تر رت اتک فان کے نی 
مستا چ ای اقصو و اور مف رمنفع ت حاص لکرتا ےڈا اک بے ہر ہرد نکی ارت کی لا زم بہوگی۔ ہاش اکر تا بے ےکہرد س ےکہ ہف ہف 
نپ و کے کک ا کر کاب اوت راع ول کے وک ن ن ئن نا ےول 
کر ناقا قکوموخ کر ے کے در ہچ میں ے اودتا یل سے مو ج رکا ا ختقاق ہاگ وجات ہے کیم می نکی اکا کی ےن 
ا کھی موہ رد نکی اجر تکا سفن موا 

و ری ا ا ا ما ےک متاجہ سے ہر ہرمز لک کر ہے 
وصو لکر ے ال یک مرم منز لک سی راصو ہوتا ہے۔ابذاہر ہرمز لکا کہا کی واجب ہوگا۔ بی ا اورحرؤول سے اورامام 
ام وٹ کا قو لی مر جو الی بھی مکی ہے اورامام تشم وھ لہ اس بات کے قا ست کہ جب کی سٹرش نیس ہو جا ےگا اور اجار ہ 


7 ابی 2 EOL FDPIR‏ اک مارات کے ماق مل ۲ 
گی مدت پور یں موی اس وقت اج میس واجب ہوگی ۔ امام زف ر ولچ کا بھی بجی نرہ ے »کیرک حقو دعلیہ ہے س ےک مرت سف ری 
رامنا حاصل جواورس وکل ریت کس فا کاٹ ری سے اک کا ےاج 1ء یی مکنا 
کی نہیں سے کے اتو وعل ےکا م ہو کا گل ہونے سے پیل اتس واجب موی ۔ 
ہد ام ٹم وٹ کے قول مرج الیک وکل ہے س ےک قا یک تقاض ا می ےک لیک ابقرت وجب ہو ک 000 

منفعت مال مول ل ےنلوب اکر م مویکو ابر کےےمطال۔کرنے کا قراروے دی تو متا جر ای لین وین میں مشقول 
ر ےکا اور ووسر کا مکی کر کےا اپا ہت رل وی ے جو ہم نے بیا نکی س ےک ہر ہرمخزل پاچ تک ن دن ہو 

قال وليس للقصار الخ ستل یہ س ےک ہاگ ری نے صلی یا درز یکو اجر پرلیا تو جب کک بلک کام سے فار نہ مو 
این اشن ون ان کے لیے اجرت کے ما ہک ےکا میں ہے اس می ےک ی مک نانا تام ی تھا ے چنا 0۸+0801 
لے کے ےکی درز یکو کی دیا لپرس ےک ایک طر فک سلائی ےکوی کا یں بنےگادرج ب کا میں ہن ےگا اج کی یں 
واجب موی مان اکر وج یکل سے اجرت سل کی حرط گار ےنذ ش رط ور یکر ناما زم ہوگا اورمتا ج ہی ا جرت لازم موی ۔ 


ا 
ہے افو ی ا کچ 


ہے ہےر وصرر ےر ی پر ے ,5 

بل ھی یی یار ن کونی پیڑکو لم شتو شس تھے 
لور لن تمام العمل بالإخراج فو احترق سمط من يده قبل راج قلا ار له للهاك فل 
الیم سو سے بر سیف سرب ری وت 
لان لم يود من الجتاية قال رضي ال ا عند بي حَيفة ايد لاه امَانة فی يده وَعَنْدھُمَا 
يصن مل دقیقه وَلا اجر لَه لاه مضمون عَليه فايرا إلا بعد حَقيقة اسم » وَإِنْ شَاءَ صَمِنَ الْحبْرً 
وأعطاه الجر . قال ومن استاجَر احا يطح لَه َعَم لِلوَلِیْمَة اعرف عَليه اعارا للعرف. 

از چه: نے ہی ںک اکر ی ےکی نان با یکواجرت لیا اک دتتا ج ےکر ایی درم کے کوش ای کتغی رآ کی روٹی 
بنارے و ترو ر ے رول نکانے خرو ن اج ت یں ہوگاء اس کروی کا لیے ےکم اورا ہوا چنا اکا لے سے یرون 
جل جا یاا کی کے پاتجھ س ےکر جائے فو اسے ا جرت یں ےکی اس ل ےک منفعت پ ردک نے سے پیل بلاک موی سے ین اکر 
نائن بائی کے روف ہکا لے کے بحداس کیل کے بی رر ونی لکئی و اسے اجحرت ےکی »کیت مستا جر ےک می رکنے سے ورشلیم 
کر نے دالا ہو چا سے اور ای معان کیں موک کیرک ا لکی طرف سے جنایت س ی سے ۔صاحب برای سے ہی ںک بم 
جرت اماما ام وور ے یہاں سے ای ل ےک از کے قضہیٹس رون امات ہو سے۔معقرات صا یں بیت کے بیہاں متا م 
اسآ سے کے بقدرضمان کا اور اسے اجر تگجھینڑیں ےکی اس لی ےک پکورہ یز اس پمضمون ے پاق تلیم کے بخ رخباز 
ان سے برک کٹ ہہوگا۔ اور اگرمستا جر چا ےا خپاز سے روٹیو لکا ضان نے اورا ےا ےت دیدے۔ 

فر ماے ہی ںک۔اگ ری ت نے و ہک کھاتا پلانے کے کو باور ہی اجر ت پر رکھاتذ عر کا اتبا کر ے ہو ےکھا کو 


9 ال رق پل بر جیا کر مابات کے کان یش ¢ 
پالوں شی نالتا ی ای ہاور ہی پر لازم ہوگا۔ 
اللاتث: 
خباز نان بل ۔ یخبز 4 رول بے قفر 4ي پا نہ دقیق 4آ ٹا ۔ الور رور ب الاخراج ې 
النا۔ احتر ق ہہ بح کی ۔ ال وضع رکھنا۔ [الجنایة گناہء تح ری ضور کی _ إیضمن چ ضا ن بنایا جاۓ گا_ 
ليبرا برکی ہونا۔ طلطبا خ ہچ باور ی الغر ف ان لتا 
ار رک ڈ مہ داریا اورگرف: 
عضورت مکل ری ےک اکر ٦‏ 9س“ 
سال ردٹیاں کا نک بار کرد ےگا اس وق ت تک تن ارت نیس ڑکا کوک تور سے کا لیے کے بعرت روٹیاں اب استعال ہوں 
E‏ وت خا زک کا مم موک بچی وج ہے اگر کا لے سے پیل روٹیاں تور می پل جا میں یا خباز کے باتھ گر جا میں تو ا سے 
ودرک نیس س کی کیک شلی تفعت سے پیل تی دہبلاک ہیی سے ج بک اجرت منذد تکیشصی لا پرل ہے :لاج بتک 
مبدرل مستا وع مال میں کا اس دق کک اس پہ رل کی یں داجب ہوگا۔ 
فان خر جھ الخ ال کا ال ہہ ےک اگرخباز نے تور سے رون کا ل لیا بچھرازخوددہ جل کی تو امام اعم زیچ ھی کے یہاں خباز 
وہ تھظ نار RE‏ متا ےگل رک د ی سے خبا ز متا رکو سپ ر دک نے والا ہوگیا سے 
نل ے لکن رش کی طرف ےکوی جنا یت یں ے نیز رو ٹی کا آٹااورمبیدہ خپاز کے پا امامت ہوتا سے ال 02 
کچھ یمیس ہوا ۔ اس کے برغلا ف رات صا مین با کے یہاں خباز کے پا ی جو مال ہہوتا سے ومون ہہوتا سے لہ اج بتک خباز 
کیہ روٹیال مستا جر کے جوا لن ےکی کرد ےگا اس وق ت کک دوعضمان سے بر یں موا او متنا جرکوددبانول یں ے ای یکا اخقار 
ہوک سس ا ام تج پکائی دوس ری 
روف نے نے۔ وو سلوا ے۔ 


ال وت اجر إلك عرب لن عق ََخرا نگ ته ون عيكة صا کل شتو 

تی بسَرّجَهاء أن اله ر من تام ميه إذ ومن ِن اقساد قله ضار إضراج الخر من اتور 

ولان الأجير هو الذي يتوله عرفا وهو المعتر فما لم ينص ليه ولأبي حيبق واش أن عمل قد تب 

بالْقَمَة والتشري عَمَل رائ کَالتقل الا تری اه بقع به قل شرج پل إلى موي اَل 
دق وہ ي 5 ا ہی۔ 


پخلافِ ماقبل الإاقامَةء اه طین منتشرء » و بخلاف الخبزء لاه به قبل الإخرَّاح. 
تم : غہاتے ہہ سک اگرکی ن ےکس یوی ےے ‏ نے جا ہت 
: ا وٹین کے ا EER‏ فرمات ہی کہ انو ل کوتہہ بہت کرنے سے یکل عزوو ری 


ا الیل و LATE SDI‏ اکا م اہارات کک بیان لم 
اج ت یں ہوگاء ای ل ہک تیب سے دنا ای عردو رک تمامیت میں سے ہے مکیوککہ ال سے پیل اب ہونے سے اھدنا ن یں 
ہوت تو تور سے ہکا ل ےکی طرب وکیا اود ال لک رقا زوو ری ت تییب سے رک ےکا زمار موتا ے اور ڑل صراحت نہ ہو 
اس یں ۶رف یکا انپا ر موتا ے۔ 

خضرت امام ابوعفینہ ولیہ کی وکل ہے س ےکایٹٹو ںکوکھڑا ا لرنے سےکمہنا رکا کا مل ہوچاتا ہے او ررب سے رکھنا ایک زان 
کام ہے تھے الاب سے انو کن لکرنا و اکا نکر ے پل کام ال کک این کرنے سے یں سے 
ٹف ا ٹھایاجاتا ہے۔ برخلاف اٹھانے سے پل کے٠‏ اس ےک اقامت سے مل دو چگی موی ی رق چ ادر مخلاف رول 2 
ےد ےا ے پا تقال انا ر ے۔ 


(یضرب ) ڈالناء ناء ڈڑھالنا۔ الین 4 اش ۔ یسر ج ) این ںکوسیدحاکرناءتہہ تہ رکا ۔ الا یمن سل 
یں ہو یتو لا ذمہدار بنا۔ لالم ینص علیہ ) جس چ زک تفر اور وضاغ نک یگئی ہو۔ العش ر یج چ ایغ ںکوننگ 
کرنے کے تہ بت رکنا۔ الین 4 یی ۔ و متتض یی مول 

۱ اشٹیں ہانے وا کے عرو ور کی اہزت: 

27 990 ی تام نشم یھو کے سو( 
ماج سے کا یک رکیز یکر د ےکا ایتا ن ہد جا ےگا کان حعضرات صا نین تا کے ہا ںح سک اکر ے سے وہ کن 
اج ت کیل ہہوگاء بل کر ار نے کے بعد جب ووتہہ ت ہاور تیب سے لاد ےکا تب تخت اجرت وکا اس س ےکسا کے سے کال 
کہ انو ںکوقیہ یت کنا کی کہا رکا لکام سے اود ا کام سے پل یں کےنخراب بہونے اورک لک می ہون ےکا خر شر جنا سے پا 
جن س حرج حور سے روئ وکا نے خی ضرا کا کا مم یں موتا ای ط رح تہ رت کر نے سے بے کہا رکا کا مکی ل نجوس ہہوگا۔ 

ان حرا تک دوسری دمل بے ہ ےک حرف عام می لکہاراورا نٹ بنانے والے ہی پر ات کر نا اورت جیب سے لگا نا کی لازم 
ہوا سے اور چو ںک اس سللے می ںکوئی صر یل یں ے بابزا ۶ر فک اختبارہوگا اور عرف کے مطا بی بی فصل موک 

رت امام اعم ول ای مو کی وکل ہے س ےکا اف بنان کا کام ا سے ساگۓے سے کال کم ڑ یکرو ۓ غ کل ہوچاتا ہے 
کیونکہ اس عالت یس وہ این اہی افا ہوچائی ے اورمتا رفور ”صو وو ےس کر لیا ے اور منفد قصوو و یتیل ے 
ارت واجب ہو چان ے للا اقاس ان کے بح مرد ری اجرت ہوجا ۓگا۔ ر ہا تر کا تر ایک زائینل ے اور 
زا کی ادا گی اوراضام دی ر براجز یک ا خختقاق موو ف کن موتا _ 

ان کے غاا تاکز یکر کے بی کیم کی کت ری ےوران الت شان رات اور بے پاد 
ہون کا ان دی شتو ی رتا سے ای ط رع تور سے کانے می رروٹیاں ناتقائلِ اشفاع رھت ہیں ء لہا تی اتا چک تیل تفار 
چریں پا ںکرناادددڈو کوک ہے 0.2 ہے۔ 


) i o ATRL DS GES SL: نال‎ 72 


ال وکل صَایع ِعَعَلہ ر في الع السار وَالصّي غ قله أن يَحِْسَ العَيْنَ بعد الَْرَاغ مِنْ عَمَله 


کر نیت تر کاس چ 


ہے>5 ر 0-0 جا 7 


ولو حَبَسَه فَصَاع في يده لَاضَمَانَ عَلي عند ابی حَنيفة مويه لعل في لَب يقي اماه 


3 ال اللہ 
کُمَا گان عند وله اجر ا 0070 وعنة ابي يوسف مايه محمد لی 
کے وو ہے سے ے3٠‏ 99 


العین کات مض تة بل الس فگد بعد لکنا اجار إن اء صت مه عير مول وآ جر ل 


بح و 7 وو 


كت ٹر 1ك 2ر وت ا 
تنجہ: فرماتے ہی ںکہ رو کار یکی ےکا مک اثر ین میں موجود ہو یی ونی اوررنگ ریزو کا م سے فار ہونے کے 
بعد اے ا شی کو رو کے6 O‏ ے مہا لی کک وہ پا ری اجرت وصو لکر نے۔ اس لی ےک ہممقودعلیہ اما وف سے ج کپٹڑے میس 
موجوو سےابرابرل وصو لک نے کے لیے اسے اس مھ نیکورو کک کن ہوگا جیب میس ہہوتا ہے۔ اکر صاع نے ال می کور وک لیا اور 
ایس کے قیضے میں وہ یز ضائع ہوک یق امام اشنم وخی کے یہاں صاع صان یں موا ۔اس ل ےکک میں دوتع ری یں ے لزا 
صب سال دہز اس کے پاک امات دوگئی۔اوراسے ارم ت کی یں گی :اس لیک مقو دعل پر وکر نے سے پل کی بلاک 
ڑکیا ے۔ 
۱ ترات صاتین چنا کے بیہاں دہ کی کی سے پھلیمفمو نی اپ زا کے بعدبھی و مضمون رہ ےکی من مان کک واتار 
ہوگا اکر جا و صا کو بی رکا م کے ہو ےکیٹ ےکی E EERE‏ ئل ان 
ہے ےک ےک یت کا ضا جائے اورصا کو کےکامکاجر تد یدرے او بعد ہم سے با نک بی کے ۔انشاء 
اتا _ 
اللغاث: 
صاع کارگ.۔ ملالعین) چڑہ دی ز۔ [القصار) جولی۔ [الصباغ) گر یحیس 4 رہکتا۔ 
لإیستوفی چ رالو راوصو لکرنا۔ اإضا ع ضا ہونا۔ لإ معتد بہ ان ائی اسم فال تھاو زک نے والا۔ ٠‏ 
کون اچ رچ ر رو کک ے؟ 
صورت لیے س ےک ھدود ج وکا مکرتا سے اگر اس ےکا مکا ا یں میس باق د ہتا ےک میں ای ےکا م کیا سے جیسے دو لی 
کی ات ری اور ریک ر نکی رہگائی ضاف طور یڑ سے ٹیل نمایاں رک ےل اہی ےکا رک رکوش ربعت نے ہے تیار دیا ےکہ جب کک 
اسے ایت کا مکی ورک مزدوری تی جا اس وف تک وہ اس کد کو اپنے پا کی دو کے د سےء اس سل کہ یہاں حقو علیہ ایک 
وصف ہے اور یہ وص فک ڑ سے میں موجود سے اذ اصائ کون 7 ر ای ورو ےر کے کت ن ن 
وسو لک نے کے مس مع کا کن ہو ہے اک طرع صا کوک یعس خی ن کا ن ا نس ارت رارق تی 


8 اکا م اجارات کے بیان من‎ EOE آنْ ابا جلر۳) ال تک ہار م‎ J 
ہوجاۓ اورا گی کے دوران اگر وہ یز صا کے پا بلاک ہوجائی ےڈ امام م کے یہاں صا پرا کا ا نکیل موک‎ 
کہا نے اپا تن وسو لک نے کے سے دہ چز روک ےحدکی اور تی کے ہنیس روک ےلاک عطر میس سے مکل دہ‎ 
رصان کے پا انت ای رع ہی راسمس بھی وہ چ ڑا کے پا اماخت موک اورا اگ بزو دی اک ہوجا ےت‎ 
۱ 7 مضمو نہیں ہوئی_‎ 

اس کے برغلا ف حقرات صاین تا جیا کے یہاں صاع ضا کن ہوک یوت ہے چیشٹل اشسجس بھی صاع کے پا سمو می 
زابرس بھی ضمون بی ر ےکی لمت ہا ک ککورو پاتڑں یس سے ای یکا افخقیار موک (ا) یا تو صاع ے غی مب اور تقصور 
ٹر ےکی تم تکا ۹ ۶۶ 
کیا مواکر ا سے نے۔باب ضمان الأجیر کت ا یک مز قصل آری ا 


ال وَکُلٌ صَانع لَيْسَ لِه لحَمله اثر في العَين فلس لَه أن يبس ی انلاجر کلْعتَاِ ادح لان امود 
سے العمل وهو عر يي اتور تل میں > وسل الوب تَطِيْر الْحَمْلء 


ر د و ہت نے 


جا سس O‏ 


ھا و کے 2و 


اللاك کڈ اح گا عۂ من له عَقٌ لبس وَهذا لَِّيٰ رنه مدهب عُلَمايتا الاک وقال رر 
ا س له و انس في لوان لا وک سي َال ال يولي لفط حن الَْبْسء 


پے دس س سروورےہے و ردو د ر ووو 


ولا ان الإِْصَال بالْمَحَل صَرُوْرَةإِقامَة الْعمَلِ قلم یکن هُو رَاضِي به من حَيْت أنه تلم اسقط الْحَبْسُ 


ما دا قبَض المُشْتَرٍي بعر رَضَاءِ بائع. 
ر چه: نہاے ہی ںکہ ہرد کار یک رحس ےکا کا تین می ان ت ہواسے ابت جو لک نے کے ےکک کک نہیں ہے 
یی ےکی اور ملاع ء اس لیے رمحتو ومان ل ے اورو وٹین یں موجو وی موتا لپا ا سے روکنا تو رک یکیس ہہوگا اس لیے ا سے 
ولایس مج سبھ یں حاصل ہوگی۔ او رکپٹرادھلنا بوچ اٹھان ےک تیر ہے۔ بیع مآ کے برغلاف ہے چنا مج وائچں لانے وا ل کو 
نتا توصو لکر نے کے لے حت یعس ی سل ہوگا حا لامک راد( دای کر نے والا ) کے ل کا پھ یکو اش یں ہوتا کی وش ہآ اق پل اک کے 
تریب تھا اور راد نے اسے میا لیا تو ہہاییا ہوگیا ک راد نے موی سے و ہآ ن روخ کیا ہے اس ےا ےک مس اکل ہہوگا۔ ےم 
نے میا نکیا سے مار ے علماۓ خلا کا ہب ہے۔اعام ز روود وی مات ہی ںکہ دوفو ں صصورتوں میں صا اوک یع س ہیں مکل ہکا 
اس ےکی ( حقو رعلیے ) ےتا جر کی کی ہے تسل ہونے ےتملی تق ہوئی اپ زاھ نس اقا ہوجا ۓےگا۔ 

مار یل یہ ہےکینل شی متا رک کیت سے صا ےکا مک کل بوتا کا م درس تک ےکی رورت کے حت تھا ء لہا 
اا کےسلیم ہو پراش ہیں ہوگا اور ا کا جس اق یں ہوگا نے اکر با کی رضامندی کے !خی مشت ر یم رس 
کر ےق اوح یمیس مکل ہوتا ے۔ 


ْ نا بل لد( 9-9900 اجام اجارات کے پان شا جا 


لکا 


9 
للغات: 


لإصانع 6 کر ۔ بإ حمال کی یو جھاٹھانے والا ۔ املاح شی رانلا لبق وڈ ا۔م استیفاء) 
ورک لو ری وصولیای ف[ الجعل )انا م _ لإ مشر ف الھلاك ) پل اکت کےقریب مونا۔ 
چ کہ روک کے وانے اج : 

ای عبارت یں بیا ن کرو و ستل امل وا ستل کے بیس ہے ممن اکر کار یکر اورعار دور نے ایا کا مکیاہ وٹ سکا اث شین میس 
مو جو ہو ال اچ ملا چت کے لے میس می کا یھی ہوگا یماح ادرجال جوکامکرتے ہیں وق گر سے او رکا م سے فا را 
ہو بی ان کےکا مو ں کا اتم ہو جا جا ے اورا سے روک نکن ہوتا اس یھی ںی سی کا یں موی یم دعول یکا ی 
ہے اکر دوعلا کا کا )کہ ےکی امت ری کےکا مکا اشن بائی رجا ےکن دھلائی کا رم ہوا تا ہے لپن دحلا بل تما رکویھی مس 
نک یں ہوگا_ 

ال کے برغلا ف رکون ام یا گیا اوہ کی نے اس ےکڑل یاادریلڑنے شآ کے مال صرف ہواتہ آغز کت موک 
انا مال اورینتانہ وو لکر نے کے لیے اس خلا مکور وک نے اور ج بپ کمحذتانہ وصول کر لے اس وف کک اے اس کے موی کے 
جوا لے نرکرے الاک ا ٹفش کے ل کا بھی باقی نیس ر تا ورت ہو جانا ےلین پچ بھی خلا مپلڑنے وا ےکوی اس لے دیا 
گیا ےک دہ غلا مک پل اکت اور ضا سے بچالیتا سے اور جب ما لن ککو وا سکرتا چا کو با فلام ما کک کے ہتفر وخ تکرتا ہے اس 
یے بائ کی طرغع ا سآ خذ اور رادکوککی یعس عسل موک بجی تنوں علماۓے احنا فکا کک ہے ء اس کے برغخلاف امام زط شید کا 
لک ہے س ےکرصائح کے کا عین بیل اث ہو یا ض ہو بہردوصورت ا ےکس کی نک کن ہیں لگا بولگ جب صا ن ااجر 
متا کے دی وک سے کاممکر ےک ت جوں جو ں کا م ہوتا جا ۓےگا سی ساب سے متا رکوس ردکر شن ہوتا پا ےکا اور 
ای او یلیم کے بعرو سکاج ر بنا ے اور ہی ا کو مطل ب بھی شک جا ے۔ 

بقل بی ےک امام زفر ہیی نے جوسای مکی صورت بیا نکی دد چدی دالیم ے بای زی وال اور دفو رکلم 
یں سلی میں ہے کین لیم کے نے صا کی رضامندی شرط ہے مالاق ج ےآ لمت رار د ے نے ہیں صاع اس ےتلم 
وال ہونے پر راشیکیں ہےء بل بے کا مک ےکی ضردرت او رکیوری سے ورنہ صا کی بیز شش ریک لگا ۓےگا؟ متا ب کے منہ 
میس؟ ا ہناخ ا٠انی‏ موک اور اک وجہ ے صا نع کاع یع سبھی سا ننس ہوک کے اگ رعق کے بعد با کی موی کے لخ خت ر یم ا 
پ کر ےت ہق کنا کی بائ کی طرف سےصلی فی سکہلا ےکا اور اس نامرضیہ عض سے باک کاک نکس ت نیس ہوگا ای طرح 
صورت تل بھی صا کا یع سن نیس ہوگا۔ 


ے ہےر ےس ر ي 9ر 2 9 ى و روصو ہےہ۔ ہد 11 کے دادے 


ل ِا َرَط على الان أن ن¿ عمل بنفسه فلیس لَه ان یستعھل غَيرَهَء لا ن الْمَعقَود عَليه َِصَالُ الَعَمَلٍ 
في مَل بعينه بعینه فَيْستَحق عَيته يته الْمنفعَة في مَل یعییہء ون طق له العمل قَله أن يَسَا جر ب 


1( ایل De‏ تھے کے ےا6 یر احا م اجارات کے بیان ن ٤‏ 
السْمَحَقَ عَمَل في و و ن ايفاو بتفسه وبالاسعانة بغیرہ بمنزلة ياء الین ۔ 

تزجه: aT TT‏ 
را ماس ل ےک قود علیہ یہ ےک کا نصخی نگل ( ما لے ) ےل ہولپزا ای کے ین ےئل ن بہوگا کے نل سے 
فع تحلق ہوتی ہے_اوراگر تا جر نے ای ر کے ےک مطل ق کروی تو متا رکو یران س ےک وو کی کا مکرنے دا اوا جرت بر لے 
رکا مم کراد ے٢‏ ای ل ےک صان کا م پوداکرنالاز مکیاگیاے اور صاخ کے لیے خو کی اسے پو اکر اکن ے اوردوسرے سے دد 
ساراس لکا کی کان ہے کی دی نکی ادا کک ون ہے۔ 

اللاٹ: 


شرط علی) اس پرشرط گا یگا۔ یستعمل غیرہ) دوسر ےکوکل میں لیاے۔ محل بعینہ مین تل 
ظڑایفاء یچ راہ راکنا (الاستعانة) درطل بک نا- 
ار یٹیل خووکرن ےکشرط: 

ور تخل وا س ےک ہاگرمستاج نے ب‌شرط لگاد یک صاع خود می می راکا مکر ےگا اوردوسرے س ےکا مکران ےکی اجات 
یس دی تذ صاع پرا شر اک پوداکرنامازم ہوگا اور دوسرے سےکا مکران ےکی اجا نیس ہہوگی کیرک ”حقو عل خود صا ل 
ے اورجٹص طرح تفع توصو سکر :اج ہے ای طر نع لک یفص بھی درست اور ات موی . ہاں اگر مت جر نےمطلق معاملہ 
ےکیااورصا نع کےکا مک ےکی شروک کال 3 صا عکواغیارہوگا پا سےا خو وکا مکرنے باک دوسر ے کار یکر ےکر سے ءال 
ےک صا پکام پھر اکر کے د ینا لام سے او رکا م جس طرںح صاع خودس لکرسکتا ہے اسی ط رع دوصرے ےک یکر اکن ہے کے 
الین پد نکی اواس ازم ہے چاج دوتوددے پا سے دلوائے الول ا کی طرف EEE‏ 
ہ"جاتاے۔ ۰ 


444 


)0 آنْٰابل O_O:‏ پھر AER‏ اام جارات کے بیان می٠‏ جح 


۔صس و 
e‏ 


5 کے PE? 2 ١‏ 2 مو ڈگ ٤‏ 
فصل آئ هذا فصل بيان اِستخَقَاقِبَعضِ الاجر 
کک اوت ےا قان بان کے 


ہےر رہ را ے 2ھ 9 سو ہس 


سے ا 9و ا ای کے و و 2 َ‫ 4پ و سے بصا ۔-۔ 
اسنتاء جلا ليذب إلى البصرة فیجء بعیاله فذھب وو جد بعضهم قد مات فجاء بم بق فله 
ومن جرر ر ج لی ٦ ٥‏ مت - وو بعصهم بمن بهي 


2 دھ م 8 2٤‏ 3 7 ہیں تو وو ا وو 1 : 27 سی LA‏ ا اب 24 ردو پوت 
الاجر بجسابهء لانه اوفى بعض المعقود عَليد فيستجق العوض بقدرہ ومراده إذا كانوا معلومينء وإن 
ا ا ال فل عم ہم >9 کک ام کک فان یں و وین ا َا 

جر اذهب بتابه إلى فلان بالبصرة ویجیء بجوابه فذهب فوج فلانا میتا فرَذۂ فلا اجر له» و 
و یو ا و اناد رد ود و اعد کہ 9ر ا ہو جج دو سای و ٤د‏ 2 
عند أبي حنيفة اة وابي يوسف مييه ء وقال محمد مها لَه الجر في الذهَاب لانه أوفى بَعض 
2ے وو 2 2 ت 


ہصو ےھر ےم ڈےہے۔ “u7 o4‏ پل در 9ے ¢ .3 7 9ر I”‏ ہے 2 
٠ : :‏ ر ۶د 20007+ 
لمعقود عليه وهو المَسَافةء وهلذارلان الاجر مقابل به لما فيه من المَشقة دون حمل الكتاب لخفة 


و2 ر ٤‏ 2 و نے ص27 27 کے۔ پر و ےد و وو٤و‏ م و9 پک 9ے 22و وج ے۔ 7 
مونته» ولهما ان المَعقود عليه نقل الکتاب لانة هو المقصود او وسيلة إليه وهو العلم بما في الكتاب لکن 
ور و کی د 


EG : 7 4‏ 1 ہے در د مہ2 6 ٦‏ ثے و ٤ے‏ 2 A‏ 
۱ معلق به وقد نقضة فیسقط الاجر كما قي الطعَام وهي المَسالة التي تي هذه المَسَالَةَء وإن ترك 


ص 2ے و ےو 


سے ای ای ہی و فی پر و 2-0 م ي دے۔ رع ۳ َ‫ 1 ر 

الِكتابَ في ذلك المَکان وَعَاد يستحق الاجر بالذ ب بالإجُْمَاعء ان اللحمَل لم ینتقضء ان استاجَرَه 

مر ا م 2 ً2 KE‏ ا ا کا ر Et‏ ا و ہب 7 گ2 سی 4 

يذهب بطغام إلى فلان بالبصرَة َب قَوَجَد فلانا ميتا ڏه قلا اجر لَه في قولهم ججمیعا لانه تقض تسم 
َ‫ 27 ۷ اش 


سس 
20.8 


ےڑود ےد رور رو سے سے روي ےہ 2 52 س8 ا ہپ ٹر دو َ‫ َ‫ 
المَعقود عليه وهر حَمْل الطغامء بعلافِ مَسالة الكتاب على قول محمد مييه ء لان المعقرد عَلَيه هناك 
فطع الْمَسَاقَة على مَا مء الله أَعُلَمٌ بالصّرّاب. 
رچه: کرک ےکی کوا لکام کے لے اجرت پررکھاکہ وہ ارہ کہ وال سے ای کے امل انگ ن ےآ سے چان اتی بصرہ 
گیا اور دہاش متا ج کے ابل خا ل سے پچھولوک مر کے تے اور جو بقیر حیات سے انیں ےک رآ گیا تو ای حاب سے ابت لے 
گی کوک ابر مق وعل یکو وکیا ہےابذرا ای کے مطاب دہ بد لکا ن ہوگا۔ اور ما نکی مراد ہے س ےک جب متنا جر کے ایل 
زا نمعلوم اور ین ہوں_ 

اک ری ن ےک یکوبصرہ می کی کے پا اپناخیا نے جانے اود لا نے کے لیے اجرت پر رکھا اورعردورکیا کا ن کو ب ال مر چیا تھا 


7 لے جلر٣)‏ کے مر سے ےی احکام اجارات کے بان لی و 
اورا روہ خط وائیل لآ اق اے اچ یں گی ہک راتخم کے یہاں ہے۔ امام ئگ چ فمرماتے ہی یکا کو جائے 
کی ات یں گی :اس لیک اس نے ےگ عقو وعل یکو لو راک دیا ےن جا ےکی مسافت ےک پیا ہے۔ یم ال وجہ سے سے 
کا جاع سات بی کے مقائل ہے کیوفکرسٹ کر نے میس بی مشلقت سے اور خر اٹ ھکر لیا نے می ںکوئی مشق ت نیس سے اس 
لی ےکا کاوزن باک ہوتا ے۔ 

رات سن گی دمل یی ےک ممقودعلی خط لان جانا ے اس لی ےکم یقصوداج رہ ے بصو رکا وسیل سے اور وہ خی کی 
اق ںکاعلم ہے اور وجوب اجر کا م خط لا نے نے سے تعلقی سے مارک اچ لکش مکردیا ے دا ا یکی چت ساط 
ہو جائۓ گی یے فل انیا نے کے سے میس ے اور و ومست ا اسل کے بعد کور سے_۔ 

اور گاب راس چگ خی چو کر ایآ ی تو الا تاق وہ چا ےکی اجر ت کا ن ہوگا اس لیک خیاکو ھا نا تم یں ہواے۔ 

ا لات لیا اک وہ بصرہ می فلا وغل بہار ےکن جب ات رد ہا گیا نو فلاں م ج تھا اور وہ غل وای نے 
آ یا اسے بالاتقاقی اجر تین ل ےکی اس لیک حقو وعلی سکن فل ائ یکر مق فصو دک پہیانا ت ہ وکیا ہے۔ برخلاف امام رم موہ 
ےول کاب کے کے کے کوت وہاں مسافت ےکنا حقو علیہ سے جع ایگ ر کا ے۔ وان عم پالصواب۔ 
اللات: 

ڈڑاستاجر پک رابہ ر لبا إعیال چ ائل وعیالء ائل خاد طذاوفی ہچ ورال ورا اکنا و المشقة کت مخقت 
مز نة مرداریءمشنقتہء بو چ فإتلی ہہ اس کے سا تھ ملنا ۔ [نقض لن ۳ مکنا _۔ لاقطع 200 د 
جزوئ یگ لک اج یک اك 

عبارت میں تین مک زور چن : 

)١(‏ زیر نے برو عو ےھ سح ال جاکراس کےآ کے اٹل دعا لک وآ شس 
روپ کے۶ لے ئے۔ اب ج بج رکوفہ ے ب لکربصرہ ہچ تو ز یر کے ائل خان یس سے ین لوک مر کے تے اوربکر ای 32 
وو ںکو ےکر بضرہ پیا کروی پا لوک ارلا نکی ارت لق پاچ رد سے میں گے ہوک ای کے بتر تاچ نے 7 
۱ یصو لکیاے اذا اجر بھی ای کے مطال داجب موی کان بینم ال وقت تک سے جنپ مو کے ای نا نکی تد او موم ہو اور 
اکر ا نکی تعداومعلوم نہ ہو یا متا جرنے مر وضاحت نکی ہواور نہ بی عد درس کے مطابق ا نک وش مق ر رک کی مونو ات کو مطا ری 
امت E‏ ھی نے موی _ 

"۲ )دو سرا مستلہ یہ سےکہ زی سے ب رکودوسو رد پے ات پر بیکام پیر دکیا کک وہ ارہ بیع ر کے پال یرک خط ا 
اورا لکا چوا ب ےآ سے مجاں چ چھائی جرڈا یہ کر زی رکا خط نےکر لصرہ کے لیے رواشہ ہو سے اور ج جس بصرہ نو معلوم ہو کہ 
کوب ال لین عرمر پیا سے 0 کر وای کو ۲ کی تو حط رار کین بے تا کے یبا کک رکو 
ارت کے نام کیا گان امج لٹ کے یہاں اسے جان ےکی جرت ل ےگ حم نون 


7 0 لر ) EOE DOA‏ اکا اجارات کے ان مل ۲ 
سے مافت لٹ ےکر کے “تقو وعلیہکا لیک حصہاداکردیا ہے اور چو ںکہاججر تع مہات :یکا متقائل اور بدل سے ا سل کاک ین 
مشقت اور بای موی ےلپ ای مقدراراس نے مڈ شتت براش کا ہے ای ےم ابن ا کواجر بھی سل ےگی۔ 

(۳) زی ےکک رکوہمرہ می گر کے پاس غلہپچانے کے لی مزدوررکھا کان جب جکر وہاں لہ س کر نی تو مرکا تقال ہو چکا 
تھا او ربک دو لہ ےکر وای ںآ گیا تو امام وای اور رات مل ھال اسے ا کیل ل ےک کیو اس سورت میں ہر 
4 2 یہاں متقودعلی اور اص لصو خلہ ی نا ما عالا یہار اے وا نی ےآ یا سے اس تقو دعل لی مقار یل وراس ہوا 
بجر کی کی مقدارم نیس داجب ہوک اور کی دا ست یں بھی امام عم اور ادوس کے یہاں ال قھواسے پا 
اج برا مد اس صورت م۲ نع ماف کاک تراد سے ہیں کی لے دو او پان ےکی اج کا اتی فھراردٹے ہیں اور 
عفرا تین بث ا سکواجر کی ایک پاک کی تی س کھت خظ ول اعم صغم 


444 


۱ ( ابا ای SPOOR‏ امیا یا بر اکا م اجارات کے میا نشین : 


ےآ و 9وو 0 و ا ہے 
اب ما ور من الَاجَارَوِوَمَايَکُوْن خچلافا وْيتا 
ہے باب الن اچاروں کے بیان میں سے ج جات ہیں 


++ ٠ 7 


اورشن ہیں اخلاف ے 


7 کے 
3 ۱ 


n‏ ا ےر < 2١‏ < را گت او و ام ےو نے 

قال ویجوز اسٹیجار الذور والحوّانيت للسكنى وإن لم يبين مایعمل فيها ان العمل المتعار فيها 
یط و سے و پد ری رہ ر و ہے ى I‏ کدردےە۔ 2ك ےه مم" کی ر مو av‏ 
السکنی فیتصرف إليه وانة لایتفاوت فضح العقدء وَل ان يعمل کل شىء للإطلاق إلا انه لایسکن حَدذادا 


رودو و دے و ,ید و 


7 


پر شس ار کے کے و 2 


وَلَافَضَارا رلا طکاناء لأنَة فيه ضررا طاهرا ل نه یھن البَاء قد بمَا وَرَاءَ ها دَلَالَة۔ 
تنج : مات ب ںککموں اور دکانو ںکور پش کے لی کراپے پر لونا ہا ہے الہ ای مل کے جانے وا ل ےکا مکی 
وضاحت کر ےکلہ ان میں رش یکل تارف سے اس لیے عق اہارہ ای طرف میا جات ےگا اور چوں 9 
اناوت یں موتا اس 7 ہوگا اور اطلان عق کی وج سے متا ہچ کو ہرکام رن کیا اہازت موی یکن متا روپار رعو اور 
پینے وا لوا ہیں بسا سک کوک اس می صر ہو اضر ے» اس ل ےکہ یہ چم ئمار تک وکرو رکرو ین میں اپا لالد عق ان 
علا وہ ے تیر موگا_ 
اللغات: 
استیجار پچ اجارے بر مال کا الدور چ دارکی مع ے گم الحو انیت & عانو تکیا کے ےی دوکان۔ 
طالمتعارف رور محروف_ إحداد لور فإقصار 4 دجو ی۔ ط(طحان ٦‏ ٹا پینے والاء جل والا۔ إیوهن گنو رکرناء 
,0131 ۱ 
کرایردارکیا کا مک رکا ے؟ 
صورت ستل یہ ےکر پل اورتھار کی غ سے مکان اور دکا نک وکا ےے پر لیا اورد ینا درست ور چا ر ہے جوا ہکراٹے 4 
لے ہوۓ مکان یا دکان شی ںکام اورنوحییت کا مکی وضاح تکرے یا کہ سے اس ل ےک موہ اورعرفاان یزرو ںکور پاش بی کے 
لے لیا جاتا ےاورر ی سل تاوت کی ہیں موتا اس لی ےکا مکی ویضاحت کے فی بھی عترم ہوگا اورمتتا ہرک وااس میں ہرطرح کا 
انار مرگ او و تودرے اک یکورۓے کے لیے دے یا ج جا ےکا مکرائۓے ء الہ رمتا ج اس میں لوپار دعولی اورآ ثا چلاے 
وا ےکوی رکوکتا سے مہیوکہ ا کا مون سے مار تک زور مون ے اورا کا قصان ڑا اورزیادہ موتا ہے اپنرادلالت حال اوررف 


9 نا بل جلر(ط) ہر ICEL‏ اکا م اجارات کے بیان ٹل ٤‏ 
وروا و کے ایا رو ن اال و د 


9 
ہر9 5 30 ر 


قال ویجور سْییْجَار الأراضي لِلرَرَاعَة لھا منفعة مفصودة معهُودة فيه َمْسا جر الشَربُ وَالطريق 

ہے شس تہ تا رو یت لن 
ال مت 27 الرَقَبّةَ الإنتفًاع في الخال تی تی يجوز بیع لخب والسبخة دن لّإِجَارَة 
فذحلا زين عبر کر عو وقد مر في الع ريصح اق حت يُسَمّی مَايرْرَ ع فياه 


اہم رر نر و ق ماوت وین ال 2 مازع شرل لی اذ ن 


2 
اة فاا ص فی 


e 


7 
۶ کہ صصے 


ےج ۔ E‏ سء بخلاف 
ر دوي رور دو ور عر ر 8ر 0 
ما إا انقضتٍ الْمدةء والرر ع بقل حَيث تعرك بأَجْر المغل إلى رَمان اراك لانٌ لها نهاية ية معلومة 


ترچه: I CLC‏ 
ز ن یش متبددھی سے اورمتا ترکو پا لی اورراستہ ےگا ااگر چا کی شرط نہ لگا یکی ہو ہیوت اجار اتفاع کے لیے عق کیا ہا تا سے 
ادرشرب وط لی کے اغی راتا کا ہوکنا اب ابی وولو ں ملق عقر کے مت دال ہوں گے۔ برخلاف تق کے اس می ےکک ےم 
کا ما لک نا قصوو ہوتا سے نک نی ا ال انا کنا ای لےگھوڑے کے چو سے ہے اورکھا کی ز شی نکی تم چا ہے نان ا نکااچارہ 
با ۶ں ےلب زا تقون بیان سیے !ررب اورط ران میس دال ہیں ہوں کے ۔ اوتاب الیو غ میس رصت لگ ر چیا ے۔ 
اور جج بک ز مین می بو پا نے وای چ ن کروی جاۓ اس وشت کک عقر یں ہوگاە ای ےک زین زراعت اور 
یر زداعت دوفوں چیزوں کے لیے اجار ے پل جالی ے اورا می جن چ ړو ںک یھت یکی ہا سے دہ متفاوت مون ہیں لپا بول 
O‏ ضروربی ہم کات ہونے پا یا مالک ےکہ ہد ےک یں ہے من ق و ےر ہا نہوں ورمتا جر جو 
چا ہے اک می لا ق کر ے یوت جب ما کک نے متا لوانتت رو ےو یتو جو چرالرت می الی النزا ی ووت موگئی سے۔ 
اود یگ تا و کاو ین ان کے فالی من ا ے مام انی نات اے ا کوک رخ اکل اور 
لا کوت منفع ت کی ز مین تمو ے کر جب ممت اجار شتم و جات متا بے ارت ڑ نا اور درخت اکھا ڑکز میاو 
ای ۲ 019ھ لا سے کوک درخت اور تار تک یکو کول بزائں انا کی رج اك زنک 
لیف پنیا نا لماز مآ گا۔ 


(FUL eS FRE SIE آنْ بل‎ 1 

اس کے برضلا ف اگ مت اچارو* کت کین کک اسے اجر تنگ چو دیا جا ےگاءاس لی ےکی 
2 ایی ین مرت ہےاودایاکرنے مور اورت ج کن میں رای کان مت 

یہ مسحتسدحسکصت 

او پارگی۔ لق بۃ پچ کن رون ۔ ل الجحض کڈ ےکا بجو بی م السبخة )ر شور زین جوکاش تک صلاحیت کی 
افو ض چ حا ےکر ناء یر ہکا یقلع پ4 کین مکرنا۔ 
زگ زش نکواجارے ردیا: 

صورت مہ بی ےک یں ط رح ر پاش کے لیے مکا نک وکرایے پر دنا درست ے ای رکاش کا رک اورزراعت کے لیے 
زک نکواجقرت پر یناد رست اور ہا ےءکیونکہ زین می ںیت یکر کے خلہ پیر اکر اور اکان شعت ماک کر ےکا ایک اھا اور ع 
ذد یہ ہے اورا کے جواز لکوئی شی یں ہے اور چو ں کک یم نے کے لیے رات اور بای کی ضرورت موی ہے ای لے ز مین 
کے اجار ہ یش پالی کیا پار یکا حص اور راست زخو وکو دداشل ہوچا ےگ خواہ ان چچیزو ںکی وضاح ت کی جا یاک جاے ۔کیونلہاچارہ 
1 مق تصیل نے سے اوران چیڑوں کے بخ رفع نک حصول ن ہے اہن طاق عقر کے خت ہے دونوں چ زی اچارہ س 
شال ہوما اہی گی لین گرا جارہ کے بمخلاف ٹین کا معا ہل مونو خی میں صراحت کے خی شرب اورط رب داش ل یں ہوں گے ای 
ےک ے ایت تتصورہوئی RIS‏ ی ل کرم صو رت ہوا ای لیے کھوڑے کے بچھوٹے سے اورشور بی زین 1 
ات 3 ہے وگ اں ےم لی عاصل ہوا ہے ہین ا ن کااہاہ شس ے ےکلہ یردونوں فی الال نا مل انفاع ر سے میں ء 
اپائ یس صراحت اور وضاحت کے !خر شب اورطر ان عقر می واف ل کیں ہوں گے_ 

ولایصح العقد الخ فرہاے ہی ںکذراعت کے لے ز د نکواججارہپہ لیے کے لیے ایک حشرط یکی س ےکہ زین س جس چ 
کھت جات ۓگی ا کی وضاح کروی جاۓ ن ہے بنا دیا ہا ےک ھان بویا جات ےگا با گول بویا ہا ےگا کوک ز مین می تتاف 
چیزو ںکی زراع تک جائی ادر ہر چزک ق مالیت کے اقھا ر ے چدا پرا موی ہے اب ظاہرے کہاگ بوئی جانے والی چ کی 
وضاح تی لک جا ےکی تو اس سے ڑا اورا پیدا ہوگاء اس لیے یا ت ا کی صراحت ضردرکی ے یا چ ما تک اورموہ رکی طرف 
سے متا برکواخقیا سو پ نہک ض رورت ہے کا اورک ڑا ہو جا - ۱ 

ویجوز ان یستاجر الخ ا لکاعائل س کرادت بنانے اور ٹر دہ لگانے کے لے بھی ز می کا جت پر لین درست اور 
۱ جات ے یو کی منفعت ماس لکرن کا جات اور تر 0ء۰۶" ہە؛ہ"ہ" 
زین سے اے یڑ ہے کال نے اود زین غا یکر کے اس کے کا کرد ے »کو عو درخت اورگار ت لوق ن موی 
اورا طط رح رت اجارہ کے بعد ان چو ںکوز ن س باق رک ےم و جر اور الک٤‏ نتصان ہوگا اور کیکونقصان بیان این 
ہے ہاں اگ درخ تکی جزمن مم سکیتی کا یکی تی اور مرت اجارہ ےت وہ ری اور ہنی ھی وک یکو یک کک چچوڑ دیا 


1 آ نابح RA XO SE Dn!‏ اظام اجارات کے مان یس جح 
جات ےگا کیونکہال کے کے اور تار ہو ےکی ایک معلوم او رین مرت سے اور اس دوران جک راہ موا وو مج رکودیا ہا کے گا کی زایا 
کے سے موہ کا کی نقصا نی موک کہ اس ےکرابیل جات ےک او رمتا ج رکا بھی نقصا نیس ہوک اکا سے ایک او رح ت کا کیل سن 
غلل ہا ۓگا۔ 


a s٤ 


قال إلا ان یَخْتَارَصَاحب رض ن غرم 


ملک فَلَه 1 


قيمَة ذلك مقلوغا وملک ا له ذلك ظا حا صاع 


عرس والشجر إلا أن ينص اض بَلمه م قوی بها بير را قل ا ری برک علی عه 


‫َ 


0 ۲1 و 


ر ٤دا‏ ارس بهد عو قله أن لَايَستَوْفِيَء ال وَفي الْجَامع الصَفیرِإِذً الَقَضَسْ مُذَ 
اجار رفي اص رَطبة نها تع لا الرطاب لا نه ية لها فَاثْمَة الشحرء قال وَیَجور اسَيْجار الدَوَابٌ 
لل ركوب وَالْعَمْلٍِ أنه نة مع مَة عة فِا َطَلقَ 

لن إِذا رکب بتفيه أو ارب وَاجدا ليس لَه أنْ يرکب عير انه تعن مُرادا مِنَ اَلَاصْلِء رالناس 
مقون في اكوب فَضَارَ گا تم على رکوبه. وَكذلِك إا سجر وب لس وَأطُلَق فیا درن 


طاق اس فی ایس وون قا علی أن 1ے 


2 7 


ےہ ےپ >د ود 


ق الركوْبَ جا ل أن یرکب مَنْ سَاءَ عَم بالاطلاق 


ا ا >ے) ص 2 3 44070070727۰ ٤ہ‏ 


20001 ضامناء أنٌ الناس تاتون في الر كوب ۳ھ‎ e 
يََعَذَاهُ وگذلك کَُّ مَایَخيِلفُ باختلاف المستعمل لما دگرتاء فَاکَا الْعَفَارُ وَمَالَِختِلِفٔ یاختلاف‎ 
مس إذا دا شرط سک واحد قله أن ان یسک غه عَرَةٌ ان ال لتقييْ غ مفید د لِْعدم التَقَاوت» الذي يض‎ 
۰: بالبتاء خارج على ماد کرتاه‎ 
رتجہ: فرماتے ہی ںک اکر باک ز ین ہے چا ےک درخت وا ےکواکھاڑے ہو درخ کی تم تکا تادان دید ےار ررخت‎ 
کا مالک وچا ےلو اسے برک ہوگا کن درشت اور لود ے دا ےکی رضامندی سے ہوگاء ہال اگ راکھاڑ نے سے ز لوصا پا‎ 
ولو اس صصورت یں درشت وا ےکی می کے لغری ما کک ز ین درخت ور ہکا ما تک ہو جات ےگا۔فر مات ہی ںکہ با نویا کک ای‎ 

عالت پہئمارت اور درخ ت کچھوڑ نے پرراشی ہوا ےو ارت وا لن ےکی عمارت پہوگی اورز شن وا ےکوز ین ےکی ء اس ل ےکک 
این س ہےابذا اسے یق ہوک اک ایا ہن وصول نکر ے۔ ہا ر 9 -,-ب و جج 
یس درخ ت ویر ہکی جڑ موجوو موتو ا سے اکھاڑ لیا چا ےگ کوک ج و ںک یکوکی د تاش مون فو ہہ ورخ تکی طرں ہوگئی۔ 

فرماتے ہی سک سار مو نے اور بوچ لاد کے کے لیے سوار لو ںآوا جرت پر دنا جات ہے ای ل ہکان بیس سے رای ج معلوم 
اور پوو منفعت ے» اور اکر با کک ق رکو بک اجازت دبا ےت متا ج کے لیے ہا ےک اطلاقی برع کر ے ہوۓے جے 
و رو شور گیا ا یکسوارکرد نے یا کی کےا وکا سے ا 


رر انام AERA DSO O2‏ اما جا رات کے مان شر 
ای ای ککوسوا رکرو ینا اصل سے مقصودی کر ن م وکیا اورسوار ہونے می لوگو ںکی حالر تلف ےل مستا رک ٹل ایا مو اگوی 
کرای نے ابتداء ی اپنے سور ہوٹ کی صراح کروی ۔ اہیے بی جب کی نے کمن کے ل ےک راا جرت بے لیا اورا ےق رک تو 
بھی اے قود کے اور دوس ر ےکپ ا کات اسل موک کیک شات ہے اور نے یس لوگ لف ہوتے ہیں۔ 
اور اکر ای شرط ب سواری جرت پلک ای فلا ں ت سوار ہوگا فلا نک ےک کان اس نے دوس ر کو اس برسوا 
رکردیایا و وکپراددسر کو پہنا دیا اور جو دابہ باکر الاک ہوگیا تو متا جرضامن وکا اس سل ےک وار ہونے اورپ یں لوگو ں کی 
اتی ں لف ہو ا مین کی کین نین کے بعدمت جرکواس سے تھا زک ےکا نیس موک بیجم ہر 
ا چ کا ہے جواستعا کر نے وانلے کے اتال سے برل جائے اس دع کی دج سے جوہم یا نکر ہے ہیں۔ ری کن ادد ہر 2 
چو تتعمل کے استمال سے نہ بد نے اس میں اگرلسی ن ص شک ر وشرو اکر ےو متا ج کو یران وکاک دوس ر ےکو اس یں 
ہا یک احجازت دید سے ای سل ےک مہا ںتقید خی رمفید ےکیوکہر پاش می فر ںای ہوتا اوج یز مارت کے لے قصان دہ مو 
دو ا گم سے فاد ہے جی اک ہم اسے جیا نکر کے ہیں۔ 

اللَات: 
ْ یغرم جا دان راء ی اداکرنا۔ امقلو ع اکھڑا ہواء ال کیا ہوا۔ بالغ رس ج رکارکیہ یدے۔ طرطب 4 
یں جڑمیں۔ ار طاب رط بک 8 0 إعقار قول باغراف ` 
اجارداراشی ک لاف م ال: 

عبارت یل پا ی کے رلور ہیں: 

(۱) اٹل مس جو بیگم جیا کیا گیا س کہ مالک متاج سے اٹی زین خا یکرانے کے لیے اسے درشف اور پپدے ونیرہ 
اکھاڑ ےک ملف بنا ۓ گا ہلان اکر دہ چا ہے و ا ز من سے درخت وغیرہ خالی نہکراۓ اورا نکی ج قبت ہوشتی کھڑی ہوئی 
حالت یل ا نکی جو تمت مو وہ تمت ما لک ستناب مکو د یر ے بشرلبلہ متا جر اس بر رای ہو اور درخ وغیرہ اکھاڑ نے می زم نکا 

. لقصان نہ ہو او اکر کا لے یس ز بی نک صان ہوتا موت اس صورت یں مان ککو انار ےک متا ج سے او کے اورا سکی می 
جانے اغیر سے تلو اشا رک تست دییدے۔ یا اکم ما کک چا ہے انی ز مین ٹیس درشت وخیرہ لگا ر جے د سے اورمتا جرکواکھاڑ ےکا 
مکل نہ نے اور کا درخت وہ ا کی مللیت بی ر ے اور سکیا زین ہووہ ا سکی رے کس سوہ 
اور جب وواپنا ہن سا ق کر نے برای ےا وکیاکرےتاضی؟ 

(۴)سنلہ بی ہ ےک ہاگ ت ارت ہوجائے اورز من می ددشت دفی روک جڑی با ہو ت دخ کی طرح ان واو 
. بھی اکھاڑ لیا ہا ےکا اس لی ہکا ن کک یکو رت میس ہو نی اور میں ز زین یش باق کے سے مال کک نقصان ےہا رخو ںکی 
طرں ان جڑو ں لوی اکم کر ما لن کک زین نما یکر دی جا ےی ٠‏ 

(۳) اجار ر یکی رح موا رلو ںکوجھی اجقرت پر ہنا درست اور چا کا سے ءکیوئکہ ا نکی تفوت کی مقصوداورسجبودہوئی ہے 


2 نال gE N:‏ 7 جیا کر ہام Em‏ جا 
اود مج عم اس صورت من کی ہے ج بکپڑڑے کن کے لے اجرت پر لیا اب اگ ری اق کےسوار ہونے پا بن کی شرط نین 
۱ ا ی کی عتر لق ہو ےکی وج سے متا برکواخقیار ہے چا ےل خو وار ہو یا چا ےس یکوسوارکرے اور اگ ری اہ نخس کک 
اتعا لکی شط ادق جاۓ تو حرط لکرم ضروری ہوگا اور اگ می نکر ووس کے لاد کی وو سرا استعا لکرتا سے اور متا ھ 
لاك وما ےو متا ج ضا ہوگا کیرک اتا ل کر نے میں لرکو ںکی حایس اور ارس ملف مون ہیں اور ہو تا رر 
مت شس لیف اور اما انیا ن ہک ےکر اچارہ پر راشی ہوجاۓ او رکوگی پد بت او رکا مم انسان اسے تباہ دب بادکردے ای لیے یر 
مین کے استعمال سے جلاک ہو ےکی صو رت ٹیل مستا ج ضا ہوگا۔ 
(٤)ركکذلك‏ الخ ہے ہی ں کت صمل کے استعال سے ج چ برل جائی ے ا یک یعم ےکن زین اور ج چڑ سی 
تل ے استعال ے بلق یں ان می تی نکر ووک یی استعا لکرنا ض روریینییں ہے بک ہاگ رکوئی دوس بھی استعا کرجا سے 
کو ھ یں ےکی وگ اس طر کی چچززوں میں نفاو تی موتا اوراستعمال ےخراب ہو کان ریشم ر چا ے۔ 
(۵) والذي یضر بالبنا۔ الخ فرماتے ہی ںکہ ج وکام کارت کے لے نقصان دہ مون لو پر با دو ی ىا کی ویر ہکا کام دہ 
اطلا ت عق سے خارج ہوگا ارتا جر رکوہ مکان یا سوا رک ویر وکوا کا موں کے لیے استعا لک سک رسلا ۔ 


ال وَإِنْ سَمّی توا ودرا مَعْلومًا حه لی الاه مغل أن يول حمس رة نطو قله أن حمل ما هو 
مغل الجنطة في الضرَر أو اقل گالشَییْر ايء لان َل تحت ان لدم التقَاوّتِ أو لگونه خير 
من الّوَلِء وََیْسَ له أن يحمل ما هُو اضر من الُجنطة كاللح وَالْحَدبِّ لڈام الرَصَاءِ بۂء إن اجره 
تحمل لھا ُا سه قيس ان حمل اھا مل ونم یبْڈء لا تأر بلكائة ئ 
2ے 9 ےوہ 9 ,2ہو ود ورد ۶ 5 
الدید یجتمع فی وضع من هره والقطن يبط على ظهره. 
ترنجد: را ہی کہاگ رمتا جھ نےکسی ا کا اونشین مقدا رم داب پرسامان لا د ےک ر کروی ملا ا 
ا یر ندم لا دو ںگا ت اسے ہرا می جن لاادن کات موک ج بوچ اور وزن سکندم کے ل ہو بااس ےکم وز نکی ہو جیے چو اور 
تل »کوت ناوت تہ مو ےکی وجہے ہے پچ رس اجازذزت کے حت دال ہیں ا ای وج ے واشل می ںکہ ہے حط سے ہر میں ۔ اور 
متا رکو یق کیل ےکگندم سے زیاد*وزن دار یز لا دے کے اورلو ہا یوک مور ای سے راع ی یں ے۔ 

ری کد وداور ی نکردہ مقار ٹیش روٹی لا کے کے لے سواری ا جرت لا اے ی یں ےکا کے ون برایرلو 
اا ل ی ا ہے »کوت لوا انو ری پشت پر ایک بی جع رجتاسے ج بک ر وی ای 
کی پشت پیل ما ے۔ 
اللغاث: ْ ۱ ۱ 
۱ اقفر ة) ت ےتغی رکیء ایک پا ےکا نام ے۔ الحنطة)4 اندم ۔ الخفیف 4 کی _ لإیجف خت ہونا۔ 


9 کل جلرزں) ار اب سے ےا یک اجام اجارات ت کے جاک یس 4 
[الملح )مک طالحدید )قطن )رول وص سط 4 چنا 
جاٹو رگا ڑئی کےکراب یل سا ما نکیالذکیت: ٰ 

صوزت مت ےک امراف ےل او وڈ ن ل ی جن اور کر ےکوی وا را او ا ے کی نک رو نی 
لاد کان ے اور شتی اوراس وزان کے برای دوسریی یھی لاد ےکا ت سے مشلا ۵۰ کیل ودم لاد نے کے لیے ای نے وا 
کراہے لیا تھا تو وہ اتی مقدارش جواو رت لبھی لا سک ہے ؛کیون ندم اور جو می ناد تم ہوا ہے اور ت ندم سے اخف ہوتاے 
اورداب کے ےتقصان دوکیں موتا ازا راح گندم کے باوجودمستا رک جو ونب رہ لاد ےکا اخقیار ہوگا_ 

الہت ج زی داب کے ےنقصان دہ ہیں کے میک اورلو )کان سے ا کی یشت کے کٹ او رمچھلئی ہو ےکا ات دیشر بنا ےت 
متنا ج کان اشیاء کے لاد کے ےکا نیس ہوگاء اس لیک ا کل اؤن ملق کے تحت داخ ل یں ے تی ےک کے ا ارہ ٹیس ا سے 
پڑعحی اورلو پا رکود ینا خا یں ہوتا۔ بی حال دوسرے ت ےکا بھی سے۔ 


ہے ص ‏ رڈ سے 95ے ہے گے کس بے 25 ہے 2ص ص 


ال ون اسُتَاجَرَهَ ربا ارق مَعَه رجلا فَعَطِبّثْ من نصف فَیْمَيهَاء > ولا مغر بالفقلء لان الذابة قد 

رها جَهل الرّاكب الْحَفیفِ يَف عَليها ركوب اليل علمہ بالفروسيةء ولاه َير مرون لمكن 
رة لوزن فاغتبر عَدد نکی كَعَددِ الْجْتَا فی الْجنَاياتِء ران استَاجِرَهًا لحمل عَلَيْها [ : 
الحنطة فَحَمَل عَلَيها كر مِنه فَعَطبَّتْ صَمنَ مَارَاد الْقَلْء انها عَطبَث بِمَا هو مادوْنْ و e‏ 
ون فيو وَالسَمَبُ الْقْلَ فَالْقَسَمَعَلیْهمَاء إلا إا گان حملا طبه مل َلك الدابة فَحیَِْدٍ يضمن كل 
يها قتم اشن وها ألا رجه عن الماد رن كبح اة بابق وربا فَعَطِبْ صَيِنَ عند 
ابي عَيلْقة ايء : وَکال لَاوَسْمَنْ إا قعل فعا مَُعَارَفاء لان المتعارت بنا يذل تحت مطل الف 
لگا اص يانه قلايضمنةء ولابي ية علیہ أن لذن مي برط السَلَامة د فق السَرْقْ 


رو و ر وور 


بها رَّمُمَ لِلمَلعة قيقد برف اف ارز رق افر 
تنجد: فرماتۓ ہی ںک۔اگرسوار ہونے کے ےک نے دا کرای لیا اود سی سا کوردیف بای رده داب لاک وکیا لو 


مستا چرنصف تم تکا ضا ن ہوگ اور وز کا اتبا رکیں ہوگاء اس 2 7+70۳ بھی داب ھا لکرد بی ے 
ج بک سار ہوےۓ کے دائ یچ سے واقف پھارکی رسک سوار ہونا چانور کے لیے باع آرام موتا ے۔ اوراس ل ےکآ وی سے 
اس کے وز کا محال نکیا پا اور اس کے وز کو اام نہیں ہوا ایفرار اک کی ترات ر موی کے جزایت میس ہجرمو ںکی 
تو را رمعت ر مون ي 

ارا کا م کے لیے سور یکر ایے بے ک اا پر ایک قت دار م لکندم لا د ےکا یکن متا جر ےی نکر وہ مق ار ے زیادہ لاددیا 


پا ا ْ بل 029 RESEDA‏ اکم اجارات کے بان س ۹ 

اور جانور ہلاگ ہوگیا تو مستاجرزیادہلادے ہو سے بو چ ہکا ضا کن ہوک یوک داب ماذ ون اور تیر باذ ون دول لو جچھ سے پلاک ہوا نے 
اورسبب ہل اکر تقل ےلپ زا ان دونوں شم ہوگا کان کا تا زیادہ بو جلا ددی کے وہ دابا تابو یں اٹھا سن تو اس صورت س ٠‏ 
متا ج دا ہکی برک تس تک ضا کن ہوگا »کیوکگ اک یل اا زت معدوم ہے ءا ل ےک کل قرف اور عادت ے خادی سے ۔ 

رمتا ھر نے زود سے دا کی کا یکی یا اسے مار اور دہ لاک ہوگی تو امام ام وٹ کے یہاں متا ج ضا ہوا ۔ رات 
صا ٹن تفر ماتے ہی ںکہ اکر اس نے عام دستور کے مطا بی ایا کیا ےلو ضا ٹیس موک یوک تار کا م ملق عقر کے تت 
دال ہوا ہے ہڈا ہکا م ما کک کی اجازت سے مال ہوا وکا اس لیے مستا جر ضا یں ہوک حضرت اماما م ول کی وکل ہے سے 
کہاجازت وصمفِ لی کے سا تجح متیر موی سے ءکیونک مغ اورضرب کے فی یھی وا ہک چلا :اکن ہے اور ہے دوو ں کم تز چلاے 
کے لیے ود تے ہیں البذر ابی وص ف لی کے سا تح متیر موں گے کے رات م سوت 
اللَات: 

٠‏ لاردف( ردیف بناناء یکوسواری پر اپنے کے بٹھانا۔ لإعطب ) جاور پلاک بویا 0 بوچ لوڑے 
ت بیقر ) تاہکرناء پو ں کاغاءختصان بیان 9س ووئ) ۔ [الجناة) تد سیٹ 
كبح 604 سنا السوق 4| کنا ڈائیور یکرنا۔ 

کرایہ پر پی موی سوار یک ہلا اکت: 

کارت می جن کے بیان سے کے ہیں : 

(ا) ای نیس نے سوار ہوتنے کے لے وا برا لی اور پچ رای ےآ وٹ یکو اہین مور لمحت متا 
نف قب کا ضا ہوگا اورنصف تھ تکا ان رد یف ب ہوگا اور یہاں مضمان کے دونوں سواروں کے وزان شیم سکیا جات ۓےگاء 
بلک ینان عددد ہل کے مطا لن واجب ہوگا 9+ ےک ای ےآ ومول وز کا مو ہے ان وار یکر نے می اناڑی 
تا ہے اورا کی سواری سے نوار یکولی پی ساد کی ایا وتا ہےکہسوار ون دار ہوا ےنکر وہ ھی رح سوار ہوا چا 
ہے نس سے ارگوا کا وزن ہہت پلک وں موتا ے اس لیے وجب مان ینف اوروز نکا اتا ریس ہوگا بک افراو کے اتا ر 
ے وولوں ضف ضف ضان ہوگا۔ یی کروی س وولوگوں کے مم سے راو با ں کی دونوں بچرموں بر لصف لصف دیت 
واجب ہوگی خواہدوفوں نے رایز کیا ہو ہام زیادہ نظ ایا مو اور سکا نٹ کہا وکا اس بز یادہ دی نیش ہوگی اسی رح صورت 
ستل می بھی دونول سواروں پر برا برابرعمالن واجب ہوگا_ 

(۴) اگ ری نے 1۸کپشل انیم لادنے کے لیے دا کرای پرلیا ینس یں وکل ا ودا اورا دا ہہ میں شی ںو کن رم اٹھا 

کیل کی تا بی یکن کی دو تانب نہ لا ہکا اور ہلاک ہہوگیا و تا ج نے جو دوکڑشل زیاد ونم لا دا ہے ا کا تمان ہوک من داب 
کی پور تمت کے میں سے کے ما س کے اوراس پر دوتصمو ںکا ھان ہوگا کین صو رت ستل بیس ۸ کین ل کا بو جج باذ ون ے او ر٣‏ 
کوٹ کا بو تیر ماذون ہے اور بات بو کے کی سے ہولی ہےء ای ےعغان ماذون اور یر ماذون بوچھ تم ہوگا اورمست جم غر 


7 02 جلر(۴) LAFE PIER‏ اام اجارات کے بیان مل : 
ماذو نکاضمان لازم ہوگا لین اگرمستا جہ نے اتا زیادہ بوچ لادد ا او :"یل ا ا 
ہونے سے متا جر اس دا کی پوری تم تکا نان ہوگا ہکبومبضرورت سے زیادہ لو چ لادنا ۶رف اور مارت سے فار ے اور متا جر 
ارہل میں متمدی ےلپزادہ یری آ تس تکا ضا ہوگا- 

(۳)اگرمستا جم نے ا چت پل موی سواریکی گام ای زور ےس "۳9۶ئ0 انم شی 

کے بیہاں مت جرضامن ہوگا لیکن حرا ت صا نین بہت فرماتے ہی ںکمتاجھ نے ان زور سے“ اپ ناحرف مل جا ور چلاۓ 
ا ا کی نس کا بل ی وت پا رارت اض 

اذوان یل متا ج برضا نکیل موتا 

حر امام کی وکل یہ ےک ہا ری اودرضرب کے بھی چ ہیں اور وضرب تز چلانے اور نے کے لی 

تا ےکوی ال لزا کر ےہا ى کے سات متیر موگا ا ورگ ا رل سے دابہ پلاگ موتا ےلو مستا جر ضا ن موک 

زان یں اناوت تی کا رر کے او کنا بے کا مال راب ہ وت ہے نے نے والا ضا مو٤‏ ای 

رح صو ر ستل مکی ریغ اورضر ب کی وص لشت کے سا تج مقید ہوگااورا نکی وجرے دا ہکی ہلاکہ تشون موی _ 
ران استَاجِرَمَا إلى الْحیْرَةِ فَجَاوَر با إلى وة ثم رَد اى الحيرة تم 7 فقت فَھُوَ ضامن وگذلك 


رص ے جج 


اريه وقي تَأَرِيْلَ هذه الْمَسْالة دا استَاجَرَهَا ذاه لا جا ن نيا لينتهى الْعَقدبالوصُولِ إلى الحيرة فيصر 


ردو صا 


بالود مَرَدَوْدًا a,‏ 


مقصودا فقي الم بال وط بد الود رلی ارقي فحص ادلی تو تیب اللات رفي اإجارة زارت 


م وود وو ا 


عو 2 


سُیعمَالِ لا مود قدا انطع الاسْتَعمَال لم بق هُو نانب وا بالود 
iy‏ أُصح. 
تتجد: EAR ER‏ 
وایں لاا اورووسوارکی پلاک موی تو متا جر ضا کن ہہوگا۔ کہ یمم عار ت کا کی ہے۔ ایک قول ہے س ےکا مت کی تاو یل بے ےک 
جب مستا بے نے جانے کے کے ےکمرامیہ بے سارک فی ہو او رآ نے کے ے نہ لی ہو اکر مقا م رة تک کت ی عترم ہوجاۓ اپزا 2ه 
وای یآ نے سے وہ معنا باک ککوسواریی وائی کر نے والا نیش ہوا۔ اور اکر ال نے جانے او رآ نے دوفو کا م کے لیے ہوا ری اجرت پہ 
لی وو ووا ی ودر کےعم میں موک جومووںع کے مکی الف کر کے موافقق کر نے ۔ 

ایک تیا قول ہے ےکہ ریگ م مکی ہے۔ اور ولعت اور اچارہ ٹل فرق ہے ےکم وة بالقصرطفاظت بر مامور موتا ےءلپزا 
مور کے موافق تکر لیے کے بعد ار باکفا ظ ت ی عالہ باق د پا اور با کک کے ٹا (خودمو وع سے )کو وای ںکر نا اکل موگیا۔ 
اس کے برغلا ف اجار ہ اور عار یت یل فاظ تکا مامور ہہ ہونا استعال کے جن سے تقصود پالزات یں ےاوراستمال نتم Lis‏ 


1 7 جلر(۴) BEER SOR‏ اجام اجارات کے مان س س 
بحدمت تر ما ن کک تا یں ر جتاال لیے وائییل ہو نے سے دوضمالن سے برک یں ہہوگا یی ا ے۔ 

اللغات: ) 

ل[ الحیر ة )ایی مک نام سے القادسیة 4 ایک ب کا نام سے جہاں جگ قادسی وا موی بإنفقت 4 پلاک 
موا ذاھبا چ جانے جانے کے لیے ال وفاق یہ موافقت۔ ڈیب رہ برک ہونا۔ 

زیادہمسافت لٹ یک رن ےکی صورت: 

صورت لہ ہے کہا sS‏ ےجس Î‏ 
و ا ا ا ا ا SEA‏ یا تج تکاضا من ہوا گم اجار ہک کی سے 
اور عار تکا کی ے و ےا سک ٹم حرا تی ما جم کے دوقول اورک ہیں : 

(۱) حرا تک راے ىہ س کہ کم ال صورت شی ہے جب متا ب نے صصرف ترہ جانے کے لیے سواری کراس بی 
و کیک انس صورت میں تی رہ کے نعل وا ےکا او کے راو زی کے یل ری او تر اونب 
ہو لن ےکی وج سے ضا ل ہوگا- 

یز دوپارہ رہ تیک وائی یآ ےکی وچ ہے مستا ج حا ووسوارکی ما کک یا اس کے نا کو وای کر نے والا انیل ہوک کی وہ نے 
مو نیس سک مان کک ناب من جائے۔ پاں اکر جانے اور نے دوفول طرف کے لیے سواری اجرت پر اع فو یمود ےکم 
ا ےک خلاف درز یکر نے کے بعدموافق تک لے دو ضا نیش ہوا اک ط رع رتا جھ 
بھی مضمان سے نے ہا ےگ۔ 

(۴) دوسر ےش مشا کی داۓ ہے ےک ص ورت مت میں متا ج بر وجوب مضا عکاحھر ملق سے میتی خواہ اس نے صرف 
جانے کے لے دا یا ہہو ما نے جانے دونوں قمر کے لیے لیا ہو ب رورت ال ہمان ہوگا اوراے موق بر تیا سکرنا نہیں 
ہوک > کوت اجارہدعار یت اور ود لت میں فرق ے ادرو ہے ےک ود لیت می تصوو پالزات ب کر موو ر ما لک عفاظ تکرتا تاور 
دہ مال ککا ناب ہوتا ہے ای لیے مخالفت کے بعد ا کی مواففقت سے نان ساقط ہوجاتا ہے اس ل ےک موافقت کے سے ما کیک 
کے :اب می خودموو حکی طرف ودیج تکام ای جا ےاورام اقتا صب ساب کو دک رآ تا ہے ۔ اس کے برخلاف اچارہ اور 
اریت میں طالت استعال کے چ لع وی ےووہ نکرڑیں ہو اور متام ن ھن رو سے تھا کر ن ےکی ور سے استقدا لختے 
ماتا ہے اورمستا ج ب کک کا نا بجی رہ جات ای لیے وا یکی کے بع ری دوعمان سے بر یں ہوگا۔ بجی قول ا ع اورمعتند ے۔ 


ومن ای مارا بسر قمر ع ذلك مرج سرجه بسر ج يسرج يله حمق صَمَان عَلي لات ذا 


رس 3 ہےوہ۔ ہے #١‏ دج 2 7ے ے۔ ]- 0 و و ے رو ے و 


گان یڑل الو يَعتاوَل إذَْ الماك د بده في اليد بعرم إ5 إا گان رادا عَلي في اون فیا 
و و لداع سے ے ر é2‏ وووے ےو پک ےد رت ر2 


يضمن لاف ون گان يسرج بعلو لمر َضمَن بات لم تال لذن ِن جهو قصار مالفا ون 


ک7 ور ایا ہرز XOY‏ ہ7 ا ۲ 


کے <( AG‏ ووو ٍ9 ےر د ٤دے>پ‏ 


بس او رت سر و لما فلا في السرج» ٠‏ وها آولی» وَإِن اوگ پاگافی یرکف 


روو وووے 


بمٹلہ يمه الکُمُر من عند أبي عَبْقة يراي رالا يضمن بجسّابهء لال إا گان برف بمشله الْحُمَر گان 


RED‏ پر 5ل 


و والح سواون الماك راا یہ 3 5ا گان زايد على ارج في اَن يضمن لزه يَادَةَ لته لم 
رض بالزیاد دة فَصَار گالزياد ة فی لحمل ال إا گات مِنْ جنه ولاب خَِيْكَة مايه ان 
e‏ للَْمْلٍء والس رح لل ركوب وَگذا يبط اَحَدُمُمَا لی طهْرِالڈائّة َال ينيط 
لاخر قيكوْن مالقا كما ذا حَمَل الْحَدِيْد وقد شَرَط لَه الجنكة. 
تنج اکر یتس نے زین سی تکوئ یگمدھاکرایہ پرلیا اوراس زی نکواتارکر ایک زین لگادیی ج کرعوں نے گا ہا ے۶ 
متا بے پرمضما نک ہوگا وئ جب دوسرکی ز بین پل کے ماک سے ووسر یکوک ما کال نا 
علاد وکومقی کر نے می ںکوگی فاکد ہیں ہے کین اکر دوسرکی زین کی سے زیادہباوزن موتو اس صرت ٹیل مستا ج زیا ونی کا ضا 
ہوگا۔ اور گر اس دوس یی می زی نگمدعو ںکو نہ پہنائی ہانی موتو مستا جم ضا ہکن موک کبونکہاسے ماک ککی اہازت شا لی ے لپیا 
مستا ج با کک ک ےع مکی تالف کر نے والا ہوگا۔ اگ رمستا جر نگم سے پر الما پالان ہا تھ دا کہ اس جیما پالا نگدعول پل ہا ترما 
جات ہے تا تر ضا کن وکا ای دم کی وج سے ج ہم ز بن کے سلسلے میس جیا نکر چے ہیں ۔اور ییاو ے۔ 
اوراگ رمستاججہ نے ( زین لگا لک گمد سے پرانیماپالان با تد دی لکا جیما پالا نگرعوں پر باندھاجاخا ہے ہل امام ام ویو 
کے بیہاں مت جر ضا ہوگا۔حفرات صا ین یکو رما ئے ہی ںکہ زیادگی کے اب سے ضا کن موک یرتک جب اس جیا پامائن' 
گمدنعوں پر باندھا جانا ہے تو وہ اور زبین دوٹوں برای ہو کے اور با کک اس سے رای ہوگا الا کہ پالان زین ےزیادہ وزیی موتو 
متا ج رز یادن کا ضا کن وکا کیرک م کک زیادٹی پر ریک چاو شی نکردو بو چ میس ز یاون کی رح ہوکیاجب دہ زیا ری ا یکی 
مس ے ہو حقرت امام م واو کی وکل ہے کہ پالان زی کک ےنیس ہے کیوکلہ دہ وھ لا دنے کے لے لگایا جا جا سے 
ارز ین سوار ہو نے کے لے ای ہا ہے نیز پالان دا کی پشت پر اتا تا ے جتنا زی نیا اق _ اپ زا مستا جرموج رکا الف موک 
شک پاات 
پاکتری گرا پلیا۔ سر ج) زین۔ تر ع( اارناءنا۔ لاسر ج( زین پبانا۔ (الحمر گر ے۔ 
یمائل مشاہ ہونا مال ہونا او کف چ پلا ن ڈالنا- اکاف 4 پالان OTS‏ 
سوار ی کیک بھی بدل دہ کا 0 
عبارت می ںین کل بیان کے گے ہیں : 
)0( ا 2 ای کگمدضاکرائے لیا اور ووز ہن !تا نے د ک زین یہنا دی حطر کی 


مه به ٭ 


3 لے بدا رڈ تی ا ا امام اجارات کے ان یج 
زی گرعو ںک ہنا جال ہے اور وہ دوسرکی زین کی یکی تم وزن ہواور و ہگد عا پلاک ہہوجاے تو اس تبد ب یکی وچ سے متا ج کون 
ضا نیش مو یرتک جب دوفوں زین تم وزن ہیں ت اس تبد بی سے متا جر تعر ینس ہوا اور یبد بی مال کک اجازت ے مو 
اور ج وکام ما لی ککی اجازت سے وای میں ان نج ہوتا۔ ہاں اگ رک رعو ںکو اس ی زین نہ یہنا جا ہو دا کی بلک مون 
ہوگ یکیوکہ اب پیتبد پی ما کوشا یں ہوگی اورمستا جر اس کے مکی خالش کر نے دالا ہوگاء ای لیے اس ران ہوگا۔ 

(۴) متا جم نے زبین لگا لیے کے بح رگ سے پر ایا پالان باندح دی اکرش جیما الا نگرعوں رکٹ باندھاجامان ظاہر ےک 
اے موہ کی اجازت شا یں موی او رمتا رہوج ےکم مکی قالش کر ےکی وچ سے ضا کن ہوگا کیرک جب تبد ہی مرک سکی ہو 
تب وز نک یادہ ہونا موجپ مان چا غلا فک کی تبد بی برچ اوی موجب ہمان ہوگی- 

(۳)اگرمتا بج نے ز بین ٹا لک یما پالان اتد اک ای جیما پالا نگ رعوں پ۰ ہا ندا چا تا ے برای سےگمدساع رجات تو امام 
ام ولٹھی کے یہاں تا گے ےک پاریی تس تکا ضا ہوگا۔ ترات صا یی چا فرماتے ہی ںک س مقدار مل پالا نکی 
زر مول ہے متا ج پړاک اب ےا ن کی موک اور پوری تم تکا ضما نیش موک ہکوہ جب اس طر کا پلا نگدگول پٍلگایا 
جات سا زین ادر پالان دوفوں برای مو کے اور با کک زی نکی رح پالان لگانے پرھی راصشی ہہوگا اور متتا جرصرف اک متھ را رکا ضا ن 
ہوگا جومتقدار وزان یش ز بین سے راد ہوگی ای لی ےکہذیادہ مقار پر مال کک رضا منری محروم موی اور اضا موب فان ہوکا_ 
ا سکی مال ایی سے متا ج نے ۸ اکٹل لکشم لاد ے کے کو دابکراپے برلیا اور اس ر٠٣‏ اکنل لا دیا جس ے وہ داب گیا 
تو متا بر ز ارمق ار کے اب سے ضا ہہوگا ای ط رع بیہا ں کی اس بز ادق رارت یکا ان ہوگا۔ 

حط رت اماما م ای کی وکل ہے س ےک ہین ادر پالان دولوں الک اک ٹین ءکیوکہ پالا نکوئی چ زلا نے کے ےکا ہا 
ہے ج بکہ ہن سوا ہونے کے لیے کا جالی ہے نز دا کی پشت زین کے متا سے میس پالان زیادہ بچھیاتا ہے لپا زی نکی ج 
الات لاگ رمتا ج نے ب کک کے مع مکی حالف تک ہے اور ای تالف کی وچ ہے سواارکی لاک موی ہے اس لے مستا جر اورک تھ تکا 
ضا ہوگا اور صرف ز یا وی کے صاب سے ان د ےکر و یں و ےکا _ 


َ‫ 9ر E‏ 9 ہو سے و 2 9 2 پکڑے ہہ ٭ 7 s2‏ 2ے بت تک و بر رم 9 بے 
ون اسْمَاجَرَ حَمَالا لحيل لَه ماما في طرِیٔق گا فَأََذ في ريق عَیْرہ یَسُلکہ الناسْ فَهَلَكَ الما ع قا 
کر و 2r‏ ےو IIE‏ ےرہ > درط 2ص مر دے سے اوھ 2ط وم سد وو ووو دی 
ضمَانَ عَليهء وَاِن بلغ قله الاجرء وھذا إذا لم يكن بين الطريقين تفاوتء لان عند ذلك التقييد غير مفيد» 
2 ر سے gg‏ 2 و ت 3 ت 2 وي و دی EE 3 ٤‏ اہ و چ ج2 
اما إا كانَ تفاوت يضمن لصحة التقييد قَإنه تقييد مفيد» إلا ان الظاهر عَدم التفاوت إدا كان طریقا 


ee 
72 


" 


َسْلكَه التاس فَلم يُقَصَلء وَإِنْ گان ريق َيَسلكة الاس فَهَلَكَ صَنَء لاه صح التفیيْد فَضَار مُعَاِفَء 


ر دج ہے برو 2 وو یکو ورت 5 م و روگ ےر وہہ ورگ ےر و ےے۔ٍی. رو ,وړ رو 9و ث ھ , 
وإن بَلغ:فله الاجرء لانه ارتفع الخلاف معنی وإن بقي صورةء وإن حَمَلہ فی البُحر فيما یَحمله الناس في 

ورت ر و ہدے یں درو م د ےے  9r‏ دو و ود و2 دے مر و 
الب ضمن لفحش التفاوتِ بين البر والبحرء وإن بلغ فله الاجر لحصول المَقصود وارتفاع الخلاف 
رو ۱ 


معنى. 


را ہے بر وی OER‏ اکام اجاراٹ کے با لن ۹ 
ترڑچه: ہی ےکوی عما لکراسے بے لیا کہ وہ فلاں راتے سے اک سامانع ب EE SEAS‏ 
۱ دوسرےراتے سے دہ امان گیا اورلوگ اس رات بے کے ہیں روہ امان پلاک بویا مال برا نکنل ہوگا اور ا رسامان 
ال سکیا تق ما لکا جرت ےکی یم ای صورت می سے جب دونوں راستوں فرت نہ ہو کوت اس تصورت کی 
را جکومقیدکرنا فیرش ہوگا اوا روون راستوں میں اوت مو تر راتک وج ےتال ضا ہوگا یرتکاب تقر 
درست ے اورمفید ہے لیکن جب لوک اس را کے ےآھ ورف تک ے ہوں و اہ بجی ےک دوفوں راستوں ںکوکی فر ن یں 
ہوک ای لیے بات ےکوی صب لی سکی ے۔ 
اوراگر اس رات میں لوگو ںکیآھ ورفت تفع ہواورسامالن ہلاک ہوجاے فو عالضا ہہوگاء اس ل ےک را سے کی تقیر 3 
ہے اورتبد ب یی وج ہے مال نے ماک کک مخالش تکی ہے اور گر دوسرے رات سے امان ابی مشر ل تک کی کیا تو صا لکومردو ری 
ےک کرک محا اختلا فم ہو چکاے اگر چصور باتی ے۔ ۱ 
"۷/0/٤ ۱‏ 
سر پوت ٤‏ و روا 
متا ج رک مقصید حاصل ہو کا ے اورمعتا اختلا فم ہوکیاے_ 


اللَات: 
۱ إیسلك ) چلناء استعا لکرنا۔ تفاوت ہہ اختلاف۔فرق ۶ وو" ۔ فإفحش التفاوت )یہ 
بہت زیادہنھادت ہدنا۔ الب ی ی راستہ۔ البح ر سور رک راس 
مردوراگرراستہ برل چا ے۱ 104 م 

صورت مل یہ ہ ےکہز بد سک سے یہ عامل ٹ ےکی کم میا یی امان فلال رات سے مر ےگھ کک پیا دو نک وو 
0 و 0 بے ئن ہیں ء وونوں می ںکوئی 
تاو تکل ہے اب اکر دو سامان رات ٹیل پلاک بوگیا تو مستا ج برضا نک ہوگاء اس لی ےک جب دونوں راستوں می ںکوگی فرق 
یں ہن زی رکا کی راس ےکر ی نکرنا مفی کیل ہے اور راستہ بد ےکی وچس ےکر ضا کن یں موا اس کے رخلاف اگ رمک خی ر 
چالاراۓے سے دہ سامالن گیا یا ا لیے دا تنے ہے کیااک اس یی اور کی کر دہ رات می بہت زیاد فرت تھا تو ان دونوں 
صورتوں یل ساما نکی ہلا شون موک »کوک اب قھر مفیر ہے اورتبدیی راس کی وج ےعمال ہراخقبار سے ما کک کے مکی 
تالف تکرد پا اک لیے وہ ضا کن ہوگا ا ہم اکر وہ دوسرے رات سے ز یل کےگھ کک مال باد ینا ہے فو ا سے ےک ردو اجرت اور 
محنتان ضرور ےگا کر وکلہ ما کک کا صو و مال ہوگا سے اور ا کا سا مان اس کےکھ کک کا ےہ اس لیے اس ہوا نے سے معن 
اتلاف نم ہو چا ےار چخامز شاف اق ول نے ال ےگ مک او ہک سی حول کرد کی - ے۔ 
a‏ 


7 آن ای بب _ھ ینوی SSS‏ اکاماجارات کے بیان ٹج 


رن اجر آرت نے یس لن الطاب اضر برض من النْطة 
انسار عُروقها وَكْرَة الک جج إلى سیا قگان اد لی د شَرٍ فيضن مَنقَصهَاء ء ول اجر له لاله غاب 


TE 


رض على ما قَرَرناهٌ. 

تتجد: 7ر ا رر سرت 
زی نکا جونقصان ہوگا متا ج ا یکا ضا ہکن ہہوگا کی ون ندم کے بالتقائل رطا ب ز ان کے لیے زیادونقصاان دہ ے٤‏ ای ل ہکا نکی 
یڑ یں اویل جاتی ہیں اور یں جن کی ضردرت زیادہ ڑا ہے اس لے بر قصان دہ چ سے تالت موی لپا مت بر نتصا نک 


ضا ہوگا اورا لک کے زم نکوکرا یں ےک ای ےک وت ہے جلی اک ہم یا نکر کے ہیں۔ 


اللغاث: 
لإاستاجر کرای ب لیا ۔ ڑیزر ع کی یکرناء کاش فکرن۔ طاطبة یں کی رے ۔کڑی وغی رہکی۔ لإحنطة) 


. کرم ہلال رطاب ) رط کی ہے اضر نتصان د ینا عر وق ) ر پیٹ یں سق ی) پال پان - 


٦ 


اء وَقیْلَ هُوَمَجرَی على إطااقه نهم 


من مکی ھا سے بر ہی ں یکاش : 

صورت مل واج ہ ےک ہاگ رگن مک یھی کر سے کے لے زم نکرائے پیا اور ا میں مین ہیں اور ی کی جڑوں والی نکی 
ھت کی وروق زین کے لے ننتصان دہ ہو ظا ےک متا ج ا کک اٹل سے ےکر وو معاملہاورمحابہ و کی غلاق ورز یکر نے 
دالا وکا اور وہ متا بجر کے ہیا تا ص بکہلا ےگا اس لیے اس پر اجقرت اورک راکش لازم وکا بک ا سے نقتصاا کر دہ ز می یکا ادان 


د یناپ ےگا۔ 


224 22 


وَمَنْ دقع إلى حياط وبا با ليخيطة قَمِيْصًا قَميْصًا برع فَحَاطة اء قن شَاءَ صَمتة يمه الوب وَإِنْ سَاء أَحَذ اء 


و٤وے‏ 5 دو 92 وو۔د ۶ و وے 
اشک جر ل زلاڈکیز یه وزکته ل عة رم وی کُر دزمان وجو رل تفل يفنا 
دے 9رر ا رن بج 
ًاران في الْمََعَقةہ وڪن ابي حَييْفَة و 0-70 
ہے +7 ور ا رواےہ 
کر یو وہ یہ وی یہر او س ہے 
دو ہے۶ کا ر کر اود 


اناع القَمِيْصِ فَجَاءَ تٍ الْمُواقَة وَالْمُحالفة ميل إلى أي الْجهتيْن سَاءَ إا اه يَجبُ يجب اجر المغل لقصور 


ور ب 5 


سس وَلايْجَارز به الذرهَم المُْسّمى كما هُوَالْحْكُم في سار إْجَارَاتِ الفَايِكَة على اينه في 


بای إن اء الله تکالی, راز تکام رونل وا یربا بر مخ کر بقرت یں لن 


راج l9‏ وادے 


راصح ان هر لاد في صل اة رصا گا إا مر صرب طس من وو قرب نه ور 


7 ایا بلر) اا ا اکا ارات کے بیان کن ۲ 


وو ۸-- 


قان يخير دا هدًا. 


ترتجد: رر و ہر رآ 
اکر نک چاچ اڈ ا کڑس ےک قم تکاضاکن بناے اوراگر چا ہا قباء نےکر درز یکوا کی ا جرت می دبیدے ان ایک درم 
سےزیادہ نردے: ایک ٹول ہے سےکرقباء سے د ہک مراد ے جو ای کت ہکا ہوتا ہے انس ل ےکا ےتا وی ط رح اسقعا لکیاجاتا کے 
دوا اقول نیہ س ےکہقباءاپنے اطلاق پر چارک ہے »یوک قباء اورک رت دونو ں قر یب افع ہیں ۔حرت امام عم راڈ لچ سے ردک ے 
2:1 کان ا ا اظتیار یں ہوگاءاوراس ل ےک قایس کیک نالف ے۔ 

ا ہرالر وا کی دل ےس ےک ہت امن دجن ہے اس سل ےکا لکودرمیان مس باندھا جا ا ہے اورٹی کی طرح اس ےکی 
ف رہ لکیا چاتا ےلو موافقشت اورخالقت رولول وت پ یں لپا ک ککودونوں میں سے ایک جک طرف ماس ہو ےکا 
انار ہوگا E‏ کل کیک ہاب موافقت کی ہے۔ اور ہاج ت ی نکردہ درا ہم سے متیاو نیس ہی 
تھے تا م جارات فا سد ہکا یحم ہے جیا کےا سے کم ان شاء اد ال کے باب مس بیا نکر می گے۔ 

ارز رورغ انے تارب دی ھالاککہ ا تک نے اسےقباء کا عم دی تھا نو یک قول ہے ےک برون اقتیار ا ا 
۱ ضائن بنا ےگا > کوک منفعت مل نقاوت ےک ہے س کہ اسے انار کیا ا لی ےک اکل نفعت یل اتاد یب اسنا 
ہوکیا یی کار یک رکوتا سے ےکی طشت بنا ےکا گم دی ادراس نے پیالہ متا دیا تو اورت میں کی ا اک ککوانختیارہہوگا_۔ 
اللاث: 

لإخیاط ‏ درزیی۔ قباء )چون وإ قر طق چ ایک تہ وال اکن فإ تیقار بان € بر یب ہونا- إیشد )ہ پاندعناء . 

کنا و یحیل پچ مال م وتء ران کنا سر 0 - کو ز بی لوٹا تاوا 
درزی یاکارستانیاں: ۱ 
عبارت شی وسل نکر ہیں: 

(۱)اگ ری نے درد یکوای ککپڑرادیاادرال سے ےکہہد اکم ایک در ہم کےعؤی ا سکیس کل دوئیان اس درز نے ما تک 
ک ےگ مکی حخالض تک اورا کا تیا کل دیا ت تلاپ رالروایے ٹل مال ورو با تذل یش ے ای ککا انختیار ہوگاء اکر ہا کک جا سے نو یڑ 
درزگی سے نہ نے اورال ےک ےکی پور تمت بطو رمان نے ے۔ 

(۴) اور اگرا کا ول کی تو سی ہو ہشن قراء نے نے اور درز یکو سلا یکی اجکی ویر ےشن ےا جرت ایک در ہم 
سے زان نہ ہو ہکی وہ ایک ورک عقر میں کرد گیا ہے راا جرت کی مق را راک سے ب گے نہ جائے۔ 

قیل الخ یہاں ےتباءکامصدات یا نکیا ایا چنا رات حر ت اس تقباء سے ایک ہہ وال اتا مراد لی ہیں جوقیاءد یکی 
ط رح ا ست لکیا چاتا ے اورک ووسر ےرا تک ر سے ہے س ےک قباء سے قبا نک مراد ہے اور اس ےک رتد کے ن میس لین ےک یکوکی 
رورت یں سے ءکیون ہکرت اورقبا دوفو ں قر یب فی ہیں اوردوفول سے بی ستر اوی اور سروک وگ ری سے فاظت ماص لک انی 


گے بلر0) AERA SSI‏ اکا م اجارات گے بیان ٹل ۹ 


a ۱‏ 22 لی ےجضرر تن مرن زیی ایک روا بت بی ےکصورت ستل مل ما کک لو ب 
درزی ےر فکڑڑر ےک فان ےک ہے اورا سے قہاء لی ےکا اخ ریس سے کیوگ ٹیش اورقباء دونوں دوا یک ا گی کس میں اور 
درزی نے ہراخقبار سے ما کک کم اور ای کے متا کی تالف تکی سے اس لیے دہ تام بک طرں مچ اوتاب ي رک 
مخصو بک ھان لا زم ہہوتا ہےءابذراال درز کی پ کی لو ےکپٹر ےکا عضمان لا زم ہوگا۔ 

اہرالروا گی یل ہے ےک ہا موافتت اورخالفت دوفو تع ہیں ۔تخالفت نے اس وجہ سے س ےک قباءاوٹیش کے نام اور 
جس فر ے اورموافقت اس وجہ سے ےک ہکام اور مفعت یں ایک چک باندھھے جانے او رست رورت دخیبرہ کے اطقار سے 
دولوں ایک ہیں ای ےم نے ما کک اقتا ر دیا سے جا ےک دمخالفت وانے بیہل وکوا تا رک کے ور زک ےکیٹ ےکی تمت لے 
نے اور اگ جا سے تو موافتتی والے پہلوکوتر بی دے اذراء ران ا "یی" و اھت AFI‏ 
اتی کا ھی ء کتبا کا۔ ) 

(۴) دوس ر! مستلہ ہے ےک با کک نے درز یکوقباء جی ےکا م دیا تاجن در زی نے اسےک یکر پا ھام بنا دا وض حرا کی 
را ول پا امہ اود قباء نام او رکا م دونوں اختبار سے الک انگ ہیں ال 7 ما کک درز سے ا یڑ ےکی تمت وضول 
BLD‏ کے علادہکوٹی دو سرا چا ر ہیں ےکنا او رمت رق ل ہے کہ ا لن کک یہا ں کی لے وانے وی دونوں اض یں 
کے اکر وہ پاس یڑ ےک تمت نے نے او رار پا ےت اججر ت گیا و ےکر پامجامہ لے سے ءکیوکلہ ہا یکا م اور منفحت 
کے جوانے سے دوفوں یں اتواداور ھاگ ے اور اکل چ رفحت بی ےلپ اجب منفعت د ےا نام کے کلف ہو نے ےلو 
فر کٹ ہوگا۔ ا کی مال اڑسی ہے جی ےکی نے لوہارکوتا س کا ای کککڑاد ےکرا سے طشت بنا ےکا کم دیا اس نے عطشت کے 
ہجاے پیالہ بنا دیا او چو ںکطشت اور ےت ہیں اس لیے ما ک ککوانختیار ہوگا چڑے لو لو الہ نے نے اور پا ےلو طشت 
وڈ دےادرکا یکر سے اپ تاب ےکی تمت وموک نے۔ واللّه علم وعلمہ آتم 


444 


ile اکا مجارت ک‎ AER DYER Der alî و‎ 


باب الإجارَةالفاسدة 


ہے باب اجا رہ فا دہ کے احکا م کے بیان ل سے 


٠ * مھ‎ 


ال سے پیل جاک ان تاد اب ا جامد کیان ہے اد یا نک تیب گل ہے کہ با ت این انس 


ے ےک فا سے سے م وخ ہوا ے۔ : ۰ 


قال الإجَارَة يدها الشَرُوْط كماتفْيدٌ ْح CS‏ > وَالْوَاجبٔ و 
اه E‏ 
الإِجَارَة القَاسِدَة اجر لعل يجاوز به الْمُسمىء ء وال زقر ی اید والافيي ي ايه جب بالغا 


وو 


انر يني و رك أ انع قرم يفيه ل باق سر ہت 
ابح ينها رل ان الاس تب یئ ہی و شر سو سے 


72 ف ٹور لے کو 


القاسد فَقَد اسمْقَط ا الزيَا٥َةء‏ وَِذَا انق حر نل لم يجب زيَادَة المسمى ! لسار السمِیَةء بعلافِ اع 

لا اي مقرم في فيه َو الْمُو٘جبُ الصيٰ لان صَکتِ الَسِْيَة 3 عَنه وذ فلا وَمَنٍ اسَُاجَرَ 
دار 5" شر بدِرْمَم َالْعَنَُ تح في شر راجا فا سد في بة ية نة الشُهَزر ا0 ن ن يسمي جمْلة الشهُرْر 
مَعلوْمَة لان صل ان گیمَة ”کل“ إ5 حل فيْما ناي له ت صرف إلى لج کر لت بزع 
گان اشر ر الوَاحد عَعَلوْمًا قَصَحٌ الْعَفَد فيء وَذا تم گان لكل راجا مِنهَمَا اَن يَنقض اة انتا 


یں ی د ورل ووب ٤ود‏ رود سس 7و ر و داد رہ 
عمد فلو سمی جملة ث شهور مَعلوَمَة و جار لان المُدَهَ صَارث مَعلوْمَة. 


زچه: فرماتے ہیں قتعا ے عق رک مخالف ریس اجار کو فا سدکرد بن ہیں ےک کو فاس رکرو رت ہیں »کوک اجار ہ ن م 
ٹس ہوتا ے »کیا دیا ہیں ےک اجار وک کی اتقالہ ہوتا اوراسے کی کیا اتا ے۔اوراجا رک فاسدہ مل ا جت بی واجب ہو 
کی ا ی ا )0 جات ابام زغر وٹ ادرا ہام شاق ولچ فر کے ہی ںک اعا نکی تق تیا کے 
ےک ہرامکاٹی اجرت داجب ہوگی- ۱ 


0 03 جلر(٣٢)‏ کہ تکیاے ہر سس ےا تی یا کو اکا م اجارات کے یا س آ2 
مار بل یڑ ےکہمنائح پات خو وسقوم ہیں ہودئے ء بل لوو ںکی ماجت کے کیش نظ رعق رک وچ سے وم r‏ 
اہزاضرورت کے حت اچارہ ت ب اکتا مءکرلیا جا ۓگ ءملان اجار فاسدہ مہ کے جا ہے برا اچارۂ کی ٹیل عاو او رو 
جس چن کو برل قراردیا جانا ہے اسے اجار فاسدہ ٹل بدل مان لیا ہے گا (اور وہ اجر ی ے ) کان جب اار٤‏ فاسدہ شش 
عات کی مقدار تق مو کے و اھوں نے زیادٹی کوساقذکردیا اور جب اجر ی مقار ین ےکم موو مقار کن سے زار 
اہر تاش واجب موی کی وتک ےکنا فا سد ہو ہکا ہے۔ برخلاف ی کے کیو مین بز ات خود وم ہوٹی سے اور ا یکا توم ہونا تی 
موچ ب سی چا بار تی لے مو جب اص لی ےت“ رف نل ہواجاے ورد - 
ارس یں کو یک کراسیے پرلیاا عطر کہ ہر ما ہکا کرایی ای ددہم ہوگا و عقر رف ایک ماہ یچ وکا اور اتی ہینوں 
یش فاد ہوگا الا ہک تا م یتو ںکومعلو مط ہیل سے ج نکردے اک سک ےک اصل ہے س ےک کا کل جب ایی چیڑ پر داٹل ہو 
گی انجاء نہ مونو انے ای ککی طرف پگ جائےۓگاءکیون موم پگ لکرناعزر ہے اور چول کشم رداحد موم ہوتا ہے اس لیے ایک ماہ 
یں عقر موا اور ایک ابمل ہونے کے بعد مات میں سے برای فکوشنل اجار ہکا کن ہہوگاء ال لی کاک مرت 7 
Uz les‏ ارتام یتو ںکو واج کر کے با ن کد جا تو ( ای می بھی ) حقلدجائز ہوگا > یوت رت معلوم ہوچگی ے۔ 
اجر المدل پچ بارکیٹ ریٹ کے مطاِق ہن عزض اورمتانہ۔ بالا ما بلغ پچ متا ہتا ے ہوتا رے۔ مقو م4 
تمت ال ہا ے۔ تصرف اق ر کے کا موک مراد ہوگا۔ طاتعذر 4 شار ہونا۔ إیقض پہے نو ڑنا ہف مکرنا۔ 
طسمی 4 ےکرنا۔ 
فاداچارة 1 وجوبات: 
عبارت شی دوک بیان کے گے ہیں : 7 
(ا) ہلا ستل یہ کک ط رخ خقتفناۓ عقت رک مخالف شرطوں سے تع فا سد ہوجاٹی ہے اک رع بیرٹٹس اجارہ کے بھی 
ز ہر ہلا بل اوس قات ہیں اود اجار می ان سے فاسداور پل ہوجاتا ہے چن نچ اگ کی نے ا شرط کے سا تح تتا رکومکا نکراے 
پد اک ستاب خی ا کی مرم تکراۓ اور ا خر چک کے سے شع نکیا جائے فذ شرطعقداجارہ کے مقتنا کے خلاف سے اور ای 
سے اجارہ فاد ہو ہا ےگ اور جب اجارہ فا سد ہوا ےکا او ہرز مانے میس اس میس اجر سیگ واجب موی اور عاظر بی کی کرو 
اچ گیل داجب ہوگی ادر ہا جر گی عا فی کی کروم ا جرت سے زا میں موی جب امام شاق وی اور امام فر و کے 
O‏ واجب موی کان وہ أ زادا ت طور داجب ہوگی نتن اس میں تید اورشر وکس موی )رووا ۶ ے الائ مو 
پا سے اک سل ہکان حقرات کے یہاں متاح اعیا نکی طرںح توم ہیں اور اعیان کے موا لہ یش اگ رعقد فاسد ہوجائے تو ا کی 
ارت گی واجب مون ہے خواہ جوک وتن اس می بیشر نیش مون کہ دہ اجرت س ےکردہ ارت سے زان نہ ہونے ائے ای 
طرج ورت مستا شی بھی اج تح یکل ر کے واجب موی اور ای می کوک قیداورش ط لی نی کی جا ےکی ۔ 


أ RA DSO Ow‏ امام اجارات کے i‏ ¢ 
ولنا الخ ماری ول سے لاان اورمناح یس ذرق سے اور وولو ںکو ایک بی بل ے میں رکھنا درس یں ے وور 
ےک اعمیا نل بات خودہھتی اور قوم ہو نے بن یکن مناخ می ںلقوم مح روم ربتا ےء ال قوم کے می اما زضروری ہیں 
جب متاح ایا ییا ہوتے ہیں اورا نکااتراز کن ہہوتا ے ای لیے ہرز مانے می نتا ےکرام نے عقو اجار ہکوصرف اور صرف 
لوگو ںکی حاجحت اورضرورت کے کیش شرحت راور چائز ترا دیا ےہ اورضردرت اجارۃ یھ سے لوری ہوجاٹی سے لپا اول تو اچارۂ 
او ریت بی یٹ ہے اورگ کی در ہے میں ا کی ضرورت ہے تو اکل سی اجار یک کےا ہوک ے اور ہو ں لہ 
اجار یھ میس مو اجر ت یکو پر ل تراردیا جاجا ے لزا اپار فاسدہ یں بھی اجر کی بی عو اور برل موی اور ہا جرت قد ار 
سی سے ایس موک کوک مق رار نکردینے ے بالغا مابلغ والی زیادی کی )کہ بندیی ہوکئی۔اہنداامام فق ول اور ابام زفر 
لٹ کے بالغا مابایغ کا فا رمول تو ہی تم ہے اب اکر چت ی تی نکردومقدا را چت ےم ہو اسے اس مقدار سے ز یاد ہل 
کیا جا ےگا ءکیوکلہ ہے عامل اجار فا سد ہکا ے اود اچا رہ قا دہ ٹس جب عق ہی پال اور فاسد ہے نے ظا ہر ےک مقدا ری بھی فاسد 
مول اور اپار فا سدم یں چرم وچب ال ی ےی اجرتے EE‏ نے :وروی واجب مول ر 
بخلاف البیع الخ فرماتے ہی ںکہامام شای وو کے اعیان پر ا سکرنا 3 یں ے »وگ اعیان بز ات خودتقوم 
ےل اوران یں موجب ا4 لی بت ول ہے۔ اب اکر ان بی نسیب اون ی ن کو ےکرنا دورست ےک لو موپ ص 
٠‏ ن تمت سے ماسم کی طرف رجو کیا جا ےک اوراگر ےےل ہوتا ے كتسمية الخمر والخنزیر للمسلمڈ ان ے 
موچ ب ای من تم تک راہ ابنائی جات ےک اور ہے تمت بالغة انات واجب موی _ 
() اپ ن ےی ت کا نکراک کن ری ت ی وی فاح ت س ی ارف یاک کل 
شهر بدرهم سک ہر اہ ایک درت مکرائے بے ہے اد ہیں یا نکیا کہ عشرة شهور بعشرة دراهم مغلا مرف ایگ اه س 
اجار ہوگا اور ا ٹس فاسد ہوگاہاں اکرو باقی مو ںکوککی 0 کردا نو برت اجار معلوم اور ین ہونے سے عقرب یں 
درست موچا جا مل چو یک عاق ڈنک طرف ا لاکن یرہ صرف اک اہ س عق ہوگا_ صاحب 
پرا ای سے یل ایک قاعدہکلیہ ہیا ن کے ہو کے فرماتے ہی کک کل“ جب ایے لفت بر وال ہہوتا ےکوی انچا س 
ہوٹی تھے بیہاں ہت اس کے برخول میس سے ایک ن موتا ہے اور ای الیک پر کی ہہوتا ہے ء ای ل ےک رکو مکی وج سے سب ر 
مل حع زر ہوا ہےاورصر ف ایک کل کن ہوتا ےی لیےصورت تلش تم نے ایک بی پیش لکودرست تر ار دیا ے۔اورایک 
ا کے بعد عات دن یل سے میں عق کا اختیارعاصل ہوجا ےگا۔ 
قال قن سَگنَ سَاعَة مِنَ الشَهر الثاني صح المد فيه وَلیْس اِلمُوَاجر أن بَخْرِجَة إلى أن يفضي ذلك 
4 7 و 607ب 7 سج 5> >ے یج o‏ د 
کل شَھُر سکن في اوہہ انه تم اعفد بتر اضَيْهِمَا بالسکنی في الشهر الفاني إلا أن الْذِي د كَرَه في الکتاب 
هُو اياس وذ َال لی عص الَمسَائخ» اهر الروَايَة أن قى اليا لكل وَاجد مِنهُمَا في اة الى 


9 


م و کے کو 2 جک ا ا 
من الشهر الثاني ويومها. ان فی اعتبار الاول بعض الحر - 


EA‏ ۰م 


و بھ E‏ $ ےس ےی رکا جار e‏ 
تنجد: فرماتے ہی ںک اکر دوسرے مین می ای کل بھی متا ج اس مکان می سکم گیا تو ماو ٹا می ںبھی عقر ہو ہا ے ای 
دوکر ینہ پورا ہونے سے پل موہ کو یق یں موک اکتا جرکاس مکان سے کال دے مب عم ہراس ما ہکا موک نس کت روغ میس 
متا ہر کور اخقارکر س ےگا »یوت دوصرے می یس کون یکر لن سے عافد ی نکیا رضامندکی سے عق تام ہو چا سے :نان امام 
ت در وٹ نے ج میا نکیا ے دو قباس ہے اور بین مارک کا ران سے سظاہرالروابہ ہے ےک دوسرے ما کے کے ون اور 
کی رات عائ نکی اجار ہکات بدا رماع تکا امتا رک نے میس کے 


اللغاث: 
ساعة )ايش گی تھوڑاسا وت ۔ مالم و اجر کا ےکا موامل رک نے وال ءکراپے د سے دالا۔ إیدقضی )ہم 

ہونا۔ اتر اضی ہچ با ھی رضامت ری الحر ج مقت »لیف »رر _ 
ایک ہی سے دوسرے مینے کے اجار ےتک : 

بحص بام وا ےسک تلق ےشن وہاں ت م نے صرف ایک بی ماہ یس عق کو ا تقر ار دیا سے :لیکن اکر ایک مال 
ہو نے کے بعد دوسرے ہے س جا ھکر ی متا بر اس مکان یل ر گیا اورم وج نے اس دورا ن قش اجار ہکا محا میس ا ٹھایا تو اب 
دفسرے مین بھی اجار ہب ہوگا اور مو ج رای نون اخر ان تم ہو جا ےگا ءاش لی ےکا یکی نامو اورمتا ج کی ا قا مت وسکونت 
اتا عقد پر رضامت یکی ول ہے۔ اب د پاب مت کمن می جو ساود کا لف ے ال سے ی مت مراد سے اس سلس میس امام 
ت دری بط اورت مار کی راۓ ىہ ےک دوسرے ما وکا ا ند کے کے بعد ےکن وکن کی برت مراد سے اور تیا کا بھی بجی 
. تقاضاے کیک پا ند لکن سے دوکر ہین شرو ہو جانا ہے۔ ال کے بنخلاف نا پرا دایے یہ ےکسا کا مصداق چا تر رات اورک 
تار ادن ہے ؛کیون عرف مام می ای وق کور ی ال کہا جا تا ہے لہذااس وق ت کک عات بن یش سے ہ رای کون لت سل 
بوک اور اگ پھم ساد کی وق مرارٹیں ےو اکا مہا ییا نیس ہوگا اوراسں ےنت فا وکا درواز وگل جات ےگا 


2و ر 


إن اسُمَاجَو دارا سَنَةٌبعَضْرَة راهم جار و ام ين قشط كل شَھُر من الاجرة لان المدة علوم دون 
9 و و ود جو ٹھ 7 ا 
لتقم فَصَارَ جار شَھُر واج قان جایز ورن لم بین قط کل یوو م يعبر ابداء الٰمَذَة مما سىء 


وَإِنْ لم يسم سينا قَهُو مِنَ الوَقتٍ الذي استَاجَرهء لان ال لاوقا ت كلها في حَقّ الإجَارَةِ عَلی السَوَاءِ ْب 


وروش 9و ووو ںہ 


اء » یخلفِ الوم لأ اللي لمت بِمَحْمَل ل ثم إِنْ كان اعفد حِيْنَ يهل الھلال قشهور السََة 
ت و و د٤‏ در وے ال 

پشید اض ورن گن يي شر شس رد رر تکھ 

2£ ووو الد 7 £ 9 وردھ ےھ 4 9 


ابی یوسف ملي ء وَعند محمد که وه واه ڪن ابي یوسف .ا الاول با لایام والباقى 


بالهلَة ا الام يضار لھا وة ة رهي في الول منهاء وله اه می تم الول ایام ايند اء الثاني 


7 نابل بلر2) ERS SST‏ اکا م اجارات کے میا ئل تڪ 


بيصے, ہے دھ 2 


بالایام صَرُوْرَة فَھگذًا إلى آخر السَنَةء و نظيره الَْقْدُء وقد مر في الطلاق . 
تزچه: رت رت تہ و شس رٹ 
یا کر سے یوت تیم کے خر کی ر معلوم او یر ایک ماہ کے اجار ےکی طر ہوگیاادرایک ما ہکا ارہ اڈ ہے اک چہ ہرد نکی 
قط تہ میا نکی جاے۔ پھر مد تک اہت راء ای وقت ےغار موی جو وش تی نکی گیا ہو او راکو وش صن کیا گیا ہو ہت 
اش وقت ےغار موی جب سے متا جر نے اجرت بای مو ای س ےک اجار ہ کب میں تتام اوقات بابر ہیں لپا یتم کے ماب 
مر برخلاف روز ہ کے یوک رات ں کل صو میں ہیں پھر اکر چا ٹر را کو اپار ہنعق رو ہوا موتو رال کے جم ینو ں کا صاب 
الد سے ہوگا اور اکر درمیان اہ یں محاملہ ہوا موتو ابام م وخی کے بیہاں پور ےا لکا ساب دنوں سے ہوگا اورامام اب ولوس 
ےکک مکی ایک ردایت ہے اما کہ ای کے بیہاں یکیل مین کا صاب ایام سے ہوگا اور بای بیت ںکا جصاب چا ند سے ہوگاءاس لے ٠‏ 
کصاب وکتاب میں بر بناتے ضزورت ایا مک سہارالیا جانا ے اور یضردر تصرف پل مین یل ے۔ 
ضرت امام م وٹ کی وکل ہہ کہ جب پیل مین ہکا مواملہایام سے ہوا تذ لاز دنر ہکا ساب ایام بی سے ہوگا او رآ 
سال یک بی ماعط ہوگا۔ ا یک یرم رت ہے ادر عر کا ست کاب الطلاقی می لگذر چا ہے۔ 
اللَاتٌ: 
طڑاستاج ری ےراہ پر لینا۔ [قسط ) تم کیم طلاالی پا راں۔ ہحمل پل مصداقی۔ پڑبھل الھلال ) پار 
آنا۔ ھل ہلا لک جع ےکم چان إیصار اليه ہا سکی طرف رج کیا جانا ے۔ فانظیر شال مود کل (7016 ود5 )۔ 
سالات بنیاووں کراب داری: 
ورت منلہ یہ سے ےک گر یٹ نے وی ددا ہم کےیئوش ایک سال کے لیکو کا نکرائے ب لی ت قد اور ارہ درست 
اور چا سے چا سے متا جھ پ رما ہکا اکرایرادد ہر اک قط الک اتک یا نگ ےیا ہک سے اس س ےکر عفقد پآ ںآ ے 022 
کت عق کے لیے ت اجار ہکن اور وضاحت رو رک ے اور یہاں برت اجار معلوم ے او ر موی طور برا سکاکرا بھی معلوم 
. ہے اس لیے عقداجارہ درست اور چا سے۔ او اکر عاق د ہن ےکوی ت بیا نکر دک خلا ےکہہ دی کی کیا وسوی تار ے مارا - 
معالمہ ےلو اک باو اور اک ار ےکرا ےک یر پا لو ہو چا ےک ادر اجار شرو وچا ےک اوراگر وفت اور بر تک وضاحت نہ مو 
تو ا لکی ایقداءاحجارہ لے اورمحام کے کے وقت سے شرو ہوگیءاس لج کے امار اور ہت اچارہ ےکن ٹیل تتام اقات برابر 
ہیںء اور جب عاق د ر نکی طرف سے وق کی صراح ت کیں ےل انعقا سب شی محاملہ ےک نے کے بعد سے ا کی مد کوب 
اورمتی رہوگی_ ۱ 
ایک شال ایی ہے یی کی نے کیا یک می فلاں سے ایک اوی کو یکرو ںگا اور لک یکوئی ایترائی رت نیل 
یا نکی نے ای مکی ابیتراءانعقا وسبب مکی مکھانے کے بعد سےا کی جات ۓگ اک طرح ورت مستلہ می بھی بہابتقراء محال لے 
ZE ۱‏ 


2 نال (De‏ پ0 کر RA‏ ام اجارات E‏ 
۱ کے نات ا ی نے این او نک نک نت پا و ان کے کے ای ناوک یجان کرت ضرق ےورس سخ 
اس کےروزو ںکی ابتداءاوائا اق میں ہوگاہ ال ل ےک روز ول کے مس تتام اوقا ت یکسا ہیں اوررا ت لصو 
یں ہے اپاج ب کک تاذ رکی طرف سے مین کیا نکاس ہوگی اس وق ت تک ا سکی ابتقراچھی مج نیس موی _ 
ثم إن کان الخ ا لکا ماگل یہ ےک ہاگ عق اجار ہکا معاملہ چان ر را کو ہو تو الا غات تیا م بیو کا صاب اوراتبار وشار 
پا ند سے ہوگا اود چان ہی کے ذر سی کراس ےکا مان دبین وکا کین گر ہے معام چان رات کے علادہ درمیاان اہ یش ہوگا تو اام کشم 
ایز کے یہاں ہہ رما ہکا صاب وکاب ایام اور دول سے موک ادرا ج ہی ھی پپرے ۳۷۰ ایا کا ۶ظ پل ئل و 
صاح بب کے بیہاں پیل ما ہکا صاب ایام سے ہوگا اور ای مین چا ن سے مت ہو کے من ا کا ساب وکاب چا ند کے ساب سے 
وک اک لیک ایام سے لین دن ضردرت کے تحت ہوا ہے اور یضر ورت صرف یکل مہ ل ہےءاس لیے پیل ما ہکا حا بت ایام 
سے ہوگااور ای یو ںکا لین دبین چ ند سے ہوگا۔ امام ابو لیس فک ایک روات امام نم یھ کے ساتھ ہے اورددسکی روات ایام 
مھ لچم کے س اھ ے۔ 
رت ایام شم ول کی وکل می سپ ہک جب پل اد اب ایام سے ہوگا تو لا ھال دوسر ےموینو ں کا صا ببھی ایام ہی 
سے ہوگا ؛کیونگ اکر ای کے فلا کی گیا او رعشرة دراه مکوای حاب ےکی مکنا ہوگا اورپ راشھنی اور ول یکوجھڑ نے اور وما 
کھپان کی مفلا ت کا ہا کر پڑ ےگا ادا بے سے ادر یڑ ےکا بب ب گا کناب العلا ت میں عر ت وا ےک کے 
ٹپ گی سے لٹ اکر ھا راولت د لا نے رت شر موی ادر رمان اغراق دا ام ام کے یم کے 
ھال ایام سے عدت شا رک مہا سے کی ۔ اورحضرات صا ین بت کے یہاں پہلا ینہ ایام سےا کیا ہا ےکا اور اتی ایا مکا اب 
چا نا ہے ہوگا۔ 


رودو £ رہد ووم 2 


قال ویجوڑ اخذ اجره الْعَمام وَالْحَجًام فا الْحَمام رو الاس ولم يعتبر الْجَهالّة لإجمَاع 


وت ب۱ 
لمْلمیْنَء فا9 الین ((ماراه المسلمون حَسنا فهر عند د الله 4 حَسَی))ء وَآما الْعجام قَلمَا روي ا ای 
لن احتجم حَتجَم وَاَعطی لْحَجام الاجر ولاه استیجار عَلی عَمَل مَعلوْم بجر علوم قيقع جَاْرا. . قال 
رواد اجر عب الس وھ أن بجر قا ررر على ا قول © قلغل درن ين اب 
مر الاد خد الأجْرَۃ عَليه, ْ 
تنجد: فرمات ہی ںکجما مکی اجرت دنا او ریہ لان ےکی اجر ت ینا ہا کر ہے۔ ری حما مکی اجرت نو لوگوں کے تار فکی 
وج سے ے اورمسلمانوں کے اجما کی وجرسے جچہال تک اکوئی اتبا رسکی گی ے۔ تعفر تم اک مل کا ارشا دک رامی سے یس کا 
ممکومسلمان اھا بھی وہ اش کے بیہا بھی اسم موک ۔ اور اجر مت امم کی وکل ہے س ےک ہآ ب رای ےھ ہلک و اک تما مکوا رت 
بت ف رای اورا ی لی ہک ہے ن اجقرت کے جو ں معلوم اور نکا مکا اچارہ سے ہنا جم ہوگا۔ 


0 ہے EEA ED OR, (De‏ اکا م اجارات کے بان مل ٤‏ 
فرمات پک کو مادہ پر چڑ ھا ےکی اجرت لین جائ یں ے ا سک کل یمون ےکن چاو کو جرت بے ےکر اے ادو 
جاندروں پہ چا ھاسۓے٭ اس لک ہآ پ مل کا ارشا کرای ےک مادہ ےڈ ھا کی اجرت لیا ام ے اور ای ےق کی 
ابت لا مارے_ 
ل الحمام کل خانہ جیا گرم بای استعا لکیا جانا ے۔ جال جما مہ جمد لگانے والا۔ احج چم کوان 
لگ یللوانا۔ استیجار ) اجرت ب لینا۔ إفحل پہ نز ”ن کے لیے یز د مادہ سے جح کروانا۔ انات ہہ ماداس ۔ 
[السحت اترام »رشو ت _إعسب الیعس پچانرکومادہ بر چ انا یکرانا۔ 
© روا الامام احمد بن حنبل موقوفا على ابن مسعود» رقم الحدیث: .٠٠٠۰‏ 
© روا البخاری فى الصحیح رقم الحدیث: 00 الحديث: .1٥‏ 
9 .روا اللا فی ہلت الکری ر8 4 
مام او کی نہ لگان ےکی اجرت: ْ 
صورت ستل ہے ےک قو لتق کی بفیاد برمام او رامت دونو ںکی ا جرت لیا درست اور جات ہے اور پال جام سے مرادوہ 
ام سے بس میں پرد ےک ممقول اننظام مو اور بے پردگی اور بے جیا سے فاظت ہواس کے جوا زکی وجل اجماں ے اور اما 
ححفرت نی اکر مال کے اس فرمان مق دل ےم رین ے مارأہ آلمسلمون حسنا فھو عند الله حسن اوراس مم فی کی جو 
چات ہے دہ جال تکوام او رر ف کی عادت سے معا فکردیگئی ے۔ ۱ ۱ 
اج تکام تکی وکل ہے س ےک خودصاحب شر لت صرت ر ےپ لوا کرت مکوا یکی ا جرت اورا کا محاتانہ د تھا 
جوا کے جوا زکی سب سے ایم اور لن ول ہے اور نآ خر وروایات مل ہے وارد ہوا ےکہ کسب الحجام خبیٹ دہ خباخت 
فلاف شرع ا مورلا ڈاڑھی ویر نے وانے اورصرف می یکا مکرنے وانے سے علق ہے۔ 
اس کے جوا ز کسی وکل ہے ےکر اچارہ کے جواز کے کل اوراججر کی من شرط سے اورصورت ستل ٹیس دونوں ری 
معلوم ہیں اس ےکی اجارہ درست اور چا ر ے۔ 
ووسر می ہے س ےک نک مادہ بے چ ا نے او رشن ککران ےکی ا جرت نا چائز اورترام سے »ہرگ صا ف طور بر حد یت اکن 
ےکمائعت موجودے_ اوفسس حل تتن ف یک رانا را یں ےوک بہت افز اش س کا زر ہی سے ہاں اس بر ارت اورعش لین 
۶چ 


د3 ئدے 9ر 9 دو 


قال وَل الاستيْجار عَلَی الادّان وَالْعَج وك اما وَتعِلیم قران رالفقهء وَالصْل 3 پت طَاعَة يَختص 


Or N ys‏ ےج مر ERA‏ امام اجارات کے ماش حم 


ر ?ور و ودوھو 2 و ود ور 2رت ا كس اب“ ق ی ر م @ د 
بها المسلم لايجوز الإستيجار عليه عندناء وعند الشافعي تم کی صح في كل مَالا یتعین على الاجیر 


ان ايجار لی عَم مَعلوم عير مین علیہ یوز ول و عليه السَلام روا القران وَلاَاكلوا به 
في اجر ماھ رول الله صلی الله لہ وَسَلم إلى مان بن آي لاص ون نخدت مون َد 
اجر نرم گا فی الوم الاه ولان اليم مک يور العم عل بى عن قي الم 
کون مرم مال قور على سمه يصح رغص مَعَابختا اسْمَحْسَنوا ايجار على تَعلیْم اران 
اوم لاه هرا لاني في الامو اة کھی اماع بيع جفظ اران وڪليه لوی _ 
تم : نے ی ںکاذان مامت اور رآن دف کی کم کی اجرت لا ہا وین ہے۔قاعدہکلمیہ ہے س ےکہ ہرود عیا وت 
جوسلمانوں کے سات نال ہے ہمارے بیہاں اس پراجرت ینا چا یں ہے اورامام شاف وای کے بیہاں ہرا یکا م یس اجر ت لین 
کے ظاج ب ن وکر داجب نہ ہوہ ال ل ہک بر اسیے کا م پر ابقرت لیا ے جو ات واج ب میں ےلپزاہا ر ے۔ 

ری دس لآ پل کا یارشادگرائی ہے" ق رآن پڑھواورا ےکھا کان ےکا ر لیے نہ بناءاورآ پک نے ححضرت صقان 
بن ابو العائ لپ سے جوع لیا تھا اس کے اخ ریس یہ ہجمل بھی ارشمادغر مایا ھا ” اگ ہیں مو ون بنایا جا و اذا نکی ا جرت د لین“ 
اورای ل ہک ج پک یکوکی عیادت موک دہ عا لکی طرف ے داتع موی ای وج ے۶ بادت میں عائ لکی ابلی تک اتپا کیا جا نا ے 
اپ اعا ی کے لیے دوسرے ےا جرت لیا ہا ہیں موک بے روز ے اوراز مل ے۔ 

اورا سل ہکم ای پیز ےک جح مکی طرف ے ول کی سے !خی رمعم اس ےتاورک ہوا اپ زاعام ایک چ یکلا زک نے 
دالا موک کی تیم روہ انیس ہےہ اس لیے اس سے ےکک کم رآ پرا جرت لینا جع نہیں ہے۔ 

مار ےش مشار نے اس زمانے می تھی ت رآن پر اجرت لی ےک و ن قراردیا ےہ ای لی ےک دی معاطلات می ستی 
ہو ےکی ہےاوراجر تک قر ار ہی یل نر ئن ضا مو ےکا ان لیشہ ے۔ اورا یرف بھی ے۔ 
اللغافٌ: ٠‏ 0 
إطاعة کیک کا م ج اہ کے لیے سرانام دیاجاے۔ لا تأکلوا به ال کے ذر ہی ےکھا نہیں اتخذف 4 
مقر رکیا جائے۔ القر ب ہہ عبات طا عت و ملتز م اترا مکرنے والاء پاینر یکر نے والا۔ فڑالتو انی تی ءکوتاخیء 
فلت ا لاھتناء پچ رکناءکام نہکرنا۔ خإیضیع ضا ہونا۔ 


سنا 


© روہ الترمذى» رقم الحدیث: ١۲۷٠ء‏ والنسائی رقم الحدیث: .٤۳٥۸‏ 
12 رواه ابوداودء رقم الحدیث: ۹٦‏ والنسائیء رقم الحديث: EA‏ 


ر E r ARA SES i‏ 
د ین یکا موں راجت ی ےکا یاں: 
صورت ستل ہے س ےک نما سے سا نارشان نین کے با نازان ج امت یم 7 ن وفقہ راجت او رش لین 
ناچا ناء ره علا ے متخ بین نے ان چیڑوں پراجحرت لی ےکودرست اور ہا ت راردا ہے علا ے ق نکی کل ی ےک حضرت 
ای اکر “نے اقرؤا القران ولاتأکلوا بہ کے رمان تق دں ےق رآ نکوکھا کا ےک ذ ر لھ بنانے سے فرما دیا ے اک 
رر آپ نے خضرت عفان بن ابوالوا س ری اللرعنہ سے جوع بد نام لیا تھا( جب ای ا نکی قو مکا امام بنا تھا) اس یل ہے 
ف ما نبھی شا ی تی اکا یں موڈن منایا جا تاذ ان دی ےکی ارت نہ لا ان ددڈوں فرمائوں سے ہے پاک کر سا ےکی 
کان د ٹی امور ر چوسلمائوں کےساتھ خا میں ارت ینا درست اور پا ہیں ےنت 
اسل کل دل ہے س کہ یعاد تکا معالمہ ے اور عپارت مال اوز عاد ی طرف سے اب ب کر وا موی سے ای 
لیے ود تی اموز میس عا لک امیت ہے یل ES E‏ سر E‏ کات 
نکر وات موی سے تو عائل کے لیے اس برا جرت لیا کے درست ہوستا ہے۔ اورت طرح زی کے لے نما زک اجرت لا اور 
صائم کے لے روز ےکی اجرت لوا نیس ہے اہی رح ابد کے لی با تک اجرت لین بھی درست یں ہے۔ 
تلی مکی اجرت کے مرم جواز تی ویل بی ےکی سحام او تلم دوفو ںکی ول ھی سے حاصل ہو سے اور اس می ں تلم 
یی ذکاودت وؤ انت اوک نکا شل زیادہ ہوا سے اور ہے زی کرام سے بس می یں ہو اس لیم رآ کا ارہ ےک ریا 
م ا سے اوی اک چنز لاز مکرتا سے کے دہ سپردکرنے پرقادرکیں ہوتا ج بک ګت اجارہ کے یش متا ج کی لیم ترت 
ضرو رک ہے اور ہاں اچ رای پرقادرکییل سے اس لیے ییاجارہ لیا شس ے۔ 
وبعض مشائخنا الخ صاحب رار ہے ہی ںک۔اماصتء اذان اورقر ان عد ی کیم بعرم جواز زایرارت) لی 
اور فیصلہ لا ۓ تتن کے ز مانے یل تھا ہکبوکمہ دہ ز مان خی رالقرون سے قر یب تھا اود اس ز مان میں او حلم وتم کے شوقن اور 
رلراره کے او رحب لد ہاور انام دی اکر ے ےکن اب لوگوں ٹیل د ے دورکی اور امور دییہ ے فلت ہے زارق پیا امو 
ہے اور ال زمانے میس بلاعچ اور رون اججرت اس طرح کے دی ما لکاعل کن سے ای لیے عالات ز مانہ کے یش نظ رعلاے 
ما بن ادر مشار بی نے ان چیزوں می اجرت لی کو درست اور علا ل قر ار دیا سے ور ہت علم دی نکی اشا عت رگ ہا ۓےگی اور 
قرآن وعد ی کی حفاظ تکاکوئی کم اورتو ی ذر نئاس رہ جا ۓگا۔اس ز مانے یں بجی تو لق براورسحمول ہے سے می ال م ین 
کا یفوک ے اورروعضت الفتادکی وغیرہ ل بھی ا یکورا شرارد ماگیا ہے۔(کفار :بنا )۳٣۲/۹‏ 
َال وَلايَجُوٰرْ اْإسْیجَار لی اء الوح ودا سازر اهي ات اسْيْجَار علی الَْهمِية وَلْمَمصِبًَ 
تڑچه: غرراتے ہی ںک یگ :ا گے اورفو کر ےکی اجرت لین جائزننیس ہے ھا مآلا تاب واح بکا بج جم ہے کیو یہ 
محصی تکااجارد ے اورمحصیت عقا سے سفن یں ہکن 


2 آنْابل ہلر) AREER AF SOX‏ ام اجارات کے مان مل بج 


اللات : ۱ 
الغدا گا مانا التو ح چان کرنا ملاھى 4 آلا ت وواب_ 
11 لا يہ وواحب کا اچارو: 

صو رست متلہ یہ ےک گا نا گا سے او رتو جاور مرش ےکر نے بیز طب باج اورنبور وره کیا نے اور بنا ےکی ا جرت ایتا درست اور 
بال ے یوت ہے چ ڑب محصیت ہیں اورمحصیت پر اجرت ینا جائزنیں ےہ نی زعقد اجارہ ہا تہ اور سا کاموں کے لے 
منعق کیا اتا سے اور اس سے محصیی تکو ےس لکر کسی بھی طرح ہا یں ہوگا ورنہمحصی کا امر مباح کا سجب بنا لاز مآ سے 
الاک “حصی ت کی ام رما کا بھی سو بی ہوتی۔ 


چ ےر رودو رر دو 2ے ٤‏ 2 ے وصے 5 1 - 7 ھا 2 ا 
قال ولایجوز إجَارة المشاع عند ابي َیْفَة مايه إلا مِنَ الشريلك. وقالا إجَارة الماع جَائرة 
Sr.‏ وو ”مم د9 9 تم دہ 3 ۶ں وی 3 ہے ٤ی‏ ٹو۔ 3ر 
وصورته ان يوجر نصیبا من دارو او نصيبه من دار مشتر كو من غير الشرِیكء لهما ان للمشاع منفعة 
رس ہےر و ٤وو‏ و ے کاو دو ووے کا رل ٤د‏ گر 7 ٤ے‏ ےر ے رر 29 ص کد دروا 
ولهذا يجب اجر المغلٍ» والتسلیم ممكن بالتخلیٰة او بالتهائي فصار كما إِذا اجَرَ من شريكه او من رَجِلینِ 


سا سے رودھ عو ور 


ا ا و ا زرو e‏ 7 ۔ دےے الا (f‏ و ھکر ا ی 22 u4 A ut‏ دو 
وَصَارَ الع ولاب عَیيكَة علیہ اه اجره مالا قور على تَسْلْیم يحور وها لأ سيم الماع 


م2 


LENE ورد‎ 


َحْتۂ لاَِصَوء وَاَخة رث سلما مہ تمك وهو الیم الذي بحْصُل یہ السَکنْ وَلَاتَمکن 
في الماع یخلافِ لي لِحْصوْلٍ لمحن فیهء وان الهاي انم يسح حَکما للَْقَد بوَاِطة الملكء 
وحم اعفد عقب ودره على اليم رط عمد وَشَرٴط الشىء يِف يعر لماجي سَابقاء 
يح في روَاة الْحَسَنِ عن جلف اسيع لار لان القذرَة لی اسيم يس برط ياء 
زبخلاف ما إذا آجر هن لین لان المسلیم بقع جملة تو الشيو ع بشرق الملك فيا هما طاز. 
تڑچه: زا ہیس کرام م لی ے یہاں غ ہشیمہ چ رکا اہارہ ہار یں ہے ہا ش ری ککواارہ بد ینا ہا ہے۔ 
٠‏ نعفرات صا کین میا ر ماتے ہی ںک ما کا اچاد جا ہے اک کی وات یے سب کو کے کم یں سے ایک حصہ یادا رش رک 
ٹیش سے ایک حص ہنی رش ری ککواحارہ پد سے ۔ ان حرا تک دمل ےس کشت رک چو ےکی اح حاص لکیا جا سکتا ہے ای لیے اس 
کی اجر تی نی واجب مون ے اریہ ی بال( بار ی مق رکرنے )ےش مت جرکی صلی مکی کان ہے ہے ایا ہوگیا یے ایک ری نے 
اپے ش ری کفلواجادہ پردبایادوآدمیو ںکودیا۔ ۱ ۱ 
ادد یہک کی طرع وکیا ۔ حط رت امام انم ولیہ کی دل ہے کوج نے ام چ راجا سے پر دی سے ےس ردکرنے بر دہ 


مر نالعا جم BEERS BEES‏ انام جا رات کے ماش ج 
قاد ر ٠ں‏ سے ال ایا چارہ جا ہیں ہوگا یم اس وجہ سے س ےک مشت رک چےکوتھا پیر ھکر کک نہیں ےد اور ۔کواس وج ے صلی اور 
سپ ردکرنامان لین اتا س ےک وین وا ع ہوئی ےی تل نع حاصس کرک ہوجاتا سے ج بک ما او رشت رک چ ر سا 
ےکبھی اتفاع کن نہیں ے۔ برظاف ب کےء اس نی ےق می یہ سے اتا کن ہو جا جا ے۔ اور تہ لیت کے واسٹ ے 
عت رکم بنا سے او رعق رکا م انعتاوعقتد کے بع غایت ہوتا ے اوقد رت لی اسم عت رک شرط ہے اورک بھی چ کیش رط اس سے 
مدرم ہولی چ اہنابعد یس خابت ہونے والی چاو لکام کس ےکی ۔ 
اور جب اپے شر شری ککواجارہ د ےگا تو ورا فع اسی ش ری ککی کیت پر حاصل ہوگاء اس ےیور یں ہوگا او رہ تکی تید بی 
اجارہ کے لیے مھ یں ےم امام انم ول یڑ ےحسن بن زادگ 9 صص "ھ00 ے۔ اور 
برخلاف ا صورت کے جب دوآدمیو ںکواچارے پر دیا ال لیک راس مس کہا ری صلی ہوئی ے چ کیت رق ہو نے سے ات 
مس شیو طا ری موتا ے۔ 


الأغاث: 


(المضا ع کہ ھا ہواء بیط _ ڈڈاجر ال4 رکیٹ ربیٹ کے مطالقی اج ت العخلیة یہ خال یکر اموا کم 
کنا ڈالتھاہبی ہہ باری باری ر ہک ام مکی ن نہ رت دیناءاخیاردینا بیو تی یو 
آن۔ یسبق 4 بآ نا - طار عای_ 
ر شک چ کواچارے دیا: 

صصورت ستل ہے س ےک وه چ جو دولوگوں ا ا بے a‏ اورواچارے يديا جا 
ہیں ےکر ا ہا و کے کے بیہاں ے او تخرات صا شن ہا کے بیہاں مشا کا اجار ہ مطالق جا ت ےی ریک اور غر 
و yy‏ وکل مہ ےک خی رمفا کی ط ررح مفا کی قاملِ انفاغ ہوتا سے او اکر ای ےکوی 
متا نع ما لکر نے و بالا نقاقی اس پر اججر تنگ واجب مون ے اور اجکی کا وجب ا با کی ءھ0 2 
مشا چ تاک اشّارغ موی ہے اورا کا اجار چا ے۔ 

را سوا لک مشاں کیم سیے انی پر وکرن اکن وتاس اور دو لیم اجار و یں ہوتا؟ ا یکاجواب پس کٹا کی 

صل کر ن ے اور یلیم روط ریتوں ے مون ے:(ا) یا وش مشار اورمستا ج کے ماب نف کر دیا جا ۓ اورمتتا ؤم کے 
سب اک کا ر ہے (۴) یا ش ریک موج اہی متا رکو د ہیر ے اورا یکی باری ٹیس متتا جا کے ج ےکا EEE‏ 
لاس پہلوکو نےکر اکت راکنا درس ت یں ہے۔ اور طرع کے میں اکر باک میس اورمشنترىی مسقل کرد ےا ری کر نالیم 
شارکیا جانا ہے اک ط رح اہارہ س کی ق کر ےک ایشا رکیاجا ےگا نی زی طر ایک مکان دولوگو ںکواجارہد ینا ہے اورا 
میں شییوغ ما یں سے اسی ط رح صصورت مل می بھی مشا کا اجار درست اور چا ر سے ۔ 

خضرت امام انم ولیہ کی وکل ىہ س ےک اجار و عق رفع ت کا نام ے اورمنزع تک حصو لتلیمممقورعلیہ بر موقوف ہے ڑتی 


3 آٹالہاے AE e AFR A DEES Dn:‏ 
جب مو ج ممقودعلیراورشی متا جرمستا تر کے جوا ےکر ےک بھی وہ اک ئح حاصص لکرس گا حا لامک صو ر مت می مو جرختو رعلے 
کپ ردک سے پا دی ہے کیک تو دمشائ او ری تی شدہ ہے اورم وج کے لاتق احص کن نیس چ ای لے ۱ 
برا جار ہنی نہیں ہے۔ اورحطرا ت این ےتا کات ولیم رار و با کن نیس ہے ءکیوئ تخل سے صرف قد ری الاظق حا 
حا ہو ے اور مشا نیہ کے بع کی قد رست گی الاغفاع مدوم رک ے اس لی ےک شرکت اشفاح سے ماع ہو ہے ۔ اس 
یے ‏ تل لی میں قر اروب گے ۔اودرتپالولجتی پار برک سے اففاع حاص کر ےکوی لی مکہیں قر ار وہ گےء اس لے کہ یہ 
مرعلہاعظا وعقد کے بع رکا سے ای لی ےک تا لیت کے واسلے ےکم عق با سے اور عقت رکا گم انعقا دعقد کے بعد خابت ہوتا ہے۔ ۱ 
عالئکہ مار یشوی معقد سے ہےاہزاج چیز بعد میں خ بت موی ہے وو تدای اور انتا دی مر لے ےکغایت نی کر ےگ اور 
تھا ےکی لیم شن ہیں موی ۔ 
اس کے برخلاف اگرمو بر اپنے ش ری کواچارہ پر دیا ےآ جا ہےء اس ل ےک اس صورت شل شورع ۶ سے کان بیخیوں داو 
شور وی قاع سے ینتا کی سے نف مان کن کا تق اواب ا جا سے وا فک 
فح ہورہا ےکو یا یراع ودوخوددی حاص لکرر سے اور چوک تصرح ول ے لزا جب ہہ قصور مسل مور ےت اجار ہن 
ہوک او رتو ل کی راہ کلف ہو سے کت اججادہ کو فر کی ںآ تےگا۔ 
اک طرںح اک رشیوع لہ نہ ہو لہ بعد یس پیداہواہواور ملا ری ہو( مشلا ایت نے دولوگو ںکو ایک اتی اپٹامکالن ا سے کے 
ے ارت بویا اور پھدنوں کے بعد ایک متا جم کیا ) نے بھی کت اجارہب رآ ںآ ےکی »یوگ بی شو طا دک ہے اور بعد یش 
پیرا ہوا ے اورشیوں طا ری بطل عق ہیں موتا یوت ق رت ی اتلم اوقت انعقاو عق رض رو ری ے اور بحر مل اک کی بقاء اور دوام 
ضرور یں ہے کی حال اور میں کم اس ورت بھی موک جب موجر دو ہول اورمستا چ ایک و کیوککہ ہا ں کی متا جر نے صفق 
واعدہ کے تت دولوں سے یھبا ری مکان نےکر ای سے فع م کیا سے اور یک رکرو کیا ہا سے نو اس صصورت میں اجار کی ا جرت 
مس شییوں سے نہک ممقودعلیہ س میتی شی متا جر میس شیو ہیں ہےء بلا سک یآ مدکی ںیو E‏ ری کا غو عقر 
کے لیے ھکیس سے۔ 


قال وَیَجُوْراسیجَار ار باجرو علوم وله تقال هن إرضعن نگم فاتومن أَجُورهی) (سورة الطلاق:٦)‏ 
E A‏ ا 
الْعَقَدَ ب بقع على افع وهي متها لري وام به وال ہے تی الج في 

القوْب, وَقیل 3 لعَقَدَ يقع عَلى اللَي دة ايع لھڈ لو ارصح بكي دا لایستحق الجر 
َالوَّلَ اقرب إلى الْفقهء ان عة الإجارة آ SG‏ 


باو عر 1 


رت ل وسین عدر تن الإرْصًّا ع بلب الساة إن سَاءَ الل تعالیء وَإِذًا بك مَاذگرتا يصح إذّا 


7 03 بلر0) EER o SHR‏ اام اہارات کے بیان کن 
گان اجره مَعلوَمَة اعتبارا بالإستيجارة على الْحَذْمَة, 
ترچه: ےت رت رس ے ‏ تا 
ارشاد ہے اک مطلقگو رج ںتمہارے ہو ںکودودھ پلا یں تو نشی ا نکی اجرت دیو او رای لیےک بجی درسمالت می اور اک سے ممل 
اس طرع کا تال پار تھا او رح ری اک رق نے لرکو ںکواس تحائل پر برق ار رکھا۔ بی کہا میا کہ قد متاح بر وا موتا سے 
ادر وہ ےکی ضرمت اورا کی وک پیا یکر نا ے اور وو ے بع ال مل خابت :تا سے یی ےکپٹرے میں رای موی سے دوس ا قول 
5 0000 پلا عقر ہوتا ے اور خدمت ا ون کن لیے اکر دایے س کہ ری کا دودھ پلا د ےلو 
اج تک یں ہوگی :اد پہلاقال ف ے زیاہوٹر یب ای یک قداجارہلڑا ت اعا نکیل کر ے عقر ہرم 
یی نے دودتھ پیے کے لی ےکوی گا ےکراپے ہی 070 پلانے میں جوع زر سے اسے کم ان شاء الت ہکقر ب اك 
و ا 
تب جار انکر لت اوت ایی 3 الک رین را ا کے غخدمت کے سے اجارہ 
ر سے۔ 
اللغأاث: 
(الظئر € = دای دددھ چا ے دای۔ تع امل € مر اق ترک اصع پگ الین 
رورم ط[اتلاف ت کرن ضا کر ناء ہلا ککرنا۔ 
دودھ پلاے وا ی گی 7ت 
چو ا 0+ یلو ن اججرت پر رکھنا درست اور ۱ 
ا کار کا ا و سرت نے کک ا ن باعلا نکر رگا 
ے فان أرضعن لكم فاٹوھن اجو رھ نکراک رت ہا ری مطل رکو ر۲ تہارک اولا دکودودھ پلا نے کے لیے رای ہوں اور پلاد یآ تم 
انا نکی ائجرٹ یدای سےمعلوم ہو اک مرف کو جرت د ییا چات ے اورا جرت دینا چات ےا ظاہر کا نلوا جرت پر لین ی 
درست اور ہا ہوگا۔ حد یٹ پاگ ہے ا کا موت اسر جک ارس۰ مکی بعنت سے پپیلے اور ہعشت کے بع رلوگوں میں 
اس طرں کا تعائل جاری تھا خآ پیم نے دائی علیہ ری الطدعنہا کا دود پیا تھا اوراس ر کی طر حکیکیبرو یمر وی فر مایا تھا جو 
ا کا م کے جائزادرثابت ہون کی ٹین وکل ےآ 
ٹم قیل الخ ال بار ے مل علماءاورضقہاءکا اختلاف کہ ىاجارہ دودھ پلا نے بر منعقہہوتا سے با ےکی خدمت اور دک 
بعال پرمضعق ہوتا ہے؟ اس سلسلے یس رات مشار کی وو راہ ہیں (ا) صاحب الیضاح ادرصاحب ذخیرہ دخیروکی را ہہ ےک یہ 
اجار اصلً ےکی ضرمت عق موتا سے اور دودھ پلا کا کا م حا اورضغ منعقد ہوتا ے جیسے اکر کی ےکیٹ ار کے کے ےکوی 
گر ہکراۓ برلیا تو ممقودعلی ا سکاننل ہوتا ہے اور ریکنا اس میں حا واشل ہوا ہے اک ط رع یہا ںبھی حقو علیہ ےک ضرمت موی 


نا RE POS DA N‏ ام اجارات کان می جا 

ہے اوردودتھ پلا نا ال مل ےت جات 

(۴) وو سر تقو لی شس الات یک سے اوا وہ ہہ ےک قو دعل دودح پلا نا ے اور ضرمت اک ں مم دحل مون سے کی وچ 
ےک اکر دای کو دود نہ پلا سے اور رات دن ا کی خدم تک سے یا اس ےکر یکا دودھ پلا ےآ وہ ر اوت ا 
اجر کا رضا عت اور ارا ے تاق ہونا ھی اس ام رکی دمل ےک قو دعلیہ الا ارضا ن سے ۔ 

صاحب پراہے کے بیہاں ٹول اول راز اورا قر ب ای الفقہ سے اورا کی وچ ہے ےک دودح پلا نے میں مین سی دنک لاف 
ہے اور اجار ہاتلاف ن کے یں منعفد ہوتا بل یل موا کے لیے منعقد ہوتا سے کان صاحب نایر ونہایے کے مہا ں قول غافی 
ران سے اوررائمالھرو فک بھی اتی راۓ مکی ہے انس لی کک کی طرح کی فعت ای وت الک جا کپ ےگی جب اس مش 
EBE GEE‏ ضس ےرک نر EA‏ 
َککڑ یکا اور ایت رگ نک احلاف ہوگا تو اہر کہ د ہکھان ےکی منفحت اورت سے کروم رہ ےگا اک ط رح اکر دای سو کر ےک 
ذودھ نہ پلا ےک ال سے مر سے دود یکا اتلاف ہوگا و ال سے برجا ےک اور وہ ارے ہتروستافی ضا لط مل وف 32ک 
بم ہوگی۔ اپزا سل حقو و علیہ ارضااع لن ہی ہے۔ اور می وو ٹول أقرب إلى الفقه ےس ذرائحور سے دھیان دی نے گی 
ضرورت ہے مر صمل کے ے ملاحظہہو۔(بنابی:۳۷۰/۵۰۰۱/۹) 

وسنبین العذر الخ تول اول والو ںکی طرف ےقول ی والو ںکوجواب دیا گیا سے اور ای جوا بکا عاصل ہے ےک قول 
غا یں جو یہ با تآ ی س ےک اکر دای سے کو کی بر یکا دودھ پلاد ےا وہ ن اجر یں موی اس میس پچ خصیل ے ارو وواقصیل 
گی عبارت شآ ری ہے۔ بہرحال بے بات سے س چک رضا عت اورخدمت کے لے اارہ درست ادر ہا گے 


ا و تکام ˆ 9 و و وہ کی د2۶ 21 د رودو 
قال ویجوز ب بها شوه ايحا عند اي حويقة وداه وال جور بان الاجر مجهولة قار 
ر 7 و ےر ورو 4 9 

كما إذا استاجَرَھهَا للخبز وَالطَیْخ وَلَه ا أن الجَهَالَه تفت تفضي إلى المتارََة لان في الْعَادَةَ ة التوْسِعَة على الّظارِ 
ہ ےگ ہے گج دی 2 4 و ودر 
فقا لی 5او کشر کلم كير بن مز بياب ار وع فار کیم ویر ین صسرق 

و وو ت مد رر سا و ہے 

بخلاف الخبز ز والطبخء لان الجَهالة فيه تفضي إلى المتارَعَةء رفي الجاع الصغير قان م سى الطْعَامَ دَرَاهم 
وَوَصَف جنس الْکسٰوٰة رَأَجَلَهّا وَذرُوْعَها فهر جائ يعني بالْإِجْمَاع, » رمَعتى تَسَمِية الام راهم أَنْ يَجْعَلّ 


ود 
م ى َ‫ 


اجره دراه ر ثم يدقع الطَعَام مَگاتَھا وَهٰذًا ل جَهلَة ل فیهء ولو سَمّى الطَعَام وَبْنَ ره جار أيْضًا یِمَا قا 


ور 9 و9 ٤چ‏ 7 9 ج2 رص لا _ E‏ م gr‏ 
ولا ترط ايلاء لا ارصاق الان وحرط بیان مان نقاِ عن ابي عَيْقة ايء حادق لم 
ہےو ےے دےہ۔ 2 دو ۴ 5 ا 
وقد د رتاه في اليو ع» وفي ال وة يشرط بيان لجل ايسا مع بان الْقّذرٍ وَالْجنسِء لان نما يَصٍيْر 
7ے ہے ود ے ٹر ر وووو 


ڈینا فی ا لذُمَة إا صار مبیگا َإِنمَا يصير میا عند لجل كما فی السّلم. 


رج آنابم ARL SDS ES r‏ رض جات AE‏ 
تڑچه: زا ے ہہ یک فلا رکپڑے پ دائی رکنا امام و کے یہاں اا جات ےرات صا یں یوو لے 
ہی سک ھا کین ہے اس لی کا جرت بول ہے لو بی الما ہھگیا شی رول جنانے اورکھا نے بے کے ےکی کا جرت پر لیا۔ ابام 
ام ویز کی وکل ہے س ےک ہے جہالت مفضی الى المنازعت یں ے »کوت بچوں برشفقت کے کش نظ جو رورے پا 
عورتوں تخل قکش اوہ و یکا مظاہر کیا ہا تا ےو الما م وکیا جیے ایک ڈ تغل ٹس سے ای کقغیزف روشک نا۔ برخلاف رویی اور 
کما نابک نے کے »وکا نکی جہالت مفضی الی المنازعة ہولٰ ے۔ 

جا سر یں سہ ےک اگ رکون ےکیٹ بیا کروی او رک ےکن :ا کی ادا می کا وت او اس ک ےک یا ن کرد ےکی 
الاما چا سے اود طعام کے درم کے تی ہکا مطلب ی س ےک درا ب کو اجر ت مقر رمک کے ا نکیا لہ لہ دی ےہ اس می ںکوئی 
جال تنئیں ہے۔اوراگر ول تی نکر کے ا سک مقدار ہیا نکرد یت کی جا ئن ہےء اس دک لکی وج سے ج ہم جیا نکر کے ہیں۔ 

اورظلہاداکرنے کے ل کی مر تک ان شر ڈنیل ہے کیونکہ طعام کے اوصا فن ہیں ۔اورامام ئن ول رن یڑ کے یہاں مکان 
اوا یکو با نکرناشرط ہے ۔حفرات صان پا کا اختلاف ےم تاب الیو غ مم اسے جیا نکر کے ہیں۔ او کی اد ےۓ یش 
تر راو رسکی وضاحت کے مات اتک برت اد ایگ یکو یا نکرنا بھی شرط سے کوت کیااک وقت ذ مہ یل دن ہوتا سے جب ددع 
۱ حاس تو شارت بت بن 
اللغاث: 


ضا کھا:۔ کر [خبز) روئی۔ لالطبخ ) پا التو سعة ‏ خاش ۔ ب( آظاء رک تن 
ہے- إصبر ة4 ڈ صر فإذرو ع )دراک تح ے۔ 
او ات 

7 ورس ہج E‏ 
اہارہ درست اور جا ہے اور می اتان سے ج بک حف رات صا ین کٹا کے بیہاں می اجارہ درس ت یں ہے ءکیونکہ طعام اور 
یڑ ےک E EE RN E‏ 
کا معلوم اور ن ہونا ضروری ہے۔ ایی مکی کے روٹی بنانے ا اھان اس - 0 رکھا اورا رت کی 7 2 
نی کین ارہ پل ہے ای رح سورت مت ہش بھی طعام اورک وروا رکا اجارودرستٹل ے۔ 

حضرت ام انلم بی کی دل یک بیان اچ ت اکر چول ہے لین ر چا فی ال النا زین ہے مرا 
اس رع کے معاملات می ل لوک ہر یا د یکا مظاہرہکر تے ہیں اورا کے فونہالو ںکی ای ت ببیت اور پروی کے لیے داب و خی روکوزیادہ 
سےزیادہاجرت دید ہے ہیں اور مھا وغیرہ سے پل جاتے ہیں اس لیے اس صورت میس اارہ اتد ہوگا۔ ا کی شال ایک سے کے 
تح کے ا ر ا ین ان ن م و یاب س 
ججاات سےءنیان سے چہالر شی الی النزا ےنیل ہے اس ےک کے ہے ہو ۓےبھی عقا درست ہے ای طرح صوررت مستلہ 


الم AER $ SES‏ اغام اجادات (Au‏ 
میس بھی جات کے ہوتے سے قا درست اور چا ا ے۔ اختلاف ال صورت شل سے جب طعا م او رر ےکی کی ما اور 
وص کی وضاحت نہ مول بد اود گر ىہ زی وضاحت کے ساتھ ہیا ن کرو یکی ہوں تو امام اعم ولیہ اورحطرات صا نین تا 
سب سک پال عقر اچارہ درست اور چا ر ہے ا یکوصاح بکتاب ہے ہا سیر کے وا ےل سے یا نکیا ے اور فان سمی 
الطعام دراهم کا مطلب تل سل معابلہ وراتم ر موا ور رورا ب مکی چ فل دید یا ہا ےو کھی درست سے یئگ درام 
۱ کے بر نے چوغلہ دیا جات ےگا دای کے فان سے ہوگا او ری حطر حعکیکوئی پاس ہو _ . 
ولو سی الخ ا لک عا ل یہ ےک اک رمتا بے نے فل اورا لک مق داراو ی کروی کہ دک نکندرم ا جرت موک تو یکی جا 
ہے کیوکلہاس طر کی وضا حت سے جال موا ےء ای ینتا ےکرام نے ادا گی ارت کے ےکی میعادا وروق کی 
تقر ری مشرو کی کی ہے۔ کیوکمہ خی مین طعا من ےم میں ہوتا سے اورشس طرں راشان کے لیے ت ادا ءکی وضاحت 
رور یکی سے ای ط رم پور وش نکی اوا کی کے بھی مد تکا بین ضردریویل ہے۔ ہا اکر طعام کے چا ےکسوہ او یڑ ےک 
اج ت قر کیا نو ای کیک )تقار اورا یکی اوا کک وفقت پر پر چ زک دضاحت اور راح ت رو ری ے > کوک کیااک وقت زمہ 
ٹیش واجب ہوگا جب دہع ہے ادر ہے مت میا کر نے سے ای مق سن ےگا ء لہا بیان ذد ر ونس کے سا تھھ سا تھ مک با کی 
رور بہوگا یی بی لم میس ان تام چ زو کا اعلان ادد بیان رو ری ہہوتا ہے۔ ا لک ووسر ی تقر لوک یکی اکن ےک یڑ ے 
کا ت ون غل ف فا ی ہے اور جھ چ زغلا ف ق ی خاب موی ےوہ ورور کک تحص رہق ہے اور ای ط رع کے مال س سلم 
ےط ربل رت کم ہیں پرا مورت مسر می بھی کیک مکی یں ٹوو ہوں کی اور سلم میس بیان ابمل شرط ے اس لیے 
ہا بھی اکل اور حر تکا بیان شرط ہہوگا- 
ال ولس مساجو ان مع رجا من وَطبهاء ِا لوطي حن اروج ق يكن من إِنْکالِ عق الا 


3 (99 
۰ 


6 گچ پر گدےد ہے کے ا 2 27 912 ےم ئا 6“ وو E ay‏ 1 
ترى ان له ان يفسخ الإجَارٰة إذا لم یعلم به صیانة لِحَقه إلا ان المستاجر یَمنعة عَن غشيانها في مُنزلہء ان 


5ڈ ہے رش ے د ہے و ی ر موو ٤و‏ ردر و کرو ےو و رھ ك ی“ 2 ر 220 کر 
المنزل حقه فان حبلت كان لهم ان يقسخوا الإِجَارٰۃ إذا خافوا على الصبي من لاء لأن لبن الحاملِ 


ود و ےۓ۔ ہے روو درو 2 ۔ے ےہ ے و وھ“ رے صدر ٤و‏ ڈو ےر ہے رپچ ٭ وی ٹرہے ‏ صدر 
يفيد الصبي فلهذا كان لهم القسخ إذا مرضت ايضاء وَعَلَيْهَا ان تصلح طعام الصبيء لان الْعمَلَ عََيْهَاء 
EE‏ 7 ا مہ مر ور ص ےک ےر ےو ٹوو و 29 9 NOL‏ ا دودرو 4 َ۔ ع 
والخاصل انه یعتبر فيمَا لا نص عَليه العرف في مل هذا الاب فما ججرای به العرف من غسل ياب الصبي 
2 م مر ےو ا لے ر بس 3 “٤‏ وہ : ۲ سے 7 7 
وَإصلاح الطقاع وَعَيرٍ ذلك فهر عَلی الظترء آم الام فهر على والب الوکدء وماد کر محمد ماي ان 
9ے ع ا 0 2e‏ و و ٹر 9ں ۔ 5ر ER‏ کے > سص 9ر ر 
الڈھن والریخان على الظئر فذلك من عَادَة اهل الكوفة.ء وإِن ارضعته في المدة بین شاق فلا اجر لھا لاتھا 
و ار و ےو و و و ا 71 ےا کے 7 
َم تات بعَملٍ مُسْمَعقي ليها وَھُو رصاع ن هدا إِْکَار وََیْسَ بِارْضَاع نما لم جب اجر له 
المَعنى انه اختلف الْعَمَل. 


3 انال ED‏ ہیر کی ا امام اجارات کے مان مین ا 
رھ زا بن ع کا ین کے را غ کان کے ی ےک ری و اق ا 
متا برک وا کان پا کرک اضتیا رکد ہوک کیا وکا کی ںک اکرش ہرکو یوی کے اجار ےکم نہ ہو ا ےن کا ا 
شب راو اجار ہکا کین حاصل ہت مستا کو یرن ٢وک‏ دہ اچ کر ںآ کرم بر کر سے سے کرد سے ای س گھمر 
نوست 6 تن ے اورا اگرمرضعہعالمہہوجاے اور پیشب م وکا لکادودھ جے کے لے مع ر ہوک و نای ہوگا اس کہ 
07 00 اہو جا و بھی یج والو ںاور اجار ہکات یکل ہوگا۔ اور 
دا کی یذ مدا رک سب ہکوہ سے کےکھا نے پیٹ کا خیال د سے کبک یکا م ا یکا ہے ۔ خلاصہ یہہ کاک باب مس چہاں یل 
ہے وہاںعر کا اعتبار موک لیا ن چچیزوں یں عرف جادی ےی ہج ےکا 71 وکونا اورکھاے ادر پا خانہ پیشا بکا ا ظا مکنا رہ 
مرضعہ پر ہوگا۔ر پا طعا مک صرفل وہ سے کے باپ ب موگا۔ اور اما مم وی نے جو ہے یا نکیا ےک کل او روشب وکا صرف کی دای یہ 
ہوگا ران لکوفکی عادت کے مطاب ت ے۔ 
اوراگر برت رضاعت می دایہ نے سک وکر یکا دودھ پلاا او اسے ابر ت یں ےکی یوک ج وکام اس بے لام ھا اس نے دہ 
یں کیان رورے پلانا۔ او ری رک یکادودھ پلانا تو دواڈالنا ے دہ د کیل پلا نا سے اود یہاں اس وجرے اج تک واجب مو یک کام 
بر لگیاے۔ 
لإوطی بت :۶ن زوج کی ادا ۔ کنب اختاررکنا۔ وإ صبانة ) فاشت کے لیے۔ ؛ ان )ہت 
کر الدھن پیل الر یحان )سبو 
دا ےکی ڈمہ دار یاں اور رف : 
7770ھ ےک کرف اور روا بل ج وکام داب اور مر ضع کے مہ ہوتا ےا یکی اتام وی ای لازم 
وی اور عرف اور عادت می ج وکام ال ا ےا کا مو اا کے خر چکو چے کے وال د بن او رم برست سنیٹ E‏ 
اورمرضع ہکا اک لکا م دودھ پلا نا ہے اس لے اگرمرضعہ س کے علادہ لی اورک دود پلا ے فو خی اججرت نیش موی یوک 
اتر تکا مکا عیفش سے اور جب ال ن ےکا مم سکیا ت ظاہر ےکر ہق اجر ت کی نیس موی _ 


ا له اجر مغله ودا إا اسُتَاجَرَحِمَارَا حمل عَليه طَعَامَا 


بقفيز مه قَالجَارة اة لات جََل الاجر عض ماخر مِنْ ء عَمَلہ يمير في مَعْنى فيز الطَحَان وقد 


تی الي عَليْه الام عَنه وهو أن مَسْعَاجر تور طحن له حن بقفيز من دقبقه» وها ال كبر يعرف 
2 2 
تر جارات شس رٹ َالْمَعنی فيه أن ا عَاجزٌ عَنْ تَسْلیْم الجر 7 


ص دوو 


بض الْمَنْسُوْج او المَحْمُولِ أو حُصُوْله بعل الاجر لایع هَُ قار بقدرَة عَيروہ وهلا بتعلافِ ما إا 


LALE e AER SBI بدھ‎ a 


و 2وو 4 


اسْتَاجَرَة لِیَحْيِل نف امه بالیْصف الْأحَرِ حَيْث ليجب لَه 2 لان المستاجر مَلَكَ الجر في 


الْعال بالتعْجِيْلٍ فَصَار مشترکا بیٹهمَاء وَمَنِ استَاجر رجلا لعل ام مشر شر يتما ليجب اجر لن 
ا من ڙو مله ل وخر ڪال تق ف لعف تسم اعرذ علي رجاو الجر ييز لا 
گا فُسَتِ الإجَارَةفَلوَاجبُ الل مما سى وَمِنْ أَجْر الہ شا ُء أنه رضي بحَظ الّيَاکةِء وَهٰذًا بخلافِ ما 
إدا جس مالع عند محمد مید لاو الْمُسمّی ماك ا 


قله د بَصِحٌ حط . 


ج فرماتے ہیک اگ ری کی جول اوو اگوی اک وہ صف اجرت برا کا اہن د ےا اے اج تی ےکی 
ای ی اگ ری ن ےگمدھا ارت پر لیا اکاک ب چغ لاد ے اور اک غل میں سے ای کتغیز اسے ابت دی ےآ ارہ فاسد ہوگاء 
کیو مستا جرنے ابر کےکا مکی پییراوار یل سے پگ مق دا رکو ا برت مقر رکر وک ہل ہآ ٹا پینے وا لٹ ےکو اک شس سے عزوو ری د سے 
کے میس ہہ وکیا حا لام حطر نم اکر کے تفر رطحان کے نا و مر 
ےت کہ ایک قفی نے ےکی وہ اس کے لگنم ہیں دےء میک بڑدکی اکل ہے مس سے اہارا کا بہت سادا ع ہوچاتا ا 
ہے خا لک :عارے علاقہ میس ( قرات میس ) اور ا کی وریہ ہ ہک مستا ابت کیم سے عاجز سے اورا جرت ضور گول یا 
ےئ سے حاصل شدوکا مک حص سب ادر چو کہ برا موردوسرے کیل لوق یں زاو وسر ےک قرت ے مت ھ7 
دا یل شا رکیا جاۓےگا۔ رگم نل مورت کے برخلاف سے جب کا نک یکونصف ف کوٹ تصرف تا اٹم اکر ر کے کے لیے 
ات پر رکھا و ارگوا جرت یں گی ءال لی ےک متا ج نے اسے نف رم ردورکی دیرگ ےلپ اد وغل ان دولوں میں شت رک ہوگا۔ 

ری نے اسیک ری کوش رک فل ٹھانے کے لیے ابقرت پر رکھا تو ارگوا جرت ہیں گی ای ل ےک اجیرجومقدارجھی 
ٹھا ےگا وو اس یں اپ ےکا مکرنے وال ہوگااورمعقو عل یکی لی تقق ہیں گی 7 7 "ہہ" 
کک نت اجار فا رھ وکیا ارت کی اود ارت کی یں بے جم موو وا نت پر ئن لس ےک پا ودی زاوی کوس ر 
کے پر دای ہوکیاے۔ و ےرب کی سو باند ھن وا نےکواجر ی 
نکی خاو یک بھی موا کے ال اس ےکی اس صورت میں اج ری معلوم یں ےلپ را اھکر ابھی تج ہیں ے۔ 
اللََاتٌ: 

(حانك) چول چھ ی09 نا۔ طظقفیز الطحان یی اصطلاں ے۔ ٹور اہ تیل۔_ 

ملالمدسو ج کان ہوا سدت۔ الاقل مما ست ی ہے شدہ ات ےکم مقدار۔ وإاحط پگ کر کر ا ات 
اللاحتطاب چکڑیں چنا 


ققی ریا نک مسار 
صورت ستل یہ ےک اکر E‏ وا کو E‏ بٹ ڑل دیا اود ای ےگہ اکم اس دھاکے سے را تیا رکرو او رپا 
تا زج ان جن ےآ دھائم نےلواو رآ دسا ٹیل نےوں ا یکر ھھےکوکرایہ پرلیا اک دہ ای یکول ف ائ کر ہیں کرو ےاور 
اک فل یں سے مال ککی مزدوریی ی نکر وینو اچارہ فاد ہوگا ۔اورایراجر تنگ یکا دا موک اوج ےتفیزطمان جآ ٹا پینے وانے 
انان یا تک لکوا یآ نے میں سے مردورکی دی ےکا بات ےکر نے سے اچارہ فاد ہوچاتا ہے ادرا رکا جت ی دی انی ے ای 
رح صورت ستل شس ی اچ را جت تی یا 
صاحب ایر ہا کے ہی ںک قف رجا نک وکل او رونت رار د ےل رای پراچار٤‏ فا سد ہک ا تک صو رش اوشلییں مب ہو ںگی 
:ورگ اصول وضوارا ا نک یف ہوی۔ اورتا م صورتڑں یس عدم جواز اجار کی وکل ہے موک کستا ج نے اک چ رکا جرت مقر 
کر دیا سے ےے وہ بوت عق رپ ر دک نے قاد رکس ہے کیوکلہ نتوق الا ل ک یڑ ابا گیا ےاورن ہی قر لک کی سے بللہ یتام امور 
ا رکال پر موقوف ہیں اور ج وکام دوسرے کے کل بر موقوف ہوا یکا وموم ر تا ے او رخطرے مل رہتا ے اورمد وم اور ے 
خط رچ کا ج تقر رکرنا درس ت کیل ے- 
وھذا بخلاف الخ فرماتے ہی کہ اجا رہ فا دہ کے تلق بیج بم نے میا نکیا ہے دہ درخ ذ یل صورتڑں کے برخلاف ے 
)ارک ن ےکس یکو ا ںکام کے لیے اجرت پیرکھا کہ وہ دوچ لگنم جس سے ای کوٹ خود لے نے اور ای یکوک میرے 
( متا ج ے )کرک ھاو سے تو ا کک بھی طر مکی اجر میں ےکی تن نت اجر کی کیا اورت بی اجر شی ء اس لیے 
متا جھ نے اس طرع کا سابد نےکر کے اگوی ارت دیرگ ہے اور ونان کے مائی نع مشترک ہ وکیا ےکوی ددٹوں اس کے 
صف تصف کے ما لک ہو کے ہیں لپا اچ جو مقدارگھی اٹھا گا اس میس انی ذات کے لی ےکا مر نے دالا ہوگا اورانسان جب ای 
ذات کے لے ےکا ممکرتا ےا اج ت نیل لیا ہکیونک ا کی طرف سےممقودعلی کو پپردکر انیس بای جا اللہ ووتو ووی قل وس کان کر ہ 
نے ہاے۔ جیما ومن استاجر رجلا لحمل طعام مشتر کے ا یصو رت کا یان ے۔ 
ولایجاوز بالأجر الخ ال عات ا!ان رش کے رس استاجر حمارا الخ سے ہ ےکس طعا ول بیس سے جمارکی 
ایر تقر رک ےکیاصورت مس اجارہ فاسد ہو جاجا ے اورا ری داجب مون ےلکن ارا چت شی ای کقفی یش سی نکردہ 
ابقرت سے اد ہو زاندکیسں دیا جا ےگا اس ےک ج بکد ےکا ب تک ایک تیر راتک ےن اہر کاک سے رائکد کے ساقط 
ہونے کی وو راضی سے اوراگر اجار ہچ ہوت تو اسے ایک قفیز سے زاتد اجرت دلق لپا اچارہ فا سد ہو ےکی صورت 27+ 
تغیزل چا ےآؤسبحان اللّه» ما شاء الله ور ایی حالت ںو وتس اجرت سے اہی اعت رک لے ہیں_ ۱ 
کو اون یں عکھیں اوہ ن اتطا ب مل دونو ں شریک رچ تو ککڑ ہیں کی اورک منفعت مل وونوں 
ربک ہوں کے اورا جرت وی رک اکوگی مت لیس ہوک 7 0 نے مم کیا واو رو وسم رے نے باندھا ہو وککڑ لو ں کا اسل مالک 
5 وی ا ہگ اور اٹہ گے اور ٹھانے وا ےکواجر ت کی دی ہے ےکی اوراما مم و کے بیہاں اجر ٹیک یکوئی میں موی 


7 03 بلر۵) EON RIOR‏ اکا ا جارات کے ماق 


خوادووکیکڑیوں کے نف ےشن سے زات ہو اک ےکم ہو ج بک امام ابو لوست کے بیہاں اجر تم یکا صف کے مراب اس کے 
.سم ہوناشرط ہے اورا ی سے اد ہا نیس ہےء امام مج کی وکل مہ ےکہ جب یہاں اجس کی مقدارمعلومنییس ہے تو ا جرت کی 
عمل واجب موی اورا می کو ی یی موی امابو وس کی دمل ہے س ےک ایک سام ل کر دوفو کا کا مکنا اس جا کی وکل 
ہج ےک دوسراف ران اورش ریک نص فک نکک اجرت لیے رای ہے اوراس سے زیاد ہکا آرز ومن رکاں ے۔ ال یے اےککڑیوں کے 
IR INE‏ کا ےگا ( ۳۳/۹( 


قال ومَنِ استَاجّرَ رج َخِْرَلَه هذه ٥‏ الْعََرَةً ةَ المَحاتِْمَ الوم برهم فهر اد هدا عند ابي حَبِبْقَة 
بجا ء وقال اورسف رَمُعَمَة یہ في الْإجَارَاتِ هو جائ ڙه جل امقر عَلَيه عملا وَيَجْعَلُ 
ذكر القت للْاسَمْجَالِ تصجيحا للعَقد فترتفع الجَهَالَهہ وله أن المَعفرد عليه مجهولء لن ذکر اوقت 


وو و ےر صر ےگ و کے ہدے و ر د ر ودی ےبد ردو 2و وے 


| وجب کون المَنفَعَة مَعْقو دا عَليهاء > وذ کر العمل يجب ونه مَعقودًا عَليْء رلا تريح ونفع المستاجر 
في الثاني وفع الجیْر في اول يفضي إِلی الْمارَعة وَعَن بي عَییْقَة آنه صح الإجَارَهبِذَا قال في ارم 
وقد سى عَماا ته قرف فگان اَعَد عليه الْعمَلَء بخلاف وله اوم وقد مر في الاق . 
تنجد: فرماتے ہی ںکہاگ ری نےکوئی نان بائی ا جرت پررکھا تاک دہ ایک درم کے ون شع ہی ای کے لیے دی سی رکی رون 
باد سےا اجار فا سد ہوگاء یگ رت ادام پششمم ول کے بیہاں ےرت صا یں ناف رماتے می ںکاحجارات ٹیل ےہا نے 
ال لی ے کی عق کے پیش نظ لک قود عل قراردیا ہا ے گا اور وت کے بیا نکوجلدیکرنے کو لکیا جا ےگا اور چات تم 
وچا ےکی خضرت ایام وٹ کی وکل ہے ےک سورت می ہیں عقو رمل ےہول ہے اس ل کہ وقت میا نکر نے سے منفعت 
کا ملقودعلیہہونالاز مآ ہے اورکل کےت کرے سےا سکامعقودعلیہہونالاز مآ سے اور ہا کی کے لے ووت یں ہے۔ انی 
یش متا رکا فا کہ ہے ج بکہ پیل می مدو رکا فدہ ےپ ا سورت نشی الی الا زعت ہوگی۔امام ام وای ےم ردک ےک 
رمتا سے ف الیکا ہوا لی نکر دی ہداس ےک نی طرف کے لے ہے ان محتقودعلیل ہا ۔ برخلاف اس کے اللوم 
نے کےء او راب الطرا ق میں ا یکی مشا لک ری سے۔ 
اللغاتث: 
إیخبز رون ے۔ المخاتیم پ4 سیر آ ےک ي کرناء جلر یکا اضا 
کر ترتفع) اٹھ جا ۓگی۔ 
اجارەگی بے اخان صوریں: 
تر کی کن ا ان GEE E‏ اہ 
ردام کم و یھ کے بیہاں اجارہ فا مد ے ورحظرات صا کین ا کے بیہاں جا ت سے ام“ خلا کا بھی می قول 


Heli gy‏ عٗژتصكںھراصرےعججىیجوو رع ۰< ضر 
ہے۔ححفرات صا شین نے یہا مل او رکا مکو حقو علیہ بنایا ے اورالیو مکا نکر ہ ا لم لکوجلدازجل دکرانے کے لیے سے اورالیوم داو 
مقصورعقر ے اور تی قو علیہ ے با مق وما صر فل ےاورو ن ےا لے ااه درست اور جاتے۔ 

حط رت امام م ول کی ول ہے ےکہ یہاں قور عل ےہول سے »کوت الیو مکی وضاحت سے اک ور علي ہونا لائم 
آ رپا ے اورک لکی صراحت س ےکا مک محقووعلی ہونا لاز مآ ر ہا ے اور یہا ںوی وج س ال توول ےہول ہوگا اور 
ممتودعلی.کی چہا ارت مضہ ر عقر ہے اس لے شتی الی امنا زعت ے بای ی متا ممما اا کے 
ارد پرا مو ے می چا ےگا تَا دونوں ہیں رکفو ل“ ہوگا ای لیے ہم نے ہے فیصل کیا س ہک سورت ستل ٹیل عقد فاسد 
ہوچا ۓگاء اس سس میں حضرت امام ام وای سے یک ردایت بی ےک اگ رمستاجہ نے فی الیو مہو او رکا مکی راح کروی ہو 
بو مرج ہوک کوت اس صورت میں ممقودعلییکل اور ہوگا اور اہم حقو ر علیہ ویش ہوگاء اس ل ےک فی کا طرف کے لیے ہونا 
ن ہے اوررق مظر و فکو سذ کیں ہوتاء لپزا نیل میں جھ یم اویل دونوں کے تقو ر علیہ ےکا امکان تھا وہ امکان یہاں 
معدوم ہوگیاےء ای لیے ای ضورت میں اچارہ جائز موا کین اکر فی الیوم کے میا سے الیو مکہا کیا ہوٹو اہارہ ع یں ہوک کیرک 
الیم دت کے لے استعا لکیاجاتا ے اوران میں ظرف روف اق ای ہوک اورو وی ممقووعلے. کا 
رگ ےرا رہوگا ا عت ہیس ہوگا۔ 
ا ومن اساج رسا على أن رها يزرا وَيسقيه کُر ايز ن الرَرَعَة مُسْمعَقَة بلع ول 
ای الررَاَة إا هي وَالْکراب فگانَ كَل واج مهما مُسمَحفَء وکل شَرْطٍ هم صِفتة يكن مِنْ 


وہ ہے و وو ت ر 1 


مَصَياتِ اق ڪر َوب الَْسَادء ِن شرط أن يغيتها او یکر اتھَارقا أو يُسرقنها هو ايد 
رنه يى ره بعد انیقضَاء المد واه يس من مقحَصْيَات الْعَقدِ ويه منْفَعة حي المُتعَاقدیِٰ وَمَا هدا حال 
يجب اقساد ون مورا ررض يمير مجر مَتافع ایر على وَجُو قى ب امو يعر 
صقان في صََقَة وهو نوی عن هفل مراد لیت ان يرا روه ولا ِب في قاد وقي أن 
رها مَرتين وهلا فی مَوْصِم يخر ج الرْض لري بالکراب مَرَةہ وَالمُدَة سه وَاجدة وَإِنْ كانت لات 


م 2 ےڈا ر9 3 72 7 7 4 2ے E‏ و 9 5 جد 9 و ت 
سین لا یبقی منفعتةء ولس المرَاد بگري الأنهار الْجَداول بل المراد منھا الانھاڑ العظام هر الصحیحخ 
7 


رلانه يى منْفَعتة في الام القابل: 


زچه: فرماتے ہی ںک اگ ری نے ای شر رگوگی زی کر ا سے بے یکہمستا جر ی اس مس بل چلاک ہو ت ےگا اور پا فی ڈ اک تو 
ییا ارہ جات ےہ ال س ےک عق دا ارہ ےک یکن خابت ہو چا سے اورجوتے اور پا ڈا نے بغی رز راع نکی ہوگی اپ اہ دولوں 
یں ےت تی کات ون کی اور ہرووش رجش سکی غت ہو وم فتفنا ے عقر مجن ا اورا کا م کر و فسا رعق رک 


5( آنْابل بل )پلک EG A‏ امام اجارات کے ان میس ¢ 
موچ ب نیش ہوگا۔او راگ برست بجر نے شش رط لکا د یک ز لن میس دو بار ون یکر ےگا یا ا لک نہر کہ ر یکر ےگا یا اس می سکھاداو رگ ہر 
ڈا لگا اجارہ فاد ہوگاء ال لے کہ مدت پورگ ہونے کے بح بھی ا کا اٹ باق ر ےگا اور یں قتعا ے عقر یس سے یس ہیں 
اوران شی اعد المتعاف ر نکا فاد وی ے اور جوشرط اس عالت یش ہو دو فاد عق کی مو جب ہولی ے اوراس ل کان شرطو ںکی 
وچ سے موت ابر سے اہ مناخ اجارہ پر سے والا ہوگا کہ مت اجار وحم ہونے کے بح دبھی وہ نانح (یا ان کے اثرات) ی 
ر یں کے اور صف واعدو یس دوصفے ہم ہو جا نشیس کے عالانکہ اس سے کی گیا ہے۔ 

ب کہا گیا کہ دوہاد کر ن ےکا مطلب لے را دار( متام )زس جو یکر الی ککو وای کر ے اورا کی شرط کے فاد 
ہونے ںاو شر ہے اورد وک را قول ہے ےک متا جم دوم رتبا سے جوم کرای بل انار بو ئے اور بش رط اس صورت می فا سر 
7 ججہازں ایک ہی رہ ج سے سے مین لہ پر اکر ٹی ہاور رت اا رو کی ایک سال ہواور اگر اا مکی بدت تن سال مونو رو 
مرحبہ جوتال یکر نے ےکی ا سکومنفعت با تی ہیں رہ ےگی۔ 

اور خری ںکھودرنے سے پوٹی وی زالیا ںکھودنا مراد ے بلک اس سے بی مدکی نہ ری مراد ہیں بھی سے اس ےک 
دہ سال کی ا نکی منفعت با ر ےگی- 
اللغاث: 

طیکرب ٢ل‏ چلانا۔ فإیزر ع کاشذکار یہنا فیسقی پچ را بکرناءمینینا۔ ڑتیاتی کن ہوناء حاصل ہونا۔ 
والسقر )برا یڈ الکراب ل چا إمقتضیات العقد عق کے تھا ےاورلداز مات ۔ فڈینٹدییل 4 دوبارہ ٹل چلاا۔ 
لإصفقة »تر معالمہ الريع غلب بل کری الانھار نم ی ورتا الجداول چ نالیاں اورکھا ے۔ العام 
القابل ۲ تندەسال۔ 
تو 

7 سج لیصحت اوران شل دائہ بای 
ڈا لک رسیرا بک ےگ فو ال شرط کے مات اچارہ درست اور جات ے »کوت بشرط قتضا سے عقعر کے موان سے اوران چززوں کے 
پیر ز راع تنم نکی ہےء ہا ان شرطوں سےاجارہ فاس نیش ہوگا۔ ال کے برخلاف اگ بشرط لگاد ‏ اک ٹیش ایک مر یکی یکر کے . 
دوپاروال ا با ا یک تہ ری کو رک گر یکرو کا با ال سکھاداو رگ پر ڈ الو ںگا تو ان شرطوں سے اجارہ فا سد ہو جاۓے 
گا کیونکہ ہی شرس خقتخداۓ عقد کےخلاف ہیں اور اس میس مان زی نکا فا دہ سے پائ طورکہ ممت اجار ھم ہونے کے بع بھی 
. متا ج کے اعمال کے ا اتی د ہیں گے اوراس طرجح موچ رمتا ج سے ا سکی منفع تکواچارہ پر لن دالا ہو چا ۓگا اورصفقة في 
صفقتین ہو جا ےکا ماحز تی اکر ماف نے صفقة في صفقتین سے کیا ےا کل ان شرطوں می سکئی خر ای لاز مان 
ہے اس لیے ان ش رد طکی وجرے اجار ہ فاسد ہو جات ےک _ 

ثم قیل المراد الخ: فرماتے ہی ںکہ فان شرط أن یغدیھا الخ ثل جو دوبار :کر ن ےکی شرط ےش لوگوں کے بیہاں اس 


7 003 جلر(٣٢) EK OID OR‏ انام اجارات کے ان یل 4 
سے زک کو پموا رک کے اور چو تک ما کک کا ےتا ھرادے اور ظاہر ےک برشرط متنا ے عقر کے خغلاف سے اورا کک 
صوجب فسادہونا ظاہروباہرہے۔ اورت نطرات کے یہاں ا کا مصداقی بی ےک متا جج اے دوم ریہ جو کر اس می یت یککرے 
من یادر ےک اس قو کی جیادنرفاد اجار کا گم اس ونت ہوگا جب رکورہ ز شی نکوسال ٹل ایک بی مرح جو تے کا عرف ہو اور 

ہار وک ایک بی سال کے لیے ہو ہمان اکر معام ل ایی جگ ہو چہاں سال میس دومرجہ جوتاکی بوائی ہو ہو اس صورت ٹیل اچارہ 
فاس ایی ہوگا۔ ای ط رح اکر رت اجار ہ تن سال موتو بھی ذکور و شرط سے اجارہ فاس کی ہوگا کیو تین سا یک ا سکی معت ` 
اقی یں رت اوراس صورت میں جوشرط سے ووخختفداۓ عقد کے خلا ف بھی یں ہےء اورضپری ںکھود نے سے بھی شہریں مراد ہیںء 
چھونے نانے اور نم کے ھراوکییں ہیںہ اس ل کہ مکی نیرو ںکی منفحعت بی پا رار رک ہے او رکچھو کے چو نانے پدووں 
کے بع رک ے پٹ جاتے ہیں- ٰ 
ال وان عجرم رها براع اض أُحُری قا حير فيه وکال السافوي مااي هو ایر لی هلا 
إِجَارَة السُکُی بالسكنى والس باش وال ركوب بال ركوب» له أ المَتافع بمنزلَة الأَعْيان حَتی جَارتِ 
لإجَارَة باجرَة دين رلا یَصیر ديا بڌینء ولا ن اجس بانهرَادہ يحرم النسَاءَ عندتا فَصَار کبیع وهي 
بالقوهي ية وَإلٰی هذا اسار مک ماه وَلأنَ الإجَارَة جُوْرَت بخلاف القاس لِلْحَاجَةء وَلَاحَاجَة 


و ےر 


9ے سر و 9 ال ےر ہے د ے۔ے 7 
عند اتاد الجنسء بخلاف ما إذا ختلف جنس المنفعة. 


تر چه: نے ہیک رک ین نے دوسری ز می نک ق کشک یکر نے کے لیے یک زم ن کے پر لیت اس می کوئی 
اتد میں ہے۔امام شاق ولھ فر ہے ہی ںکہ یہ جات سے ا یم بے سے ر پاش کے کوش ر پا کا اجارہ او رکپٹڑے کے یڑ ےک 
اچارہ اورسواری کے کو سوار یکا اجارہ۔امام شای ول کی وکل ہے س ےکر متاح اعیان کے در ےج یس ہیں یک دی کوا جرت ق رر 
کر کے اچارہ جات ے اورد رن ےگ دی کا اچارہ یں ے۔ ہماری دمل بی ےکک ےکک س کا اوسا رام ےلو ایا 
ہوگیا تی ےت ہستا لی پر ےکوقوہستا لی یڑ ے کے کو ادصار فر وخ تکرنا۔ اک طرف اما مم نے اشاد ٥کیا‏ ہے اور ای لی ہک بر 
بناے حاجت خلاف قا اجار مکو ما قراردیاگیا ہے اور اتھاونأش سکی صورت مل ضرورت محروم ے۔ برخلا ف اس صورت کے 
جب اس طنفعت ٹل اخلاف ہو- ‏ 

اللغأث: ٴ 
ل[السکنی )ر اش ۔ طاللیس پہ پٹنا۔ ڑا ر کوب وار یکن چالاعبان 4 اوی اورسی اشیاء۔ پڈالنساءپہ 
ادھارءتا خر فقو ہی پت تسا یڑا 

شنت سے بد ل ےت کااچارہ: 

صورت ستل یی س ہک اکم نے اپ ز ن ضعلا نکی نے پل مارے یہاں براچارہ درس تکل ے» 


7 آنْا ہل جل( LOLA DIES‏ اکا ٣‏ اجارات کے بیان س ۹ 
کن امام شاق وٹ کے بیہاں درست ادر ہا سے میم پرمتیدائنس نز کا ے۔ ابام شاف ہا کی دمل ہے س ےک متا اغخیان کے 
کت 77 رر اواو ا ا 
ا۶ت کےگی اجار وی ہوتا ہے اس سے معلوم ہو اک متا کے کو منا کا ا جارہ درست ہے۔ 

ماری دل رت کرت راس ٹیس ای کا ادھار ادرو بین تام سے »یوت ایس میں سوداورر ہوا کا شی ے اور بوا گی رب شب ربوا 
بھی ترام موتا ہے جییے تو تاف کے کوش اس ینس کے دوسرےقوہستاٰی کپ ےکی کے دشراء ہا ہیں ہے ای طرںح کش کا م 
ٹس منفعت سے ماد بھی نا جام ہے ۔ اس سس کی دوسرکی وکل ہے ےک ہش رلیعت نے روزت وحاجت کے نظ اجار وکو ہا تقر ار 
وا یا سے اور اتارک سکی صورت ٹیش رورت مع روم رآقی ب لوئ جب پیل سے متا ج کے پاک وار موچود ہے وا ےکی باج ی 
ا ی ےرک ےد شا نے ریقف ہوا کے کڈ سے سے الو ہا 
کوورست رار وی جاسکتا سے۔ ۱ 


27 ص 


قال وَإِذَا كَانَ العام بين رَجْليِْ فَاسُتَاجَر أَعَلَمُمَا صَاحبَة و جِمَارَ صَاجبہ على أَنْ يَحْمِلَ َه نصیبه فُعَمَل 
o TA‏ تہ ےر ر وع رھ 

الَْامَ كله ق أَجْرَ ل وَقال الشافعي و 7 0+2 لن المنفعة عين عندۂ وب بیع الْعَيٍِْ شاعا جار 

قصارَ كُمَا دا استَاجْرَ دارا مشت ر گة بین وَين يره ليْضَع فبا الطَعَامَ أو عدا مشت رگا خط له الاب 


سح وور ھ647“ 0 


رت أ تعن وکل لحل يفل يي يوهي لک ي :لان تَصَ تصرف 
کی وت تور تسم لر د عل جب اجر ولا این جزو تخو 9 رر ترك يو 


ردو ر ر و و ے ےد 


ن عَاملا لتفسه قلا يَمَعَفَن التَسَلیْمُ بخلافِ الذَار اله شتر کہ لن الْمعقو عليه هَُلِكَ الْمتافع 


وََتحقق نہ د۔ کے یں کہ 


قق تسه دون وضع العام ولاف ابر فة عل مه مك ْب صَاجٍِ أله 


IIIE 
تنجد: فرماتے ہی ںک اکر قل دولوگوں میں شترک ہواور وونوں بی سے ایک شیک نے دوسر ےش ری کو ی ای کک ر ےو‎ 
ا کا کے سی ےہکرائے برلا کاچ رمتا ج کے ج کالہ ا یک رکہیں باد ے اورا سے پورا غل اٹ ھک رف کروی فو اسے اجرت‎ 
یں ےکی ۔امام شانتی ہاو فرماتے ہی ںک اچ مکو جر کی سے کی ءاس س ےک ابا مشا ول کے یہاں تفت کی ہو سے اور‎ 
مین مت ککوفروشتکرنا جات ہے ایا ہوگیا یکی نے فل رک کے لے ا اک کرائے پرلیا جو ای کے اود ووسر ےش کے‎ 

ای نشرک ہو کیٹ اسلے کے ل ےب رمش ر ککواجارے پرلیا۔ 
مارک دک ی س کش ریک نے دوسرےش ری کو ا کام کے لے اچارہ پر رکھا ہے تکام می ان کے بای نکوئی یں 
ےا کہ باب دای ایک ام وش مک مرن یں ہے غلا فک کے ال کرد وی تصرف چ ادر جب 


7 ابا جلر(م) AERA SPIER‏ اکا م اجارات کے بیان ٹل ۹ 
معتقودعل کی شلی کن یں ا ظاہر کا چت کی ٹیس داجب ہوگی اوراس ل کہا رجوجھی حص اھا ےکا اس میں دتتا رکا 
ری ہوگا اوروہ اتی ذات کے لی ےکا مکر نے والا سے مہ 0ئ ۔ برخلاف داش کہ سے وتک وہاں متقور 
یرما ہوتے یں اوراس میں تر کدف بھی ا سک لکن سے ۔اور برخلاف فلام کے ای لیک اس میں حقو دعلیہ رائھی کے 
کی لیت ہے اور ری لگھی سے خی رتوم یس غاب کا پاتا ے۔ 
اللغاث: 

[نصیب ).طلسم یپ ےش دقرا طیضع پا ے۔ خبط زا ع لداب و بک 

ےڑا اقا ع وائ کرنا۔ 
کی ایک ریک دور ےکا اج بن کم ے؟ 

ستل یہ ےک غلہ اور انار کا ایک ڈیر ے جو دولوگوں نشور ے اوران یں سے ایک ش یک دوسرے ش ری ککو یا ایس 
کد ےے اورسوار یکواچارہ یر لتا ےتا کرای کے ذر سی اپنا تصہ ایک چک سے دوسری چ کرو ے اراچ رے لوراغلہ اور ے 
او لک ردان ہمارے ا ما اکا ایک پائی اجر نیس گی ج بک اشاق کے بان دولوں شی جواجرت ےے موی موی دہ 
اسے تن ےگیء امام شاق ولو کی وکل ىہ س ہک نفعت ہمارے یہاں مان ہے اوران مشر ککی ‏ جات ے اپ ای شر کک 
اہار وی چائز ہوگااوراجی اجرت کی کات وار ہوگا۔ اا سکی مقا ل اک ے ی ےش ر کک رکو یا شت رک خلا مکواجارے پر ینا ہا ے 
اوران صسورتوں یش یک اچ وای کے لکی اجر دی ہا ایر صورت ست بھی این اوا 

بار یوگ بی ےکا برت اس ونت خا بت اورواجب ہولی ے جب ابچ رقو وعلی متا چ کے پر رکرو ے اورصورت ست مل 
اب رک طرف سے حقو وعل ےک ی ردکر نامک ن نہیں ے > کوک حقو علیہ ن غ ےکو ایی نورق لکن فعل ضی ے جومعلوم اورمشاپ ر سے 
عالاکہطعام اور لہ کےمشترک ہو ےکی وچے یہاں تووم یکی لیکن یں ہے اور اہر س ےک جب محقوو ناک لیکن 
یں ےواج کا اض ات ہونا اک کن یں ہے اس لی ےک برو حقو دعلیہوجوب اجر کا سوال :ی کیل پرا ہوتا- 

ل ےکہ فلہ اچ رادرستا ج کے بایان شت رک ے اور بی اشن راک اس 
کے ہرہرجزء میس ہے اپا اچ ر جتنا بھی فل کر ےگا اس میں مت ج کاش ری ہوگا اورخود ا ہے لی لکرنے والا وک 
۱ وی یڑ کی لیم سے ماع موک اد جب “عقودعلی کی صلی ری ہوک اے اجر تھی یں ل ےکی۔ 

بخلاف الدار الخ: ہیام مشا وٹ کے ق ا کا جاب ےکرصورت مت لوار شر ترک کےاجادے قا لکنا درس ت یں 
ہے اس س ےک دار ممقودعلی مناخ ہوتے ہیں اورف ر کے اف بھی وار کے منا نع کی لیکن ہے اورتحلیم سے اجرت داجب مون 
ہے اس لیے ال صورت ٹیل جرت واجب ہوگی ۔ ای طرح عب رشت رک والی صورت بیس چو ںک تقو و عل شیک اٹ ی کے حع ےکی 
ککیت ہےاورککی تٹ ل کی ہےاپزا شی خش رک اورک رش رک میس اے خاب تکیا جاسکتا سے اور اس حوانے سے معتقودعلی رک یکیو مگھی . 
کن ے لاا صورت می ںبھی اجن اجرت ہوک کان سورت ست بیس اسے اجر ت یں لن گی ۰ ای ےک اس میں معقو علیہ 


7 ہے (D+‏ رک اکا م اجارات کے بیان س 4 
ایک ےاورو ہلل ضی ےار شوم ا ںا الگ اور چرا موقنس موت ای و ور 
کن ے اور ج ب معقودعط ےکی صلی ان ےا جرتکا ا و ب ےلکن ہوک ے؟ ادا مش ی ےکا ورس می ووا رش ر 
اورکپر شت رک واے اہاروں تیا لکنا کیسے درست ہوا ے؟ 


o4 5٤ 
ت یت کو ا‎ 


ومن استاجَر أَرصًا ولم یذ کر انه يزرعَها او آي شی >زرَعھَا فَالإِجَارَة اة لن الاَرْض تسْتَاجَور 


2 


ا 


در و يو ور 9 7 7 وو رو وو 
رة وله کر ےر حل قن ما سر ین ہیں احفر 


9 رو 2 لو ےت ا ی و کی سے مہو دو وی ور و 
عليه مَعلرْماء قان رَرَعَھَا وَمَضى الَجَلَ قله الْمْسمىء وهلا اسِْحْسَانٌ وفي الاس لا يجوز وهو قول رر 
ماي وَكَع ادا قلا يقب جَازاء وَج الامْمِحْمَان أن ٤‏ لهال ارتفعت قبل تَمام العقد َنْقَلبُ 
دود دص ےھ س 


جَائرا گما دا ارق 2 ث فی حَالة الَْقيٰہ وَصَار گما إا اسقط الجَل الْمَجْهُوْلَ قبل مُصِيّه» ولخي يار الرَائد 


و 


ا 


تھا : ای نے اجادرے پر زین ف کن ی وضاح تک کی دہ ای سک یکر ےگا یا پش جیا نکیالکرکس چ زک کین 
کر ےگا ت اچارہ فا سد ہوگا ال ل ےک ز کن یق اورغیرجھتی دوٹوں کے لیے اجارے بے لی جا ے یز جو چ زاس میس بو ہا سے دہ 
کک یکی طر کی ہولی ہے ان یں سے چ ز ہی ز مین کے لے نقصان دہ ون ہیں ج بک د ورک زی زین کے لے مر 
یں ہوہیں اپا تقو علیہ متلو مکی ہوک پھر اگرمستا ہر نے اس زین می سکیٹ یک کی اوراجار ےکی مدت تم موی تو ہا ک کا جرت 
می ل گی۔ کم اتات کے قا ایر احجادہ جائ نیش موک امام زفر وھ کا کی می قول سے یرتک ارہ فاسد وا ہوا ے پاد 
بار یں وکنا اتسا نکی دل ہے س ہک عق ی ہونے سے پیل ہی چہال ت نتم موی ے اس لیے عقد جائمز ہو جا ۓے گا کے اکر 
بالات عقد ہا ت نتم ہوجاۓ ( بھی عق جا تہ ہوجا تا ہے ) اورجیے پول مر تگز رنے سے مکل برست ہو لکو وا حکرد یا جائۓے 
اورحدت کے اند رخیار ز اک دکوسا قطکردیا جاۓ ۔ 
اللغاث: 
پڑاستاجر کرای پر لہنا۔ ط(بضر نتصان دہ ہونا۔ وامضی گر ما ہو جانا۔ مار تفع 4م ہونء ناء عردم 
ہون۔ مإینقلب تیر ل ہوناء ایک عالت سے دوسرکی عالت مل جانا۔ اسقط اق کر نتم کرنا۔ 
زین اجار ےکی ایک صصورت: 
صورت مہ یہ ےک ہاگ ری ګل ز ن اپار ے لا کان ہیروا نی نکیا کہ دوس مد کے لیے اسے ےر ا ے بای 
تاد کہ ی۲ کاشتکادری کے لیے ز لن سے ر باہو ںگ رس چ کی کشت اورک کر ےگا ا سکیس بیا نکیا تو ان دونوں صورتڑں مل 
چو ںکیممقودعلیہمعدیم ہے کوت زم نکوشیتی او ریق دوفو ںکام کے ل ےکراے پرلیا جا جاسے اورز ین می ںمطلف طرں ک اکھت کی ٠‏ 


2 آنْالدا جلر(م) EAE SD IER‏ اکا م اجارات کے باک شس ٤‏ 
ہا ے اورا نکیتیوں ٹس سے پکھھز ین کے لے نتصان دہ مون ہیں ےب ر لوں اور ہار و ں کی ق اور یھ وکھیتیاں ز نلم 
نتصان بیان ہیں اس لیے ج ب کل زراعت اورندکیت زراع تک آمل وضاحت نہ ہوجاۓ اس وق ت حقو و عل ےہول رہ ےگا 
اور“مقودعلیہکی جبالت مف ر عقد سے اس لیے ورت ستل یل عقد فاسد ہے اوراگمر ای الت بی متا جر نے اس ز مین می کی 
کر ی او یھر مدت اجار تم موی تو ا خسان قب ہو جا ےگا اور ہا کک اورمسوہرکوا کی ز م۲ نکی ےکردہاجرت ل ےکی کان تاس 
عق یں ہوگا کیو ہابت اء یں دو فا سد وکیا ے پا بعد میس چا ر یں ہوگا ۔امام زفر پچ لیڈ کی ای کے قا ی ہیں۔ 
اتسا نکی ا ری تو مو دعلیہکی چہالت نت موی 
اوی شارا إذا زال المانع عاد الممنو ع کے حت عق د اہار ہکا فاد کیت ہوگیا اوراجارہ درست اور چا ہہ ہوگیا :یوگ اچارے 
دی رے در ےفعت مال بد چ ادرا کا بات سے حقکط رح وتاہے ا لے ائ ارفا کے ہد ےی 
عق د اجارہ درست اور جات ہو چا گاب 
ایگ ای ہے یی ای ےکا کے کے یا نکی برتکک کے لے کے اءکی پرا وفقت کےآنے سے مل ہی اس 
مر کو ساق اکر کےفوری عق رکرلیایا عقد می جن دن ے زا مایا مکی خیارشرط ایا کان تین ونوں کے اند ری اس شر ےکسا قاکرد یا 
ان دونوں صورتڑں یں عق دار چ ایتداء فاسد ےکن اعد میس ہہ جا کڈ ہوجا ۓگ ای طرح صورت متلہ یل اگ عقد ابت راء یں 
فاسد ےکن جر فساو ہو کے بی عق جائز ہوجا ےگا ۔ 


وت و ہے ئن کے کاو سے 
ون اجر ارا إلى غاد رم ولم بس مايل علْه مل ما يحمل الاس ففق في بَُض 
الطَریْق قل ضَمَانَ عَلیْهِ لن ع لعن امسا رة أمانة في َالمسْمَاجر وَإِنْ اتتِ لإْجَارَة قَاسِدة فان بلع 
ےت تر رت یں وو 


۷م یوت کا و و سے سے وے sg‏ 


عليه وفى الْمَسْالَة الاولى قبل أن ير ع تَقَضّتِ الإجَارَة دَفعَا لِلفَسَادِء إذ الْفَسَاد قَائم بَعَد , 
٤‏ ترتجہ: ای نے بفدآونک جانے کے سل ایک درم کو یگمد کرات پر کان جو چس پر لاد ےک ا ینت کیا 
اور ہل رمتتا چ ن ےگ سے پر ونی چنز لادک کے لوگ لاد کے ہیں او رگا را کے میس م مکی تو مستاج ضا کٹ ہوگاء اس ےک 
مستبا ج کے پا کی مستا ج ابات موی ہے اہ چراجارہ فاسد ب یکیوں نہ ہو۔ اب اکر بفدادتک مستا رکا ساما نت گی تو اق انا 
1 27ھ کہ پیل سک مم اے یا نکر کے ہیں اورا رگید سے پرسامان لادنے سے کیل متا ج 
اورموجر میں ڑا ہوگیااور یسل میں قکرنے سے ممل دونوں میں ڑا وکیا تو وف فاد کے لیے اجا رش مکردیا جا ےگا ای 
لی کاک تک فسادموجود ہے۔ 
اللغاث: 

یسم 4 نام لیناء ‏ ےکرناء مقر رکرنا وإیحمل 4 اٹھاناء بوچھ لادنا_ طإنفق ) مر چاناء پلاک ۶و چاتا۔ «[العین 


5 الا NES EDED (Dlr.‏ ایا اجارات کیان می 4 
المستاجرة) اجار ے پل مول نز ڑا ختصماب باکر [نقضت )وٹ جانا جم ہونا۔ 
موار ی کے کراے 1£ ایک صورت: . 

صورت ملاو آسان ‏ ےکسا مان اور یھو لی "زی وس ا الى المنازعة 
ہوئی ےا لے حقفاسدر ہتاے کین جب عقت کر نے سے پیل بی متا ےگ سے رصب عادت سامان لادد تا ےل عقدکی 
خرالی دورہوجاۓ کاو ا ا ےکا اگ رمستا ج رکا سا مان ا سکی تر لقصو رم کوک جا ا ےو مال ککو ا یکی اج ت 
گیا لٹ ےگی۔ اس من ےکا ووسر یلو ےس ےک اکر مستا جر ے سب مول سامان لاد نے کے بحدسواری مرجاٹی ے۶ متا جر ا سیکا 
ضاص نیش موک یوک کی متا رمتا ج کے پاس امات موی ے اور امات میس اکر تعدی نہ موتو ا لکی ہل اک مون کس ہونی 
اور چو کر صو رت ستل میں مول کے ماق سامان لا وک رمستا جر ےکوی تخر ینمی کی ہے اس ی حم رک پلا کے متا جر مون 
نیس ہوگی او روو ضا شش بھگا۔ فان بلغ إلى بغدا دک ہم نے شرو ٹل یا نگردیاے۔ ْ 

وإناختصما الخ: ا ںکا ال کے مل زراعت ٹس زراعت سے یل اورصورت ستل ی کر ے بر 
سم مان لادنے سے پل موجراورمتا چ بیس ڑا ہوجا ےت سے سے عت یکوفاداود اط کردا جا ےگا ءکیوکہاسسا با سے چا 
قراردا گیا لن دوٰوں کے بنکڑ نے سے اقسا اطنقار م تبد یل ہوجا ےگا اس لے بجر ہے ےکہ پاس بیکش کردیا جاتے 
تاک ہا ری کے نہ پاے۔اورآ تندولڑائی اوی ےکاسة باب ہوجاے۔ واللّه أعلم وعلمه اتم 


¢? 


AE r ARA SOR RL HU 


باپ صماں الاجر 


ہے باب اچ رکے ضا کک ہو نے کے بیائن کل سے 


ےه گج رھ ے8 > 39 4 ,0 ٤ fils‏ د@¢ ¿e‏ ي فال 7- 31 : بت ےر رص 
قال الأجَّرّاء على ضربین اجير مشترك واجير خاصء فالمشترك من لا يستحق الاجرَة ختی يعمل 
کَالصٌبًاغ وَالْفَصَارء ن المَعقوة عَليهِ إ إا گان ُوَالْعَمَل TO‏ ن متافعَة لم 


۔ وہہ کے2 


7 


صر مستحقة لواح من هذا اجه یسمی اجیرا مشت ر کا. 

زچه: فرہاتے ہی ںک اجا مک ہیں (۱) اخ رک )٢(‏ اچ ر نای اچ رش رک دومزدورے ج وکا مس لکرنے سے بس 
تن اجر ت یں ہوتاء یے ریک ریز ارودحو لی ء اس ل کہ ج بل یا ا یکا ا متقودعلیہ سے فے اس اچ رکوعوا مکا کا مک ےکا ن 

مال ہے کیاکی کے متا کی ایک کے لے ناکد ہوتے اک وج سے اسے اچ رش ر کفکہاجانا ہے۔ 

اللغاث: ) 

ظالاجراءچ بروزن نعلا ء ی ے اچ رک ی مزدور ل NE‏ لإصبا غ) رگر یز »راز ۔ إقصار 4 


ول سم پا جانا ہے ہنا دیا جات ہے۔ 


رور ےد ا ور 


0 تو"٭ٗ ؿ8؛٭"'" صن يتا عند اي عَیلقة مايه وهو قول کر مايه وطن 
وےءے و 97 ا س9ل رتو وت ۱ و َ‫ 
عندَمُمَا کت و رر ری مت رت رر E‏ 
تد حفط مُسْمَحٌَ عَليه اذ لا يکنه العمل إلا به قدا هَلَكَ بِحَبّب مَمْکن 
2 ے‫ ا َ‫ َ‫ - 7 


ر ورو 


تراز عَنَهُ كَالّقَصبٍء وَالسرقَة كَانَ التقصير مِنْ جهته فَیَضمَنه کَالَْدِیْكَة إا انت بجر بمخلافِ مالا 


٠‏ : نی ال 2 الیل کے و لت لبق م حيمته و ار رة 
يمن الِاحَِرازٌ عَنهُ كالْمَوْتِ حتف انفه وَالحريق الغالب وغیره لانه لا تقصیر من جهته» ولابي 


0 آنْ ابا بلر) LOGE DEER‏ اکا ٣‏ اچارات کیان شس گے 


ا“ ئ ر cE‏ کو ۔ بے ےر 2 درے 94 2 و م ودے و ٹ و وراو 
ية ان العين امانة في یلان القبض حصل يإذنه» لهذا لو هلك بِسَبب لا يمكن الإحتراز عَنهلا 
لہ رید ے ہے 9وو رر 5 و و و ۶2 ووص ر2 7 دع ی رود 2 و یک 
يضمنه» ولو كان مضمونا يضمنه كما في المُغصوب,ء والحفظ مستحق عليه تبعا لا مقصوداء وَلِهذًا لا 


سے 9ے ےد روو 


بقَابله الجر بخلاف المد ع بالأجرء ن الحفط مُسْتَحَقٌ عَليه مفصردا ا الجر 
زچه: فرماتے ہی کا رش رک کے پا جوسامان موتا ہے ددامانت کےطود پر ہوتا ہے او راگ دوسا مان لاک ہو جائے و ایام 
ام ویز کے یہاں اجر یکی نما نیس ہوگا۔ امام زفر اود کا بھی بی قول ے۔ حرا ت صاتین پا کے یہاں ات رضاصن 
بوک اگ کی کہا آفت سے بلاک ہوا ہوق ان کے بیہا ں کی ات رضام نیس ہوگا کے ز بردس تآ کلک جانے سے پا شھنوں 
کے اا یکم کے سےسامان بلاک ہواہو۔ ۱ 

ان حشرا تکی دل ہے س ےک خضرت راو رحط رر لی رشی ارڈ شنہما اچ رخ ر کفکوضامن بنا سے تھے اور ای وچ ےکی وہ 
ضا ہن اکہسامان کی ات اس پر داجب ے؛کیونل حاظت کے یراس کے کا کرک ن کی موک لپن اگ سی ا ہے بب 
سے دوسا مان بلاک ہوا ہویٹس سے پنا کن ہو چ ےنحصب اور سرت تو ہاج کی طرف سےکوتاجی غار موک اور اجر ای سا ما نکا ضا 
ہو جیے اججرت بر ری موی ودای تکی بماکت مو دع مون ہوئی ہے برخلاف ال صصورت کے جب دہ ال کی ایی وجرے ہلاگ 
ہواہ وک ای سے بنا اکن ہو بے اماخت رکی ہوئ یبکرکی ازخودمرجاۓ یاز بردست نگ کے سے موت ہوجائۓ (ق ارا نہیں 
۱ موک )یوت ای موت میں اس ا طرف ےلو یکو یس ۱ ئ 

رت امام انم لی کی دمل ےس ہک اھ رشت رک کے پاس جو چز موی ہے دہ بطو رابات ہو سے اس لیے متا ےکی 
اجازت سے اچ رای بے ت ہکرت ہے ای لیے اکر ساما کی اہیے مبب سے ہلاگ ہویٹس سے ینا کن نہ موتو ارا یکا ضا یں 
بوا عالاکگ اکر دوسا مان ار کے پاک بطو رات ہوا نذ اس سورت می لبھی وہ ضا ہوتا جی نحص بک ر دہ با لکا ب یمم ے اور 
سا مال کی تفاظم تکرنا اس پر جع داجب ےءقصد نیس ای لیے فاظت کے مقا بے اب یں مون برغلا ف مدرم پالاج کےء 
اس لی کرای پرتفاظت پالقصد واجب ہو نی ےکک ای کے مقا ےم اسے اج ے۔ 
اللَات: 

لالمتاع) سامان۔ [الحریق پآ گ۲ تشزدی۔ و[الاحتر از) ااطء اجتتابء با2 [الغصب پہ یردق 

کون نز پالینا۔ سر قة) چوربی۔ طالتفصیربہکوتاہی۔ طالموت حتف انہپ اوت1 پ مرا 


@ رواہ عبدالرزاق فی مصنفہء رقم الحدیث: .۱٥٤١‏ 


ر الم ER RD‏ ابت ا ور 
ا کے اس ما لکا بلاک ہوا: 
صورت ستل ےس کاچ راورعزدور کے پا ی معا ج رکا مال امامت ہہوتا سے او راک اج ریا رف ےی تھ ری اورز یرن سےافر 
وہ مال پلاک ہوجاۓ خواۃ از خود ہلاک ہو با یوقت اور ا گہافی مصب تک وج سے پلا ک ہو بہردوصورت نقرت ارام ا کے 
یہاں ابر برا کا ما نکیل ہوگا وبہ قال زفر بای حرا ت صاین چا کے بیہاں اگ دوسا ما نکی الےیےسبب سے پاکک اور 
ضا ہوا ہوٹس سے پا اورسا ما نک ہیا اکن ہو جی ے فصب اور چوری ت ایر ضا کن ہوگااوراگ ری ا لیے سبب سے لاک ہواہو 
کو ۓ اکن رتاوت ان سک دو ضز کے وت ریا 
ا یی ہکان 
رات صان کا کی کی قة سی ےر رس ا ھت 
ضا ن بنانا غابت ہے الا بی مگپھی ا سے ضا ہکن بنا ہیں گے ا نکی دوسریی او رح فی وکل مہ س ےکم اجر بے اس ساما نکی تفاظتکر نا 
داجب س کیوتگ سا ما نکوتفوظا کے !خی را ر کے ری اس س ےکا مکرن ناشن ہے اورنظا ہر ےک فصب اور سر ہکوئی اتی ڑا متا کی 
ٹیس ےکسا ما کوان واردات سےتفوظا کیا ہا کے اس لیکن الات ازسبب سےساما نک بلاکت یش اج کو یی اورخفل تکا 
کی کل فل ہہوگا او رما نکی شکل میس ا ے ا سک کی جلاٹ یکر کی ہوگی ء یس اکر ی نے اچ ری رکو سا مان بور وولج کیا ھا پہر 
وہ سامان چورک وکیا کی نے نحص بکرلیا و مدرم ضا کن ہوتا ہے اک طرم یہاں ابی بھی ضامن ہوا ا 
وش نکی طا سے مغفلوب ہوکر وہ سامان ہلاگ ہوتا ہے و اس صورت یس ار ضا کک یں ہوگا یک اب ا کی طرف سے اول 
فلت اور لایر وا یا بر ئ7 بے 
ولأبي حنيفة: :الیل مل ترت ابم مم لٹ کی دمل ہے س کہ بھاکی ایز کے پا ی جوسامان رتا سے وہ بطو ر ابام 
ر ہتاے »یوک متا ج کی مرک اور ا یکی اچازت 0" 
زیو کے افیردہ مال بلاک موتا چ اڈ ان ضا ن کان ہوتا :لا یہا ںبھی ان ن اج برا نیس موک فوا یکی طرح وو اال 
لاک ہواہو ور نتو پیل سے قبل اور وضاحا تکر دی جا ےک اکر فصب اوررق سے سامان ضا ہوگا وم ضاا س ar.‏ 
کیو گر مال ابا شون موتا نو لی الب اور عدو مک بر کے قل میس پلاک ہونے ےکک اچ ر تان ہوتا ے فص بکردہ چر 
ہرعالی ںون مون ے تواوسرقہ سے بلاک ہو یا آفت او ہے ےلپ ا حضرات صا ی کا صرقہ اور غص بک وچ سے ہل اکم تکو 
اچ ون تر ارو ینا یں تل میں سے اورا نکی ہوم لبھی یں ت و یں س ےک ہے ہل اکت تفاظت می سکوا: یکی وچ ےون 
ہے ءکیوکلہ ات رشن ہ ہآ پ کے ما لک محافظ اورسیکور فی گا رڈ ہل ہے اور بی حفاظت ا یکی طرف سے احسان ہے+ او رکا م ےا 
ےا قصور پالزات یں سے ال لی ےک دہ فاضت 24 ارت یں نے ہے لہا ال می ںکوم ی ے وہ a‏ 
نہیں ہوگا۔ 
بخلاف المؤدع الخ: فرماتے ہی ںک مورت مت کو مو دع بالا جر بر تیا کر کی وکن ے کوت مود إلا ر 
قص را حا شی واجب ہے اک او دہتفاظ ت کی اجرت سے د اے اور اہر ےکہقصدا اوح یل ز می نآ سما نکا فرقی ہے اس لیے 


و ان الم Pr‏ کس ہر AERA‏ اما اجارات کے مان شش ۳ 


ای ککودوسرے تیا لک نا یں ے۔ 
گال وما لف من عَمَله ري الوب مِنْ لم ززي الال كالبل اَي 1 کک 


کے دے ہے 2 


لْکَنْل رََرق السفيتة من مده مَضمون عَليه, رال زر والشاقعی ية لا صَمَانَ ˆ عَليهء لانة أ آ2 
و و2 وں ۔و 


الْفعْلِ مُطلقًَ قَينتظِمَة بنَوُعَيهِ الْمَعیْب ب والسليم وَصَار گاجیر الواحد ومين القصّارء رل أن الذَاخل 


9ص ر واوو ہس >5 


MEG‏ نه هو الوَسيكة إلى لكر وهر المَعقود عَليه 


عَويڈً تی آؤ حص رفغ الق بقل گی لی عدر ن رکب لن ا تر 
ا يمن تيد بال ته َمتیع عن الع وَفيمًَا نحن و فيه يعمل بِالجر فَامُكَ تقد ولاف 
الَجیر NT‏ إِنْ شَاءَ الله تَعَالٰی, وانقطاع ع الْحبْلٍ من فَلَة هماه فَكانَ مِنْ صَْيعهء الإ 
وس سو سے وو نس ورس یٹ ا 
سَمَانْ الأدِبي واه ليجب بِالْكَفدِ َإلَّمَا يجب بالْجتایَةہ لهذا يَجبُ عَلَى العاِلَة وَسَمَ ضَمَانْ الْعْقَودِ ل 
َمل الْعَاقلَةً 


جس : نات ہی ںکجھ چ راج کل اورکام سے پاک ہو ہوجیے اس کے م ےکیٹ ےکا ناجنا لکا لن کراب 
پر نے والا نس رک سے بوچ ےکو باندھتاسے ا کا ٹوٹ جانا اور ملاع کے کے کے ت ا ینام چخدیی اجر مون 
جو ںگی۔امام زف اور شاق فرماتے ہی ں کہ( ان صورتڑں بھی )اس برا ن نیل ہوگا ای ل ہکان کے ماکان نے اج کو مات کم 
کے پہ مامو رکیا تھا اذا یگ کا مکی دوفو ںمموں ( عیب وار الم )کوشا مل ہوگا بای رخائص اور چوک اعاختکر نے وا ل ےکی 
رب ہوگیا۔ 
ارک وکل ہے س ےک اچازت تت ونی چ ر وغل ہوئی ے جوعقدر کےتحت داخل ہوی سے اور ویک ھا کک م ےوک ۱ 
٢ئ‏ یرجرس دعل کے صو لکا زر ہی ہ ےت یک اکر دوسرے کے گل سے متقووعلیہ حاصل ہوا تو ھی متا جم پر 
امت اھب ا ای ماک ےک اا یں ہد ۔ برخلاف اعام کر نے واس کے کوک و مر موتا ے 
اور کو سا لم کے رمق کر نا فک ن نہیں ے ١س‏ ےک تی رت ے ماع ہے اور کل میں ہمار یشو سے اس می ار 
ارت لن ٤م‏ لر باہےہ لہا اسے سس کک ہے۔ اود بر خلاف ابر ای کے یسا کہ ان شاء اللہ ہم اسے مان 
و 
مرکو وھ تو EE E E E‏ 
دی ڈو بکرم رجا با سوا رک س ےگرجائے و ملا اور سآن امن یل ہوں سے اک کی ان اورسواری کے وائے کے کل 


ر نای عکںھجچھصر یچ چڑەک رع n‏ 
سے موت موی ہوء اس ل کہ اس صورت می لآ دی یکا عضمان واجب سے حالاگہ بر ضمان عقد ےک واجب ہوتا بے جنات لے 
واچ ب وتاس اک لیے یران معاون برادری رواجب ہوتاے ج بک معاون برادری یکو رک انیل ر گی۔ 
اَللکاٹ: 

تلف 4 ضائح ہوناءلف مون _ ڈاتخریف ہہ پاڑنا - طلدق پ کوٹ ۔ ازل ق سی سنا 7 الحبل ‏ ری کا 
زا لالمکاری کہا ےک چریں۔ طسفینہ ی ینتظم) شال ہونا۔ [المعیب 4 عیب دار۔ [السلیم جن 
سوق ) انو کو کنا۔ طاقود ) جاو انیت (اتتجمل € برداشتکرنا ا ا 


پلاک ٢ے‏ ک تاف سورس اورا ن کا 0 


ای سے پیک یہ یا نکی گیا س ےک اچ ر کے پ ی جو سا مان ہوتا سے وہ ابات موتا ے اورا کی ہل اک و کٹ موی یہاں ہے 
با نکیا گیا س ےکہ ابچ ر ےل او رکا م سے جونقصان موتا ے ابر پرا یکا ان واجب موتا ہے چناج گر وہ زعو لی تھا وراس کے کے 
سے یڑا یٹ یا یادہ ما لیریس لگیایا یٹس ری ےل اورساما کو باندھاجا تا ے وہ ری ٹوٹ ای اورسا مان ضا گیا اجر لا 
تھا اوران سر ےی اوراس یں موچودسابا ن غر وکیا و ان تام صورنوں بی ابر مال نقصا نک ( ہمارے یہاں ) ضا 
ہوگا ین امام شاق ما اورامام زفر یھی کے یہاں اس پرا ن یں ہوگاء اس ل کہا رمتا ج رکا خادم سے اورمتتاججھ ک ےمم اوراس 
کی می سے اس نے مفو ض امو انام دیے ہیں اور چو ںک مستت رکا یگ ملق ہے ء اس لیے اس می کا مکی دوفو ہیں شال 
اورداشل ہو گی شی اچ کوچ ورخ اب دونو ں کا کر ےکا اختیار ہوک اور طرع کیک ھا کا مکرنے سے وو ضا نی ہوتا 
ای کک کی کے سے بھی دو ضا نیش ہوک یس ات رخا اور دجو لی کے معاون ےا اکڑل ہو جا ےق ان ضا نی ہوتا 
ا کی طرں اچ رخ رک پک ما نکی ہوک 

مار نے ا نک ا کم کے کے ی یکواجرت پررکھتا سے اوراچھا کام ہی عق داور اچازت کےتت 
وال ہوتا سے اک کہ اھا اور ع ہکم سے بی متا ج رکا مقصید حاصل ہوتاہے می وج س کاک کی در زی ےک ڑا زاب 
بوجاتاسے ای دو بی ےک یڑا پٹ جا تا ہن لوک اس سے مان لیے ہیں اپا صو رت ستل می بھی اج ر کےکام سے جونتصان ہوک 
ار برا کا ان واجب ہوگا۔ اور ابا مش افق اورامام زف رکا اسے ابی رخا اور تین تیا یک نا درس تک موک ہکوہ اچچ را 
کے ایی فردکی طرع موتا سے اورا سک یتھوڑی ہ تک بد یبھی برداش کر لی ہا س٠‏ اک ط رح بقیراجرت کے بطرت کا م 
کرتا ہے اورمیتر ‏ ک ےکا ماوع یکی اور ری کے ساتجھمقیرکرنا درس ت نیس سے اس س ےک تی دج ئ سے مال سے ج کور 
سی ایھر تکام راسپ ادس کون راو رصطاح کے ات“ 200 

قال ال أنه له يضمن بني آدم الح :ا ںکا مال بے سک ی ا 
کا تو ضا ہوگا ہلان جالی نتصا نکا ضا نیس ہوگا او راگ رکو تی ا و سے ا کا ضا نکیل لیا چا گا ءکیونکہ اس 
صورت می ں ٢و‏ یکا ضان واجب وتا ے عالائ عق دی وچ سے انش واجب ہوتاء ال ےکم رطان نو جنات ے واچپ 
. تاے اور یہاں جات ”عدوم ایا اجک معاون ای ان کان ادا کن الا ا ان جنایت ہوتا تو عا فار 


و نا بھ RA SE‏ روب ايا ¢ 


ا ےضروراواکر تے معلوم ہو اک ران اتی ر کی واج ہیں ے۔ 


گال ودا اسمَاجْر مَنْ يحمل له دنا مِنَ الفرّاتِ قوقع في عض الطَرِیق قانگسَر قن شَاءَ ضمنة مم في 
وھ 


رت 7 ےی سے 9 ت کے ب ردے 6 و و ور سج ان ۳ 7 ٤‏ 
المگان الذي حَمَلَه وَلا أجرلهء وَإِن شَاءَ ضمنه قَمَتة في المَوضع الذي انکسر واعُطاه اجره برحسابہ آما 


ک2 £ u‏ ودے َ‫ 9ےج گے ٤و‏ نقگا ےد ہے “oh‏ ہے 9 9 در ری 1 267 
الضمان فلما قلناء والسقوط بالعثار او بانة ع الحَبل كل ذلك من صییعہء واما الخيار فلانة إذا انكسر 
¥ و و و ےو i‏ ي کے یں۔' ۰.‫ 3 ڈو و ا ای “٤‏ 
في الطريي والحمل شَیء واجد بين انه وَقع تَعَِیا مِنَ اليداءِ مِن هلدا الوَجء وله وجه آخر وهو ان 
و و و کے9 و ا 2 بد ر د گور ں6 سر ںی را لے رر ے صر رت 2ے سے ھ 31 23.5۲ E e‏ 
یدة لحمل عَصَل ينه مك من ادا تعدب ونما صاز تعبا عند الک يمي إلى آي الو جهن 


9٤ وموم‎ 


شَا٤َء‏ وفى الوجه الانى لَه الجر بقدر مَا استوّفئ» وَفي اورجه الول لا جره لات ما استوفی أصلا. 
تر چه: فرباتے پک اکر ی ےک یکوا سکام کے لے اجارے پرا کہ دہ دد یا فرات ہے شہدکام یں چیا ےکن وہ 
منکا را سے میگ رکرٹو کیا تو متا ب رکوا خسار ہےاگر چا ےا ابچ رکواس متنا مکی تم کا ضا ن بنا سے ہا سے اس نے ملک ٹھایا تی 
اوراسے اجرت ترد سے اورا کر چا اذ جچہاں مع ٹا ے وہا لکی تم کا ضا کن ہناۓ اور ای تاب سے ا ہوا جت دید ےر پا ان 
ون ان بی کی وچہے ےت بیا نکر گے ہیں اور مھا ان کے ی رت ا ی کے ورت ای 
کل ےکر اہے۔اورمتاجرکوخیارال لے سے ےک اک جب ما رات ٹل ٹو ٹا اورک ل ایک ہی ہے ہدام وکاک شرو ہی سے اس 
یش مبرزیادثی موی یا کی ووسر دج یہ ےکک یکی ایتا متا جرکی اا زت سے ہوئ یی لہا ش روغ می زاوی ہیں ی باو تن 
کے وقت تع ری ہہوئی سے اہدامستا برکواختیار ہوگادوفنوں یس سے سے چا ے انقیارکر سے اوردوسری سورت می کا مگ کے کے ساب 
سےا کواجرت ۶+7 گی یوک انس متا ج نے اب کو یکا میس اض 
اللََات: 
طن گا۔ افرات) در یا کا نام سے عراقی یں۔ اکس 4وت جانا۔ ڈڑللسقو ط ان و[ العدار غور 

اخزل۔ مڑانقطاع الحبل) ری کا وتا ط(صنیع 4 کل ُء ا طاتعدی )ہہ یدل > وای۔ چ٭ایمیل 4 جاو کرنا۔ 
ف استوفی ‏ بدا براوصول پانا۔ 
ضا نکی ایک اخخیاری صورت: ۱ 

مورت متلہ یہ ےک ایک شس نے در یا سے فرات سے اسیک کک شی کا ما نے جانے گ٤‏ یے یں د و مزدور 
کرائۓ پرلیاادد یدد رک ملا وکیلو یر ے کان وہ مذکا پچ را سے می سک رکرفو کیا خواہ اج کے کاس ےکی وج س کرک رٹو ٹا یا اہ کی ری 
اور یٹ رگن ٹوٹ س ےک رکرو ٹا ہر دوصورت ات را یکا ضامن ہوگا اورمستا ج رکودو بانوں ٹیس سے ای ککا اخقیار ہوگا )١(‏ بات در سے 
فرات میں شید ورای کے شک کی جو تمت مواچ رکا کا ضا بنا اوراسے اجرت نددے یا گر ینس ہوک تک پیا سے اس چ 
ا کی جو تست ہوا یکا مان لی اوراجر نے جقنا فا صل کیا دای ساب سے ا وع زورک دید ےی اکر بای کیوئیٹ رکا فا صل 


9 الہاے ہام AERA OTR‏ امام اجارات کے ماش ج 
کر کے بحرم گرا تھا تو متا ای رکد پا دم د ےد سے اوراکر ای س ےکم زا ہد موتو اک حاب سے اجر کی ی نکر ےل 

صاحب پداہیڈ مات ہی ںکہ اج رکا ضا ہونا و اک چ کیو ای کے کل اورک سے متا جک نقصان موا الہ متا جرکو 
م نے جو رو اترات دےے ہیں ا یکی وبل یہس ےک جب ملک را سے ںو اورایک ایک بی مر اھا کے بعد و کرات ہوا ع موک 
کہا میں شرو ہی س ےکی اور برای یھی اورشر ون جی می دوٹوٹ چا تھا اس لے متا جرکو متا مل سے عنان لی ےکا اظتیار 
ہوگا۔لیان چو ںک شرو میس ھل متا ب رک اجازت سے ہوا تھا ای لیے ابتداء ٹل اچ کو تحد یکنا مانا جا ےگا باک جب دوگ گر 
وٹ جاۓ کا تب اسے تد ری ق رار و ری گے اوراس جوالے سے متا ج رکو متھا مسقو کی تمت لی کا انار ہوگا > لتد ای ووسر 
صورت یں چو کاچ نے متا جک بام کرد یا ہے ای لے اس ےکا کے قزر اسے ابت دک جا ےگ وی ورت بل 
چو کرای نے حقیقا مستا ج رکا کا کہ سکیا ےڑا ا سے اج رت کی یں ےکی ۔ 


ر وسر ت 


ال وَِذَا فَصَدَ د قاد وبرع رع ول جاور ارح اة قلا صان علب ويا ولب يِن ذلك 
رفي الجاع َير ار ےو جو سی یں رس می 


سو ۰- خر کو کک رور 
في کل وا جو ین رین تزع ان رجه ۵ , يمكنه التحرز عَنِ السراية لان يي على فو لا 


ہم ودے وھ 


وضُفها في تحمل الم کک بل َي لصح ور الْعَمَيِء وَل گذلك دق الوب وَتَحوَه مما قد 
مان وة الوب وره تغرَف بِالاجيھَاد فامْكن اهَل ايبد . 
تن : نات ہیک اکر جا ےیک مکاٹایا جاندروں ےڈ اکر نے جانور کے رگ تش ای اورمقا مستا د ے تادز 
نی نکیا الہ ا کا م سے جاور ہلاک ہوجاۓے وج اح اور ڈ اک ڑ رمتا یش ہوگا۔ جا غر ہ ےک کر جانوروں کے ڈاکٹر نے 
ایک دان کے وف ی جانو رکوسشت کی ادرو جانو رم رگیا اکا تام ےکک لام کےا كت 4 سے اس کے فلا ماو چیہ لگایا اور غلام : 
ہے یور تر تحت 
مک ہیں سے کیوتگہ دہ اف برداش یکر نے میں مرییضو ںکی طبیجتو ں کی قورت اورا سک یکم زوری ق ہے اذا کا مکو ی تن 
عړی کو وس مک نیس موک فکیٹز ےکو پاتا اوردوسرےکام اس طرع کے یں ہیں٣‏ اس لی ہک پیر کت 7 
زور اجتچاو سے معلو مکی پاق ےاپ زا ے متیر کر کین سے ۔ 
اللغاث: 
فظ(فصد 4 فصر ناء مکاٹا - الفصادگہ چان سرشئن۔ انز غ) جاو رکا زک مککاغا لالز اغ( چاو رک ا 

طالموضع المعتاد “مروف ادر عام عالات کے مطاب ج وإعطب ) پلاک ہونا بیطار 4 ڈگ ڈ اکر مدان ق ہچ ور مکا 
ایک جھوناحصب حجم کی لانا۔ لالم در ہنکلیف۔ 
کون اگل تخ ری ہے اورکون اس ؟ 

صو رت لہ یی س کار 7 اع نے رگ میں نشت مارا اور ا یکا م کے ےی چک درکار موق ے اکن بی چگ میس ج اح اور 


4 


ر ARI SD SO ®2 i‏ امام جا رت کے ماش چ 
مق ا نے اپا کا مار دی ورای سے ڈیا ہ کیش فی راس نٹ مکی دج ےکی انسان یا جاپورکی موت موی ت مالل اورا تر برا نین 
ہوگا کی م لہ جا یح صنی می بھی بیا نکیا گیا ے اورفید ورک اور ہا مع صن رکی عبارت ں کا مطلب ایک بی ے شی ڈاک او لیب برضان 
نیس ہوگاء اس س ےکا یط رح کے ت مکوسرای تک سے سے روکنا ن نیس سے کیرک جو وی مضبوط ہوا اور ای کے اعصا ب قوی 
ہہوتے ںا لکا ز زر ابی تی ںکرت اور وہ دردکی کا لف E‏ ذ ود وت ل اوراعصاب میں 
ای جا نی ہوٹی وہ درد یف برداش تکرح اپا ا ی طرں کے اعمال وافعال یں طبیب اور ا کے ل ک وکت کے اتر 
۱ مقیدرکرن درس ت کیل ہہوگاء ورز سراب کر ےکی وج سے کرو اورم لیخ شک مورت ہونے بر ڈاکٹ ران یکا فا 
رو برغلا ف یڑ ےک دعلا معامطہ سے و وہ دیو لی کت ارہ ہے اوردلو لی زور سے نہ کہ تآ ہت پ کر 
کک ےکا ی ضر صا فکرسکتا ے ای ےم نے اس ک ےکا مکودکی اورالمبیت ہے مق کیا ےت 


وار الام اي بسو اجره سيم تق في الد إن ليل لحن سجر 
ای ام َإِنَما سی آجیر وح نه لا یمُکنة نس لقره لن َو في امو صَارّتْ 
مستحقة له وَالجْر مقابل سني ھا ھی اجر مخفا ورن قق الع . ال وَل سَمَانَ عَلَی 
الأجير الْحَاص فِيْمَا تَلَفَ في يده ولا ما تلف مِنْ عَمله ن الول فَاانَ لين امَائَة فى يده له فض 


شَهَرَا لِلْخْدمَة 


ےھ صإ رر r‏ 2ق ہے ر5 ور وھ و ڈوڈئہےر. وا و ور ”رھ ۔ یا 
پافہء وها ظاھر ند ركذا عندَهمَاء لان تضهين الأجير ا و وع ae‏ 
سر کے ا 9 


َمَالِ الاس اجر الد کا يل اعمال یون السَلامَة عا مرحد فيه بالقياس» ء وما الثاني فَلانَ 


اف ی ار ث مملرگة لاجر قود مره باَصَرّفِ فی بلک صح ىر َي مب صا عل 


2 


سر ا کے - r9‏ 


منقولا إِلَيه كَانَه نه فَل بتفسه قلهدًا لا يضمنهء وَاللَه اعلم. 
تنجد: ارخا وہ عزددر ہے جو برست اچارہ ٹیش خو رک ویر رکرو سے سے سفن اج ت ہوجا جاے اکر چ ہو ہکم کر ے کے دہ 
تن تایآ ایند ر کرک جاک کے لے ات ما او ات جا انی لی ےکہاجاتا ے؛کیوکلہ اس کے 
لیے دوسر ےکا کا کتک ن یں ہےہ ال لی ےک ست اجار س ا ار کے ماح اک متا جر کے لیے غا ی مو کے ہیں اورا جرت 
متاح یکا برل مون ے۔ ای لے ارت خابت رہتی ہے اکر چک لن مکردیاجائۓے۔ 

فرماتے ہی ںک اچنا ی کے عض بی جو جز ہلاگ ہہوجاۓ اورا ی ےکا م سے جو چیڑ بلاک وجا سے ا کا ار برا نکس 
ر گی چک ون نہ ہونا تو دہ ال وچ سے س ہک میلع ال کے پا ی امامت موق ے۔ ای س ےک اچ رمتا کی اجازت سے 
اس نز بے ضکراے۔ یکم امام کم ولٹیڈ کے یہاں خظاہر ہے اورجعخرات صا ین کے یہاں بھی مب م ہےہ ای سل ےک ان 
حضرات کے یہاں اج رخا کی سے عمان لبا ایک رب کا اصان ہے کلوگوں کے اموا تفوت روک اورا یراگ دور ےکام 
تول کی ںکرتا ء امو ]اس کے پا ی سا ما نفو ر جا ےاس لیے اس کے تلق قیاس بن لکیا جا تا ے۔ 

اور وہ دو ری پچ اس کے اس مو یں موی کہ جب منائع مستا ر کے لوک ہو کے و ا یک ا ی لیت میں تقر ف م 


9 آناہل لر AERA EHR‏ ہام اجارات کے مان یج 


واک ہے اورا رمتا جج کے قاعم متنا م وکا ا سکنل مت کی طرف قل ہوک اوراییا ہو جا ےگا ایا خودستا بر ے ییک مانام دی 
ےای لیے اھر کا ضا نیس ہوگا(یا متا جراچ رلوضا نیل بنا ک ےگا د 


اللغاث: 


لإاتسلیم ) پر رک ناء ا ےکرنا۔ ااستو جر کے پر لینا۔ ار عي الغنم کر یاں چان فإمنافع )اکر 
حاصلات- إنقض کاوژ ن کرم ۔ صيانة فو کن مین - ابچ 


اراک اوراں کے اام 
اک عبارت میں اچ رخا کتک ریف اوراس پر وجوب ا نکیل میا ن یکی ے۔ اچ رخ کت ریف ہے ےکہ م ردد لام 
ا ردوب ایک ناک مھت کک اپآ پک کیتویلی ل دیدے اودما کک ال سے ہرطرح کا کم لے کن اچ صر فلم 
ٹس سے بی اجر کا ن ہوجا تا ہے خوا ہکا مکرے یاک ےا ی ل کک م لینا تو ما لن کک کام ہے اب ار ا کک کا یس لیت ے 
ایا ںک گی ے ار نے نو در کرک ےا کا لکردیاہے۔ ا طرح کےاک رفا ےکی وجہ یہ کی رت 
اچارہ کت E‏ دو ےکا کام ہیں بک بک اس پری مت میس ال کے ماح صرف اورصرف ای متا بج کے 
ہوں گے اوراججرت چو لک نای یکا پرل ے لیا کا م کے !تیر کی ہاج سی اجرت ہوگا۔ 
ولا ضمان علیہ الخ: فراتے ہی کہاگ ات رخاصص کے پا س کول نز بلاک ہو جاے ملا ا کی رک موی نز چوری 

ہوجاۓ پاکوئی ا ے تحص بکر نےتذ بھی دو ضا کک ہوگااوراگرال کیل او رکا م ےکوی جن بلاک ہو جائے جیسے دبک کے وت 
کھانا جمادے با وگو سے وف تک ڑا اڈ د ےو ان نزو ںکا کی اس پر ضا ن نیش ہوگاء اس کے قبضہ سے پلاک ہونے والی چک نان 
اس لی یں ہوگا کیونکہ اچ ر کے پاس مستا رکا مال اماشت ہوتا ہے اور بال امام کی پلاک شمو نیس ہہوئی اورامام م ویز ے۔ 

یہاں جب اچ رشت زک عا ن یں سے نو اچ خماضص ب درج اوٹی تما ننجیل ہوگااو رحطرات صا کین کے بیہا کی اج رخا ی بے 
ما نکیل ہوگا ءکبوکہ عرف اورصرف ایک بی مستا ہج رکا کا م رتا ے اورا مستي اجارہ یش دوسرے ےکا ماو اتی کا ا ءا 
21 کےکاموں اتی اود گی ات بن ےکی وج سے اسے تان سے برک کی میا یاےءفیؤ خحذ فیھ بالقیاس ے برئ عن 
الضمان ہنا مراد ہےء اک کے برخلاف ای رش رک بیک ون ت کی وکو ںکا کا مکراہے اوراس ک ےکا موں میک بک یکا امکان زیادہ 
متا ہےاہہا م( صا کین تا )نے اسے ضا قر اردیاے۔ 
وأما الغانی الخ :ا یکا ال یہ ےک ہاگراب خماضص کے کل او رکا م کے اش سے مستت یکو چ پل اک ہو جا ےو وہ اک 

ضا نئیں ہوگا کیوکہ اس کے جھلہ ماع مستا جر ےلوک ہو تے ہیں اورمستا چ کے لے اس ای رگویھی ان ایت میں تصر فک گم 
دینا خوداس کے نر فک ےکی طرع ہے اود اچ رخا تصرف اورک ل میس مستا چ کا ناب سے اورظاہر ےک گر متا جر کیل سے . 
ا سک یکوئی چر بلاک ہو جات متا ج پرا کا ا نکی موتا اپا ای کے اچ رخاس مکی ضا ن نیس ہوگا کیرک اجیر برضمان اجب 
کرنے سے متا ج پہ واج بکرنا لازم آ سے گا عالاکگ ست ج پر ان کاوجو ب مگ ن نہیں سے ال لیے ذکودہ اجر ہی نان 
نی واج کیا چاسکتا۔ وا اعم وھا اتم 


رٹ مل برم پمیر e e AERA‏ ) 


باب الِجَارَو کل اح الشرَطيِي 


ای 


٠۰ 


ال سے کے رط واعد پر اچار ےکا باك تھااوراب یہاں NS‏ ایک اجار ےکا ان 
بہت پیل سے ہا کے ہی ںکہ الواحد یقدم الإٹنین۔ (تاے:۳۸۹/۹) 


0 


بش وو 


7 و 
Geant 4”‏ ا 2 او ےھ جا گا > 7 ۲ گے ر سے ہس ہے۔ 2 
َإِذَا قال للخياط إِن خطٽ ھذا الوب فَارییا فَبدِرَهَم ون خطتۀ روميا قبڍرهَمَينِ جَازٌء رَاي عَمَل من 
77 کے ھھ 7 ا پت ا کک ون سکس رگ N‏ 7 و م وور ے۔ دے ا ےر 
ھدینِ العملینِ عمل استحق الاجربه» وکذا إذا قال للصباغ إن صبغتة بعصفر فبدرهي وإن صبغته 
ردصر ہے درو سے ہے ہے ےی ر در وص IR f‏ 0ں. رج ۔ ‏ دی عدے۔ے 38ں ںیہ 
بزَعَفرَانَ فِدِرمَمَینء وکذا إِذا حیرَۂ بين شیئینِ بان قال اجرتك هذه الذارَ شهرا بخمسَةٍء اوهذو الڈار 


اکس ای بت وو کا ا5اہ TS‏ ملق یا الات ول مو تک ا OT‏ 
خرى بِعشرق وکذا إذا خيرة بين مَسافتینِ مختلفتينِ بان قال اجَرتك هذه الذابة إلى الكوفة بكذا او 


إلى راط پگڈاء وگذا إا حير بين لاة ياء ون خير بين ربعو لم جز وُر في مي ذلك 
اع وَالْجامع فع الْحَاجَة عير آنه لا بد مِنْ شراط الْخيار في الع رفي الإجَارَة لا يشرط ذلك لن 
َل هل على وجو يري عر بير. 

تنجمد: اگ ری نے در زی سے کہ اکہ اکم نے قاری ڈیڈ اکن اورسلائی یس ےکی اسیا یں ایک ورتم سلا کی ےکی اور اکر روی 
انراز ل سیو کے ووو رتم سلا سے ےکی تو اس طر کا اجار جا مز سےاوردرزیی ان دونو لکا موں میں سے جوک یکا مکمرے ا سے ای 
تاب ے ا رت سک اہی تی اگ ری نے کی ےکھاا کت نے ھک ام کے رنک سے را یں ایک در ہم ےک اوراکر 
زفران سے رڑگا دودرم پا گے۔ ا سے ہی اگ رموجر نے مستا واتار د ےۓے ہو ےکہا شس نے کر ابات پا وم مل دیا اور ہے 
و اپاندد درم یں دیا۔ بیجم ا صورت میں سے جب موچ رمت برکودومسمافنوں یل اخحتیاردیے مو کے لوں کے میس نے 
کوف ہیک جانے کے لے کہہیں بیسوارکی اےۓ درم یل وک اورمتظام واس کی SEARS ELE‏ 
متا جک وین مین جر ون ان ارڈ کن امار چ وں یں انخقیارد ےگا تو ہا ہیں سے اوران خمام صورت ںکوئع ر تی سکیا 


و بلح بره ERA SOIR‏ اام جارات کے بان م 
گیا ے اورقا کی عل امود عاجت ہے٣‏ ہم کے یس خیارس نکی شرط کان رور ہے ج بک اہارہ مس یہ چزش ریس کے 
کی کال ہونے کے بعداجرت داجب ہو چورکاک ہونے کے برقو دع معلوم ہوا تا ہے۔ اور س شس عق ی 
ےن اجب ہوتاے لپفرا خیارکی شرط نہ لگانے سے چہالت ال طور ات ہو ا ۓگ کیا ےار رم یں ہوگا_ 


اللغاث: . 

لإخیاط) درزی۔ إصبا غ( کب إعصفر ےم إمسافة) مقار سز اجو کہا ۓ کا معا ہکرنا۔ 
[المنازعة) لرا 7 
وو شقوں میں وار اچارہ: 

۱ صو رت متلہ یہ ےک ہاگ رموجرستا رکو یا مستا جراچ رکودو یا نیکم یل سے ای کک اغخقیاردے اور ہرہرچ زی الگ الک اجرت 
کرو ےلو اسر کا اجار وی درست اور چا ر ےک باک کے سان دویا نکپٹڑرے رکید ے اور ہے کی کا ہے 
لو ےلو ا درب مکا ے پل کل دی ددم دی ہیں ع02( پل کے ۵ار وراتم رۓ ہوں ےلو ظاہر کہا ی طرں 
وشراء جائز ےلپ زا ای ط رح کے انخقیار سے اجار مکی جائز ہوگا اورا جار ےکا ہے جواز درتقیققت تن ہی بر قیاسں ہے اور وجہقیاس وٹ 
عاجت سے یرتک و ساما نکی جن میں ہوئی ہیں (۱) ای (۳) اوسط (۳) اون ای لیے ہم نے بھی کے اوراچارےکو انی تین 
تمو ں کک محدودرکھا ہے تاک امیر موسط اورفظر یب ہرطق اپنے اپنے ساب سے نر یرک یاکراے کر ایتا تام چلا لے اور چو کے 
ان ٹین موں اورصورتڑں کے علادہ شی لوو ںکی ضرورت معد وم سے اس سے مین کے علادہ بیس نت ہم نے کے میں خیار ا راردا 
ہے اوردتی اچارے میں »کوت ضرورت کے تاق ریضا بط بہت شپورے ” الضرورة تقدر بقدرھا“ 

غير أنه الخ: فر سے می کک اوراجارے می تھوڑاسا فرق ہے اورا ی فر قکوذ ہک شا کنا ضردری ہے وم فرق ہے ےک 
یم دوب تمن وم افیا رای وقت درست ہوک جب بال شتی کے لے خا یک شر نکادے یوک راس عقد 
ہی سے واجب متا سے اب ٹاہ ر س کار مشت ری ایق بکردہ ےکر ین N UB‏ 
موا لک لگ تو ہا ج اورت ری می ز پروست جع ا ہو کیرک شت ری اوسط در ہ ےکی تست د ےکر ای در ہج ےکی چ ر چا ےگا اور 
ال اسے ادن درک یز دس ےگا ای لیے یہاں یرد س کہ با خت ر یکو خیرم کا کن دید ےک بعد میس ر ےکی 

ا لومت می نآ سے ۔ ال کے برظاف اجار ال رکا خیارد ینا شر ط یل ہے یوگ اا سے می کا ممل ہہونے کے بحا جرت 
واجپ ہوٹی ے اورال وقت ۓ ایا ضر عیاں وییاں ہوجانا نے اورسا ٤ی‏ ش بک طرح ڑکا بھی نات 
اورصفایا مو چاىاے ۔ 


و قال إِنْ طت ارم يرکو ون نحطت عدا صف دِرْمَمء > قان خاطه اليم قله رهم وَإِنْ حاط عد ۱ 
جر له عند بی یل لاوز بیت درو e‏ 
ہے ہ یو ود ۔ 4 


۱ ْ 
رهم رلا يراد على دري +قال ابو سف ماه وَمْعَكَد علیہ الشَرْظان جَايزان, وال زکر واا 


>- 


7 نال بطر(٣٢)‏ 2نطر  A‏ 4[ اام اجارات کے بان س 1 
ارعان قاسڌانء ن الجاع سء واج وَقد کر بِمقَبَلیہ بدن عَلی ادل یون محرد رها 
حمل اوم لی ايتن نه قَسَاد اماع الوَفقتِ وَالْعَمَلٍء ودا گان ذلك يمع في الد 
تسْميتان دون اليم فيح الول وَيَجب الْمُسمى وََفْمُدُ اني وَیَجبُ أَجْر اَمِل يجاور به صف 
درم نه هُوالمُسمى في الوم الي وفي الْجام الصَغير لا يراد على وركم ولا يفص يِن صي 
دزو رن اميه الأولى لا نيم في ايوم الاي فيغر لمع الاڈ ونر اميه اَي لمع 
صان َون حاڪه في اليم للت لياو یہ زف وره عند بي عَبْقَة و الجن ل إد 
لم .رص بالتاخير إِلی المد قبالريادة عَليه إلى ما بعد اعد او . 
تنجد: اگرمتاجر نے درزی س ےک اک اگرم ا کی س ےکآ جع سد کے ایک درب سلا کی ہوگی او رارک سید ےلو نصف ورم 
ملا گی ۔ اب اکر دہ رج سیت ےا اسے ایک ددم سے ےگا اوراگ کل سید ےا امام تفم ول ھی کے بیہاں اسے اج رتش یکی 

۱ جو لصف درم سے زائ ہیں ہوگی۔ اع غر س ےک ارت نی صف ورتم ےکم یں موک اورایک 2 ا ری 
جا ےکی ۔حعرات صاخ فر ہے ہی ںکردوفوں شرٹیس جات ہیں امام زفر وای ہے ہی ںک دونو ں شرٹیس فاسد ہیں اس ل کک 
لای کا کام ایک ہی ہے اورا کے مق بے ٹیس برشل برل دو بدل بیان کے گے ہیں ای لے تی برل پول ہوگا۔ نگم اک وجہ 
سے ےکم پیم کر ہیل کے لیے سے اور کا درآ ساف پیر ا نے کے لیے سے اور ہردن د وی جح ہوں گے۔ 

نرات صا ن کی دمل ہے س کہ یو مکا کرت تیت ]شک بیان دت کے لیے ے اورف رکا ذک نیقی کے لیے سےا ا ہردن دہ 
کاک ہوں گے ۔اوداس ل ےک تیل وتا تیردوفوں چز ہیں تسود ہیں لپ زا ا ے دوو کے اخطاف کے در ے مس ارلا جا ےک ۔ 

ححضرت امام الوعلیفہ و کی دی یہ ےک نرکا کرت داقع کا کے لیے ہے اور یہ مکوجاقیت کو لکر الکن یں نے ان 
ےک ایا اکرنے سے وقت اور لکا اتا ہوگا اورعق فا سد ہوجا ےگا اورا ی صصورت میں فر یں ووی مجح ہوں کے ش کہ یش 
لپ الیوع‌کا ذک رج ہوگا ور الیو مکی اجرت ھی واجب ہوگی۔ اور رکا وکر فاد ہوگا اورف یس اجکی داجب موی جوف ورتم 
سے اکرش ہوگیء ای ےک فر م صف ورتم ی اجر ت ا ان ر ےک اجر ت گی ایک د رتم ے زات او رف 
درم ےک میں موی کیرک لوم اف مس پہلا تہ معدو میس ہوگا لپ از یادف رو کے کے لیے ا کا اتتپار ہوگا او کی رو گے کے لیے 
دوس را مج رہوگا۔ اوراگر درک نے وکیا تمبسرے ون سی تو امام م ویز کے یال نصف درکم ے زیادہ ایک ارعش 
مول یں ہے کوک صف ورم کے توا سے تاج جب فرت کک تا قر پرداشیہیں ےو ند کے بعر نف د رتم کے اضانے 
دہ بد رج اول را ایوس وکا 


O 0231 7‏ پچویھرےر جج اکا م اجارات کے یا ئل ۲ 
اللکات: 
لالخیاطة) لال طڑالععجیل پ جلی۔ اعد کل دہ ایق کرو کرا۔ و شسمیةپہ 
مقر رن ئرل مننزل ہچ تام مقا م من جات التاقیت ہ وقت مقر کرنا۔ تنعدم م ہونا_ 
روہتٹزؤں میں وار اچارہ: 
صورت مطلہیہ ہےکہایک ٹل نے درز کو ای دی ادرا س ےکھاکہاکرتم ک0 ی ر 
ی۶ کل وو ار ای شق ر م ہوگی تو اس طرح کے انار سے اجار چ اب اہ دہج شی یوم 
ذرکادہ کی ای د اہ ےو اسے ایک درکیم سلائی کی اوراکر قر نکل ںی کرد تتا ےڈا ے اجکی ےکن جرت 
نصف درام سے زا دیس ہوگیء محرت امام ام ول کے می یہاں ے۔امام عم کی سے چا ری مردی ےک اج یی 
ف ددم ےک اور ایک درم سے زی ہوک کن کی ردایت زیادوع ےاج تی ف در اشن کان 
جات صا ن 7 یہ کا صلک ہے س ےک صوررت متلہٹں اجارہ مطل اج ہے اور دوفو غ یں جات ہیں سن اکر ور زی لوم 
میں یز ایتا چاو سے ایک درم ےگا او گر ٹیل ہیا ےتا سے صف درم کنتانہ سے ےکا _ 
امام زفر نیت لوڈ ا0 ا به قال أحمد والشافعیٌ_ (جي:۳۹۷۹) 
امام زفر وی کی دمل ہے س کہ یہاں متا ج نے ورزی سے ملق ریک معام ہکیا ے اور ی ےکا م ایک ھی ےصرف وفق تکا 
۱ فی ہےاوراس ای کک م کے متقا سی د دلو ذکر کے گے ہیں (ا) درہم (۴) نصف درہم اور چو ںکرددفوں مج سے کی ای کر ین 
تا کیا ے اس ےکوی اورا جرت میں جہاللت س اور پکومعلوم ہ کار تکی جہالت احجارہ کے لیے مل اورمفید ہے۔' ال 
کیم ینیل بی ےک امام زفر لیم کے وک راشبل کو لکرتے ہیں اورند کے ذک رکوتر فی ھت تی سبولت اورا انی رو ل کر ے 
ون شیب ان ارت ںار ون ےکا کہ إن خطعہ غذا فلك نصف ددہماورالیو مک کرہ ہکرت پُھردرزی اے 
الوم یں صی دعاو بھی ا ے نصف درم بی سلاگی تی و * کالم درم اور ضف درم دوفوں کے یں اک طرں فر شی 
. دوفو ں کا اجشماغ ہوگا اورا جرت صن نہ ہہ ےکی وجرسے عقد فاسد ہو جات ۓےگا_ 
ولھما الخ: جخرات صا ین کی دمل یہ ہے کہ یمک رتیل کے نی ہے پک حاقتۃ کے لے ےن مک مت 
یال نے CE‏ اا ا ما ےار ت ا صا پر ےکر 
مآ ا لکا مکوکرد کے او ایک ددم اججرت ےکی اودراگ رآ رع تک کے آ رع کا معا نتم سے او لام اغجام دی ےکیصورت میس 
ہیں نصف درت محفتانہ سے ےکوی اک الیوم ٹس اجار موق ہوک اورف یں نی رک طرف مضاف ہوگاءلپذا اس وضاحت کے بعد ہوم 
افش دود پش بک اجتا یں ہوگااوردولوں شی کچ ہو ںگئی۔ ۱ 
ان حرا تک دوسرکی وکل ہے ےک ال متتودعلیگل ے اورممقودعلیہمی ٹیل اور خیردونوں زس نقصور ہوئی ہیں میں لا 
سط رع فاری اور ر وی دونوں سلا ی قصودہوٹی ہے اوران بل فر ق کہ کےاجرت می فر کر نا درست ہے ای رع بیہا کی لوم 
فان ما ی ار اور کے رق کے رت س زنک کی ے۔ 


ہر ا De‏ پل رڈ RRA‏ ا تام اجارات کے ان س ۹ 

حشرت اام مکی وکل ہے س ےکہ ما کک نے یہاں لوم اور دوفو ںکویک ہی عقر کے تت بیا نکیا ے اور ہے بات شر 
ےک فرقیقت مک کے لیے ہے مالک اجار وح قکوقو ل کی ںکرجاءاس لے فیس دوہ جع ہوں کے اورنر والا اجار ہ فاسر 
موا اور لیم یل اجارہ درست ہوگا وو کی اس طر کے رتیل مو لک یس کے ہک تا فیت ب ہکیوکہاے تا قیت کو ل کر ےکی 
صورت میں ونت اورک ووو ںکا اا لاز مآ ےک باطو رک کی کے اتتپار سے در زک اج رشت رک ہوک اور وش کے اپار سے 
ارخا کی ہوگا اور ایک اتتپار ے و کے وہ فی ایر ت نہیں ہوگا اوردوسرے انقار سے لیٹس بی سے وو ن اجرت 
وجا ےگا عالاکگ عق واعد ٹیل الن نزو ںکا اجار حع راوردشوار ےہا ای وشو ارک سے تی کے ےم نے یہاں بوم وتیل ر 
مو لکیاس اورالیوم شس عت رکو درست رار د ےکر وم می کا مکر نے پر اسے ایک در مکا O‏ قرا ر وی ے اور تہ کر ےکی 
صورت میں اسے اججر ت فی کان دار تایا سے ہکیونکہ ند ٹل عق فا مد ے_ 

وفي الجامع الصغیر الخ: ات تر ا ا رک ر ئن 
و نے پائے اورتصف ددام سکم تمو نے سے ال لک وکل ہہ ےکہالیوم یش ایک درہم اجرت قر رکآ ہے اور کل پیا جت 
موجود ہے ء ان لیے ایک ددم 0:7 را و  - ٤‏ 7 جو ںک غر میں 
ضف در کی ہے اس لیے بی ضف درم ےک یں ہونے د گی ۔ ای لے صاح بکتاب نے امام ام ولیہ کے جوا لے سے 
سئگ بیا نکر دیاس ےک اگ درز ی تیر ےون و کپٹر اس یکرد ےل بھی ا سے ضف درم اک ےکی یوگ جب 
ا کک خد بی ا سے نصف دی برای ےلو بعد الف بھی نصف تی ب رای ہوگا اورا کی سے زار راتک کد ہہوگا۔ 


4 9 


ص > دے 1 ]272 م 9 ٤‏ دے 2ص ے۔  >‏ 9 سے 7ر 
ولو قَال إِنْ أسكنت ھذا الذكانَ عار قَبدِرْعَم في الشھُرِ وَإِنْ اسگنتة حَدادا قَِِرَمَمَينِ جَازَء واي 


2 


کے ٤‏ د ۔ دیۓں الارہ ت 9 
الڈمرین قعل اسْتَحَق الْمسمى فيه عند أب حَييفة ايء > وقالا الإجَارَة اة ودا إا استاجر بيت 
7 2 رر ڈ5 > ر ت ک سے . م 2 7 
ان تر نر رر رت سو 


رر 0 س ص5 
يجوز می اسُتَجَرَ ابه إلى الْحيرَة برهم وَإِنْ جاربا إلی القادسية در همين فهر جائ ریحتمل 
اہ وإ جرا إلی لر علی آ۵ إن حمل لن کر طف ورک رن عَمَل عَلبھا کر 
ابل II, IIS,‏ کر 


مو سو و سو رن عاي مجه 


رور روو 


وكا الجر أَحَد یتین وھ تجھول؛ وَالْجَھَالَه ت تجبُ الْقَسَادَ بخلاف الَْاطة الرومكة وَالْفَارِيِيّة 


27 اجر جب بِالْعتَلِ رعنده ترتفع الْجَهالة تا في هذه الْمَسَالِ يجب الأجر بالتخلية وَشَلْم 
یی الْجَھَالَدِ 0y‏ الحرف هو الأصل عندَهُمَاء رلب خَِیْقَة عاي ا ره ین لین صن 


۴ 


ودے سو ے و درو ۔ھ5 2 


مُحْیلِفيٍْ يصح مَكُمَافی المسالة 8 الرومية وَالفَارسية وَھٰذا لن سكناه بتفوه يحالف إسگانه الَْدَادَ, ا 


9 ال جلرزگ) AERA SOIR‏ اکا م اجادات کے مان بی پر 


ES‏ وعنده ترتفع الْجَهَالَة 
99ے 2و 


َو حم إلى الإيجاب بجر التسليم يجب اقل الد جرين للعیفن به. 
تنجد ذ اک م کک نے مستا جر س ےکہاک کم اس دکان یں کی عطا رکو لاکر بٹھاؤ تو ایک ورتم مابات کرای ہوگا اور اکر کی لو پا رکو 
دو کے ما پان دود رک کرای موک تعظد چات ہے اورضتاج کی کا مر ےگا امام انم وی کے یہاں ا کا مکی ارت E‏ 
> وگ حع رات صا ین فر ہے ہہ ںکہاجارہ فاد ہوگا۔ ای ط را 7007 ط ےک رک راۓ ل کہاگ رمتتا جرخوداس یں 
ےک نو ایک ددم ای ہوک اوراگ راس ںی لوپ رکو ےگا تو روو رتم کرای ہوگا 2 0۰ 
صامین ییار ےپ ںک ہاش ے۔ 
اى نے متام جرک جانے OER EEE‏ 
کرای وکا عق کی ہا تد وکا کین اس میں اختا کک ینہ ے۔ ۱ 
و نے تیر کک جانے کے لے اس شرط کرات ےکی سواری ‏ یکاک ایک می جو لاد ےگا تو ضف درگ م کرای ہوگا 
اوراگ رای عگندم لاد گا ایک در )کرای موک تو اما مم وای کے یہاں ےہا کد ہے »حط رات صا کین قرا کے ہی ںکہ جائ یں 
ہے ازع کرات کے کول کی 2 ہے ےک قو وما پول سے نین ا جرت کی دوچ ر وں شی سے اک ی ے اوروہ پول ت 
اور جچہالت موجپ فاد ہے برخلاف روئ اور فا ری سلا کے کیرک ا جرت و کام کے بعد لازم موک اوراس وت چھالم تشخ وہای 
ہے اوران سال مل یہک نے اورپ دکرنے سے اجرت داجب وان چ اور جہالت با اتی ہے حرا ت صا کین با کا کی 
بنیاوی اواس ہے۔ 
حشرت امام ابو یف چٹ کی ول ہے ےک موچ نے مس جکود ولف اورک عق کے ماڈن اختیا دی ےاپڑا اا ار ہوا 
کے رو اور فاری دا کے نے یش چاو ے۔ رکم اس وچ سے س ےک متا کا بز ات خودا ںگھ میں ر ہنا لپا رکو ر کے ے للف 
ے کیا کت نی ںک مل عق کے حت د وسر کو رکا 0٦‏ سی بر ےت اواو 
حا لکرنے کے عقوتا ادقع امک سے وت اتی ہوجئی ہے اوران لیم سے ایجاب اتکی ضر درت 
موتو دولوں اجرتوں میس ے جم مول وی واجب ہوگی- 
اللغات: 
اسک نم - حعطد دا فرش زر وداد در والحیرة ایک ماما چ شمر 4 
ج ف تخلیة ) نال یکن موا مکنا التیقن تق مون _ 
کا مک کیت ک اظ سے اجار دکرنا: ْ 
صورت ستل ہے س ےک ییا نے بک راگ راجارے لیا اد ریک نے اس سے ی کرد یک ہاگ رت کی عطا رکو ای میں رکو کےا مبانہ 
ایک درت مکراپی ہوگا وراک کی لدہا رکو ر سے کے سے دو گےت کرای وو ورتم لو ںگا تو حضرت امام م وی کے یہاں ہے کقر درست 


7 آنْا بل لر ) EOFS FDPIR‏ اکم اجارات کے نان س ۹ 
اور چا کہ ہے اورمتا ج تھے ر ےگا اک کے ساب سے اس پہکرابکھی ہوگا کین حرا ت صا ین کے مہا عق فاسد سے یحم 
اور بی اختلاف مستا ج کے خودر پنے او یلوا رکو کے کے پار سے میں ہے۔ اس کے برخلاف اگ یس نے متام تو روکک جانے 
کے ایک درم سکوی سواارکی ادھاد ی اور اک شرط بے یکاک رہ ےآ کے متام قادم یک چلاگیا کراب دوددہھم ہوگا و چوں 
کہا ئ من ریس ےکم ان یا کیا گیا س ای لیے ای مس اختلاف یں ہلان ال کے مال جس اختلا یکو رھت ہوئے 
علا تر الاسلام دوک نے بیہا بھی اختلاف پیر اک دیا ے۔ 

ا نے امش رط کرام ۓکی سوا ری یکہ ار متا ب اس بھی کک جلا د ےگا تو نف ورت مکرایے ہوگا اوراکر ایی کی 
گیہوں لاد ےگا نے ایک درت مکراىہ ہوگا فو امام آم وای کے یہا کی ہے اجارہ جائز سے اورح رات صاجین میا کے ہاں جا 
یں ہے حعفرات صا ٹن کی وکل ہے س ھک سورت ست میں نے متوو علیہ کین سے اورنہ دی اجر ت ین سےاں دونوں 
س چہالت ہے اور جب ایک کی جہا ارت مضہ ر عتقد ےا دوکی چات بررجراوٹی مقر عقد ہوگی ادر ےک گرا کو وکو ور سس 

را ر وی ہا کا کا ج تت وکل کے بعر واجب ہوٹی ہے اورک لکرنے ہے مقودعلیہاوراجرت دونوں معلوم اور ن ہوجاتے ہیں٠‏ 

پاروئ اورفاری لای وا لے ما لکی طرںح ان مسائل می ںبھی عق کجات ر ارد ینا پا سے ٭ ای ل ےک لای وا نے متلوں میس تو 
کام کے بعداجرت واجب ہولی ہے اور عق امل ہونے سے پیل چھالمت نم ہو اتی ہے مان ان مال می تہ اوتملی ئن مستا ر 
اورمنقو علي لاق .کر نے اورمستا ج کے جو ال ےکر نے ےکی اججرت داجب موک ہے اور اہر ےک اوت لیم وق اکر مق علیہ 
ھول ہہوگا او بھی عق فاسعد ہو جا ےک اس لیے بیہاں عت رکوک بی راک ربھی وا راہٗگیں ہے۔ 

ولاہی حنیفة الخ: فرماے ہی ںکرحرت امام انم ول کی و بی ےکہ ما لص اورم وب نے مستا رکون وولوں عقروں 
کے ما یکن افا ر دیا ے وہ دولوں عق ورت ٹیل اوریک دوسرے سے الیگ ہیں کی وک مستا رکا خو دا کبک ر ہنا لو ہارکو رک ے 
لف ے اور روگ ف کور میں اس ط رع کا اقتا ر د یا 3 سے اورا طرں اتا ردیر عق کنا بھی درست اور چا ہے۔ ربا سوال 
کرای اکر نے سے ممقودعلیراوراجرت دولوں س چہالت رہق سے اور جہاات کے ہوتے ہو سے عق رکیے درست موتا ے؟ و ا کا 
واب ہے س کہ اجار ہ کے انعتا وکا مقصید ہی انفاع ہے اوراشفا کےآنغاز بی سے اجار ہی شرو ہوتا سے اور اہر س ےک جب 
اظفاغ ہوگا تو خود کو حقو وعلی اورا جر رت دونوں معلوم ہوم یں ےا کی کی طرں کی ججالت بای ہیں ےگی۔ او راہ ہے مان لیا ۱ 
ہا ےک بھی متقودعلیکو بر دک ےکی ضرورت تیآ جائے اور متا ج ای ےا ر ہک ےل بھی ا جرت مہو لک ر ے 

گیا کوک یہاں دواج رت یمیا ن کی ںاون ہو ےکی صورت میس جوم ہوگی وی مقن ہو ےکی وجہ سے تین موی اوراس ' 
ضر از تک جال کا معامل کی تم ہو جا ۓگا۔ اور رات صا کین میاو کات او رل مکی صورت انا اتک 
ناکرا قو دی اجار ہکوفا سدق ارد ینا درس ت یں ہے یوم الب او راک پر لابا ہا تا سے شاذ د نادد ہیں اور یہاں تا اب می 
س ےکاجادہاشفماع سے شرو ہوتاسے اور بوقتں تفاع ا جرت اورمقورعلی دوفو ںکی جال تنم وہای سے وا اعم وع آم 


کر تر رت 


1 اا بلر0) AEA SDR‏ اکم اجارات کے بیان س ۹ 


باپ إِجَارَةالعَبّد 


بی باب فلام کے اجارے کے بیان ٹیس ہسے 


بت سط اعیان اور اشیاءاچارے او رکزاے بی جائی ہیں ای طر فلا مک را بے ے جات ہیں رشان چوک لا مآ زاداوران 
کےا عیان ےم در ہے کے ہیں ای لیے ان کے مات لوآ زاداوراعیا نآ ز اد کے اچارے کے بعد بیا نکیا ہار ہا ے_ (بناے:۹ر٭٥)‏ 


۔ و“ ا ر سس رپ سے ہےر سپ 3٤‏ 9ے ,م پھر ر2 “ooh‏ 133 ,22 1 گا سے جو 89800 
ومن استاجر عبدا لیخدمه فليس له ان يسافر به إلا أن َشترط ذلك لان خدمة السفر اشتملت على 
I‏ ہی ےھ وس ہے ۶2ے 


سا 6 کر کر و و کک و ر 
زيادة مشقة فلا ينعظمها الإطلاق ولهذا جعل السفر عذرا فلا بذ م ِشتراط كإسكان الحْذادِ والقصار 


1 سو کے کے ٣‏ ہدعو {O f‏ صر یہ ےگ کر ے ے روز ے 3ے ۸ س 
في الڈارء ولان التفاوت بين الخدمتين ظاھر فَإِذا تعینتِ الْدمَة في الحضر لا يبقى غير داخلا کَمَا فى 
ارگ ر ص ھک 2 راد کور بو ے ?ووے ٤‏ رڈ دو E‏ دے 

الرکوب, ومن استاجر عبدا محجورا عليه شھرا وأعطاه الاجر فلیس للمستاجر ان يَأخدٌ منه الاجر 
رکرو کی کو 2ں وط د9 3 ور ا ر ا و ٤و‏ رور 205 4 کے | ف 
واصلہ ان الاجارة صحيجة استحسانا اذا فرع من العمل» والقياس ان لا يجوز لانعدام إذن المولى وق 
کے و >صح ہےر سً۔ ہ روک کر وو شس E‏ رر رہ ٤ ED‏ کو کک س9 رج وم "کم ,722 
الخجر فصار كما إذا هلك العبدء وجه الاستحسان ان التصرف نافع عَلى اعتبار الفراغ سالماء ص 

د 2 دو ا 7 


f‏ 0پ - ور و کر ٤‏ َ‫ ا سے مل ظط کے L4‏ د 
لی عار لاك لعب والتافع مذو فيه قبل الهَةء وَإِدًا جار ذلك لم يكن للمُستاجر أن ياخد من 


2 


الاجر. ۱ 
تنجد: اکر کی ی نے فدم کر نے کے سکوی لام اجا سے پرلیا تو متا رکو یں یں س کہ دہ خلا مکوسف مین لے جاسے 
الام کہ پوت عقد ا کی شرط لگادرے؛کیونکگسفرکی خدمت میں مشقت زیادہ موی ے اس لے ملق عقر میس بر رمت دال یں 
ہوگیء بی ےئن ارہ کے لے سٹرکوعذ رق ارد گیا ےپ اا یکو شرو طکرنا ضروری ہے جیے دارمتتا ج م بی لو ہار اور وعو یکو رک 
کے لیے ا یکی شرط لگا نا ضروری سے اورا لس ےکر حطر و سف رک خدرمتوں بل نمایاں فرق ے لپا جب حط کی خرس دن موی و 
اس کے علاوہ ووسر خرمت واضل عت ہیں ہوک کے رکوب یی ہہوتا ہے _ 
ارک سے ایک ماہ کے ل کی عب رکو رکوا ہار ے بے لیا اور سے اجر کی دے دی تو تا جرکواسں سے وہ اجرت والیں لیک 
یں ہے۔ا لک اصل ہے س ےک جب و ہکا م سے فار موجا ے7 اتات اجار ہی ہوگا حا نہ تیا ی یہن ےکہ یراجارہ چا دہ 


7 بل جرگ RSE ELDRED‏ اجام اجارات کے میان ٹل ۲ 
ہو یوت موی کی اجازت معدوم ہے اوراس پہ پابند یھی عا کد ہے نے ایا ہوگیا یے دہ لام مرجاۓ- 

اتسا نکی دل بی ےک اک وولا مکا مک کے کے سالم فار ہو جا ےا( موی سرت س )تصرف ہنس ہوگا لیکن کر 
لام رجا ہاو تصرف موٹی کے نخان دو غبت ہوگ اورمفی تر فقو لکن ےکی اسےابیازنت ہو ہے جیے ھب تول لرا 
سو و و تہ 


اللاٹ: 


لإيسافر بہ )سے ات سر نے جانا۔ ل اشعملت تل ہونا۔ إینتظم پ4 شال ہوا تحت آ نا۔ الحداد) 
لور ف[ قصار ) وسوی ۔ التفاوت چ فرت» اختلاف۔ مال رکوب چ سواری_ إعبد محجور علیہ وہ فلام ےے با ی 
ضرفا کر نے سے روک د گیا ہو الف را غ نای ہوناء فار ہونا۔ ضار قصال دہ 
فلا مکواجارے مر ہیک صورت: 

پار ت می وکل بیان کے کے ہیں : 

(۱)اگ ریفس نے خرصت کے کو فلام ہار سے او رکا سے لی اور پوق عقداے سر یں نماتھھ نے چا کی ش واکان 

اگائی بق ف رمت کے لے اے لا تق بحر یس متا جر اس فلا مکو سا تھے کرس رسک رسک کی وتک سف کی خر مرت می مشقت زیادہ 
ہوی ہے اوی ضرمت خط ری خدمت ے لاف گی ہو سے اور چو ں کے عقر کےملق ہو نے سے اور متا م عقد اد مالبت عقر کے 
تر ےاورولالت ےحط رک رمت ن وہای ے اپا برون اشتراط اس عقر م خدمت سفرداخ لاٹ ہوگی جییے اگ ری نے راش 
سے لک مکا نکرایے بلا تو وو خرو ای یس رو لتا سے کین اکر کی لو پار یا وغو یکو اس میں رکا پا ےا بوت عقر ا یکی 
صراحت او رھ وب کی اجازت کے !یں رک وسکتا۔ یااگ ری نے سوار ہونے کے ےکوی جا نو رکرایے بایان یک حشرط ياا جات کے 
روہ دوکر ےکواس پرسواریا ںک رسک ءہکیونکہ دووں رلوب میں نفاوت ے اک طرح صو رر متلہ می بھی حط راورسفرکی خر مت مل 
فرقی لہا شر لگاۓ !خی رتا ج فلا مکوسف می نیس نے جا کا بچی وجر ےک اگرمستا جرخلا مکوسف ریس نے جانے کے لے مہو ٠.‏ 
. ادرغلام نہ جانے پر اڑا وتو اجار ہنی ہوسکناےاورظاہر ےک ہس چز سے عقدی دجاے وق موک اورا می اث ہوا ۱ 
کہ بدون اشت اط وو عق ےتحت اٹل یں موی ۔ 

(۴) ای نس نے یر ایک ماہکی خدمت کے ےکر سے پرلیا اور سے ااجر تھی دی ری ل اتنا ہا جارہ درست ے 
اوراب مت ججرفلام سے وہ اججرت وای یں لے سکتا جواس نے اسے دی ےکن تیا سا برا چارہ فاسد ے؛کیونکہ خلا کور ے ورای 
کے اہ مل میں موی کی اجازت معدوم ہے اور اکر غلا م کا مکرنے کے دوران بلاک ہوجائۓ تو متا چ ا یکی قب ت کا ضا 
ہوتا ہے ای ط رع یہا ںبھی مولی ک اھات مد ہونے سےا جرف مد ہوا امتا املا ے۴ پا اس پر اس فلا مکی 
تمت واخب موک اج یں _ ` ٠‏ 

ای کے بغلاف اترا نکی یل تک ت کدی م 


me AER DIES N ys‏ ےم رر 
فار وجا ے () دوران خدمت دومرجاے اوران دونوں میس سے پہلا تصرف مولی کے ان می لف کل ےک فلا بھی یار سے 

گا اور جکمایا ے وہ مو یکول جات گا اور لام جو رکوجھی الما کا مک ےکی اجازت موف ہے (ولالیے بی کی ) جس میس موی کا ن ہو 

کے وہ غلا بد یقیو لکا ے۔ اور چو ںکرصورت ستل میں مو یکا ہے اک لیے براجارہ درست ے اور چب اچارہ درست ے 

نو متا بب پراجرت دیا ضرورکی ے اور در والیں ینا درس ت کیل ہے۔ 


د 2 
ا رد9 ا ¢ کے 7 ب ےر 29ے 9 


رد ےر ر ےھ > کے کم 9 SET‏ 0ق 
َمَن عضب عدا اجر الْعد نَفْسَۂ فَاحَذ الاب الاجر فَاكلَه لا ضَمَانَ عَليه عند ابي حَنیفة وقالا هو 


ت 


یی کے کے 7 .0 و 2 کی és Erd | 9 E‏ 32 رت کے ۲ و e‏ 
٠ ۰ 5‏ ۶ 8 7 ۰ ا٠‏ ۱ 6 4 .2 
ضامنء لانه اکل مال المَالك بغير إذنه إذ الإجارة قد صحت على مامرء ولەان لضمان إِنما یجب یاتلاف 


۔‫ و ی ر ت وو ودے۔ 0 ا کے ٤ں‏ در بس وو cas‏ ڑھ برد ر وو و 
مال محرزء لان التقوم به وهذا غير محرز في حَق الغاصب لان العبِذ لا یحرز نفسة عنه یف بحرز 


جک ا جو سو ای و CEG‏ ٍ9 کے 6 کے َال ہر د2 ےد ھ کی ال و 
مافي يده وإن وَجذ المولى الاجر قائما بعينه اخذ ہ٥‏ لانة وجد غين مالہء ویجوز قبض العبدِ الاجر في 


د کر رد 


لمعته ماذُون ل فی اصرف على عار راغ على ما مَر۔ 
تنجد: ارک کوت فلا فص بکیا اغلام نے اپ ےآ پک ہیں مزدوری پر الا جن نا صب نے ا یکی اجر یر اتال 
کی تو امام ام وٹ کے بیہاں ا صب عضا ن یں ہوگا۔ حرات صا کین می فرماتے می ںکہ نا صب ضا موک کی وہ اس 
ےک ککی اجازت کے !خی را لکاما لکھالیا سے کیرک ہے اجار ہو کا تھا یں کک ر چا سے ۔حفرت امام م وید کی ولیل ے ٠.‏ 
ےک تفوظا مال پلا کک ر نے سے ان داجب ہہوتا ے» اس لی ےک اراز ی ےق م شا ہمت موتا سے اور سورت مستلہ ٹیل جو بال سے 
وہ اب کن س ر یں سے ال ل ےک جب فلا خودکو نا صب ےکفو یں رکھ پاتا تو ای پاک موجود الک وک ےکور 
کر گا ۱ : 
اوراگر موی ا رر کو بحییہ موجود پا ےلو اسے نے نے اس ل ےک موی اپنا ی مال پاد ہا سے اود غلا مک ا جرت بر بح کر نا 
الا تاق چا سے ہکیونگکام ےک سالم فاد مو ےکا انارک کے اس فلا مکوتصرف کےا میس ماذ ون قر ارو إگیاے۔ 
اللفاٹ: ٠‏ 
طخصب ) دبا لیا غص بکرنا۔ ولا آجر کے پر دینا۔ طاضمان )دان کی طاتلاف ہہ ضا کرنا۔ امال 
محرز فوط ال[ التقوم مھت ہونا۔ النصر ف پچ کا مکرنا۔ 
فصب شد ہ غلا مک اجر کم : 
۱ ورت ستل یہ س ےک ہاگرز یا ن ےک کے خلا مکوخص ب کر کے اپنے پا رکولیا اھ خودغلام ی نے اسآ پکوگی لکام ب 
لکالیا اور یھ پیک یکا کن ناب نے ورت ےک راتما کر ینو امام تنم وی کے بیہاں ا صب ضا نیش ہوگاء اہ حرا ت 
صان کے بیہاں ضا کن ہوگاء ان حرا ت کی دمل ہے ےک اتات اجار ہ درست ے اور تلام اورا یک کی سب موٹ یکی اور 
ناصب نے مو یکی اجازت کے لبق ےکا کیا ے ای لیے تا صب برا یکا ان ہوگا کے اکر غلا م مہا ےو ووک قا صب ر ' 


) ا NSS ELD (O‏ اکا اجارات کا کے 
مون ہوتا ے اک ط رح ا یک کا یکا خر کی ا صب مون ہوگا۔ 

حفرت ارام انم وی کی دعل یے س کہ مان اس صورت میس داجب ہوا ے ج بتفوظط اورکرز ما کو ضا کیا جا 
کو اراز ی ے الک قوم ابت ہوتا ہے اور بیہاں سورت عا ل ہے س ےک خود غلا مکی ذات تا صب فو و نہیں ےل ا یکا 
ال کی ےتفوظا ہوگا رمعلوم مو اک برغ رز مال سے اور خی رز ما لکواستعا لکرنا مو جب تھا نک ے ۔ 

وان وجد المولیٰ الخ: فرباتے ہی کاک فلا م یکا ا صب کے ہاتھ نہ کے پا سے اور مو یکول چا سے تو مو یکو چا ہے 
کراسے نے سے ہکیوککہ ہا کی ایت اورا ی کےقن میں ز یاوق اوراضافہ ہے وہو آحق بداورصورت مت یس چو ںک اتا چارہ 
کودرست تر ارو گیا ہے اورفلام نے خود اپ ےآ پکوکام پرلگایا سے ال لی ےگ فلا خودا یا جرت بض کرت ےلو ۷ درست 
د چائز ہے کیوگصحت اچارہ کےجوانے سے م نے لامک اون لی ریا ہے اورکیر ماو نکالین ن د رن اور ڈت سب دا ست ے۔ 


کے 


وَمَن اجر عدا ین الشهرين شُھُرَا باربعة وَشَھُرا حمسو فهو جَاڑٌء والذول منهما باربَعَق ان 
الشهر المڈکور ارلا يضرف إلى ما لى الْعَقَد تحريا للجواز وَنَظْرا إلى تنجز الَْاجَة فیتصرف انی 
و و ک ےم ر ر 23 SI‏ 232 2٥س‏ کس یی نر گج ہےے۔ رو ناو رور 
إلى ما لی الأول ضرورةء وَمَنِ استاجْر عَبدا شهرا بدِرهَم فَقبَضَة في اول الشهر ثم جَاءَ اخر الشھرِ وهر 


ابق ا مَرِيْضٌ قَقالَ مجر ابق أو رض ِن أحذتة وَقال المَوْلى لم يكن ذلك إل قبل ان تاري 
7 و دوو 
بساعة قافول قول الْمستَاجرء و إن جَاءَ به وهو صجيح الول قول الْمُواجر لانهما اختلقا فى مر 


کڈ رعورہر د ٤ور‏ وی ے د یدرد OEE‏ 


ر ہر رذ مر کول لی 3و سپ یو 
لفیه» أصلهُ له الإختلاف في جَريان مَاء الطاحو َة رانقطاعه. 


تتجد: سے رو ےت 
007 ہے اوران یس سے یل ما دک اجرت مار ددم وء اس سل کہ جو ہین لے گور سے وو عقا سے 
سل مین نکی طرف راع ہوگا اک عق کو جائز تر ار دیا جا کے اور متا چ رکی فو ری ضرور تکو ناف زکیا جا کے اور رخاف شبراول سے 
مل عق رک طرف لا محالہ را ہوگا_ ۱ 

ارک نے ایک ددہم کے وچ کو فلا م کہا سے ب لیا اور مین کے ش روغ یل اس پر بح گکرلیا پر نی کے کے ایا مآ 
لام ھاگ ہو تھا مرب تھا اورمستاج کے اک یس نے جب سے اسےے لیا ہے ایا وت سے ییار سے یا مار سے من مولی نے 
ہا ایا یں سے بل ہا سے مر ے پا ںآ کے کی پیل وو فرار ہوا ے پا بار ہوا او متا چ کی بات محر موی اوراگر 
متا بجر اس حال یس موی کے پا خلا مکو گی کک وو تن رست تھے موچ( موی ) کا تو مت ر موک کی ئل ان وولو ںکا اختلاف ای 
چرس سے سس کا وو کن ہے ء لہا جوقول موجودوحالت کے مواآن ہوا ونی را ہوگا ہکیونکیہ ہے اک با تکی وکل س ےک بعالت 
پل سے مو جود ہے اود یہ زم رب نگتی ہے اگر جرف اہ مج یں ب نک ۔ ای اختلا کی اصل وہ اختلاف ے جو بین کی6 


72 ابا ATE SUES (Dıle‏ اکا م اجارات کے بیان یں £ 
ای ادر نہ پچ کے بارے می ے۔ 
اللََات: ۱ 
یتصرف رج کرم تلق رک تلق ہدا۔ یل ی ساتھ لاء کے ہوا تحر ی طب وا کت 7 
اتنج ز ‏ برا ہونا۔ آبق کو ڑا یتر جح را ہوناء نالب تالالطا حو نه 4 کی 
دوماہکی لف اجرت: 
عبارت شی ددمسکلے یان کے گے ہیں: 
20 نے بی ےکک رکو غلا کہا سے لی لک می ان دو اہ شلا حرم اورصف ر کے لے چا داور با در لے تےہاہوں 
ت قد درست اود ہا کا ہے اور فلا مک پل مو یش چار ددم اجرت گی »کرک پہطا ہی عق اود وال ےل اپا ای مین 
ٹس اسے ارد رکم ابت سے ےگ اود چو کہ دوسا یی اک بر “لوف ہے اذ ادوسرے مین می شک مکرنے پر دہ پا دہ مکا ن 
موک اورالیا اس لی کیا جا ےک اک عائل اود با کےکلا مکولفوہونے سے بچایا جا کےء ورن نے متا رکا قول استاجرت منك هذا 
العبد هذين الشهرين شهرا بأربعة وشھرا بخمسة میں شراشمراگھرہ ےاوز رت اجارہ کے۶ ہول ہو ےک مت ی ہے الاک 
اچارہ 7 کے یجول ہونے سے عق فاسد ہو جا تا ہے اک لیے م نے معا رک و ری رور تلو ماج کی کل میں چ یکر کے 
یل صرف اہ او لک سی نکر کے اس میں عق دکو ناف کیا اور چ طوف ہو ےکی وجرے دوسرے می بھی جوازکی مرن وکھا وی جا ہم 
اگ رمست جرصرف لے مین کا مکرتا ےا بھی عق درست ہوگااورغلام ارد کان ہوگا۔ 
)ایی نے ایک ددم ے۶ فلا مکراے پر لےکراس ہی رک یکر یں مین کے اخ رس غلام با گ گیا یا یار 
م گیا ا ب مستا جر مو کے پا مق د مہ س ےکر الد رسکی ےلاک کی دن سے شل نے اسےلیا ہے اک دن سے ہیف راد ہے ااج 
اورمو یکنا ےکک بلک ہآ کل سے فرار یا ار سے ذ ا ی سورت میں اکا ب حا لکودینل بنایا جا ےکا سکن اس اختلاف کے و 
ارام یما ر ہوگا تو مستا ج کی بات تر موی اورا یراج تکس واجب موی واگ تلام وک اور مو جود موک مس ۴ 
بات مت رہوگی اور مستا ج برا جرت فاخب موی ۔کیونہ پیاختلا ف اک چ کے بار ے ٹیس ےی کے ہونے اورتہرہونے وولو ں کا اتال 
ہےاوردوڈوں االو ںکوا کا ب حال تقو یت ےگ اپا سکی بات اتا ب عال کے موا موی ا یکا قول را ہوگا۔ 
وهو یصلح مرجحا الخ: :ا کا مطلب بی ےک اا ب مال سے اب کا اتقات ت ہوک اے بن تقل طور بر ہے 
اتان + چناتیرا اکر عقت اچارہ اوراجر کا معاملہ پیل سے نٹ نہ ہوا گت اتصععاب مال سے متا بے پرا ہیں 
واج پک اکگقء صاحب بدابیفرماتے ہی ںکہ مالک اورستا جر کےا اختلا فکی اسل اور نیاو وہ اشتلاف ے جو بن یی تاق 
EL‏ دن ا لک E ESE ESE E A PEARLS‏ 
کہ جب سے میں نت ےکمرائے بے لی سے اس وق سے ہہ بنا سے او رمو کہا ےک 9ء ء ای "هو 
ول باکرفیصہکیاجاا سے چنا نراک بوتت دا پن کی بندہوتذ متا ر تول تر موا اور اگ راس وقت الو ہو موج اور مال ککی 
باحر ہوگی... اک ط ررح صو رت ستل می ںبھی اتی ب الکو وسل باکر فیس لک گیا واش وعاے, ام ْ 


7 نایم بر پل بر و کی تا ا مارات کا( 


باب الِغُیلاف 


ہے باب و بجر اورمتا ج کے ما بین اختلاف کے بیان می ے 


اتشات اکل ے اور اختلاف فرع ہے ای لیے انل کے بیان سے فار ہونے کے بعد صاح بکتاب فر کو ہیا نکر سے 
ہی ںکیونگفرغ ال سے مفخری مون ے۔ 
ےت سے 3ےہر 9ی 9 ےےل تو ہس صا رگ دو کریوئے۔ ٤و‏ ہیےے۔ 
ال وَإِدًا اختللف الْحَیاط ورب الوب فَقَال رب الوب أمَرتك أن تَعْمَله قب 


مو مر می وت 29 


cd 

قباء 
تسشن وو سس یب و از ری رز 
کک یر سے ر 9٤‏ 9 4 
۱ 


لصَاجب الوب ن لذن يساد مِنْ جهته» ترا ی انه لو از 


واا او 


7 2 د 9 ن3 ت 5ھ 7ئ 1 و ا سے ت ر 2 9 سے ا 
انگ صِفَته لکن يُحَلّفء لاه آنگر شیئا لو اریہ 7 ا رڈ عات کا خن رتا نت 


ں 


وو سے و۶ديچھط۶ کے ےے 


ا ی ری و 
مُه لس شر رت شش یں وذكرفي بَعْض 


4 2023 
٤ 2‏ بمََزلَّة الغاصب . 


م يضمنة ةما يضمن مراد الصبغ فيه لان ب 
تھی : فماتے ب سک اگرورزی١‏ ےکن BE Ê Ê SULA‏ 
در زیی کہم نکی سینے کے ل کہا تھا و نز گان نے کے غ رگ میں ر مگ کا عم و تھا اورت نے 
پیل ریگ میس رٹک دیا رک بی کہا یں تو نے کے پیل کی ریک میں رگ کا عم و تھا نے صاحب ٹو بکاقول مت رہوگ کیو ا یکی 
طرف سے اجازت ماس لک یگئی سے کی وکت نی سک اکر ہا کک اکل اجاز کا اکا کرد ےت اس کا قول مت رہہوگا تو صف کا اکر 
کرنے بی ای کاتقول مت وکا کین اس ےم لی جا ےک اس سک ےکا نے اک پٹ کا کیا کک اک کاقرا کر نے 
۱ ووو اس پرلازم ہوجا ےگ _ 
۱ فرماتے ہی ںاکم مال کب م کعالیتا ےا درز ضا ہکن موک ا کا مطلب دی ے جو انل می مز رکا ےکہ مال کفکواختیار ے 
اکر جا اذ ا تےکپٹر ےکا ضا کن بنائۓے او راگ چا ےلو سلا AES EVI‏ رگا وا لے سن میں 
بھی اکر ما لی کس مکھا لیا ہے فو اسے افقتیار ہوگا اک چا ےا رک دب کوسفی یڑ ےکا ضا ہنا اود اکر چا ےن ذکپٹرا نے نے اور 


0 لیر إِنْ سَاءَ صضَمِتَة و إن شَاءَ أَحَذَه وَاَعْطَاهُ 


7 آنْا با لر 0) NEES EEDA‏ اکا م اجارات کے بان مل ۹ 
اسے اججر تی دیدے جر نکردہاجرت سے ذیادہ تمو نے پائے۔ قد ورک کے خوں ٹیس سک ما کک رنگ دہ کو ال ڑکا 
و سو سرت کرت 
اللات: 
[الخیاط 4 درزیی۔ ارب الوب کٹڑے والا۔ تعمل( کا مکرنا۔ فاقباء٭ہ ج فإصبا غ رگ 

احمر ر امز ٭ زرد۔ ف(یستفاد )مال کیا چانا-_:ظ(یخیر 70800 #الصبغ که رگ 
اچوا کک ےدریان اخلاف: 
GT‏ ےس 
۱ نے کے می کہا تھا اوران رک ےک نیس جیٹس نے سیا ہے تم نے وی نے کے کہا تا ا او ر کے کے کن 
٠‏ اختلاف ہوا و ای اختلاف یں صاحب ٹوب اور مال ککا قول حبر ہوا ہکوہ یہاں جو محابلہ ہے موا ے اس می ا کک یک 
اہاز تکارفرما ےہ بی وچ ےک اگ با کک اکل اجازت اوراصل عت کا ا ع رکرو ےت ا کا قول معتر ہوگاء لہا عق دکی صنا 
اوراس کےلوازمات کے تل بھی ماک ہی کا تول مت ہوگا مان اس س ےک کی جات ےکی چنا یہ اکر وس مکھا ات 
نے فلا کا مکا یم وی تھا تو ا سکیا بات مان فی جات ۓگ ٠اس‏ ل ےک ارا لک بات یہاں نہ می جاۓ یا اس نے جن کا انیا کی 
ہے ا کات رارک ےت ا یکا مکی اجقرت اس پر لازم ہوجام ۓےگی اہم کےسات بی ا کا ایبول ومتت ہوگا۔ 

قال وماذا حلف الخ :ا یکا ال پس ےکہ جب ما لگ مکھا ل گان ورز اور رگ یز یر تمان وگ ادر ہے معاملہ مالک کے 
حا ہوگا دہ چا او مال ککو پور ےکر ےکا ضا بنادے اورال سے وہ ر ایی نہ نے اور ای کی اجر ت کک نددے یا پچھروہ 
کپٹرانے نے اوران ور زی اورصتا کو یکی اجر گی دیدے سن ے بات ذ ہکن مل د ےک ہا جرت اجر شی سے زار 
نمو نے پا ےق دری ولی ھی کے خوں میں م ہج کد دنگ دت نے با کک مکی تالش کر کے ا کا ما لقص بکیا سے ا 
ےیے مال ک کو اختیار سے اگ چا تو ںارگ یڑا را مواے اک رنک کے ساتھ سے تو کر نے اوراس رای کی وچ رے 
کے تمت یل جو اضاف ہوا ے وہ مت اے دیرے۔ 


ون قال صَاجبٔ الوب عَیلّنة لي بغیْرِ جر وال ا . لت اه ینکر وم 
ےر ہے سے ت ت ل ق ہرے ہے ٤وو‏ ورو 

عَعَلہ إِھُو يتقوم بالعقد» ویٹکر الضَمَانَء وَالصانع يَذ بدعيه وَالقول قول ل المنكرء وال ابو سف ای إن 

چو و ھہوو سر جم و و کسی 


‫َ 
2و5‎ da9 


متاوهماء وکال محمد ايه إِنْ گان الصَانع عرو هذه الصََْةبالَجْر کا اقول کو 
۶ ۶" س ما قال اب 


¢ 7 
ء لأنه 


ا 
5 


HK‏ و 


7 آنْ ادا جلر(٢) ACL XSL‏ اکم اہارات کے بان ٹل : 
تینجد: اکر پٹڑےکا الک کم نے یرے سے کپڈاف ری سیا ہے اوروز تاس ہک ہش نے ات نےکر سی لے 
سے وا ٹ ےکا قول ”حت موا ای سل ہک ما نک اس کےکام کے کت ہو ےکا کر سے ای لی ےک کا م عقت ےق موتا سے نیز ما کک 
فا نک کر ہے ج بک کار یکر ا یکا ری ہے اورممگز ہی کا قول ہج ہوتا ے۔ امام ابو لوست وای را کے ہی کہاگ رکپٹ ےکا کک 
ا کا شریک ہو اسے اجرت ےکی ورک مکیوکہ ان کے اشن جوطریتہ پیلہ سے جار ہے اس کے ٹیش نظراجر تکی جبہت 
تین ہے ۔ امام مھ وٹوف مات بی نک ہار ہو ہوک کار کرای رح کا کام اجرت کرجا سذ ا یکا قول مت ہوگا کی وہ جب 
دکان اک لی ےکھول یکئی ےت نلا رکا اتپا رر کے ہو سے اسے اججر تکی صراحت ےق متا مل اردیا جا ۓےگاء اور تاس دی ہے ج 
امام اپوحفیفہ نے فر مایا ے یوک ما لک کر ہے۔ اور تحظرات صا شن جا کے اتسا نکا جو اب می ےک ظا ہرد کے کے لے 
تا سے ج بک مہا ںو اشختقا کی ضرورت ے۔ وال اعم 
اللَات: 
ف[بغیر اجر )ری س !خر ات ے۔ جا إلصائع )4 کارگر_ تقو ٦‏ ہونا۔ طالضمان )4 جاوانء بجرت» 

چ احریف ری ا مسر تب ھی ہت 
اجزت اورمف یک اخلاف 

۶ ي0" پک ڑا یکر فارغ ہوگیا تو با کک 0 ایخ نے ےک اف ری س یکر د یا ے اور ورز یکپتا سے 
و ھ2 کر ہوں جومت یں ےی آردوں توم اھ ا ا ے یہاں ما کک ک قول مھت ہوک اور اس بر سلو 
اجب نیل ہوک یوت ہا لک وجوب اجرتکابھی مر ہے اوردرزکی کےکام کے توم ون ےکا بھی اک کرد ہا ہے اور دوسرئی طرف 
صاع ال کامدگی ے اور القول قول المنکر والے ضا لط کت کر یک قول مجر پت ہے اذا یہاں کی جور سے شق ا ا 
ا یکاتو لم روا 

ا سللے میس امام ابو لوس کی راۓ ہے کاک ما کک او رکا یکر یل پیل سے لین د ہیی مارک موتو اس یکوولیل ہتاکر ا جرت 
اورعدم اجر کا فیس کیا جا ےکا شن اکر پیل دان دن اجرت سے موا وکا او صا نع کی بات مت موی اور اکر پیل ہکا لین درن فر 
را ہو ما لن کک جات تر موی _ 

اما مھ 25 سر میڈ ٠ر‏ مات ہی ںکہ یہاں ہے د کےا جاۓےگاکہ دہ کار گر اس ط رح کا کا م مفتکرتا ہے یا جر تل رکرتا ہے اگرفری 
کاو با کک کا قول حبر موک اور اکر ا جرت لیک رکرتا موتو صا لح کا تول حر ہوگا ادرو بے ران وی ےک صا بی کا قول حر ہو 
ککیوکہ پروی بی کمانے اوراینا نکر ی اب ا ےا 
سے صاحب پدابیڈ ماتے ہی ںک۔امام م ولچ کا تول قیال کے مطاقی ہے کیہ مالک وجوب اجرت اورآقو ملک کر ہے اور 
کر یکا تول مت ہوتا ہے رپا ست رات صا نون کے اقسا کاو اک جواب ىہ س ےک ظا ہر سے کی چیکودٹع تو کیا جا ککتا سے 
نج ہی ںکیا پاک الاک یہاں اشات ا جت اور اتان ن کی ضرورت ے اور بیضرورت تام ر ہیں ری 2 ا 
کے با مہ ے اتد اش کیا یدام عاتم 


7 ہے جلر(۴) RSE‏ ا6 م جارات کے بیان مل ۲ 


تاب قشع الِجَار 


ےت 


٠ 


ھ0 امس ےک وجودادد وع کے بی ہوتاہے ای لیے ماح بکناب اھارہ کے جملرمباضث ے فا 
ہونے کے بعدائ رش ا E‏ 
ال وَمَنِ اسَاجَر دارا فوَجَد بها عيبا یسر با : لی کله نع ا 
سا فَعَیَْا فَكانَ هذا عَيْا حَادِنً قبل الْقَبض يجب اور گت في اني ا ثم المستاجر ِا استوقى 
لمعه قد رَضِيْ بِالْعَیْبٍ يمه جميع جَمیع اَل کا فی الم ون فلز زان به لب ته 
خيار للمستاجر لزوال سی . 
رچه: فرماتے ہی یک ار کی کو یک کہا سے پر لی کرای می ایما عیب پایا جور پاش کے لے نقصان دہ موتو مت وھ 
۱ و ار و یوک حقو علیہ متاح ہیں اور متاح تھوڑ اتھوڑ اکر کے مکل ہوتے ہیں ءلبنراىہ قضہ سے بے پرا ہونے دالا عیب شار 
ہوگاء ال لیے موجب خیار ہوگا تھے بس ہوا ہےء کر کر متا جر نے منفع کو ماس لک لات وہ عیب پر راشی م گیا پرا ای یر را 
مل از تام ہوا ئن کر رک جک یائ کر مت تاش ےا کب خیرم 
٭چاے۔ 
اللغاث: 
و جد ) پایاء لا۔ :فیضر پانتصان دہ ہونا۔ (السکنی ہر ہل المعقو د علي نس برعقد ہور ہو۔ شیا 
فشیاھ تی ر ےد تیر ےآ ہت آ ہت آھوڑاتھوڑ اکر کے ف استو فی چ بوداوراوصول پاا۔ المبدل ۶ل برل۔ 
اچارہ مر کایان: 
ستل ی س ےک ططر تق یل عیب دک ےکی صورت می مشت یکوخیا رر اورضن رڈ حاصل موتا ے ای طرح اجارے می بھی 
اگرمتا رکو ی بن رآ ے اور کیب ر پاش سے ماع موتو متا کوککی حم سح حاصل ہوگا کوک اجار ویش ممقودعلی منان مو سے 


ر أ RES YS‏ ا A‏ 
ون اور ون کان بح حا و مین :ابا وارستا چ وکا عی نل اقش عیب حادث کے در سے می ہوگا اوران طرح 
عیب سے حاصل موتا ے ہنا متا رکوجھ یفن سخ لاہ ہاں اگ رمستا جال عیب کے مو کے ہو سے اور سے کی ہک بھی مزا 
وصو لک ےڈ ہا کی طرف ےکی بک رض مندی بر دعل ہوک اورا کان ہج 7 ہو جا گا اورا پر بور اکرایے لازم ہوگا ای 

طرح کرو کی ذر یج اور یکا سے ووعی بت کرو ےت بھی متا کان ر تم موا ےگ اورا رکراہلازم ہوگا۔ 
ال وَإِذَا حرِبَتِ الدار وانقطع شرب الضيعَة ا ة وِانقَطع الْمَاء عن اي انقسخت الإجارة لان المَعقوة 
ال کڈ ات زی من نْمَرْمَا ل زس قَسَابَة قوت الْمَیْع قل بل الْقبْضِ وَمَوتَ الْعَد د الْمُستَاجرء 


E ی2‎ 


وَمِنْ أصحابتا مَنْ قال إِنَ الع يفخ ق الْمََافع قد فقَانَبْ على وجو يضور عَودُهَا قاشبة ابق في 
الع قبل ابص هه وچ وت 


نيص من لی آنه لم بيخ لکن سخ ور اطع اء لري والبیع مها بنتقع به تیر الطحْنْ يہ 
2پ-ِ- 0-2 عَلَيه 
زچه: پ ‏ ی تھر EE E I‏ ین مگ یکا نی 
نوچا ےا اہارہ ن ہوا ےک کیرک قو وعل یوت ہو چکا ے شی نے پیلیفنسوش میا فوت ہو گے ہیں اپا زت سے 
یگ و ت ہہونے اوراجارہ پر لیے ہو غلا م کے مرنے کے مشا ہہ وگیا۔ 

ہار ےنت مشا کال خر ماتے ہی سک عق نمی ہوک کرت منا نج ا یط ری رفوت مو سے می ں کا کا دو بارہ بھالی ہونا 
کن ےا یت عبر می کے ”ھا گے کے مشا ہہ کیا امام مہ لٹ سے مرک س ےک اکر مو جر مکا نکی مرم یک راد ےلو متا ج 
کو نے سے او رآ جر کے لیے سے سے اکر ےکا افیا رک ہوگاء ہے رایت اما مھ وی گی طرف سے اس ہا تک ععراحت ‏ ےک 
اپار ازخووعٌ ا کیا جاک ےکا 

اک پن پگ یکا پاش ہوجا ےم نک رک ہے پوزیشن کہ پنے کے پالی کےعلادہ دہ ر کے جوانے سے قال اھا ہو 
متا برای عراب سے ابات وبحب ہوگ یک رھت رکا ایی حصہ ہے۔ 


' اللغاث: 


سے 


خربت وران ہونا [الشرب نی ۔ [الضيعة كيت ظالرحی کی ف شابہ مشاہ ہوناء جیا ہونا- 
لابا وڈان [تنصیص ) دضاحت تر 
اجارے کے روو ہونے کیصورت: 
صورت متلہ یی ےک ہاگ رلک نے ر پاش کے ےک کے پرلیا تھا وگ کے من اع نی ر پش اور بین کی سے بای لین اور نا 
سب دال ہیں۔ اب اگ رگھرخراب موتا سے یا بین یکا پالی تم اور بند وما تا ہےذ عام امش کے بیہاں اون ہرلر ویش عقر 


1 اللہ 27 EOE SD IER‏ اکا م اجارات کے بان س ۲ 
اجار خو دودح ہو چا ےگا کیرک ارہ ملحتو علیہ متاح تھے اوران وجو بات سے ان م خرالی اور یآگئی اپ زاس ط رح می 
برق فکرنے سے پیلیؿ ضا ہوجاے اجار سے پرلیا ہواخلام مرا ےا اچارہ ا ہوجا تا ہے اسی طرح صورت مت م متقودعلیہ 
یماح کے خراب ہونے سے اپا یکی رع وھا ےگا۔ | 

ومن أصحابنا الخ: کر مک ور ہک رائۓ ىہ کر ماع فوت ہونے سے اجارہ ر کش ہوگا کک جب لک کیا 
ہا کا ب وگ اور کے جانے سے یی بے مستا رکو بی اتاد موک اک و وتا کی وو بارہ بای کے لے انظا رک ے لے اکر 
۱ بش بھاگ ہا ےک ازخو دح اور نیس ہوئی امش یکو اتظا رکا انقیاردیا ہا ا ہے اک طر یہا ںگھی متا ج لاتا ر دیا ہاے ٠‏ 
گا کوت مناخ کا ذوبارہ پیا منکن اورمت قح ےی دچ ےکا 0907 کی راہ موا رکرو ےت موب رکا 
تج ك 2 گا اورا سے ی ودب کر نا جاک کس ے ہاں 

اور شک فان سن 2ھ گیاجا ےگا۔ 

۶ انقطع ماء الرحي الخ: : ا کا عاصل مہ ےک گر ین گی سی تک رک را سے رکا تھا جن کین مکی اذا کے 
نیک یگرر پا کے قابل موت متا کو چا س کہا جارس کی اجر مک نے اور ین کی کے مقائل جوا جرت ہوا سے م ا 
اعت اجاے ا ات مر ے کیو کک بھی ممقودعلی کا ایک ججزء ے اور ہے جز را سام سے اس لیے اس جزء 
یش لارو ہوگا۔ 


کک د - الْمَشر ‏ وو ٹر کے 2 


ثڈے ہے ۔9 7 دڈے ر £ 
ين وقد عَقد الإإجارۂ لنفسه انفسشخت الاجارةء لانه و بقي العقد تصیر المَنفَعَةٌ 


ا 
3ے 3 رج 2 32 ag‏ 
+ 07 


مس 21 8 DET‏ ای سے ور ل 2 ٠‏ 7 ا012 وی 
غَفْدمًا ليرو لم تنفيخ مدل الو کیل وَالوّصٍي والمتولي في الوَقفِ لانعدام مَا اشرنا إليه من 


E 


تجوز وَاِنْ عَقَدَ 
ترنجد: فرماتے ہی ںکہاگرموج یا تا ج میں ےکوئی مرہاے اورا نے بد ات خوداپے لیے اجار مکی موا ارہ ہوجاۓ 
کا لی ےک اگرعقد باقی رہ تو موج کیل وک منفعت پا مت ج رک یمملوکہاجرت ایک تیر عات ہکی موی عالت یہ چ زخقدکی وچ ےن 
موا ہے اس لی ےک عاد کے مرنے سے ا کی جملہاعلاک وار ٹکی طرفل ہو جائی ہیں او رر عات دک سس تقد لین جار یں 

ںا گرمرنے والے نے دوسرے کے حقدکیا تھا نار نہیں گے وکیل بھی اورادقافکامتو لی ایوہ اس مورت 
یش نیمات دک تن پلعق دکولینا معروم ہے۔ 

اللَاٹ: 


[المتعاقدین )ورین ج اہم معا کے میں ۔ڈانفسخ 4 نت ہنا ا لإینتقل ل ون [الوصی )4 
ذمردار ل[ المتولی چ4 ربرست انعدام چ مون ہونا۔ 


9 انا بل RA POR:‏ م اجادات کے میان مجر 
ایک ف رن کی موت مورت : 
صورت ست لہ ہے س ےک اکر مو ج یا متا ج ٹس س کو گی ایک مرجائے ادر ای نے اپنے کی لیے عق کیا تی ]شی یکی طرف سے 
ا ن ع2 تی اجار اوت ہوجاۓےگااؤد ہے ماطراس کے درا کی طفشل ہیں ہوا 
کین ہاگ رمرنے والا مو جر اور ما کک مہوت ا سک یکم وک منفعت او راک وو متا ج مواور اجار ےکو بای رکھا ہا سے تو ا یلوک اچ رت ال 
کے وار ٹکو ےکی عالاککدوارث عاق یں ہے ج بک ب کیت عقد ہے ثابت مول ہے اور یر عات کے لیے غابت پالتق رکو لین چان 
وی ای و ی کرت یا ا اں اکم نے والا عاق ر کی کا وکیل یا بی ہو یا 
اوقا فک موک ہواور ای نے دوسرے کے لیے تقد اجارہ کیا ونو اس کے مر ے ۳ھ ارا ےن کے ا 
کا اوران ےا اک ای سی ف لوم ٹیس کے بوک یہاں جو باپ عاق ے وہ درتقیقت عات اص یکا وکیل 
اورت جماان ے اور چو ںکہاصل عافد ز نرہ کر ے اس لیے تر جمان کے مرنے سے عقداوراس سے تل جل امور عافد یکی طرف 
یل ہوں کے اور ل وال قرائ ہیں لاز م1 ل 


َل ريصح سَرْطٌ الخيّار في الإحَارَقہ وال الافعي عاي يصح لن المُستاجر لیم رة لمعفْرہِ 


رو 9( ہے وو 9و و دو کو 


عليه بگمَاله َو گان ایا ره ِقَوَاتِ بَعْضهء ور كانَلِلمُوَاجرِ فاا یمه الَسْلِیْمایْضًا عَلی الما وکل 
رد رع ل رو وے کػ 9ے ےو و 


E‏ ت ع ی ای ر ر تو 
َالْجایع بَیْنهَمَ دقع الْحَاََةء وَقَوَاتُ ب عض الْمَعقَودِ عَلَيْهِ فى الإِجَارَة لا يَمْتع ال بخيار اَی گا 
بخیار الشَرطء بخلافِ الع هدا ن رَد د الكل مُمْکن في الع دُوْنَ اجار درط لو کی وَلهٰدا 
یجْبرا المستَاجر عَلى الْقبٔض إِذا سَلَم المواجر بعد مضي بَعغض الْمدة. 
ر چه: نات ہیں کہ(ہمارے یہاں )امار ے میس خیارشرط لگا :اج ہے۔ امام شاق وکیا لف ماتے ہی ں کر نہیں ےکرک 
اکر خیار متا بر کے لے ہوگا تو اس کے ل ےکا حت مقو و عل کو وای ںکرن مک ننیں ہوگاء اس ل کہ عقوو عل ہکا ہج حص فوت 
وچا تا ہے۔ اور گر موجر کے لیے اخقتیار موتو اس کے بھی لی وج اککمال متقودعل ےک صلی مک نکییں موی اور ہے دونوں یز سک خیار 
ۓ اع ہیں۔ 

ای وکل یہ ےک اجار عقر معا وض ہے اور ای شی کنل عقد کے اندد بش رط نیس ہے لبا ای یل خی رک ش رط لگا نا ایاے 
ےق یس خیارشرط لگانا اوراچارہ اور س علت جامع رخ عاجت ے۔اوراچارہ میں تضقو ملک وت ہوا خاریبکی وھ 
سے واچ کے سے مان نیں سے اذا خیارشرطکی وج بھی رکو ہیں ہہوگا۔ برخلاف کے کےء یق ال دج ےآیاگیا ےلہ 
قایس بور ی یکو واب ںکرا کن ہے کان اجارہ س ہے امکان معدوم سے اک لیے کے یس بویع کو و ایک ںکرنا شروط سے 
از مین ت ن ی و ار کساو زیت وی لح ےو ران ر 


E AER SOTO بط‎ glî 


ارڈ وای ںکرناءاوٹانا۔ إفوات 4 ہونا۔ مڑالکمال ) ورا پورا۔ یبرچ ب رکرناء جو رکرناء زیر یکرنا۔ 

مضی پاگزرنا۔ طلسم حا ےکر سی ردکرا۔ ۱ 
اجارے میں ش رط خیار: 

صور رٹ ستل ہے س ےک ھار سے بیہاں اجار ے یل خیارشرط اتا درست اور چا ر ےکن اغاق ووز کے یہاں ہے درست 
نیس ہے۔امام شافق ول کی دمل ہے ےک اجار ے میں ممقووعلینفعت ہو ے اورمفعت شیئا فشیتا ادر یوما فیو مال 
ون ری ے ہذا نوست ہکا حت اے واب کر ہے اورت :ی مو جریلی و امال اے متا لود ےکا ے وگ مرت خیارٹل 
جومنضحعت حاصل ہہوگی ا لکاکوئی ساب بی یں ہوک اورا یط رح منذحعت ارقو علیہ می لی اوت آ ےکا الاک ا کا لین دجن 
نکی کے سا تج ہیں ہوا بے لاان وجوبات سے خیار ما ہوگا۔ 

ار ول ید ےک بہت سے امور می اجار ےلو رقا ںکیاگیا ے اور خیارخرط کے جواز کے جوا لے سے ایک اضاف اور 
E E‏ کہ چائز قرارد گیا ہے لہا ہار ے ٹل برج ادلی بی خیار اہ ہوگاء اس ل کہ اجارے 
کی یاددی ضرورت 7 7 کے اور چوں کناارے ماس عفد کےا ندد قش طیں چ اپ ا اک حوالے سے بھی اس میں خار 
شرط چا اوردرست ے۔ 

ربا امام شاق مز کا یکن اک خارطرط کی وج ے متتقووعلی کا ایک حصرلوت بب چاتاے اوراں تقس آجاجا ےلو ا ںکا 
جوا ب بی ےک جب ای اون خی ری بک وجرسے انح رد ےو اہر ےک خیار شر کی سورت می لبھی س مائح ہیں 
ہوگاء اس کے برخلاف تم می اگ کا پچ حصہفوت موا نے فو ا کی وال ینک ن ہیں ہوگی کیرک مع میس پو ریم کو وای کر کان 
ہے اس لی کہ اوت عقد پور یع موجودہوٹی ہے ج بک اجارہ می بوت عقر پورا “حقو دعلیہ مو جو نیس ہوتا ای لیے خیا ریب وشرط 
گی وج ے ای میس لور ے حقو رعل یکی وا بجی کی شر یں ےاو پش کے اتی مکی اس یل رددرست اور جات ے۔ 


سے سر الڈر ‏ ٹر رگ کو پک سو ہس ہہ اھ کے د 6ے کرس و کرم رر لئے و 
قال وتقسخ الإجارة بالاعدار عندناء قال ہہ می ! الا بالعیب» لان المنافع عنده بمنزلة الاعيان 


نى يور اکلہ عله شه ا وا أن الماع عبر بوص وهي اة عليه نشار اذز في 

اة عيب قبل الب في الع فسح به إا الَعلی بَجْمَمهَا وَهُوَ عِجْر الاق عن المي في 

سرت ائ لم يَسجق به وها هو مَعنى الْعذر ِندنا وَهُوَ كَمَنِ اسُتَاجَرَ خاد ليقع 
سے سو رتس نی سر سو بت پت ۱ 
و 


في المد عليه الْرّام ضرر زَائد لم يَسْتَعحق بالعَفد. 


7 آنْا کا لر( .چو FER‏ ام اچارا ت کے ان ٹش ۹ 
تھی : فغرماتے ہی ںکہہمارے بیہاں اعذارکی دجہ سے اارہ غ کیا ہا کا ے ام شاق وپ فر ہا کے ہی ںک عرف تیب کی 
سے کرنا چان ہے ءکیوکہ ان کے یہاں متاح اعیان کے در ہے میں ب ںیک مائ پر عق دک نا ہا ت ےل ےک کے مشا وکیا 
مارک نل نی سک مائ ب نیس ہوتا الک دی ممقو دہ سے ہیں زا جار ےکاعذراییاے کے پش سے پیل جس عیب 
ہوا ہے اراس ع رک وچ ےاچارہ ر مہا ےک کیب ان دلو کیا چ اوزو سیپ بی ےک ما اشا ے عرز 
کر کے مز برضرر براش تکرے اور ہے ضررعق دک وجرے ابت نہ موء ہمارے بیہال مذ رکا بی مطلب ہے ۔ ا لکیا شال ایی سے 
یی ےکی نے داخت کے ڈ اکٹ کوک را ب دروک وج سے ا کی اڈ ال دے کک رورت ہوا یاولی کاکھا پان کے یکی 
باود پت یکوکرا برل کن ال سے پیل ہی وی نے شد ہر ےت عکرلیا و اجارہ سا ہوجا ن ۓےگا یوگ اجار ہکونا ف کر نے بی عافد پر 
ایا ضر لا زم موا جوعقد سے شاب ت یں ے۔ 


اللات: 
اعذار پا شع ہے عفر رکیء ما یا ایک عارش جن سک وج ےکا م نہ ہو کے۔ الاعیان ہہ اوی اشیاء۔ طاحجز 4 عاج 

آنا۔ فتحمل ہہ برداش تکرناء اٹھانا۔ اإحداد) دندان ساز۔ ط(یقلع 4 اگکیٹرے۔ ط(ضرس ہہ ڈاڑھ ف(وجع چ درد۔ 
ططباخ نان بائی۔ 
مز رک متا اچار ےکا 2 

ع عبارت د یٹ سے پیل آپ یہ بات ذ جن میں رح لک زار عت کی ہم ے اور یہاں مزر سے مراددوضرر سے جو اوق 
عقر م وجرن ہو بللہ بعر س پیارا وکن ا لکا وجود تار بی ہو اور ال کے وجود س عت ریکل ل نہ مو اور عات کے لے اس ضر رکو" 
برداشت کی انی رعق اف کر نکن نہ ہو مک کا اکل ہہ س کہ ہمارے یہال اعذار سے اہارہ غ ہوجاا ےکن امام شاق بھی کے 
یہاں اعذار سے اپار یں ہوتا 7 و کیا ہا تا ےء ا نکی دل ہے ےک متاح اعیان کے در ہے 
شش ہیں اوراعیا نکی ط رع منا نع کی اچار وکرنادرست اور چا ے اورای جوانے سے اچارہ لئ کے مشا ہے اور کواعزارکی وچ 
ےت نکیا سن ا ما و اا وت کن ناک 

Gl‏ ےک اہ کے ی ا کان و وا د 
ہ پاتا اپا ہار ے مل جوع زر موتا سے وہک ش لئ پر تعکر کے سے یله بیدا ہونے وا ےکی ب کی رر اوتا ے اور بر زف ے 
یی کیب ظاہرہونے ا ےر ا ا کر ئمکن ھ20۳ 
0 0 ایک ہی ےلچ ضررزاند کیل کے ضیرعقد کے نفا اکن زہہہونا ا سکی مال ای سے یی ےکی ک 
ا دردتھااوراس نے واڈ ٹوا لیے کے لیے سی لیب الا سا نکو لاہن علاجع دمحا یہ سے پل ی دردھیک گا اس نے 
دی اعاتا یا سے کے ل ےکوی باور تی مقر رکیا لن شب زفاف سے پل اکھنا بنانے سے بی کی قورت لع نے ان E‏ 
اناو مگ رگ دس ابرا دبا ے۴ کیوکہ ھال کی اجار سے کے نغاذ یں ضر رز اک درآی را ست ون کک 


DP D2 a 7‏ در ہی ام بالات کے مان تج 
کے غیرا جار ےکا نفا کان نہیں ےنرک ای طر بح ورت ستل می بھی ضر زان دکا پرا ہنا ایک عذر ے اوراس کے اغیراچارہکونافز ' 
کر نامک نہیں ےلپذااس مزر کے کش نظ راچاروغ مرکا ے۔ 


ہے و 


وکام من استاجَر دكاتا في السوق لیتجر فی فذحب ماله وَگذا إِذا اجر دگانا أو ارا د ثم فلس وَلَرَتة. 
يون لا يقير على ايها إل بعَمَنٍ ما اجَرَ فسح القَاضِي الف وَبَعَها في الذَيْنِء لن في الْجَري على 


پوس دے ۱ بر کی و و کر کاپ ے ہے گے ى2 ص 


یلو رس یی ہوں ہو سج ری رٹ 
َس القَاضِي الع ساره إلى أنه يقر إلى فَضَاء الَْاضِیٰ ذ في التقّضء وَھگذا در في الزِیَادَاتِ في عذر 


اَن وَالَ في الْجَامع الصغير وحمل ما گن اه عدر إن اجار فيه تتتقضء و َه يدل عَلی انه لا 
خا فلو لی طا الاي وجه أن ها رة ْب قبل اقيض في المرب على ما ر رد العَاقدُ 

بالْفَسْخء ء ووج الول آنه قصل مجه فيه قلا بد ِن ِلژام لضي ومهم من وف قال إِنْ ا ا 

اهر لا يَحتاج إلى الَصَاءِء وَإِنْ گان عَير ظاھر کالڈین یُختا جٌ إلى المَضاءِ لظهور العذر. ) 


زچه: ایےے یا ای نے تار تک نے کے لے با ارم کوئی کا نکراے بے ی کن ا کا سادا الخ وکیا ای طرح گر 
کک سے دکان یا کا کہا سے مر وی رسف ہوگیااوراس پراتے ترت ل مگ ےکہاجرت پر دک ہوئی چیزکوفروش یکر کے ا کان 
ےکر کو ارک ا ام قداو کر ےار رد مول رگوش فر وخ ت کر ےک ای ےک نقاضاے 
عقد لک رن ےکی صورت یل أ سے الما زان دضرر برداش تکرنا ہوگا توعقد سے شاب یں ے اورووضمررزا یچس ہے کوک ہوسکتا 
ص0 
چھرامام ‏ ور یکا رک القاضی العق ہکہن ال با تک طرف اشادہ ہ ےک ہن اجارہ کے لیے قضاے تا ا 
زیادات یس دین کے مزر کے تخا ای طرں پرکور ےء ہا ع غم رم امم یی نے یں فر مایا ہ ےک عوراو ںکوہم قزر 
ترار دیا ے ان مل اجارہ ع ہوجا ےگا ریقول ا جا تناز ےک اہارہ کے لے قتا سے تیک ضرورتگڑیں ے اورا کی 
یت ی ی و ےی ر ا ی 
قول او لکی یل یہ ہ کہ لف فیرسنلہ ےہ اذا کی ٹل اترا زی ضروری ےش مشار نے دوو آولوں س 
موافقت اس طر کی ےک اکر عرتلا موت قا سے تقاض کی ضر ورت نیس ہوگی اوراگر عذ رظاہرنہ ہو جیے وہ تو قا ے اض یکی 
ضرورت پڑ ےکی تاک عذرظاہرہوجائۓے- 
اللاث: ۱ 
لالسوق) آزار۔ تج رہ باب افتعال ے تار تکرنے ےن میں افلس کال ہگیا۔ إیفتقر 4 


تان مون رورت بنا EE‏ ت ہونا۔ یتفر د0 
کاروبا رك پ ہو ےک صورت می ںکرا ےکا : 

بر ےت ےت تحت 
ا لکاسارائ اٹ ہیا سی نے اپناءکان اپ وکا نکراے ب ٹھگ ہراس پرا سے تر لگ کہا ارہ پروی مو دکا نک 
قرو کر نے کے علا دہ وای دی نک یکوئی صورت ت یں ر ای تو ری دونوں صورتیں مزر خی اقل ہو ںکی اوران وج بات سے 
ھ2 کنا درست اور چائز ہوگاء ال س ےکر اچارہ کے برا جراے عت اورنقاز تقر م مت جراورموج دونو کیل ا ارب سن ۱ 
لی ورت یں متا چ رکو اور ووسر صورت ae‏ نو رواش یکر سڑ ےکا پوکی ور رر ظاہرے ‏ اور دوسرکی 
صورت میں ررر زا س لیت ے > کوک دی نکی وصویا لی کے لے تی اس مم وج رکی املا کو کر لگا اوراس سے اے مز بل 
ضررہوگا لا اس رر سے کے کے لیے اجارہ سح کردا جا ے ءاور ہےر قا ے کی سے ہوگا کرک ات کا تولخ القاضی ای 
رف برقال شمس الأنمه السر حسی ہوالصحیح ؟ اع رع درن کے تخا زیادات می بھی بج عم اور سے اورا ۔ 
کے برخلاف جاح ر یں اھڑا ر ےتا اچارہ کے از خود نے اور ہون ےکی راحت ہے اور ای صراحت کے کش نظ رح 
اجارہ کے لیے قضائے قا ی کی ض ور تکیں ہےء اس و لکی وکل ىہ ےک اجار ہکا عذد تہ سے پیل ٹف یس عیب پیدا ہون ےکی 
رح ہے اویل ل اتش اکر یوب ی ت عقر کے ےتا کی ضر تھ پال ناصورت مہم اجار کے لی 
تا ےن ی 71 0 

زیادات دا لےتو لک وکل ہے س ےک ع کی دجرے اا ہکا ر مون ملف فی ے اور امام ما کک وشافی ول سر یڑ کے یہاں اعزار 
ای کا ےک اما کے کے کے کی کرو و ےکی از ا رض حرا 
زوا ت اور یا م سرک رداقوں ریق د سے ہو ےرا سے پک اھ اہر باہر ہو ضا سے وای کے افےرا ہار مہا ے 
0 نہ ہو اک صورت میلک اجارہ کے لے قضا سے تش یکی ضرورت درکار ہ گی اک ع ز رک لکر سا ےآ چا ۓ اور 
ا ان کے ی و 

a FF رو‎ TIP TEI 


ومن اسُمَاجَر داب لیْسَافرَ عَلَيْهَ ثم بدَاله م مِنَ السفر فهو عذرء نه لَومَضى على مُوْجَب الْعَقدِ يلرم ضرر 
زا راد يذهب للح قَذَهَبَ وَفتة أو للب عَرِيْمَةٍ قَحَضر أو لِلٍجارة قافر وَإِن بدا لِلمُگاریٔ 


ag 


يِس ذلك بعد ر نه مه أن َع َبَْعَكَ الذَوَابٌ على يد تَلمیذہ أو أجيره» ولو مَرض الْموَاجر فَقَعَدَ 
7 ھا ےت 4 و Gd‏ و ردو 
فکَذِلِكٰ الْجَوَابٌ عَلى رِوَائَة الأّصلء وذکر الگرخي انه عُذرء انه يرای عن ضر يدقع عَنهُ ند 
3d‏ ر2 روو 7 سس 


3 وص و وم ا 9 974 ١‏ 
الضرورة دون الإخيارء ومن اجَر بده ت باع فليس بعر لانه لا يمه الصضَرَرٌ بالمُضِي على موججب 
7 ر ر روو د دز و ٤دی‏ ر 0 
العقدِ وإنما يفوته الاسترباح وانه امر زَائد . 


وا بس 8 $ E‏ عبد-ےمدصظہ 
تڑچه: ا ری ےس کے کے کو سوار یکرائے پرلی ری وج سے سف رتو کی وکیا تیعر ہے کیرک اکرو ومو جل 
عقدکواضجام د ےگا ڑا سے زان دضرر لان ہوگاء اس لک ہوسکا ے وہر کو جار پاہواورال کا وتم ہوگیا ہو یا اسۓ مھ لو نوتش 
ا جار پا ہواورد ہآ گیا ہو یا تھا رت کے لیے جار پا مواورا کا مال تم ہوگیاہو- 
اوراگر مورک سرمت ی ہوا ےل یز رکیل سے اس کوک سب کے وہ ا ودنہ جاے اور اپنے شا گرد یا مزدور کے پاھ 
سوار یج دے۔ اگ رھوج پار ہوااورس ر بن گیا تو بسو کی روایت کے مطا لی بی کم ہے اما مک کا سب کہ برعذد سے» 
کوت یھی ضرر سے خا یکیں چ لپزا اوش رورت موب ے بضرر وو رگیا ہا ےک کن پلا رورت ای ج ےی چٹراں ۔ 
ضرور تگال ے۔ 
۱ کی نے ان لام ات پ درا روش تکرد باقع ریس ہے ہیک عق :اکر نے می مو اوضر ہیں ہوگاء برا 
ےت حا لکرنا وت بعد ہا مار با ایگ زان معا لہ ے۔ 
اللَاتٌ: 
دابة یچ پا جانورہسوارکی۔ بد ال ) ا سکومعلوم ہواء ا سکوسوتھا۔ إعزيمة) ر افعقر تتا ہونا:نقیر 
ہوا ۔ ڈالمکاریہ/راے د والا ۔ إيقعد 4 يمنا - طاییعٹ بن دے۔ بعر ی ہہ ای ہوا الاسترباح 4 
گل کر 
ارادہ یرل چا ےکاعژر: 
ET‏ ا کک رن AT‏ جب اک نے جاک اراد م کیا تو وم ن 
ربا 5 ہو چکا تھا اوراس کے مک اکر مہ کت کے رج شحم ہو جات ا اپن قرش دارکی جوا می جار پا تھا اکر وو خودحاض وکیا و 
ظاہرےکہ اب ا کا سفر کار ہوگا اور ے چ ر ںای ےک بیس عزرغار ہو ںکی ءلہذاعقد ر ہوجاتۓگا ۔کیوکگ اکر وہ عق رغ یں 
کر ےک توا یک کا کیک ہوگا اواس ےکا ےکا ضررجھی برداش تک اڈ ےکا ۔ 
ا کے برخلاف اک و فی آ جات یازد مھا ے اور ھل تیا کا اس ن ین نین ب 
ےک اکر وو خوڈہیں ہا کےا کیا ہوا؟ سوار یکو ہے خادم یا وکر شا او کے پات یواد ے ای لیے ا کا مکی وجہ ےسفر 
بس نہ جا ڈیا یں زر یں قر اردب کیا ےکن اما کر نے اسے م ڈ ر رار وکر اجار مکو کے کاف وی دیا ہے اور دی ہے 
کی ےک اس صورت میں کی ارا سے عق دک حالت میس ا سے ضر اتن ہوک ای لی ےکن ہے دوس راٹس ایی طرح سواری نہ 
چلا یا ہواور نے کے د ےپ جا میں اپ اعا م حالت یل فو ا کا سفرہکرناعذرکیس ہوگا یکن یما ر کی عالت مل عذرہوگا۔ 
ومن اجر عبدہ الخ: ا لکا ماگل بر ےہ اک ری نے اپناخلا م کہا سے پر دیا ادر مرت اچارہ کت ہونے سے پیل ی 
اسے متا بر کے علاو دای نے ات روخ کردا تو رڈ شی عررنییں موی اور ا بن کےا یں بوک RI‏ ان 
اجارہ میس مو ج رکا نقصا نکییں ہے بل ا ےت مکمرنے میں مستا رکا نقصان ہے اس حن متا مکی 70 ن باون کین 


ر DFR Dw Hali‏ ر۵ یھ رع رت یماش 
8 کیاجاۓگار ہا مستا کے جواز اورعدم جوا زکا؟ تو اس سلس مس جع قول ىہ ےک بدت اجار کک برک موف ر ےکی ای الموج 
کوا س فلا مکی پپری تت وصو ل کر ےکا انیارکیس ہہوگاء بی کی الات ہی کا قول ے والب مال صدر الشھید۔ (ناے۹ء۲م) 
قال وَإِذَا استَاجر الْحَیاط غلاما فافلس ترك الْعَمَل فَھر عل له لا رمه الضرر بالْمضى عَلى مُوُجَب 
عمد لفات مق ار ماله رع د2 فا حاط تو 7 ٤‏ ا 9٤‏ 7ھ 
العقدِ لفواتِ مقصوده وهو راس مالهء وتاویل المسالة خياط يعمل لنفسهء اما الذي يخيط باجر فراس 
ماله الحيْط والمخيط والمفراض قلا يعحَقَق الاس فيه وَإِنْ راد ترك الْجياطة وَآنْ يَعْمَلَ في الصَرْفِ 
بو ا ی ووے کی ٤و‏ و2 ے ٹیہ ےڈ رر .2 ےل رور رور . 7 A‏ 
َه ليس بعر رنه یمن أن يعد اغلام ِلْخيَاطة في نجي وَهُوّ يعمل في الصَرْفِ في حِيَرٍ وهلا 
بخلاف ما ذا استَاجَر دگاتا لِلَخیَاطة, قان اراد ان یتر گها وَیَشتَغل بعَمَلٍ اخر حي جَعَلَهُ عذرا» ره 

2و ہے ٹر ےے۔ وو ٹو 3ے ور ور کے ہو 7 ےر 9ر 979ر 7 و 
في الأصلء لان الراحد لا يمكنه الْحَمع بین الْعَمَلَیْنء ما هتا العامل شخصان قامکتھماء وَمَن استَاجر 
4 سو او 2 و ق لی سی 2ف تر 5 IG‏ و ر سے ۔ے 12 ےج >> 2٤‏ 
لام لِْخْدَمَة في المضرِ ثم سَاقَر هو عُذرَ نه رای عَن لرام صر راد لن عِدمَة السّفر اَشَق وَفي 
ور ہاو ہب رر س 1 ہے صوےے۔ر تو درد 9 3 سے ے > ڑڈے۔ ص۱ کر سے ص و 9 
لمع من السّفَرٍ صَرَرء وکل ذلك لم بَحَفق بالْعَفد فَیکُونْ عَذْراء ودا دا اَطلَقَلِمَامَرَ انه تقد بالحَضرٍء 
کے کے ہے ے ‏ ٹیو پر کی ۔۔ر ‏ دوو وووے لو و وے و 9ے ےر ر ٹڈ وڈ2و رعو رور 
بخاإف ما إذا اجر عقارا ثم سَافرء لانه لا ضرَر إذ المستاجر يمكنه استيفاء المَنفعَة من المَعقود عَليه بعد 
> دے ر ہو ٤ر‏ ر ڈ2 ووی۔ہ۔ ہےر بور وڈ م .9 ہے ا و 1ے 9 9 2 
عَیبنه تی لو اراد الاجر السَفَر قَهُو عدر لما فيه مِنَ المع من السَقَر اأ ارام الجر یدن السكنى 
وذلك ضرر. 

۱ رنتجد: فرماتے ہی سک الہ درزی ےکی لڑ کےکو از مت مرکا کین پچھمردہ درزکی تلاش م وکیا ورسلا ی یری چھوڑ وک و عزر 
ہے »وتک عق کو ناف کر نے میس ا ے ضررز اتد لاح ہوک اس نل ےک ا س کا قصو میں راس المال فوت ہ وکیا ہے مس ےکی جا وی ہے سے 
کہ یہاں خیاط سے وہ در زک مراد ے جو کی ڑا غر ی رک اسے میتا مو ر پاوہ در زی جوا ری کپٹڑزے سیت موتو ا سکی اسل بی سوئی 
دع اکہاو ری ہے اور انس میں اقلا شن نہیں ہوتا۔ 

ار درزی اپنا پیش تر کک کے زرگر یکر نا پا سے فو ع رکاں موک »یوت ایی وکت س کہ وہ ای کنر ےل کےکوسلاگی یل 
اد ے اور ایتا دور ےک نے می زرکر کیک نےء ےا کی صصورت کے برغلاف سے جب اس نے لای کے ےرات بے دکان لی بغر 
اسے چہھو کر دوس اکا م کر ےکا اراد وکیا ایام کہ لیڈ مورا بیس اسے عفر رق رار دیا ےا ل ےک ای یک کے لیے دونو ںکام 
کرنائمکن ٹیس ہے اورا تل وانے نے مس دولو ککاممکرنے وانے ہیں اس لی نع ٹین امین خمکن ے_ 

ارک نے شھ ریس غرم تک نے کے کو خلا مکراۓ پ لیا پچھراسے سف ورجش م وکیا نو ے زر ہوک ہکوہ یضر اکر کے 
التزام سے نال یں ہے اس لی ہک سرک خدمت (یادہگراں پار مو ہے ج بکسخفرش کر نے می ضر ہے اوران میس ےلو چز 
عقا سے ناب ت کیل سے اذ اسفرعزرہوگاء کپ یحم اس عصورت می بھی موا جب اجار ےکوملق رکھا اس دی لکی وجہ سے جوک ری 


ر ناب SIO‏ حر A Le‏ 
س ےک دم تفر کے اتی مقید موکیء ال کے برخلاف اگ کیا نے اپتامکان اجادہ دیا یمو کوس ردیل ہوا( قسف مز کین 
ہوگا) کیونکہ اس میں ضررنٹیں ہےء اس ل کرس ر کے باوجودموجر کے لیے ممقودعلی سے فع اص کر کان ہے بت یک اکر متا س 
کر ےگا نے بعد ہوگاکیونہابقاے اچار ہک ورت بی سفر سے کلم اچب کان مار راد الا ما اور 

رر 

اللغاث: 
۱ [الخیاط چ4 درزی۔ افلس ملس ہونا رکال ہونا طالمضی پہ جاری رکا آمو جب اتال قاضا۔ 
طراس المال 4س رباب اخیا ‏ دسا المخيط سولی مقراض )نی ۔ طالخیاطةہ درز یکا پش یعری) 
خا ہہونا۔ م اشتق کې زیادہ مشقت دازا - لیتق )تید ونا مود مون ۔ عقار جح سی اورا وسو لکرا_ 


غیبة عم مو دی ۔ والسکنی پر نشی 


اجار ہکا ایل سورت: 
عبارت میں دومتے بیان کے گے ہیں : 


(۱) ایک درز سے جوخودکپٹراخر برک تا ے اور را سے فروضم کرت ےگو پا بی میٹ کاردا کرت ہےہ اس نے ملا 
نے ےکی ت رکھا اورا یکی اجرت مقر رکر وی لیکن پچ رپ ہی ولوں میں وہ ورز ی مفلس او رکنگال ہہوگیا 
اورا کی سماری ایی تم موی تو ہے افلا عزر ہوگا اوراچارہ ہو جا ۓگ ٤اس‏ لے کہ ابقاۓ اچارہ یس اس درز یکوضرر اض ہہوگا 
اورکا کان کے بی ران پر عردو اور لاز مکی مردورگی لازم موی اکا اس کہ یہاں درز ی سے وہ درز ی یں مراد سے ج 
صرفسول دھاگ ایی یگ ی جائۓ ادرکام شرو عکردے کیہ ری موی پا ری سے اوران 22 ہون کا سوال بی یں 
ااءاسی لیے صاح بکتاب نے وتاویل المسالة سے خاک گل اورمصداقی ی نکردیا ے۔ 
اورصورت ستل کم چو در زک مراد ہے اکر وو ملا گی کا م تک کر کے نار یکاکا مک رن چا سے7 اسے مز یں شا رک بی گے ا 
اورا الا پر ی نول 7 یں ہوگا > یوگ ابقاسے اجار ہ یس متا رکا صا یں ہے ب نے ی ہے بای و رک ای کنا سے 
ی گر یک سے اوردوسر ےکونے یس ا ںگڑ سے ےل کا کا مکرائے اوروولوں طرف ےک اۓے اور چون دولو ےکا مرنے 
دالے ہیں اس سل ےکا مک نے یں کوک بر ای جج یں ہدگی ای کے برخلاف ا اک ری نے سل یر منے کے می ےکوکی دکا نکھرائے ر 
یب رسلا کی چھو کر ووسر کا کر ےکا ہکن بھالیا امام مھ بل نے سوط یل اسے ع رق دہ ہے اورا عذرکی جج رسے اجار ےن 
کودرست بای ہے اک لی کہ یہاں عا ل ایک سے اورکام دو ہیں اورایک یخس کے دو الک ال کا مک نے میں بال ہی 
لپ اا پ بای سے نے کے ہے یہاں اجار مو کیا جا سا ے۔ 

)ےی سے ورخرس غدمت کے کو لام اجرت لا پچراےسفردر یش بویا کہا ےکر نے خر 
داروا ٹوک دا ای لا ےک سفرکی خدمت یش دشواری ہوٹی ہے او رس میں جانے سے اجک نان ہوا ہے اک 


و نال Dw‏ کک ARLE DBT‏ اکا اجارات کے ماناش چ 
ۓیے ووسفر سے اکا رکرتا سے اورال کے اکا یں مستا جرکا صان ہہوتا ےکک م لیے لخ راس براجت لازم موی ےا ز١ا‏ یکا مخ 
طریقہ یہس ےکس فرکوعذرقرار درا ارہ ٹن کردیا جا ہب یکم اس صورت می بھی ہوگا جب متا ج نے سفراورتضرکی تی وش رط کے 
بن ساق یکوغرمت کے یلما یں اس صورت می بھی سف رمز رہوگ اورستا جرز بر تی خلا مکوسف رٹیل ےہا ےکا دارکیں ہوگاء 
کو کن زم کا اجارہ مرکان وره کے تربع سے عفر کے س اق تیر ہوتا سے اورسف ری نے جانے سے ما تک او راچ میس ڑا 
ٹن جات ہے۔ ْ 

اس کے برخلاف اگر مکا نکرایہ بر دہینے کے بح رخ مو رکوسف کی وب کی ت یب سفرعذ ریش ہوگا ال لی کہ یہابقاے اچارہ 
سے اخ وت سے اورا سفرکو چاری رھت ہو ۓ بھی موجر کے لیے ممتودعلیہ ےن a‏ کر مین ہے ہاں اک رکو وتا جرسٹر 
کر ےگا تب یےعذ تز ہہ ےگا ال لی کہ اجار ہس یں جانے سے مال ہوگا اور اکر ووسر یں جاتا ہے فو ر لن کا فا کہ اٹھاۓ یر 
ای زارت لازم گی ءا طر ن ور راو مان سے فال کن مون :ا ور یہاں اجارہ 2 را ےکا 


444. 


7-7 


دی و :ب2 9 


گال وَمَن اسُتَاجَر اَرْصَا أو استعَارَهَا فَاخرَق الْحَصَابِد قاخترق شىء في رض خرای فلا ضَمَانَعَليهءِلانة 


ES‏ شبة حَافر اير في دار فسهء وَقِيْلَ هذا إا گات الر رياح ها هادنة ثم تَغَيرَبٌ. 
ما ده كات مضطربة يَسَمَنْ »لن موقا لنار یعلم نها لا تستقر في أرضه. ۱ 
تتمد: فرماتے ہی ںک اگ رن یٹ نے ہار سے اکرائے ہرکوئی مین لی اورا کا کوڈ ارکٹ جلا اش کی وج سے دوس گی: نشین 
کی پکیتی جح لکئی ت اس برضما نکی ہوگاء اس ل ےک حرقی ا تسیب میں تعر ی نہیں ےلو برای گیا یی ےکی نے اگ 2 
کنوا نکھودال(اورکوئی اس سک رک رھ کیا ) ای قول ہے ےک بینم اس صورت ٹل ے ج بآ لی ہر 7 
مان اکرش روح سے ی ہوا یل ری بوت حرق ضا ہوگا کی ویک ہآ ک لا نے وا وای ا تکا بن یمم ےک ہآ ک١‏ ین ای نکی نت 
02-9 
اللغات: 
امعاجر کے پر اینا۔ استعار ) عار یت بر ماک لکرنا۔ إاحر ق جلانء نذ رآ یکرتا۔ [الحصاند ہ 

کھیتیاں ہیی کی زات راشیاء۔ و[مععد) مد ےکا :کا * ان بو جک رنتصا نکرنا۔ [العسبیب کچ بب خنا۔ فإ حافر اود 
دالا الریا ح) ہوا ۔ إھادنة )4 ہت دی ۔(مضطر به( تز 
بزو یک تق بل چان ےکم : 

مل عبات د یھن سے پل ہے بات ذ من میں رک ےک یہی حصا ا e‏ 
سے ج ےکھاد یا ےکی خر سے جلا اتا کروی ٹف اسے جلائے اورا کی چنگای ہیں سے اکر دوسرے کے کیت میس جل 
جاۓ اورا کاپ زتص ملا د ےآ جلانے وانے برضمان اورتاوا تل ہوک کین ار دوسر ےک یھت عل ےکا سبب بجی تح کے 
شف اس سبب میں تدر یں چ اس لیے اس تان کیش م ںی شال ابی ے کت رئا 
او ادو سم کر کہ وا ںھودنے وانے پا نکال :وکاک رن ور مہم گر قی کی نان میں 


7 انا ہے جطر(۴) EAE PIER‏ احا م اجار ات کے بیان ٹل 6 

نس الا ی ویر ہک راۓ ہے س ےک عدم عا ن کا م اس مورت میس سے جب اوقت اران ہوا تی نہ ہواو رکون ہو 
ان اکر ہلا ے وقت ہوا تیز ہو او رچ کرد وسر ےک میں کو کلک جاۓ نے حرق ا یکا ضا ہی ہوگا اس لی ےک ا سے ای طرح لوم 
کہ مو اکر زک نقصان دہ ہے اور بے گویا ا صرف می کی یتیک تک کد وی رہ ےکی پناس صورت می کرت دی موک نکی پر 


ان داجب ہوتا ے ال لیے یرن کی ضا کک ہوگا- 
گال وَإذًا أَفَعَدَ الصٌبًاغ في حانوته مَنْ يَطرَح عَليه الَْمَل بالنصفي فهو جائرء ن هذه شرگة 
الوجُوه في الْحَقیْقَة يقّة هذا جس و بہیتے ھی الْجَھَلَةُ 


رچه: اکر درز ی یا ریگ ربز نے ای دکان یں ای ےآ د یکونٹھادیا چو یل اجرت رکا م دتا ہو ہے ہار سے اس سل کہ یی در 
یقت ش کرت وہ ےرا مقعر انی وچا ہمت ےار م ےکا اورکار یکر اپنی ”ارت ےک مکمر ےک اورا a‏ 
ےکآ کی ھا کی اتی ہگ۔ 
اللغاث: 
ب[ اقعد یہ ٹھا نا :شی نکرنا۔ [الصبا غ ) رر یز طحانوت ) دوکان۔ لإیطر ح) ڈالناء زے لگانا۔ رجاهت 4 

متام ومنصب» رحب داب واآقیت _ لإحذ اقة )ہار ت فا ری ۔ فاینتظم پچ شائل ہوناء عام ونا 
رکم تک ایک صصورت: 

لہ یے سب ےک کا کا میں خا ات اور پیل کو رکھنا جات سے اور پچولیا جوا تت ےکر وہ اس کے ممطا لق معام ہکر نا بھی ورت 
ےالہتصورت اجار ہ سے خاد یح ہوکرشرکت و جہن جا سے کی اورشرکت و جو کے طور ہر موا کا چائز ےلپ اورت ستل می بھی 
عقر درست او رجا ہے اودآ نی گر چن ایال ٹول رنقی سے میا ن کک سآ کی چات کت عقر اور نناذ عقد ے با 
یں مول _ 
قال وَمَنِ استاجر aS‏ شش و 1 
يجوز وهو قول الشافعي وا لِلْجَهالّة وقد يفضي ذلك إلى المتارَعةء وجه الإسْمِحْسَان أن الْمَقَصَودَ 
رالراب وهو علوم وَاْمَحْمَل تيع وکا فيو من هة رفع بالطَرفِ إلى المتعَارَفِ قا تفي إلى 


یٹ یبر 0 


الْمََاََعَةَء وکذا اذا لم بر الوا وَالڈُتَر 


تنجد: فرماتے ہی ںک اگ رس ینف نے ایک اونف اچاد لیا کہ ای پر ای ےہاوہ د ہے اور دولوگو ںکوسوا رک کے بر کک 
افو چائز سے اور متا جرکومتا داد رک کا اتی ہکا * تاس عق جائزنیں ےکی امام شای ول یہ کو ل ے بوت اس میں 


ر أ 2 $SS‏ و جچور AE r‏ 
چات ے اور ہے چہال کی فی الی النازعۃ ہوجائی ےء اتا نکی وکل ہے ےک اص لقصو وار ہوناے اور وو معلوم ے اور 
: کیادہ رکھنا رلوب کےتاںع سے اورا یکی چباات متا داورمتعارف وو وک طرف سے یہر نے ےت ہوجالی ےا ہذاے مفضی الى 
المنازعة یں موی بیجم اس ورت میں ے جب بست اور پاد رکا جذکرہ تہکیا ہو۔ 

سے 79 

اللغات: 


٠‏ ژاجمل ہ4 اوتف شر _ کک د #المعتاد 4 حروف» عادت کے مطالق ۔ #يفضى )4 باج ے۔ 
ل[المناز عة ا یر تفع 7 ہو جا ۓگا۔ الوطاء )بسر ٹہ چادر- ْ 
کپادداجارے میں شا مل رگا اہیں؟ 

متلہ یہ ےک ہاگ ریش نے دوہودہ رکید وآ دمیو ںکوسوارکر ک ےک کک کنیا نے کے لے ایک اون فکراے پر لیا اقا ہے 
معالہدرست اور چا سے ورمتتا جرک وا تیا بھی سا مان رک کر نے چان کا اختیا ر ہوگا جتنا موا مود ے پر لا دا جا تا ے» کوک یہاں ال 
مت رسوا ر و رب ل کر میک م نا ےاورطا ہہرے ےہ جب سوار بر ولوگ نوا ر ہوں ان کے سرا خور وولو :0 کاسا مان گی ہوک اورے 
اا اگ چ بول موتا ےکن عرف اورعادت کے اخقبار سے لاد ےک حرط کے ے جات م ہوجائ ۓےگاء اور نفا عق رکا 
راس ال لکلیراوروا سن ہو چا ےگا۔ 

اس کے برخلاف قیا ا عق اتکس ے امام شاق ہاو کا کی تول ہےء ت کی ول ہے ےک چو ںکیگ لک مقداد . 
پول سے اور ہے جال شی ا ی ا لنازء سے اس لیے ارہ جماات کے ہوۓے ہو سے معت رکو چا زی کہ کے لیکن ہماری 
طرف سے ا کا جاب کی ےک جب رف اورعادت کے طاب ل کل ہکان ظاہر ےک جات ہو جاۓ گی اورغازختز 
کا متلرصاف ہو جا ےگا۔ ۱ 
فائدہ۸:- الوطا ےن بی سر ھ۷" الثر وتا کیج ےکم اور اکر عقد جس ان چیزو ںکی 
وضاحت نکی جا ےآ عرف عام یس بھاکی جانے والی یزیر فیا کر کے اک ےتک 


قال وَاِنْ شاه الْجَمّال الْمَحمَل فهو جود نه انقی للجَهالة اقرب إلى تحقيتي الرضاءِء قال وَإن 

سجر ا حمل ڪال ا ِي لاد اگل وه فی الگرلی جار انبر زع تاکز اش 
اد4 4 r‏ 9 

عليه حملا م مکی في جع رق توفي گا عَيْرالوّادِ مِنَ المَكبلِ وَالمَوْزُوْن, وَرَذُ الرَادِ ٰ 


وو 


معتاد عند الیْعض گرڈ الْمَاءِ قلا ماع من العمل بالإطلاق . 

تنجد: فراۓ ہی سک اکر اونٹ وا اکیادہ دکے کےا زیادہ تر ے یرتک یہ جہالت مس ش مکرد ےکا ورای سے ایی طرح 
رضامند ی شن ہوجاۓے کے ہی کا ی نے ایک ن مق دار میس زاو راہ لاو ے کے ےکوی ا فکراے ل اور رآ 
یں اس میس سے پجھرکھا لیا تو جومتقدارکھالیا ے اس کے توش اتا سا مان مادنا اس کے لیے جات ہے ؛کیوکمہ پور ےرا سے وہ ایک شعن 


و اا RL SED‏ امات بانج ¢ 
ل دار ہے اود ووا رہ پا لادن ےکی طرںح زادراہ لا دنا کی محروف اورماد ے لزا عقر اق ہو ےکی صو ر ت ہیں 
ھی ای سے اوی چ ما کس موی _ 
اللغات: 
خلاجمال تر پان» اونٹ والا الج مل اده اجو د چ ببت کشر اتفی )یاد کے دا ۔ #بعیر 4 
اٹ ۔ لالز اد لوش إیستوفی ‏ اورا لوراوصو لکنا وإمعتاد مروف _ 
۱ کراب پر یسوا ری کے بو چ ےکا سیل : 

عبارت یش دومن برکور ہیں : 

0 وا ےل مل اوش کا با لک از خود مور ےکا موا تاور مشاہ ھکر ےو عق اور عاق گن ذولوں 0ر 3 
ہوا وکا سل اور لکی جال ت ی وبا ےگا و اق نکی ضا غ دک کی یں ہد نے گی اورا کر اا 
برا خور کور دت ہو جا ےگا اورعقد کے نغاذ اورجواز سے کوک ہا ت کے باد ل چٹ ہا یں گے _ 

(۴) ای کس نے مہم میک جانے کے لی ایگ اون فکرائے پرلیاادد می وضاح یکرو کہ اس وئ اپار ے ۲۵ء 
کیلوسا مان ما دکر نے جا لگا اب دوران راک اا نے سس سا مان شش سے ۵ ریلووز نکی متقدار یس سا مان اتا لک رلیا تو اسے ہے 
تح موک اکان مق دا رکا د ورا ایا ن خر یدک راس پر لاد نے ؛کبونکہاصمل مق ر ہے ےک دہ لور ےا تین مقدرار می امان لادرے 
گا ہڈا جب اور چہاں اس متقدار شی ہوک ا سے بہاخقیار ہوگا ک وواک یک کر نے سے اف کے باد سے یل وستور ہہ س ےک دی 
یٹ ا لیف شرو کیا جا تا ہے اور تھے تھے لی خر ہوتا سے منزل درمنزرگل ا کی گرا یکل اتی ہے اسی رم ذاورا ہکابھی بجی 
گم ہوگا خواہ اوقت عقہ ا یکی دضاح تک یگئی ہو یا کی ہوادرخواو وہ زاوراہ کے علاد کوک دوسراسامان لا دے بب رصورت مقار ین 
تک اسے لادنے سے دتا یکوئی طاق ت یں ریو کت ۔ فتیا اکم وعل آم 


44 4 


5 لہا ب م چ و تی ا ار امام مکاتب کے دس 


یناب انام مکا جب کے بیان ما ہے روہ پا 


اجارہ اورمکا ت بکو ایک ساتھ بی نکر ےکی دجریہ ےکہان بل سے ہرایگ کے ذو لی ٹیر مال کے متا بے مال حاصس کیا جاتا 
ہے نان چو ںکاجارہ کے مال مکاحب کے مال ےک ہیں :اس لیے اجار وکومکا تب سے پیک میا نکیا گیا ہے۔ 

ہکا تب اورکنابت کے لفو ی ن ہیں یش کر ناء ای لی ےلگ ہک رم وف می کر نے وا ےکو مکاح کہا ہا تا ے > یوک دوجو کو 
کرتاے۔ 

مکاتب او رتایت کے شی معنی ہیں ایا عقر جوم وی اورا ی کے غلام کے مین لف ٹکتایت سے منعقد ہواوراس ےن الال 
تر فک ٦‏ زاوی عاصل ہواور ی الال رق ہگی-(ماِ:۹ر٣۳٣٣)‏ 


2 ردص پ گ3 گے“ ےا 7 ے ہد ہے ت روو یے ے۔ ۔ فا سم “٤‏ ہے ےو کس 6ا 
قال ودا کاب عَبده او امه على مَال شرّط عليه وقبل العبد ذلك صَار مكاتباء اما الجواز قلقوله تعَالی 


ہے ووود 9و ے وھو 9 9 97 ہے 2ی ھو ہے تڑئے۔ ڑج و و و ا ای لا وی 
#إفكاتبوهم إن علمتم فيهم خيرا) (سورة النور:٣۳)‏ وھٰذا لیس امر إیجاب يإاجماع بين الفقهاء وإنما هو 
کوو 2و ور دو لوک و کے ی مرو و ? وے ورقف وو ٤ی‏ کو وو و 
امر ندب هو الصحیح في الحملٍ على الإباحة إلغاء الشرط إذ هو مباح بدونہء اما الندبية فمعلقة بهء 


2 و2 9 


ر 2ور و 7و ررد ںو ےر و ٤وا‏ را 7وو ور در 39 ہد ے۔ ےد 5 of‏ 
والمرّاد بالخير المّذ كور على ما قيل ان لا يضر بالمسلمين بعد العتقء فان كان يضربهم فالافضل ان لا 


کی e‏ 9 ر ر 729 وھ ےد کہ کک ۔ 4 ا رو ہے 9 9ے و و 
يكاتبة ان كان يصح لوفعلهء وَاما اشتِراط قبول الْعبدِ فلانه مال يلزمه فلا بذ من التزامه» ولا يعتق إلا 
کے ل اا ےو 2 ا کے دق د ےا ےےٍر وص ی و ہد ہی 
باداءِ كل الیل لقوله عليه السلام ايمَا عبد كوب عَلى مائة ينار فاڈاها إلا عشرة دنازیر فهو عبدء وقال 
2 ۔ ۶2 او و 9 سے سر ے۔يھ ر تے۔ و کک سی ا ت سر و ےو رد ۲ 
عليه السّلام المگاتب عبد مابقی عليه درهم» ويه إختلاف الصحَابة مونم وَمَا اخترنا٥‏ قول ريا رَضِي 


۔ 9 وو شو و 


4 9 ردو 2 رہ ر جج 2 ٤‏ ود۔ے۔ ر رھ و ا 
۱ عنه» ويعتق بِادَائہ وإِن لم يقل إذا اذيتها فانت حرء لان موجب العَقدِ يغبت من غير التصریح به كما 


7 ا بل جرر7ا ادا یک پک اعام اب کے مان میں جح 


د 


او 


تزچه: فرماتے ہی کہاگ رموٹی نے اپنے غلام ا ابی ماندکی پر یہ ما لکی شرط لک اسے مکا تب بنادیا اورغلام نے اسے قیول 
کرلیا او وہ مکاتب ہو چا ےگاء رپ جوازت الہ پاک کے اس ارشادکی وچ سے س ےک راک ہیں غلاموں میں خ نظ ےو میس ہکا ب 
الد بیامر با تفای فتماءایجاب کے نی ہےء کباب کے لیے ہے مکی ہے کیک اسے اباحت پو لکرنے سے ش اہ 
وک نال ز مآ ےگا گا ای ل کہ یرون ش رط یکناہت مباں ہےہ ہال سب موتا ای ش رط کے سات صلی سے او رق رآ نکر کم میس بیان 
کردہ ٹر سے مراد ید ےکآ زاد ہونے کے بعد وہ مکاح مسلمانو ںکونقصمان نہ انیا ےکن اگ رہ دوسلا نول کے لے مہو اسے 
مکاتب ت با ہتر ہے عالاکاکرمکاعب بدا تع ے۔ 

فلا مک اس عقدکوقو لکرنا ال لیے شرط سب کہ بد لکتابت اس پر لا زم ہونے دالا ال ہے لزا غلا مکا اسے اچ او یہلا مک را 
شرو ری ہے اور لور ے بد کی ادا گی کے بضی فلا مآ اوی ہوگاء اس لی ےک حطر تم ا اکر یی رکا ارش گرا ہی ہے جوغلام سود ینار 
پر مکاتب بنا گیا او رای کے لو ےد ینار اداکرد ےےل کی دہ غلام د س ےگاء دوسرکی چگ پہ نے ارشادف رما اک ج بتک کاب 
ر پیک درم بائی ہوا وقت تک دہ خلا د کا ای میں حضرت کیہ امک اختلاف ہے اورم نے ضرت ز بی اٹہ ع کا قول 
اتا رکیاے۔ 

ى ی۰" دو گےلو آزادہوکیوئل برو ن صراحت 
ہیں ا رب کرنا واج ب یں ہہ کت قال ے۔ 
اللَات: 

یجاب واج بکرنا_ ندب پا تب E‏ ۔ ا نشی دینا۔ الغاء گن مکنا 
ضا حکرنا۔ 
٭ روہ ابوداود» رقم الحدیث: .۳۹۲٦‏ والترمذى» رقم الحدیث: ١٦۱۲۔‏ 
9 رواہ ابوداود. رقم الحدیث: .۳۹۲٦‏ 
فلم وکاب بان: 
مورت مت تھ سے وا ع س کہ ما لمکوچ اور برل قر ار ویر تلام یا موی سے عق تابس یکا موا لک نا ش رما درست اور ہاگ 
جاور رآ صد بیث ال پرشاہد ہیں چنا چ رآ نریم نے صا فافظوں مل اعلا نکر دیا ے فکاتبوھم إن علمتم فیھم خیرا 
شر فام ا اند یکی زاوی اسا ورسلا لوی کے قران رہ دوق یں کاب با پائ اقب ہش فکادو 
جوامر ہے وہ اتباب کے لیے سے نلو وجوب کے لے سے اور نہ تی اباحت کے لیے ء وجوب کے او اس وچ سے اکا کہ 
مکاحبت مو ی پلازم اورضرور یکی ج للا یک می لوف سے جا لو عقر“ TOE‏ یں ے اوراباحت ‏ ت 


0 ابا KATE FIER (De‏ اکا م کاب کے مان س 5 
یے پرا راک وج ے کل ہے کوت مکاحبت ف ف درست اور چا تد ے اورا کا جواز اس شرط کے اق ری ایت سے اب اگ ہم 
اے اباحت تمو لکر بی کےا فرمان خداوند یکا فا تہ سے خا ہوناماز مآ ےگ جو ایک کیب سے ) الائ رآ نکمم برط رع کے 
عیب سے پاک صاف ہے :ال ےق رآ ن کرک مکی فصاحت دو بلاغت کے ٹیش نظرہم نے اسے قبا ب گول کر دیا ے۔ 

و ما اشتر اط الخ :ا کا حصال ہے ےک معن بیس جو وقبل العبد ذلك آ ا ےا کافائبرہ ہے ےک عق راہ عقا ہو نے 
کی صورت یس فلام ہی اور برل از مآ ےگا اس لیے اس میس خلا مکی می لام ہوگی اک نیف مالا رات نہ ہونے پاے اوروہ 
برضا ورغبت پرل اد اہ کےء اور پر لک ادا گی میس یہ پات ر ےک بنا بل سے موا ےا کل اد اکر نے کے بع ری غلا مآ زار 
ہو ےگا اورا یکی پو ری اوا کی سے پیل د ہآ اویل ہوگا یوک جد ی پاک ٹل صا ف طور پر ہر وارد ے المکاتب عبد ما بقي 
عليه درهم ایط ر ‏ اإوداَوشرلیف ٹل ے أيما عبد كوتب على مائة دينار فأدها إلا عشرة دينار فهو عبد ن جب 
تک فلام پد کاب تکا ایک ایک دوپ یادا کی ں کر ےگا اس وق تک کآزادی اور بیت سے ت مکنا رڈیل ہوگاء صاحب پرای فر ا ے 
ہیں کہ اس یل حط رات سیا کا اخلا ف ی ےک فلام ل انز کان آذ اد ہوگاء چنا ےرت این حوور ا ے 
ہی سک ابی تمت کے بقزر بدل ادا کر نے سے دہ آزاد ہوجا ے گا حشرت این باکر ہے ہی ںک عق دکنات کےکاغخغرات اور 
رتاو ہے نے بی و ہآ زا د ہوا ےگا حضرت ز یھ بن ابت سی یشرع ہکا قول جما ےکک کے موان ہے ای لیے ہم نے ان کے 

قول پش لکیاے۔ 

ویععق الخ:فرماتے ہی ںکہ جب فلام ورا ہر لپکتابت اداکر د ےگا تو ہآ زا دموا ےگا خواد موی نے اس سے ب کہا ہہ اذا 
أديت البدل فانت حر یا ہکا ہو کوک بد لک ہشیت ت لف کیاکی ے اورجب باح شت ری ےک نکووصول لیا ےنم بر 
ا شت ر یکا تن خابت اور خت ہو جانا ے اک ط رع جب مو ی لام ے بد لکنابت وصو لکر ےک تو خلا مک یآ ز ارک سے ت مکنار 
ہوجا ۓےگاء اورجٹس طرع کے یں مشت ری پرش نک مکرن واج ب یں ہے ای طرں عق رتایت میس موی پر برل یس سے بپ مکرنا 
ضرو ری اورلاز مال ے۔ ۱ 


ےر وو ودوو ں2“ رودو۔ ٤‏ 


ت وروگوے دے در ےر , ہ۶و۔ جح و ر 290100 اھ َ‫ ر وج د 
قال ویجوز ان بُشترط الال الا ويجوز مو جلا ومتجماء وَقال الشافعي ةة لايجوز حالا وَلا بدن 


تنجو ته اجر ھن اسيم في رمان کلب قذم الم قبله رق یاف السکم علی صله مل 

٠‏ کس ۔ ٠‏ 727 9 2 ۶ رو ودر و ےپ 7 ا 9-9-0 کت و_ ہسوے ‏ وج ےھ 

يك فان احْْمَال القدرة ٹابتاء وَقَدُ دَل الإقدام عَلّى العَقدِ عَليهھَا فتعبت بهء ونا اهر مَا تلونا من غير 

کی ا و ےکی دووہےےہء۔ ‏ ٹر 2 ولوق ٤ار‏ رر . ورو .ہے 5ے ., د ےد 

شرط التنجیمء ولانه عَقد معاوٴضةِ وَالبدل معقود به فاشبة الثمن في البیع في عَذم اشتراط القدرة عليوء 

بخلاف السَلَم على أَصلناء ان لْمسْلمَ فيه معقود عليه فلا بد مِنَ القَذرة عَليء وَلانَ مَبتی الكتابة عَلّى 
و ۶و 3ےد 


. ے۔ ہے و 0 و کک روہ ے۴ 3 ےا سے ا 7ی ر 233 2 
مُسَاهَة مهل المَوْلى طظاهرٗاء بخلافِ السّلمٍ ن مَبتاه عَلی المُصَایقَةہ وَفي الال كما امتدع من الا دا يرد 
إلى الرق. ۱ 


7 آل الہاے ہلر) OX‏ پور AERA‏ اکم کا جب کے کان ٹل ۹ 
تنجد: فرماتے ہی ںک رف مال اداک رن ےکی شر طبھی از ہےہ میداد ادا یکی شر طبھی از ہے اورقطا وا یھی از ے امام 
شاف واو ربا سے می ںک فو ری طور پر اوا کی بد لک شرط کات ہا ہیں سے بار شطوں ٹیش اداکمرنا ضروری ہےء اس لی ہک مکا نب 
س 

کی اصل بے کیرک ہکم الیہ ا کک ہو نے کا بل د تاس اوراس کے کن میں اوا کی پت ر تکا ال ثابت ہوتا سے اور حقد بر اقرام 
کنا ای با تک REE‏ ےت ان کے کرات مز 

ہیارک وسل جما ری ییا کرد ہآ یی تکا اہر بوم ےک میں یمک شروک ےہ اوراس ےبھ کک کا تبت عقر موا وض سے 
اور پرلم“مقود ہہ ے لپا عرم قد ر کی شرط لگانے کے جوانے سے میک می صن کے مشاہ م وگیاء برخلاف تن کم کے جھ جار اصل 

کے مطال نی مو کیک ای میں لم فی ممتودعلی موی ےلپزااں رثدرتضروری ہے ادرال 0 وپ دار ویدار زی >ٍ ے؛ 
اپا ہا ہرمولی مکاح بکومبلت دی دےگاء بر قلاف سکم کے »کیرک ا کا اک ب ہے ادرف الال بد لکوش رط کا ےکی صورت میں 
اکر کا تب بدل اداء نکر ہکا تو دوبارہظلام منالیا جا ۓگا- 
اللغاث: 

ام تل ادھار۔ ومسجم ق ار طالنجم ق بان ڑا ق )غا چ الاقدام اقدا مکرنا۔ لوا 

م نے حلاد تکی۔ ل[ المساهلة زی »وا تک 4ت5 المضايقة گی _ 

مک تب تک نز واوھارصورت: ۱ ۱ ۱ 

صورت مل ہے س ےکہ جما سے بیہاں حال وکل اور سی نظ اوحار اور ڈیا دار پر طرح سے بد يکتاہ کی ادا گی ور ست 
اورا سے ج بک امام شاق ووز کے یہاں قز ہرل لے ی شرط کاب تکا محاملکرنا جائزنیں سے اور بر کی اوا کی کا شی وار 
ہوا شرط اورضرو رک ہے کیوتک عق دکتابت سے پیل ہکا عالت رتیت او رکید بی کی عالت موف ے اور اک عالت شی مرکا بکوکمانے 
اور مال ش کر کا موخ نہیں متا ء اور اکر و وکا م بھی ےو مولی کے ل ےکماجا سے اورمکا تیت کے م راو اا 
کمانئیں سکتاءاس لیے بد يکتاب تکوضسطوں میں لین ضروری ے اور نف اورفو ری لی کی شط سے عقد فاسد ہو جات ےکا اس کے بر 
خلاف تق لمکا معابلہ ےا اکر چراس شی لع معدوم ری ہے اور ادھار کےگوش نق کی کے مون سے یکن یرم امام شاش یھی کے 
یہاں ہا ے٤‏ ای کر زاد وتا ادرا شس نی الال ماک بن ےکی اعلیت مو جود موف ہےاسی لیے دو سلم پرآمادگی 
ارک رتاہے اورا کا کی پر اق ا مکرنا خوداس با کی ت2 لم فیک ادا گی در ہے پاک او سے امم شال لور 

اقترا لکرنا درس ت ہیں سے ۔ 

ولنا ظاهر ما تلونا الخ: +09 دعل ترآ نکر مکیآیت فکاتبوهم إن علمتم فیه خیر انلا ہوم ےء 
کیونکہ اس می می الا طلاقی مرکا حب تکام دی گیا ہے اورنقز ادھاراورقیا وار سےکوئی بک کی سک یگئی ے لزا م او تی کی ش رم کان 
س زياد یک نے کے متراوف موک اون پر یاد یکر نا رل ے۔ 


رو انام مھ AEE +E ARL SOTE‏ 
ہا رکی دوسری وکل بی ےک مکا تب عقر معا وضہ ے اور بد لکتاہ تقو د ہہ ےک اسے او اکر کے ممقودعلیہ س م ت اور 
آزاری وا کی جائ ےکی نو پر کات مخقود بر ہو نے کےجوانے سے کے مشاہ سے اورت تن کے ین میں بی ضروری 
یں کشت رک ن قاد ہلپ زاکتابت مکی خلا مکا ل قاور موا رط یں ہہوگا۔ 
ین بس رکا عاط ہمارے ۽ یہاں اس سے ف ے »کوک اس میں سلم حقو و علیہ ہوٹی سے او رھک ط رح صحت تع کے 
لیے بے کک کی لیم برتقادرہونا ضروری ہے ای ط رح کر یکم کے لے سم الیکا کم فیہکی لیم پر قادر مون بھی ضروری سے 
اورامام شا کا ےلم ی( ای ال کے مطابقی ) تیا کنا یں ہے اس لی ےک کاب یکا محاملہنری او رولت نی 
ےاورمو یکی طرف سے نو تح ھی ےک دہ بر تا گی مکاح کی ار کات ضر ےکا ارت 
خی مکوشرط اورضروری قرارد ینا نی ہے۔ اس کے برخلاف بن سلم سک اوران ہوئی اوم فیک اوا کے مقر وت 
ارب اسم کا حت اپا ہن وصو لکرن ےک یکوشت کرجا سے اوراس سلسلہ میں ووکسی بھی طر حک کی او رسای روانییس رکا اپا اس 
سے ا سو ور e‏ 
فوری طور پر برل لن کا محامطہہواورمکاتب اسے ادا ےکر کے توصب ابن دہ 4 سے ریت ادرظلام مین جات گا 


رورو ر بای ہے 


ل رجور اة اد شور إا ان قل اح الجر حف اوجاب ابول و الْعَاقلَ مِن اهل 
اقول َالَف افع في حَقهء > والشافعي تمہ یَخَالِفنا فی وهو بناء على مَسَالَة إِذن الصبي ي 
الَجَارة, وَهدًا پخلافِ ما إِذا گان ديعل الع وَاليْرَاءَ ل پ٣‏ بيد مةه > تی 
۶ ی عَنه عَيْره لا عق وََسْتََدُمَا دَق . 
رچه: کے فلا مک یتب تھی اتد چ( شیک دہ یجاب قو لکوت ہو ا لکہاہیاب قد تق وکنا ے۔ 
۱ کیوئ رتل مندقو ل کر ےکا اا ہے اورعق ہکات چچے کن میں مفیدجھی ہےءامام شالق ول ا ملل یس جمار ےت الف ہیں ہے 
اتلاف ےکوتجار تک اجازت دپے والے اختلاف پئ ہےءاود گم ال صورت کے برخلاف ہے جب وہ ظلام مع وشراءکونہ 
عتا ہو ہکیڑنکہاا سکی طرف ے تقو لکر ن یں ہوکااورعقدمنعقدننیس وکا یک گرا یکی طرف سے دوسرے نے اداکردی تو وہ 
زاوش ہوگا ادریرنے جورم دی ہے اسے واک نے ل ےگا ۱ 
اللغاث: 
يعقل) کت بو۔ طحق کہ ثابت بوا۔ التصر ف ل۔ ينقد عقر ہونا اتیپ ادا کرنا۔ 

لإیستر دچ وائیں لیا ءلوٹانا_ 
چون ےک مکا عبت : 

سورت ست وا ےکہ ہمارے بیہاں ینس طرع سی عاق لکوتھار تکی اجازت د ینا چا ے ای طرح سخ رتل سے 


7 آل الہاے لر 0) جک تر تا تی یا اام مکا تن کے یانش : 
تاب تک موا لکنا کی درست اور ہا سے اورامام شال وی کے بیہاں جو ں کسی عاق وتار تک اپا زت د بنا یں ے 
اس یگ برخیر عائل سےکمابر یکرم کی نیس ہے مارک وکل یہ ےصح ت لکی طرں عبد عاقل ےکی موا کوقو کی 
کن ا ورن ہے اور اک تبولیت کت عق کا دار ےلپ زا عبزصخیر اقل جب عق رتو ل کر ےکا اال ہے لو ای سے عق کنا بر تکر نا 
ھی جا سے پاں اگر وہ تیر عاق مو اورک وشراء کےمف ہوم سے ناواتف ہو ال سے عق کنا پا ہیں سے اورت تی ا لکی طرف 
سک قو لکر اور برل کرک ہے یمن رکے ا ای ہون ےکی وج ے عق بطل سے اورعقد ال میں نل 
نرازی میں ے۔ 


ے4 یں 9ے سے سے وہر ر ی‫ 
َال وَمَنْقال لِه جلت عَلَيْكَ الفا تَوڈِيْهَا ٳلي نجوما اول النَجُم کذ ١‏ وَآخرَۂ کذا ادا اڈیتھا فَاتَ ح 
8 رصوے ے ے IK‏ سد ارۓ gy‏ 727 

رس رو وت جات و شهر مائة 
یڈ 99 پ22 سار ای و ہے و ص ہہ لَكَتَانۃ 00 02710 
فانت حر فھذہ تبة في رِوَایة ابي سُلَیْمَانَء لن اجيم ب يدل عُلَی لوْجُوب وَذلِكَ بِالكِتابةہ في نسَشخ 


ابی حفص ل یکون مگاتیا اعارا بالتعليق بل دا مَرَة۔ 
زچه: فرمات ہی ںک ارک نے اپنے غلام س ےکہایل نے تمہارابد لکنابت ایک پا رمق ر کرد یا ے اورم قط وار کے ر ہے 
رم کی قط اتن اورووسری قط اتن اور جب رتم اداکردو کے تم آزاد ہو کے او راگ ہردے کے روم مات کی 
کول ےا تک یل ان ری او ا ں ا تک کے اب تک اوا و ار 
ہوک ےو اپوسلما نکی ردایت یل ہے کا تبت موی ای لے قر مقر رکرناوجو بکی وکل سے اور بیکتابت سے خابت ہوگی ارفص 
کی ر کے کے میں ےہاتکس موی کوک اس نے ایک مرت ادا کی ےھ ےک کیا ے۔ 
اللغأاث: 
لا جعل ي مقر رکرناء رکھنا ء نجھانا۔ مالف ہہ پرار۔ امو دی ادا کرنا ۔ إنجوم 4 قيا وار «النجم هه قط 

طارقیق غلام نا اجيم یں بنانا۔ ل التعلیق )مم یکرنا۔ 
مع رومام کا حب تک صورت: 

عبارت کے پیج می عق ہابت درست اور چا ے ؛کیونگ مول نے ورک قبل اوش وط کےا کر عقد کے Hr,‏ 
کوکھول رکودیا ےاور ھال ت ککہددیا ےک اگ بد يکتابمتنئیں اداک رکو کےا تم رب بی رمو گے اس لیے اس صصورت میں و رورو 
5 رکیطرں کا“ بے ے۔ 

دو ری صورت شں جوم وی نے کہا کم کے ایک راد درم دو گےاس طر کے مر ی سوسودرا ہم دیدوڈ کل شھر مائة 
درہم تم اورآقییا ے اور ابوسلمان سے مروگ رایت یں دوسریی صورت عت ہکنابت یس شال اور دافل گی ءال لے موی 
کا کل شھر مائة درہ مک کر ق مقر رکا ال با تک مل سک وہ غلام سے بد يکما یکا ین دن ےک رر را ےہکیوکہ برل 


و ناسل SS ARN DION Dr‏ کے ماش ۴ 
کات کے علا وو مو یکا لام پر ہیں واجب ہوتا کک ۰ اوق کے نے کرابت کا یں کا کے کے رھ 
شطقرار د ےت ہیں کیو موی نے الف اداکرن ےکی شرط بر خلا مک یآزاو یکو کیا ے اور سل کل شھر مائة درھ یکا 2ے 
م اورتق رکس سے بطق سے اوراس کاخ کی ںی سے 

ان دونوں روایتوں یں فرقی ے ےک اکر غلام ایک بی مرت ایی چزار ورتم اداکرد تا ےلو افش کے بیہاں و ہآ ز ارک ہوگاء 
کوک کل شھر مائة یں پا گیا ج بک اہوسلمان کے یہا ECE E‏ سر 
کل شھر کر ےت 


۱ 2 َإ٥َا‏ صَحُتٍ اكاب خر ج المْگاتَبُ عَن يدالمولى ولم يخر ج عَنْ عن ملک ملکە, ما الْحَرُوجج مِنْ يده َلحَقیْقي 

e 

کلف یع وة ورج لی کقر ون رڈ .رگا عتم رج عن بلک قل روہ 

E‏ ویتحفق بتاخره» ته يي له وع 
سے 


مالكية يعت له في الم جدء قان اعَتقَة باعتاقۂ لاه مالك ا زليه وََسقَط عند بل الكتابة 
ةينو ق عتق بر سای 


ہےد ے rr‏ 99( 


لنَه ما امه إ مابلا بحصول الٰعتق لَه وقد حَصل دونه . 
تنجد: TRE TT‏ ہج 
را موی کے ڈت ے لن ت وہ ال وجر سے ہے تا ہکناب تکامع ن ہوا سے ادر دہ لاتا ے چنا ہکا ب ان تصرف اور کی 
کی تکواپٹی ذا تکی کیت سے ماما سے یا ال لی ےک ہکتایت کے صو کوخ ہر کیا پا کے اوردہ بد لک ادا ے ابا مکاحب ت 
رامک بھی ما کک ہوگا اورسف میس چان ےکا بھی ما کک ہوگا اکر چ موی اسے رو ےت 
اور مکا تب موی کی لیت 9ئ ےک ا روا ٹ گا وج ے مم یا نکر کے ہیں اوراں سی ےک مکاحبت عقر معاوضہ 
.ہے اور ا ںکا دارمماوات پر ے اورک یکوفوری طور پر ناف فکر نے سے اوا تلوت مہا ےکی اوراے موق کر نے ے مساوات 
ن وھا ۓگیء اس لی کہا صورت می اس ےایک طرع کی مالکیت خابت ہوگی ارہ جال کے لے ایک تن بھی مہ یس 
خابت ہوگاء اوراگر( مکاح بنانے کے بعد ) مو لی نے اےآزادکردیا فو وآ زاو مو جا ےکا »کیو موی اپ بھی اس کے رق ہکا ما کک 
ہے الہتہ اس صورت میں بد کنات سا قط ہو جا ےگ کوک نلام حصو حت کے متا ےے میں برل دی ےکا اتا م کیا تھا عالانہ 
پرل اوریپشش کے !خی ا ےآ زاوی لکئی ہے۔ 
اللغأاث: 
وصح 4 درست ہوا te,‏ فيد المولی کیہ ول کا تصرف اخیارء و کل ہل تن 2-7 یا ملانا۔ 
ظعقد معاو ضھ چ بای معامل شس می دوفوں طرف سے مال ہوتا ے۔ ل المساو اة یہ برابرکی۔ یعدم منعدم ہو ہونا۔ 


- 


7 لابا 20 RIM‏ ہے اکا مک ب کے یان س 8 
لاننجز لرگ واچپ الاداءہوا۔ 
خلا مکی ذات رمک ت تکاار: 

مورت ستل یہ ہکان لک تل اور کے ھاب جب عق دکتابت درست اود اک ہےر اہم یک مکاب 
موی کے ہاور ای کے تصرف ے خارجع مو چا ےک اود وشراء اورسف ر ونر ہکا ا کک ہوگاء نان بی مکاتب اک ی کی موٹ یکی لیت ۱ 
س بائی رےگا۔ 

غلام موی کے ت اورتصرف ےا وج ے کل جا ۓےگاک اب تکالفوی مع کم اور طا نا اورا ی عق سے فلام اپنے یھ 
: اورتصر کی کا کا تی ذات مس واف اورشا لک ن او ابیت کی ن وھا ےگا این و ےول تر کے ووک 
جا ےگا اک ۔کنابت اور رکا تہ تک صو وما سل ہواۓ ن اس غر دیع کی وچ ے کاب بد پکناہ تک اوا کی کے لے پت یر 
بار ےگا اور موی یکوای کے کا عون اور پر لل جات ےگا ۔ 

وما عدم الخرو ج الخ: ا کا اسل یہ س ےک لام عق رتایت کے بعد( ہر لکماب تک ادا کی سے پیل پل ) موی یکی 
کیت مس با د سے ےگا اور بدل ادا ایرد ہآ ز اوک ہوگا کیرک صد ی پاک ٹل ے المکاتب عبد ما بق عليه درھم ای 
کش دعل بی س ک عق ابت عق معاوضہ ہے ادرمعاوض کا داردمدارمساوات پہ ہے اب تام س کا ا 
سے لی کمک کو ناف کرو ہی کے مسادات فوت موچا ےگ اودظلام پر برل پرستور با رہ ےگا EOL‏ 
تک مو کر یں کے لو پھر صاوات ابت موی اودرقدکما حق ایت ہوجاۓے گا ء*کیوکہ اس رم فی کر نے جات تمرف 
مال موا اور مو ٹ یکو استینا ۓ بر لکا کن ےکا _ 

فان أعتقہ الخ: فرماتے ہی ںکاگرعتق دای تکا موام کر نے کے بعر موی اس ےآزا E‏ 27 
بہرعال تلام اچھ بھی ا یکی تکیت میس ہے اورا ے تن اتات عاصصل ےلان اس ورت میس غلام بر بد لکتا ہت لا زم نی ہوگاء 
کوت یہ برل تو ل حن کے تقایل تھا حا اکلہ برل ادا سے مخ ری مولی نے ا ےآ زاوگردیا چا ج جراخ برل کےا سے لکن ہے 


اس کے لیے پل او روش د ےک یکیاضرورت ے ۔ 
ال ودا وَطي المَوُ امول مکاتبَتة آرم العفرء تھا صَارَت رث احص بِأَجْزَالِها وسا إلى المَقَصود بالكتابة رَو 
لوصول إلى ادل مِنْ انيه إلى الْحَركة مِنْ مو با می تن نو ت زر 5تت 


رن خی عل زعا وید ارک ایت کو کت کا کر راد زی کا جتن یز 
أكسابها وتفسها إذلو لم يَجَعَلِ كذلك لاتلقة المولى قيمع حصول الغرض المبتغى بالعقد. 

زچه: فرہاتے ہی ںک۔اگرمولی نے مکاعہباندتی سے شڈ نک ریت مولی تر( مر) لا زم چوک کیو مکاح اپ اجا کی مالک 
اور تن ہوچی ہے اکہاس کے ذر نی ےکتابم کا مقصدد واصل ہو بجی موی کے کن میس بد لک وصولیالی اور با نکی کےعن یں 


7ر ai‏ جرم جک مر ۳ AER‏ رام اب cL‏ 
ح بی کا صول جو ای بد لکی اوا کی ق ہے او رشع کے متا نے اجزاءاوراعیان کے ما ےن ہیں۔ 

اگرمو لی نے با نکی یا ال کے سے پر جنا تکردئ ذ اس پرتادان لازم ہوگا اس دن کی وج سے جوم با نکر کے ہیں اور گر 
موی نے مکا کا مال ہلا ککردیا تو ا کا بھی ضان موک یوک مکاح کی جان اور مال کے میں موی اش یکی طرح سے یدنگ اکر 
ایا کیاکی تو موی ا ںکاسارامال ضا کرد ےگاادد و مقصدفوت ہوجا ےگا رعق سے مکل کا زوا 
اللأث: 

لوصول نبا طجانب طرف بإالحرية) زادی 0ھ" 

اشیاء۔ الف € ضا کن إغر م ضا ن ہوناء تا دا نگھرنا_ الغرض المبتغی طاو ب قصر_ 
مکا تہ با ندگی پ> اکا تقر فکایان: 

صورت ستل ہے س ےک اکر مول نے مکاح بائدی سے ون یکر ی با اس پر جنابی تکر کے ا سے ت کروی یاز کر دیا ی اکا مال 
ضا کروی تو یکر ےکی صورت ٹیل موی پم رلازم ہوگا ءکیونکہ مکاحیہ پان ری خو وتار ہوجالی سے اورا ےکم اوراجز ا ےس مکی 
مولی سے یاد ن ہو انی ہے اور چو ںک موی نے اس کے ماح یف عمکواستعا لیکرلیاے اس لے مولی عبرلا زم ہوگا کہ باندی 
ال تم سے بد يکابت اد اکر کے اورمولی اور کا خی دوفو ںکامقصود اسل ہو جا ء اور جنابی تکی صورت میں موی بر ضمان اور 
تادان لا زم موک »کیو عق دکتابت کے بحرم وی مرکا تہ با دی ےکن میس کی موتا سے او راگ رکوئی ای بار یکی ان ی ای کے مان 
کونتصان بات ہے قذاس پر مان ہوتا ہے اپا موٹی ای بار کی چان یا اس کے ما لکونتصصان ییات ہے تو اس پرجھی نھان ہوا 
اورا گرا نیس واج بکیا جا ۓگا تو موی کک بے ہو جات ےگا ور دی ر ے دصر ےا کا ارا مال بر پک نےگااددق تا تکا 
مقصود ‏ اص لکیں ہو پا ےگاء اک ےش ربعت نے مو ی لضان بنایا سے۔ 


444 


72 آنٰا بل 2,7 OX‏ +00 تھی یب اکا م مکاح کے بانج _ ) 


وق ف ہجو 
فصل ف الْجِتَابَةِ القاسدة 
ل ا 


یلا آ پکومعلوم بی ےک ہکات فاد ہکا زی ےک ج اور رز یش فاس د سے کے اور م وش موتا سے اس گج 
صاح بکتا بکمایت یھ کے احا م وسا یکو با نکر نے کے بح دکتامی فاسدہ کے احا م وم سا لکو با نگرد ہے زل ۔ 


ہے مار تر تر سو و سس پْو سس سوی دو پت 
+مل٭ ت 2و ہو ۔ ا 2 ےت م 9 د 

O e‏ نہ س بمَال في حَقه قلا يَصَلح بدلا قيس الْعَقد راما الثاني فِلانٌ قیْمتَة قيمته مجهو َة 
ED‏ ر 9و۶ 


را وجنا َو ق حت الها ضار گا ِا گاب على زب ادائ و قمص على تا 


E سو‎ 


هو مو جب الحَقد الماسد لانه مو جب للْقيْمَة. 


تنجہ: فرماتے ہی سک اکر کی غر یا خزے بے یا ای فلا مکی تمت کے کو اپنے فلا مکومکاحب ہنی نے کحابت فاسد ہوگءر ر 
اور مکی وجرے فاسدہونا تو ال وجرے ےک ممسلمان ا نکا فو نویس ہو تا »کیرک ہے چ می سلدان کے میس ال یں ہیں لہا 
ىہ برل کی ہیں ہوک سکیء اس لے عقد فاسد ہوجات ۓےگاء اور قبم کو عون بنانے سے اس لیے عقد فاسد موک کےا نکی تمت قدا 
6 کے واط ےول رق ہے اور یہ بات فاحشہ سے ا یکی قال ایک ے تی ےکی کے بادابہ کے جو مک ہت 
کی ءادر ال کہ ہے کاتبتك على قیمت کہنا ہی عقد فاد کے موج بک تمر ے» اس ل ےک عق فاس مو جب تمت 
ہوتا ہے۔ 
لإخمر غراب۔ ەخنزیر پچ سور۔ إیستحق ہہ ا قاق رکھنا۔ [تفاحش ) بہت زیادہ ہونا۔ اثوب )€ ڑا 

فڑدابة) جائور چ یا التنصیص ) وضاح تک نا کی چ رکا دن وقد بی کے ساتھ فک کرد ینا۔ 
حرام ا شیا کے بد لے میں کا عبت : 

ستل ےس ےک می نت راورختزی یا اس غلا مکی قم تکو ہد تاک عون مقر رک کے معام ہک نے سے عق فاد ہو جات گا اس 


2 ابا بلر) AR PIER‏ ام مانب کے سانش ¢ 
لی ےک سلا راورخ رکا ما کک میں ہوسکنا ہکیونکمسلمان کے تن میس یہ چ زر ستو ایس ہیں او ای عون مق ر ہک نے سے ریا حبت 
کا عو اور بدرل سے نای موتا لاز مآ گا حالالکہ اس سے عقد فاسد ہو جا جا ے لپا راورخ زک وکوت حت ر رک نے ےکی عق فاد 
ہو جا گا۔ ۱ 

اور رغلام 7 تښ تکوش قر رک ۓے ےکی عقا فاسدرہوجاتا ے کوت مق رارک اور وصف ی سوووسواور ورا م ودنانیرانی 
رح جیراور ری ہو نے کے جانے سے ا لکی تمت بول رہ ہے ور ہے جہالت جہالت فاحشہ ہے اور جچہالت فاحشہ مض رعقد ے 
اس لیے ای سورت میں کی عقد فا سد مو چا ےگا ا لکی دوس رک دمل ہے ےک عق فاس بی ج تمہ ال موتا ےا ا یکی تمت 
واجب موی ہے اورخووم وی نے فلا مکی تست برعت درکر کے عقد فاد کے مو ج بکی صراحد یکر وی ےلپ زا اس تصورت می لو ہر 
اوی خقر فاسر ہوجا ۓگا ۔ ا یک مشا ل ای ے ےکی طاق ر ہہ یا ٹب پر مکا تہ تک تو چو لک دا ہکی نوعیت ادرو ب ی 
عالت تہولی ےہ اس لیے اس چہالم تک بنا برعقد فاد سے اک طرح صورت مستلہ یش فک رہ وصف اورٹس کے اظتبار سے ا م 
ما بک تیت ہو مو ےکا وج ہے حقدفامرے۔ ۱ 


قال فان غ دی الْحَمْر تی وقال رر وا لاي تق إلا بادا اء قَيْمَة الْکَمْرٍء لن الد هُو القَيمَة وَعَنْ أبي 
ولا اشن ھی باداءِ ال مرء اه ندل صُوْرَة يعي بداء الْقيْمَة اَیضَا لاه هو ادل معتی, رَعَنْ 


ئ ےر وےے وو 229و 


ای خيلقة یہ ا کنا بی بء ين الْحَمْر إا قال إِن آڈیتھا انت حر لانه ینا يكون الع 
بالشَرط لبَق الكتابة وَصَارَ گا إا گاب على ميو او دم» وَل قصْلَ في اهر الرْوَاییةہ ووج ار 


هما َب اة أن لكر َر ال فی الَجُلة ان امار تى اعفد نها > وموجبه العتق 


وص 9 کے 


عند أدَاء الْوّض روط وما المَة يِس بمال اص لمكن اغیتار فی اعفد لہ عبر ق 
۴ مَعتى الشَرْط وَذلِك بالتنصيّم َي وا نق ياء َِْ الم ارم أن عى في قبْعَیہ اه وَجَبَ علب 


3 


رو کے اص درو 
۴ انفاسد إذا تلف المبیع . 


سے بے ۰0-1 


ر رَقَيته لِفَسَاد الْعَقْدِ وقد تعذر بالعنق فَیَجب رد قيمته كما فی ا 


رچه: فرماتے ہی ںک اکر ماب نے تھراداکردیا تو ومآ زد ہو جا ےگا امام زف روید فر ماتے می ںک شرا بک تمت ادا کے خر 
دو آ زاوکیل ہوگا ءکیوکہ تت ی درمقیقت بدل ہے۔ امام ابو اوست سے مر وک ےکرت راد اکر نے ےکی دہ آزادہوگاء ای لی ےک 
صورج سی بدل ہے اورا ی قیمت اداکرنے ےکی آزاد ہوا اس ل ےک معنا کی برل سے۔ححضرت اماما م وی ےم روک ےکم 
اگ رمولی نے یکہاہو ج بت راد اکرو گے زاو موا ےگوا کی صورت یں کی راد اک نے سے مکاح بآ اد ہو چا ت ےک کیو اس 
صصورتف ل ووشر لی وج ےآ ز اد ہوگاء عق دکتماب تک وج ےآ زاوئیں ہوگا۔ ال کی مال ایی کے کے نے مرداراورخون عق 
کاب تککیا۔ او رتلا رال روا ےس فز اور قرس کو فر یں ےق روف زمراورمیۃ سرن ادر دفر یہ کش راورخ کی ّ 


و ایا u‏ 7 ام A‏ می جج 
تی در ےچ میس مال ہیں اوراان عقر کے کتبا ہکان ے او رعق دکا موجب ی ےآ کرو وق ی ادا کی کوت 

مکاح بآزادہوچائے دنن مردارق مال یں ہے اورا ی سس ی عق رکا اتپ رک رکس سے اس لے اس سن ش رط کا اط 

موک اور برای ورت ٹل موک جب ا لک صراح یکرو یی ہو ۱ 
بب اور جب مین قراو اک کے مکاح ب آزاد موگیا تو اس پر لازم موگی کہ اپٹی تمت اد اکھان ےک یگ رکرےہ ای لی ےک عقر فاس 

ہون کی وج سے اس پے رق وای کرنا واجب تھا لی نع نکی دج سے یہ ایی حو زر ہے اس ے اس انی قب تکووالی ںکرنا و اجب 

یف سی رٹپاک ہوا ےو کی تمت واجب الردہولی ے۔ 


اللغات: 
بڑاڈی اداکرنا۔ طلفصل فرق نیل العو ض a o‏ 
وضاح تکرناء نام نےکر زک رکرنا۔ فڑیسعی کی کنا جار قیه چگردن» مالیت لف ضار * ہلاگ ونا 


عی شر ب ہونے ےکی سورت ت .لآ زاو یک 1 


صورت مکل ہے س ےک مو لی ےت راورخ رک یکو بد تاب کا عو مقر رک رن ےکی صصورت بیس اگ کا تب ےر ی خڑ راد ارد یا تو 
ا ہرالر دای شش دہآزادہوجا گا ال ل کرای نے قت برل اداکردیا ہے ۔اعام زفر وای کا لک ہے ےکہ بیغلا م کا بن رکی 
تمت اوا کے خی آز ارکیں ہوک ۔ یہاں یہس انچال چجیدد ےک إلا بأداء قيمة ة الخم ر سے ا ا یکی کہ قیمة نفسە ے؟ 
کشر نے قیعة الخم کا کر فیمنہ نفس ہار تلایا سے کن گر بے و سب کے یہاں بھی عم سے برا لک سے یہاں 
امام زفر ویٹھی کے تول پل بیا نک ےک یکوئی وچکٹں سے٠‏ ای لیے بہت ی ےک قیعة الخمر یار ما نکر ا ے امام زٹر لھڈ کا 
تفر دقراردیا جائے۔ وی بھی دوقا ںآ دی ہیں اوران کے خلا فبا ےکنا ماس ہیں ہے 
:امام ال لوس سے ایک روات پس ےک مکاح ب ترادا ےکا ببھ یآ اد ہوگا او قیہ یت خر پا تی نٹ اد ار ےک بھی 
آزارہوگا کک ایک جکر بدل ہے اود ومر مہ تمت بل ہے انی ں کہا جا ےکر صورم تابرل ہے اورا سکی 3 مت معنا لے 
بہاں ی شرا کرام نے ویعتق بأداء القيمة می یس مراولیا ےج جم اج رکے نز دیک را یی ر ے کوت ا 
سے نمی نکی کی ے اورا سکی تم توتو مول نے کاتبتك علی قیمت ك ک کر خودہی بدل قر ار دبا ےلپ اا ے معنا بد لکہنا 
کے مرکا ے۔ ہہ رمال اس مت ےپور سے پڑھیس اورخوددی ری سک کی یا ہوناجا ہے۔ : 
تب کے ایک ِء امول 0 غر اکرو ا ادما 
اس صورت شی ےکا ب نر طکی وجرےآ زا موک :مک تب تکی دجر ےی اورموقی کےقولإن ادیت الخم ر کشرز اوق ماخ 
کے اور جب حرط ا ہاے یذ زاء شش یم بی ت گی اہنت وگی جن اگ رمولی نے مرداراورخو نوکو قر ازو ےگرخق رک ب یکی اور 
إن أدیت الخ کدی تو ہا ںی مک تب شرط پور یکر نے پرآزاد ہوگا تاب تک دج ےآ ز اوتا ہوگا ہف ماتے ہی ںکہ ییامام شم 
وٹ کی ردایت سے ورت اہر بی یگنشت ےن خواومولی نے إن أدی ت کہا ہو یا ھا ہوم مورت اد ھی مر ورت 


ARLE SDSS ES D2 aa‏ رخ ساب سض 
ٹس مکاح بآزاد ہو جا ۓگگا۔ ہال ظاہرالروایہ می تم راورمردار س فرق ے میں ر اورخڑ ےک اوا ی سے مکاح آزاد ہو جات ۓےگاء 
مین مرداراورخون اد اکر نے ےآ زاوکیں ہہوگا ج بک کک موی إن أدیت ہیں کےگا۔ 
اور وجرت یی ےک شراو رف ڑے مال ہیں اکر چ سان ےت میں سقو میں ہیں یکن ان مل مالیت موجود سے ج بک مید اور 
رم یس مالیت ن یں ہے اس لی نھم راو رخ ز اض نان ا سے او رگوش کی اوا کی کے وق محوض تعن تق جابت ہوجا ےک اور 
0 ان چ ان دی تک گرا نک وشرو کرد ےگا تب وجودش رط کی صورت بل ان > ایا 
جا گا۔ ۱ ۱ ۰ 
وإذا عتق الخ فرماتے ہی ںک نف رکوک بنانے ۷" ے تا ہم فلا مآزاد جوجاتا سے :ان فسادعق کی وج ے 
۱ فلا مکا کا م یہ سب ہکوہ عحن کر کے رو پ ےکا سے اور مو کو انی تمت اداکر د ےکا ے قوم ال بطور بر لی جائے »کوک کی 
واج یاو جوز راورعھال ہے اس لیے جب خلا مآ ز ارک سے مکنار ہوگیا ہے اسے ا ےکہ تمت د ےکرمو یکوڑھی خوش لکردے۔ 


9ے 


سی و سو نہ I‏ 
٤‏ القّاسد» وَهذَا لان المَوّلى مرضي بالفَصّان رَالْعَبد رَضی بالز اه کي لال حه في الي اص 
و ور ور کر 2 ے۔؟ک 2 رر لال اس ے6 عص و . 2 و د 9 کے ۲ 552 ۲ 
فيجب القيمة بالغة مابلغت وفيما إذا كاتبة على قيمته يعتق باداءِ القيمةء لانه هو لدل وَامکن اغتبار 

کرے) .سا 


مکی العم ف راک لجَهاة في الْفَمَادِء بخلافِ مَا إِذَا گاتبه على د َوب حَيّث يق بادا وب» إ لئ 


مع ودں و .9 


قف فيه على مُراد الْعاقد لاختلاف اجتاس الوب فلا يعبت العتق بدؤن ن إرادته. 


۱ تتجد: اور روون نے تمت کی کر ے الہ بڑھ اکر و ےکک سے“ وتک بے عقد فاس تھا لپا ل اک 
ہو ےکی صصورت میس پور تمت واجب ہوک ی بھی ہو۔ کے بے فاد بس ہوتا ہے ب یمم اس وجہ سے ےک موی وی ن سے 
1 لفن پر رای یں سے اور خلام زیادہ دی بر رای ےا کہا یکا ن حن 17 نہ ہونے پا ے !ہنا چک تمت ہوگی وہ واج 
ہوگی۔ اورا سورت میس جب مول نے کا تب سے ا کی تمت پر معا ل کیا تو وہ تمت اد اکر کےآزاد ہو جا ت ےگ یوک تمت ہی 

. برل سے !ورای می عق کےممت یکا اتا رکر امک کی سے اور تمت کی جہال ت کا ار ٹم کے فاسد ہونے میں ہے۔ برخلاف ا 
ضز کے ین کی کت کو کت ا کا کیو ےآ ززاوکیں ہوک کیوئک اس سلسلے میں عاقر (مولیٰ) 
کی مراد یملع واک نکس ےہ اس ےک کپ ےک تل ٹس ہیں لپا مو یکی مراد جانے اریت خاہ ت نیس ہوگا۔ 

و یتقص م ہون ء٤‏ ہونا۔ طبالغة ما بلغت ہہ جہا ںت کبھ نے سن جومقرا ری ہے یو قف علی 4 


ہوناء وائف ہوا ظاجناس ہا وارع- 


7ر نال جم جک ہو AERA‏ امام اب کان مج 
ا تراب ہو ےکی صورت می ںآ زادئیکاعم: 
صورت متلہ یہ ےک امت فا دہ یں غلا م ج تمت واجب ہو ی سے اس قب تکوکتایت ےوش اور بل 0 9 
دنا نیس ہے بک فلا مکی جویھی تبت ہدوہ پودی پودی مو کو سے دی جائے ال لی ےک موی جب کچ می ںک یکر نے برای 
نی تھ تق اس کے برل سحن تمت می ںک یکر نے برکھی را یں ہوگا اور مکاتب ایآ زا دک کے لیے ہرطر کی قر بالی د کو تیار 
ےا لیے دہ تی کیا قبت سے ز یاددد نے کی رای وکا ای لے ہم نے می فی کیا ےکر سورت ستل ٹیس مو یکو پور بپ ری 
تمت دک جا ۓگیا۔ 
وفیما إذا کابہ الخ ا لکا ماگل یہس ےک ہار موی نے کاقبتكٗ علی قیمت ك ےکر فلا مکی تم تکو بد يکتا بہت مقر رک و 
ج ب بھی مکاتب انی تمت او اکر س ےکا زاو موچاےگاء اس ل ےک تم تکو بدل اورپ بنا امن س ےکیونک اکر چہ کول رک سے 
کن اتی زیادہ ہو لیس رہق یک اسے برل نہ نایا جا کے یوت اس ججاات سے عقد فاسد موتا سے اورعقد فا سر می سبھی تت ہی 
برل نن سے اور پھر ج ولوگ فلا مو ں کی یرو وف وضتکرتے رۓ ںان سے معلو مر کے تم تک جمباات دو ری ان ےہا 
اس صورت میں عق کے جواز اورنغا کا راس کین راورصاف ہے۔ ہا اکر موی ےکی یر ری یڑ سےا وکوت قر ارد ےکر معا لک تو 
مکاح بکپڑراادامر نے ےآ اوک بہوگاءاسل لی ےک کیٹ ےکی لگنس موی ہے اورب کے ہوانے سے مول یکی مراد مع ہونا 
حعز ر اور رشوار مو ہےاپدااندار ےکی یر ےکی ادا کی 717 فاش جا ےک اوج ا ی و ر 
ہیں موی اس وق تک خلا مآ زاوی ہوگا۔ 
ESTEE‏ 


قال وكذلك ان کاتبه عَلی شىء بعینه لغیره لم جز لان لایقدر على تسلیمه وَمَرَادۂ شىء یتعین 


ہے 


وو رٹ کدے ہے عو ے ا س 9ے ےہ ےےے م ر اھر ےھ ریق . وول ر 
بالتعيينِ ختی لو قال كاتبتك على هذه الالف الذرهم وهي لغيره جَازَء لانها لا نتعین في المَعَاوضاتِ 


چرس پ2 ر ے97 , ہہ وو ہی بی رہ ضر پا 1 س یں 2ورل ہج r BEE‏ 7 رد959 
فيتعلق بذراهم دين في الذمة فإن عَجّز يرذ في الرق لان المسمى مال والقدرة على التسليم موهومة 
سے کت ہم 2 20س 1 و ES 2 IEDR E‏ 2 رور 7 9 سے ل س 
فاشبة الصدَاقء قلنا إن العين فی المعاوٴضة معقود عليه والقدرَۃ على المعقود عليه شرط للصحة إذا كان 
کو ےی کے 5ھ سم ا ا لے ET‏ دار ت 2 ص EEA‏ ہی 

العقد يحتمل الخ كما في الع بخلاف الصّذاق في النگاح» ان القدرَة على مَاهُو المَقصود باليگاح 
ہے د یر ےر ہے گا و کو ےےو ٤ہ‏ ہےر ھ ڈرو یر رد 9ر اللہ گی ر ووو یگ 
یس برط قعَلی ما هو تابع فبه أوْلیٰ فلو اجار صَاجب الین ذلك عن محمد متايه انه جوز ِأنة 
رود قرو ۶ ا ا وا او E‏ ر ت > 2 ر 7 اھ ی م ت ا ا 

جور الع ند الإِجَازَة قَالْكابة أولىء وَعَن أبي حَبيفة مااي أن يَجُورُ اعارا کال عدم الإِجَارَۃِ على . 

َ‫ رومور م و وو 


ص 5 ے۔ NEY‏ َة 7 ووس و و کر کے د سے 6ت کک 
مَا قَالَ في الكتاب» وَالْجامع بينهما أنه لَايَفِیْد ملك المگاتب وَھو المقصو د لا تھا ْب لِلحَاجَة إلى الأدَاء 


اص ےی رر ہے در ے ی ر شر 8 رو وی ثر دی او ےر راو ےر و٤‏ 2 وووار الله گی ر ووو 
منهاء وَلَاحَاجَة فما دا كانَ ادل عينا مع والمسالة فيه على مابیناہء وعن ابی يو سف مجيه انه تجوز 
2ھ وو ے99ے 


2 لل 1 د ےر گی" 2ر ا e‏ و بے وو ےد َ‫ سے صر سح حص۔ و یں کے 
جاز دل و لم يجز غير انه عند الإجازة يجب تسلیم عينه وعند عَدَیھا يجب قیمّته كما في 


2 ٠ے‎ ‫َ 


1 ناب RAL SE‏ امام ماب کے مان شئ ح۲ 
او ان وف نهدا اذاه عق وَعَلی هذه الرٍوَایَة لم ينعفد العَقٌَ 7 إا ال لَه إا ديت إلى 
ت خُر جيني يق بحم الط وهگڌا عن ابی وت یه ونه هغين قال ذلك ار م َل 
لا العف ينقد مع اقساد لِگون الْمُسَمى مَل يق اء الْمَشروط وَلو كاب على عَيْنٍ في يد 
لكاتب فَفيْ ررايتان» وهي مَسالة الكابة عَلی الغیان وقد عُرت ذلك في الَصْلِ وقد رتا وَجْهُ 
ترچه: فرماتے ہی کک یم اس صورت می بھی ے جب مولی ےکی ای مین چ مکا تب رنایا جو لام کےعلاوہ دوسے 
شس اکا نو ماب ہا کل یوگ لام اسے پر دک نے پرقادزیش وگ اور شی بعیدہ سے اما مہ ول کی مراد یر ےک دہ 
ابی چ ہوجو نکر نے سے تین ہو انی ہو کہاگ موی نے یو ںکہایش نے کے اس ایک براردد ہم کے کوش مکا تب بنایا اور وہ 
درا ہم دوسرے کے ہو ںآ عقد چا ے؛کیوککہ درا م معاوضات میں شصتوا نیس ہوتے اہنراعقد ای وراتم ے ساق ہوک توزےٹل 
دن ٢وں‏ کے اورعقد چا ہوگا۔ ! 
۱ رام م یپوی ے حر مکی روات یہ س کہ عق چا ےیک اغلام ان درا ما ماک وکیا اور یں موٹی کے 
ر ا اوا وا را ا و غم ا ےک پل کی ال ء ‏ کے نے 

پر بی بل مہ رکے مشاہ ہوگیا۔ تم کچ ہی سک معا وضات میں مال “حقو و عل موتا ے اورک عقد کے لیے ممتو رعلے دات 
ہوناشرط ے رکیل وہ ققد کے قاب ل ہو کے بی جس موتا ے۔ برخلاف مب رکا کے > کیک مکاح کے صو برق د رت شر ط کیل 
7ے ۱ : 

ادراگر ماک تی اتام تک اجازت دے د ےآ اما مہ وای سے مر وک ےک کت ہابت چا ہ+وچا ےگ ء وگ اجازت کے 
ونت جب ت جائز مو انی ےن ابت پا رج اول جائز موی امام کم وی ے مرک س ےک عدم احجازت پ تیا لکرتے ہو سے 
عقد جچائزنیں ہوگا جاک ورک شل کور ے۔ اور اجازت اور عدم اچاز ت می علش رک یہ ےکہ اماز ت کیت مک ب 
کے ہو انے سے مفی راتا موک مالک عق دکزاہ کا مقصد ہی علی کا حاصل ہونا ےک وہ ای عللیت سے بد کتتایت اکر ےکی 
رورت پور یکر کے اور جب بد يکتایت مال ن موتو سکی چنراں رور ت ہیں ری اور بر متلہ برل کے مال ن ہہونے میں 
ی فر کیا گیا جیا کم اسے میا نک کے ہیں- 

امام ابو لوسف سے مروگ س ےک قد جائز ےخواہ ما کک ا لک اجازت دے یا نددےہ تا ہم اجاز تی جانے پیک یکو 
ہر کر نا داجب سے اور اجازت نہ لے بے ا سک قمت سپ ردکر نا ضرو رک ہے تھے مکاح دل سے اور ان ٹیل علمت امو یک ا وا 
ہے کیوککردہ مال ہے۔ 


رر أ جم AREF SDE‏ دا ساب (AE‏ 
اگ رکا جب اس عی نکا ما کک ہوکی ت امام شش سے اما ماب ولوس کی ددایت ہے ےک اکر مکا تب نے اس ما لکواداکیا وو زاد 

نیس ہوگا اور اس روا تکی وج ہے س ےک عق بی منعق یں ہوا تی الا ےک مول نے اس ےکہا ہو إذا أڈیت إلیٰ فانت حر تو ای 
مورت یس مک شروک وج ےآزاد ہوگا۔ ایا تی امام اولوف ےکی مروگ ہے۔ ان سے دو رق رواہت ہے س ےکن ادا 
کر کے سے غلا مآزاد ہوجا ےگا خواہ موی نے اذا أدیت ال خ کہا ہو یا کہا ہو ای ل کہ بد 23 مال سے اورفساد کے پاوجودعقد 
عقر موما ) ہے با پل مشروط اداکمر نے سے لا مآ زاو ہوچا ان 

اگ رمولی نے یکین عق مک تہ تکیاجمکاحب کے پاس موجود ہے اس مل دورواتتّل ڑں اور ہے مکاتبة علی الأعیان 
کا ستل ے او روط ہیں علوم ہو چا ےاورکفای اتی می کم نے دوفوں رواو لک وجہ با نکردی ے۔ 
اللغاث: 
اهت شی بعینه کول ن چ المعاوضات) ال معالمات۔ إعجز) ا ۔ الرق) غلاق _ 
۱ ڈالمسمی چ ام شه #موهومة ې شیا ی کے ۔ #[الجامع کش رک ام عل ھ8 نظ یغتق 4 
آ زادہونا۔ الا حیان چ اشیاءء بی یی۔ 
کن چ زی مکاعبت: 

و سر TT gg‏ 
ساط زوش سے می جن لکن اف اکر کرنے رال ےج ہک کی ت ے ی 
عل کا مترورا 4٠‏ ہون شرط سے اور ووشرط ہا مفقود ہے ؛ ای لیے عقددرست یں ے۔ 

اس ملستل میس امام انم وڈ سے حطر ت ن من زیا دک رایت ہے س ہک اگ مکا تب انل می نکا ما تک ہوکر سے موٹی کے 
جال کرو ےو و آزاد ہو جا ۓگا اس ےک برل 20 سے اور ا پر وکر کی رہن ہے اس لیے سورت مت ٹیل 
عقا ہا ے۔ اور یے دوسرے کے مال وکا ںکر نا ھا ہے ای طز دوسرے کے مال پر عق لتاب تک نا بھی چا ت سےء اور اگ ترادا 
کرک توصب سای لام کی ر ےگا کان ا ہرالر وا ےکی طرف سے ا کا جواب ہے س ےک مکاحبت عقد معاوضہ ہے اور معاوضات 
میں ںو و عل ہوتا سے او رک عقر کے لیے معقودعلیہ فدات رط سے عالامہعین ووسر ےکی کیت سے اور مکا تب ا کی 
تلیم رقا درکں ہے اس لے عقد ہا نہیں ےءاس لیے عقد ہا رک ے۔ 

اور اسے ر کاں تیا سکر ا یں سے کوت کا کا صو وتو الد وت کل ےاوراس برت درت شر اکس لذا رجوؤاں 
۱ م تائع ہے اس پر بدر ج اوی تد رت شر یں موی _ 

فلو أجاز الخ فرماتے ہی ںکہددسرے کے مال او رین رعق کنا ہا رس ہے اور جس رع دوسرے کے ما کو نابا کک کی 
اجازت پر وف د تاے اک رع عق کی مال کک اجازت موقو ف ر ےک اکر با کک اجا زت د ےد ےگا تو اما مج ون کی 
روایت میں عق جات ہوجا گا ء کیرک اجازت لاحقہ سے جب تم ہا ہوچالی ےل مکا تب ت و بدرجہ اول جات ہوجائۓےگی۔امام 


۶2 انال © ر کر - OEE‏ اکا م ماب کے ماق شب 
انم ویپ سے م روک س ےکہ ما تک اجازت دے با نہد ے ب رورت عقد ہا نی موک جیما کہا صورت بل چائزنڑیں سے جس 
مو یکی اجازت شای عق نہ ہو ءکیوکمہ اس سے مک بکاکوکی فا کد نیل ے قفاوو اس تصورت بیل موتا جب دہ اس می کا ماک 
وچا اور ا یکی سے بد اہی اداکرتا حالاللہ یہاں پرل معلوم اور ن ہے اس ےی اس کے ا کک مو ےکی ضرورتکہیں 
ے او نمض وک ما بہت فوت ہو ےکی وج ےعقد چا زی ے_ 
: امام ابویسٹف ویش کی راۓ ہے ےک قد ہرعال یل جا ے فخواہ مالک اجازت دے باضددے؟ ا کہ ہاں بد لک 
مین اورآت ری درست س وتک دو مال ے اور ما لبھی توم ہے ءاہذاعقد کے جواز اورنغفاذ سکوی شی ہیں سے الہتت ہاگ ر مانب 
اک نک یم بتاور مونو ا یکواواکر کے٦‏ زاوی ماک کر نے اور انی نکی ایم تادر تہ ہوا ا یکی تمت دے د عے جیسےاگرسی 
نے دوسرے کے فلا م کور باکر کا کیا اگ ر فلا مکا موی شوہ رکوہ غلام دید ےا خو ہرم رکس وی لام دے دے او راگ لام تہ 
دے کے ا لکی تمت دید ےء ای طرع یہا ںبھی اکر بیضہ وو تین دیا کن ہونذ کا تب اسے دید ے ودنہ ا یکی تمت د ےکر 
آزادہوجاۓ- 
ولو ملك المکاتب الخ ا کا عاصل یہ ےک اگ مکاتب اس شی کا ہا کک ہوجاۓ تو اماام کم ول سے امام ابو بیس کی 
روایت ہی کہا می کو اد کے کے بح ری مکاح بآ ز ارکیں ہوک > یوت ابتقراء یش بیعقد فاسد ہوگیا تھا و الفاشد لاینقلب 
جائزاء ہل گر بوتت عقر مول نے إذا أڈیت إلي الخ کہا ون اس ورت می وہ مین اد اکر نے سے حرط وہتزء کے اتپا ر سے خلام 
آزارہوگا بجی ابام دیوست سے ایک روات ہے۔امام اوس فکی دو سرک ردایت بر ےک مول نے إذ أديت ال خمکہا ہو با کہا مو 
لام اس می یکو اد اکر نے ےآ زاو ہو جا ےگ یوت بر ل کی ال ہے اور عق را بل فاد ہو نے کے پاوجودمنعقد ہوگی تھا اں لیے 
۱ اب غلا مآ زادہوگا بن ان کی اس روایت کے مطاب نبھی یآ زاوی کم رط موک نہک یح مکنابت۔ 
ولو کاتبه الخ فرماتے ہی کاک موی نے مکاحب کے زط میس موجودسی عین پر مکاحب تک تو اس کے تاق ور میں دو 
رواتتیں ہیں (ا کاب الشرب ٹیش کہ ہے قد جات ہے (۴ )کاب ا لکا ب مل ےک جات یں ے۔ جوا نکی وکل ہے ےک 
صورت متلہ میں بدرل معلوم اور ن ہے اور کا ب کے من ٹیل اس لیے وہ اس سی ردک نے بی فک کی سےلپنرا ا کا ہا کد ہو نا اہر 
دباہرہے۔عدم جوا زک وکل ہے ہ ےک لوقت عقد چو ںکہ کا تب مو یکا ملک سے اور ا سکی ار یکی موی یک ہے ہڈا موی 
کے اعیان پرخقد م وکا اور موی کے اعیان عت کر تادر ست یں سے (کفا یش ں ی رای ) 


1 را 7 


E‏ ا س- 7 7 2 2 ر0 2 ا ر 
ال وَإِنْ گاتبة على مِائَة بتار على أَنْ يرد المَولى یه عَبدا بغير عَينه قالكتابة قاسدة عند أبي عَییْقَةً 
ے۶ م 2 gy‏ | یں دہ 9 


| ۲ 7 : 
۳ و مختد طا رال يويوسف مايه هي جَابرَة ويسم اماه ايار على ق قیْعَة الْمگاتب 
وَعَلی قیْمَة عبد سط قتبطل منها حصة العبد فَیکُوْنَ مگاتبا ہما قیء لان الْعبْد املق يَصلح بَدَلَ 


ہو و ہے و I‏ دو RT‏ 


جار رتو و تد 


نبا جلر(م) ہے ھن رتچ اکا م اتب کے مان م م 


و ہے و اس سے ارت 


الد مِنَ الڈنائیر وَإنما یسعخلی قيمتة وَالْقِيْمَة لا تصلح بدك فگڈ 
تڑچه: نے ہی ںک اکر مول نے سودینار کے عو اس شرط کت 3" اسے ایک فلا م بھی در ےکا تو 
رات رن بے ٹلا کے ہا ںکمابت فاسد موی امام ابو لوس ضف مات می سک چا موک اورسود ینا رکو مک ب اور اوسط در ہے کے 
لام کے ما ین تی مکیا جا گا اور ای ٹیش سے غلم کے صے کے بفررد ینا رسا قط ہوجات ےگا اور بای کے کوٹ وہ ہکا تب ہوگاء انس 
یےک رع رل کاب تکا ہرل بن سا ے اورپ کو اوسط در ہے چ کے خلا مکی طرف پیر جا ۓگ نیز وم بر لکمایت ا ا 
Oy‏ سے اورگقور کے ابال میں کی اکل ے۔ مات ط ر کی ل باک تمت 
اد تیت پد ل تس بیجن می کی یں ہیک 

اللَاتٌ: 

ظدیدار کیہ “و نے کا َ‫ طیرڈپہ وای ںکرنا۔ طابغیر عیدہ یہ تر ن کوئی سا بھی تحص ورای چ 
ظینصرف 4 لوتاء مصراقی گُہرنا۔ وإیصلح) صلاحت رکناء قائل ہونا۔ ابدال 4 ع ے بد ل کی “ن ماو ض کوش _ 


ڈالدنانیر چ دیتار۔ 
ایک خا ی رط رکا تبت : 


ستل یہ سب ہک موی نے اک شرط پر اپنے غلا م سے عق رکب یکی اکم کے سود یناد یروآ ز اد ہواورساتع بی سا تھ پیک ی کہ ر دی کے 
میں یں ایک فلا بھی دو ں کی یآ زاوی کے علا ہیں ایک فلا مبھی دیا جا ۓگ کن دہ غلام رن تھ تو حط رات ط رف کے 
ھال برق فا سد ہے نان امام اد یف کے بیہاں جا ے اورسود ینا رکوک تب اوراوسط در چ کے لام کے مان تی مک کے لام 
کا حص کال دیا جا ےگا خلا مکاح بکی ہت ٭٭۹ کے سود ینار ہواورظلا مکی تمت دوسود ینار ہوا سود ینا رکو اک طر دو تیم 
کر کے ٭٭) ٹس ے١٣‏ د ینار بد ليکمایت کے لیے ا کر لیے ہا یں اور یا دینا رو پرل سے اق کروی اناس را 
درست اور چائز ے کوک عب رٹل کتابت میں ہرل بن سک ے/بذاہرل سے ی ا غیت 

اس کے برخلاف حرا ت طرش کے یہاں چو لک غلام وتات رک یٹس ےنیل سے اس ینس عبرکودانیر سے یک ناب ی 
بجی نہیں سے - اں ا کی رو یا نے کان تمت میں لفاوت فاش ہوتا سے انس لے دو عق ہکات میں بد ل نہیں پوق 
اور جب و ا ی بھ ینمی ںکیا ہا کا اور چو ںکہموٹی نے بدل میس ا کا ت کر کر دیا ہے اس لیے اس عقر 
گوفا س کے کے علا وہ دوس اکوئی راستت یں ے _ 


ر9 و 2 ا ید 9 ت سپ 


ال ودا كاه لى حَیوَان غَیْرِ مَوْصوْفي قَالْتابَة جَازرة إسِحسَاتا ومعتاه أن بين اللجنس ويي انوع 


وَالصََةء ويرف إلى الوْسَط ويْجْبر على فول اليم > وقد مر في النگاح» ما إَا لم ين الجن مغل 


ےر ودےے 


ارا ايَجُور» لان يَشْمَل اجناسا مُخلفة فیتفَاحَش الْجَھَالَه وَإذّا بن الجنس کَالعبدِ الصف 


7 نایا لر( ہہت کٹ اام ماب کے بیان ٹیل ٤‏ 


قَالْجھَالَه سيره ومعلا يعَحَمَل في الكتابَة ة يتير َھَلَة لکل بجَهالة لجل فيه َال الشاقمی وما 
پر نوس قاش ایج شش شر ور يتا لن على جو 
رد2258 »>9 8 ئک روت ا روہ و ےے 


يَسَقَط الْملك فيه فاشبة النگاح» والجامع اله يمتني عَلّى المَسَامَحَةہ بخلاف لع ان مَبنَاهُ عَلَی 


دو 


الْمُمَاگسة. 


تتجد: فرماتے ہی ںک ہاگ رمولی نے ایی مدان کے جو اپنے فلا مکو ہکا حب بنایا کا وص فکیں بیا نکیا تو اکا a‏ 
جائتز ے ا کا مطلب ہے ےکستدان یجن سکو بی کروی ین ا کی وع اور غ یں بیان اور اسے اوسط در چ کےجیدا نکی 
طرف پگ رجا ےگ اور مو یکو قمت نے پر ہو رک چا ےگا او راب التکاں یں یی مت گر چکا سے کان گر موی نے جوا نک کش 
یں با نکیا شلا اس نے کاتبتك علی داب کہا ت عقد ہا یں ہے کوت جوا نکی لف اجناس ہیں اور جہالت فاحشرے اور 
ارش یا کرد ے کے فلام اور وف( خرص تکر نے والا فلام) تذ چہال کم رہتی ے اور اس می چہال لمات میں برداشت 
کرک جائی ہے ی تل جاتی ہے اذا بد لکی امو لی جال یکوعت دکناہت میس میعادکی جہالت ب تیا سکیا جا ۓےگا۔ امام شاق ہاو 
فرماتۓ ہی ںک اس صورت می بھی عقد ہا یں ہوگا اور می تیا ی ہے اس ل ہک عق عقر معاوضہ ہے اور کے مشاہ گیا 
Sol‏ وکل مہ ےک مہ نیم مالی سے ما کا ماوضہ ہے یا ال ےک ما کا محاوضہ ےلان اس ط رح ےک اس میں مایت 
ساقط ہوجالی ےئ لاح کے مشاہ گیا اوران یل عل جامعہ ہے س کان مل سے ہر a‏ 
کوک وی اش یی ے۔ 
اللَات: 
غير موصوفپہ نی رمن جن سک یکوئی تح ید نکی کی ہو- 2 چاۓ گا مزادابة چ4 چو پاب جار 
سواری۔ پیتفاحش ہہ بہت زیادہ ہونا۔ سیر کھوڑکیء 27 ۔ فابتحم لک برداش یکر ۲ ل اشبه ہہ مشاہ ہوناء 2 
(المسامحة )پش المماکسة ت ٠‏ 
4 رن جاور رمکاب: 
ہی ےھت از ز ےآ رق کنا ٹکیا کا ف کن یا نکی کن کن ما نکر ہا 
کے کیو ڑا دسا ویرول ماب عق درست ہے اور یا ہا ہیں ے اورتدان ے اوسط درب ےکا یوان مراد موگیا جا یم میا نکی 
02 تمت دی جا فو موی کے لے اسے لوا ما زم اورضروری ہہوگا کیو قب کی معن برل ے اور کے نا س خیدان 
کیک بیا نکر نے سے اے مر بنانا کی ےا ی طرں مس یا نکر نے سےمیوان غر موصو فکو ہر ل کاب تمت ر رکرنا بھی ے۔ 
ان اگ جن کی بیا ن کیا اورصرف کاتبعك علی داب کہا تو عقد پاک ہوگا کوک داب او روان الف اجناں میں اور 
مرف دابہ جیا نکر نے سے جہالت فان ہوجائی ے اور جہالت فاحشمغضی الی ازا موی سے اس لیے اس صورت میں عقد جائتز 


9 ناب جلد() 2 0ج اعام ماب کے ان میں حم 
003 
واذابين الجٹس الخ ا کا اگل ی ےکہ اکر موی نے غلا مکو بر يکتابت مقر E‏ ی تب رابا 
E‏ 
اورک مو لی ہا لت عق کا یہت ٹیل برداش یکر لی ہا ے ۔ کی ے اکر حصا اور دیک کک میعا ٣مف‏ ر رکر کے مولی عق کاب یکر ےن بھی 
یعاد ممل پئ جہالت رای س کان ىہ ھال ت “می ہون ےکی وج سے کل جا ہے اک رع وصف کی جہال بھی برداش کر لی 
جات ےگی۔ قیاآ عق ہا یں سے ےی امام شاش وھ کا کی تول ہے اس ل ےک عق عقر محاوضہ سے اور اک اسل سے کے 
مخابرے اور چو ںکہاشل اشن می چہالت ہوتے ہو سے بی درست یں ہے اس لیے بعتن کی ال با بد لکی جہاللت کے ساتھ 
درس تگال ہوگا- 


ال واا گاتبَ اضرا بده على حمر فهو جائزء مَعنَاة إا گان مقدارا مَعْلُوْمَاء وَالعبْدُ كَافراء تھا 
رن ےر 7 TES a‏ میں رو 

تايعون ٣ ٦‏ للضي مذ عن تمليك 
الْحَمْر وَتملُکھاء > فی انلم ذلك ا دم عَيرمَتعین فََعَجر عُنْ تَسْلِیْم الیل يجب عَليه قیمع 


کی ا رو ز3 و 


هذا اتا ثم اَسْلَم اَحَدهَمَا حَیْثٗ ب يمس اليم على مَا قله ابعص 37 


ء9 ھے۔ کل یک ا و و EKE‏ 


20-0 انه لو گب على وَصِیْفٍ اتی ب بالْيیْمَة جير عَلی القَبول فُجَارَ 
ان تة 22000 ا ٹیڈ مینک عل امور کر َإِذَ قَبَضها عَتَقَء ان في 
کا تن ارخ راوز اکا ف ن إلى المَولى سَلَم الوص الْأعَر لِلعبدِ ذلك بالعتق, 
پخللافِ ما دا گان البةُمُِلِمًا حَيْت لم بجر ا كاب لا الْمُسلم لیس مِنْ أَهْلٍ الیزام الْحَمرِء وَلَو اذا 
:828 

تج : ذماتے ہہ ںک اگ رت رای نے شراب کک کے فلا ومک ب بنایا ہے جاک ےن جب شرا بک مقدارمعلوم ہو 
اور لا مکافر ہوا لی ہک شرا بکفار ےکن ابی رت مال ہے کے مار ےکن ٹیس سرک مال سے۔اورمو لی اورخلام ٹیس سے جو 
بھی مسلران ہوگا مو یکوشرا بک تمت ل گی یوت لان رتو شرا کا ما کک بنا تا ہاور یہی ن 0 ہے ج پک شراب دیے 
سے مہ بات لاز مآ س ےکیونک شرا ب تیر یرن سے پا کا حب بد کی لیم سے عاج ہوگا اور ای بے تمت داجب موی ۔ کم ال 
مورت کے برخلاف سے جب دوڈمیوں ل ا رن ن نک لق فار جاے 
کی جی اض مار و کا بجی قول ہے کوک قبمت فی الہ بر يکنایت ب نع ہے چان اکر موی نے ضرم تک نے وا لے 
فلام برعق کناب کیا اور مکاح نے ا کی تمت بج لک تو مو یکووہ تست لی بر مجبو رکیا ہا ےگ اپا تمت بعت کا باق د ہن ھی 


DD O‏ سج رعٴدعمدصی+ 
چائز ہوک لین بی تت ےکی نویل وی اس لے کے اوتام می فرقی ہگیا۔ 

E‏ ہی ںک اکر مول نے شراب برق ہکرلیا نے مکاح بآزادہوجا ۓگا ۶ 40 ا 
مو کو ای وتک کیو خلا مکودوس راٹس سے کا اور یہ کا E‏ زاوی ۓ مکل ہوگا برغلا ف اس ورت کے جب غلا م اران 
ہو کات نویس ہوکی یکلا رلا ےک ال یں چم ارح زسلم نے شر اکرد یآ ہوچاےگادر ہم 
اسے پیل یا نکر ہیں" 


اللََاتٌ: 
(النصرانی) مالک جن 7 Oe‏ مت کن یھ وفروش تکرنا۔ 

ظفی الجملة يک ورعن EDE‏ بره ہونا۔ 
تیا غلام ک خر ماجت:- 

7> رھت ےراب کے کون عق ہکاہک موا لکا اورشرا بک مقدار 
ویرہ میا نکردیا نر عق درست اود چا سے ہکیولگ ین طر مرک ہار ےکن ٹیل مال ہے ای طر حکاخروں اورتصرانیوں ےن 
س شراب مال سے ازا شراب کےکوچش ىیکنابت درست اور چا ہے اناگ رمو لی اورغلام ٹیل س ےکوی ایک لدان ہوا تا ےن 
بل ین شراب سے تمت ٹیل تبد بک ہوجا ےگا اوراب مو کوشا بکی تمت بی ےکی ؛کیونک اکر فلا م مسلمان ہوتا ہے نے ووشرب 
کی ححمکی گی سک کت اور اکر مو ماران ہو پوو وو شرا بکا اک یں ال کے پرخلاف اگر دوزمیوں نے یں میں رابک 
لین دی نکیا لی خر یروف روخ یکی ران ٹیس سے ایک ذئی لدان موی تو ضمغا کے بیہاں ایگ عاد کے سلمان ہوتے سے 
کے فاد ہو جا ۓگ ءکیوکہرایک عات کے لدان ہہونے تم رہوش ان ےا کی ج تہت بور برل واجب ہوک اور مت کے 
ںی یں ہے اس لے کت کی صورت میں ایک لمان ہونے سے کت عق ہا یں ہوگا ای بے ہابت اور 
یں فر نکی اگیاے۔ . . 

قال وإذا قبضھا الخ فہاۓ ‏ یں ا E‏ تمت کر رک و و زاو ' 
+جائۓگاءکیوکہیحقرلقدمحاوضہ سے اور ماو مل جب ایک ما وشل جات ےل دوسرے عافد بے در ےو کوپ ردکرنا 
لام ہوجاتا سے اور لیتق ےیلخ بک تمت اداکمر نے کے بح خلا مآ زاو ونا ۓگا۔ ہاں اکر ملا مسلران 
ہو یعقد ہا نیس ہوگا ءکیونکی لدان شراب کے المتزا مکا ام یں سے شی وہ ای ےآ پکوشراب کے نین دی کا پاین ریس بنا کنا 
۱ اش لیے بیعقد عق دنا کس ہوگا بک ہو جا ۓگااور جب مکاح قراو اکر ےکا نو کم و وآ زاو ہو ہا ۓگا_ وادل اعم 


ee 


0 اڻابا RNS IAD O‏ اک م مرکا تب کے مان می٠‏ 


٠-٠ 9‏ ۶ 
کاٹ 000۳ کو ے٤ٌھإاء؛‏ ' 
اب ما جوز ل تپ أنْيیَفعَله 


بے باب ان افعالل کے بیان مج سے یں کاب امام د ےسا سے 


ہے رر رودو وو نر ور 0و ا کے ےل 9٤‏ ہے 9ے ڑا ر لیے 7 
قال ویجوز للمكاتب البيع والشراء والسفرء لان موجبَ الكتابة ان بصیر حرا يدا وذلك بمَالکیة 
و ود rr‏ وو ۶ E‏ رور و ووس گے کے r‏ مک سے ھ e‏ 
التصرفِ مستبذابه تصرفا يوصله إلى مقصوده وهو نيل الحرية باداء البدلء والبيع والشراء من هذا 


G92 


القبيل ودا السفرء لان التجارة رما لايتحقق في الحضر فیختاج إلى الْمُسَاقَرَة يمك ليع بالْمَحَاباةء 


ہو ,9 


2 


جر قد یحا 


3 
۰ 


“G+ 
التججار فان التا‎ 


بان يفي فورح في أخرى. _ 
:نز مات پک کاب کے لے خر ید وف وش تکرنا ورس رکرنا ہا کے »کیوکگ بد کاب تکا تقاضا ہے س ےک مکا عب قض 

کے اظتبار سےآزادہوجاۓ اور تقاضا ال وتک پورا ہوگا جب کاب نل طور پر تر کا ما لیک ہواور ای تصرف ے اپنا قصور 
۱ اکر ے اور و وصور ذل ار اکر کے بہت سے ت مکنار وچا ےگا۔ اور ورای ای تخرف لن سے ہیں بجر 
سز ی می ال ہے کوک بھی ہرم تیار نیس ہو پان اور رکاج کوس وکر ےکی ضرورت ور وی ے۔ اور وہس دام 
س کی روخ یکا ے کیونکہ بجی تاترو ں کا ریت ے ال ےک کی لی مف ش/ ہت لتا اک ووسر ے م سکع 

یکل کر کے _ 
الع پ فرجنگی۔ والراء غ یاری۔ موجہ )بب تاضا۔ سبد قل۔ ویو صل( نے ۔ 
نیل پچ بانا۔ الحضر اقا مت :تم ہو کی عالت م المحاباة رور مایت ےک م لینا۔ إصنیع پچ عادتطر بت ۔ 
مکا ب کا دا٤‏ اقتا ر: 

صورت مل یہ ےک مکا ب عق دکماہت کے إح رر ید وڈ روش تک یک رک ہے او رست می کی ا سے »کوک عق رایت کا 

مقر ہی می ےکہوہآزادہوجاۓ اور اسے ہرطرع کے نصر کی آزادکئل جاۓ اور ہآ زاوی ای وفقت ل گی جب وم تعل 
طور بر تصر فک ما لک ہوجاۓ اور دشرا ہک کے پر لکنابت اڈ اکر ے او رآ زاو ہو ہا ےگو یا ع وشرا او رس رعق کات کے مدکی 


7 آنْ ابا YORE SOF De‏ اکا م کا تب کے بیان شس 6 
کیل کا زین ہےاہامکاج بکوان امورکی اٹھا م وی کان حاصل بوگا ۔اوراگروو متاس ب کےا عام تمت اور باز ارک بھا ےم نے 
بھی اپنا س مان فر وخ تک رکا ؛کیوکہ ا جو ںکاسعمول ےک دہ ایک چ کی تک دوسری چ کی یچ ہیں اود اس طرں کیک 
ال گن روھ ےن و تال کر یں 


ےد گک< ودے۔ 


ال قان شَرّط عَليه أن يحرج مِنَ ا الْكَوْقَ قله ا ن يحرج اسْيِحْسَانء ِآَنَ هذا الشرط مُخالف لِمُقْتَضی 
اعفد وَهُوَ ماب اید على جه سيدا ووت اللإحِضَاص فكل الشَرٴط وصح م اعفد لاه رط لَه 


موو 7 


يمن في صلب اعَقدٍ وبمغله لَاتفْسّد الکتابَةء وَهذًا لان الکتابة تبه البیع وَتَحْبه النگاح َالْحَمتا 

يي في قرط تمن في صلب َف گنا ڌا قرط جئمة مجه وله ا في ادل » وبالنگاح في شَرطِِلَمْ 
يمن في صله هذا هو الاصلء او قول إن الاب ب في اب الْعبدِ إعتاقء انه إسْقَاط ابلك رهد 
الشَرْط يحص اعد فَاغتبرّإِعمَاَ في حَق هلا الشَرطء وَالأعتاق لايبطل بالشَرُرْطِ الْمَاسدة. 
تڑچه: نے ہہ ںک راگ رم وکی نے برط کار یک مکاح بون ےن کے اتنا وکل سک ےکا ای سل ےک بیش رط متنا سے 
عق کے تالف سے اور و تخل طور بر تصر کا کک ہونا او رکا ویر ہکا اس کے اتی ہونا سے اس سے شرط اگل ہو جات ۓگی 
اوقد ہوگا ءکیونکہ بی شرط اصل عقد میں داق ل یں سے اور ای ط ری کی شرط سے عق فاسرکیں ہوتا۔ ےم اس وجہ سے ےک " 
تکتابت کی ےکی مشاہ سے اور فیا کےبھی مشا ہہ ےلپ اکل عقد بیس داخحل حشرط کے جوانے ےم نے اسے کی کے مات لات ۔ 
کرد یا ے ےہول ضرم تکی شرط لگانا۔ ال ل کہ ہی شرا برل میس ے اور جوشرط اکل عق بی دائل نہ ہواس کے تاق ہم نے 
کاب تکو کا کے ساتھ لا کرد یا ہے بی اکل ہے۔ یا کے ہی ںکہفلام ےن میس عق تات اتاق ہے وتک بی موی ی 
لی تکوس اق کرد یتاے ادد بیش رط غلام E‏ ہے اذا اس شرا ےت میس اسے اعات ق رار دیاعگیا ے۔ اور ا ات روط 
فا رہ سے با ا یں ہوتا۔ 

اللغات: 

۱ [إمقتضى العقد ) عق رك تقاضا اورضرور یات_ «إجهة E‏ ریت یعمکن مرن ار 
کا - صلب العقد مھا لے کے اندرہ او رتقیقت میں بط الحقنا )ان کرت شا لک ائ کیم دینا۔ 

غیرمتقول شر کمایبت: 

صورت سبل بی ےک اکرمولی نے عق رکا بہت میں ایک شر رح حر تح 

بيرط با ال ہو جا ےگی اودعقد چا ہوگا۔اورا ایی شر ہوجو ال عقر یس وال ہو یش رطعقد رموش ہوگی اور ای شراک وج سے 
عقد فاسد ہوجا ےگا۔ ا لک دجہبی ےک عق ہکایک دوگ تی ہیں : (ا) اکل عقد میس داشل ش رط کے اخقبار نے دو تق کے مشاہ 
ہے (۳) اصسل عقد سے ارب شرط کے جوانے سے وہ کاب کے مشاہ سے چنان اصل عقر میں واش ل ش رط کا اخقبا رک تے ہو ۓ م نے ۱ 


9 الاي +© XOR‏ يہ اكام ماب کیان شس حم 
سے کے مشا تقر ارد ےکر ی فص کیا ےک یح رح کے یس نکی جہالت مضندعقد ےا یں ایت می ںبھی بزل اتور 
عل کی پات فس رعق ہے۔اورنخار رج عقد والی شرط کے کیش نظ رہم نے اسے مکاح کے مظا بقر از دیا ہے اس ل ےک کا کی طرح 
بیج غیمر بال کے کو ما لکا محاوضہ سے اورک طرں غ ہر یو کا سپچ ال باپ سے لے اوران کے پاک جانے ےی ر وک 
کنا ای طرںکزابت میں موٹیبھی مک کوش قر سے باہرجانے اوش کر نے ےل رین کا 

ا سک ای تقر یو ںپھ یکی اق سک عق کاب کا معالہ کاب کےےتن بیس انتا ےہ ا سل ےک ای سے مو یکی 
کی ٹنم ہو جا ےگی اور موٹ یکی طرف سے فلام پرکوفنزے باہرضہجان ےکی شرط کا کی کے سات نا کاس لہاان ش رط کےا ے ٠‏ 
سے ورو ععام ےکا ہت اور معا وض 6 ال ہوگا > بک اختاق ہوگا اور اتاق شرط فا مسد سے فا سد اور پال یں ہوتا پک خووشر مل 
ہوجاٹی ےءاس سورت منلہی بھی شرط اک ہو جا ےکی اورمکاحبت سے خلا مآ زاد ہوا ےگا۔ 


ال وروح إا پان المَولى» لان الاب قك الْحَجْر م قيام اك صرورَة التوسّل إلى الْمَفْصَودِ 
َالعرَوج ج لیس بوَسِيْلو إ إليه» ویجوڑ پان امول 3 الْملْكَ له لاھب وَل‌يتصَدقَ E‏ بالشَيٰءِ ال 
لا هة اة ت وهو َير مال زه مه أ الشَیْء ال من مَرزراب لابا لاتجد لگ 


صي ہے 


من ضیاقة وَإعَارَة ليمع عَليْه المُجَاهرُوْنَ وَمَنْ مَلَكَ سيا يمك ما هو من ضرُوْرانہ وتولیعه» 
رس 9 رو ہو ے E‏ سے 4 
ےئ ع قح فلس ون ورات اة رالا یاب ینگ ہر فسا فسا وَمَال »لان 


کل ذلك تبرغ 7 انه برع یس من توابع الاکسَاب, قان وب عَلی عرض 7 َء نه 


مور و 0 ات لاان ف ملك لته فار حت ت العقد. 


تن : ہے کموک اجازت کے بی مک تب ابا ما نمی نکرسکت:اس ل ےکر قصو و س لک ےکی ضردرت٠‏ کے 
تش نظ رعق ہابت سے مو کی بن ت موان چم ی ری در ہے شس ا کی کیت با ری ہاور کان کیل نقصور 
کاوسیایڑس ہے۔الہتمول یکی اجازت ےکا ںکرن ہا ت ے کیونکہ مکاحب ا یک لوک ے٠‏ 

مکاب ہاور صرق بھی کرک ا ںول یز صدقہ ح ہکا ے > کوک صب اور ص د ق تر سے اور رکا 7 ا E‏ 
yT‏ 
عار یت بے مال دی ےک یگھی نوہ تآ کی تا ک دانے اس لی یا رکش انی زا کک بت سے دہ ام نکی 
ضرور یات ولواز ما تک کی ما کک ۹ ے۔ 

ہب کرس ا 
ےء لہا مکاح کال تک دونو ںتموں (' ٹس اور جا کا ما نکی ہوگا اس کزان میں سے م مر ے۔ 

اقش کیش کزان کے و اا کل وت سیک ےون للا 


ر ابا بیکلکمڑوچھر ED E‏ 
کی نیس سے اس لی ےک یھی ایتا رر ہے۔ اگ رمکا تب نے اپ با ند یکا کا کروی تو ات ہےء انس سل ہک ہے ما کا ےکا 
سر تہ ہے چنا خی کاب اس سے مب رکا ما لک ہوگا اور یج زعق رکتابت میس دغل ہوگی۔ 
اللغأاث: 
إیتزو ج شادئیکرنا۔ فك الحجر پینری کا م کر لالتوسل) سیلہ جنا۔ یھب4 ہہ ہکرنا۔ 

لإیعصدق )صد کا تبر عاضا لی جو لازم د ہو داب ہہ پار کار المجاهز ون) قاگوں دالے۔ «یتکفل) 
کیل بع الا ساب کال يتملك ٠4‏ تک جا۔ 
مکا ٹب ک ےکا مو ںکا ضالطہ: ٰ 

صورت مت جمرے وا ل سے کک کا فلا ص یہ ےک ہرد ہکا م ج کہہے کےقصو تی تی لآ زاو یکاؤ ری اور وسیلہ بنے 
مکاحب کے لے ا لکی اضیام دی درست اور چائز ے اورک مکاصصیل مقصود سے واس نہ ہواورتصو لآ ز اوی یل ا ںککو یل 
ٹل نہ ہو ہکا تب اسے اجا میں درےکتا۔ 


ال رگذلك إِنْ کاب عَبْده لياس أن يور وهو قول زر ابه رالشافعي ايو ن ماله الق 
وَالْمُكاتَبُ ليس مِنْ امل اتاق على مال وَج 
ر رد ر ق ایی پا تر EE‏ ہوالع برب 


َل لدا بلک ا مم کی ور وو ٤‏ 1 
قبله رَلهٰذا يَملکه الاب > لري ٺم هو یوجب ملا مَاهُوَ ابت ک َء خلافِ الإعَاق على مَال لان 


ہس سے و نو ہہ بدا ہے ۶2 سرے (f‏ ٘2 دم ٤ب‏ >> .5 


1 


وی e‏ مت وت 


رسہو <ج 


ےے کت 


میرک ری دب لی ترز کر ار کی ا ول بد ذلك رَ عق لير لوہ یہ با 
امول جك مء َال لاينتقل من الْمحْق, »إن ای الثانی بعد عتتي الول ووه انا دیز 


۶ روو سس 


آهل وت الولءِ هو الأصيل يعبت له . 

ترچه: فرماتے ہی ںک اکر مکاحب نے اپنے خلا مکومکاب بنا کی چا ہے۔ قیال بے س ےک ھا کا تمو بی امام ذظ راودامام 
شا فق لٹ کا قول ےم کیو ہکناب تکا لکن ہے او رمک ب اعا کا کک یں ے جیسے اعا تی ما لکا ما کک کیں ہے۔ اسان 
کی وکل ہے س ےک مکا ب بفانا ما للکمانے والا عقد ے لپا ہے مکاتب ای عق دکانا کک ہوگا کے وہ ندکی کے میا کر سے اورک وشراء 
کر ےکا مالک ہے۔ اورک یکنابت اس کے لیے پچ سے زیادہمفید موی ہے کیوکل ہکمابت مکاح بتک بدل کے سے پیل ا سکی 
لکیت زا کی ںکرکی ج بک بقع برل لے سے یی ہی کی کا صفا لکد یت ہے اک لیے باپ اود بھی کا تبت کے مالک ہیں 


رر i‏ برم AERA BITES‏ امام سکاب سے ماش ج 
بر بی مکاحبت دوسرے مکاتب کے لے وی اقتا رات خاب کر ےگی جو ی ہکوحاصصل ہیں۔ برخلاف اعا ق می بال کے یوگ ہے 
اعا مکاحب اول کے انختیارا ت سے زی دہ اخ ارات خاب تر ےی ۔ 

رات یں نون َء :ء "رو با یک و 
کیرک اس مکاح می ابھی مو یکی کیت باتی سے اور ایل ال سکی طرف اتا ق کنب کر کی ہے اور چو ںک عا ریش کاب 
او ل کی طرف اس عق رک نہ یکنا حع زر ہے اس لے ک اس مس اعقا کی اہلیت معدوم ے کے اکر مو یکول چ زغ یر ےلو 
موی یکی کیت ثایت موی _ 

| ہی سکہاگکرااس کے بعد مک ب اول نے بد لیکتابت اداگیا او رآ ز اد ہہوگیا ڑا سکی طرف ول ل یں ہوک کوک 
مو یکو ن ر ارد ایا ے اور جن ے ولا لی ہہوئی _ اور اکر مکاح اول کےآزاد ہونے کے بعد دوسرے کاب نے برل 
کتابت اداکیا نو دور ےکی ولا ءا یکو ےکی »یوگ عافد ال باک اال س کرای کے لیے ولا اب تکیا جا کے اور بجی اگل ے 
ای لیے اس کے لیے ولا مایت ہو جات ےگیا۔ 
اللغاث: 

ا کتساب چ ما لکانا حا کر تزویج شاد یکرانا - افع زارد شی یزیل ہہ زا یکن مکرنا۔ 

إو لاء ورات ۔ جا تعذر کل ہونا۔ ضیف چو ب کیا ہا سے ینعقل 4ل ہونا۔ الاصیل چ اکل بنیاد- 
مکاح بکا ۱ ےا بنانا: 

متلہ یہ ےک ہ مکاح جس رح جع وشراءاورتے و ام کا ا کک ہے ای طر اسان دو اپ لام وکاب بنائے کا بھی ماک 
نے ین ات کر ات E Aa ENE‏ 
تک مکا تب ( ن ج یہاں مولی سے ) سے ا سک ملکیت ( عبر مک تبت ) زان یں موی یکن قا سآ یعقد انٹیل سے کون عقد 
کتاب کا مقصداو ربا لحن اور زاوی ہے اور مک حب اعا کا مال ک یں ہے کے وہ مال ن ےک رآ زادکر ن ےکا ما کک کین ےکلہ 
اتان سے ا کا ماش شرف بر بت بہوجانۓ گا اور مک اول پرستور مکاح بی ر ےگاگو یا ”کر وکو رہ گے اور چیہ 
میاں کر ہو گے 7 0ص“ 0 

فان ادى التاني الخ ا ں ما E DTT‏ 
کردیا فو اس دوسر ےکی ولا ھی اول کے مو یکو ےکی کیو اول اک بھی مو یکا لوک سے اوراس برقب موی کی لیت خابت 
ہے اور چو لیک مکاتب اول کےآزاد نہ ہہون ےکی وجہ سے ا کی طرف اتان کی نہد کر نا حع ز ر سے اور ای ٹیل اعا قکی اہلیت 
معدوم ے۔ اپا نبت اس کے مو یکی طر فک جات ےگی اورمو لی ہی مکاح انی کی ولا اشن ہوگا۔ چ ےعبد ماذ ون اگرکوئی چز 
زیا ہے و ا یکی کیت اس کے مو لی کے لیے خابت ونی ہے ای طرح صوریتت ستل می کی اخ قکی نبت ممولی ب یکی طرف 

ل ہوگی۔ اس کے پرخلاف اکر کاب اول ے٦‏ زاد ہو نے کے بعد مک تب اف نے بد لکتابت اداکیا تو اب ا یکی ولا او لکو 


3 " 
و اٹل AREER DIES De‏ امام اب le‏ ¢ 
کی اوداس کے مو یکویں ےکی کیرک اول اا کا اال ہو چکا ے اورا سکی طرف اعا ق کنب تکرنا درست اور چا ے اور 
ماق اورمپاش رہون ےکی وج ہے وتی اکل ہے اورا با تکا O‏ ےکا یک طرف اعا ق کین تکی ہاے۔ 
قال ون عق َيه لی مال او باه ِن تفم أورَوّج عه لم َجُر ان هذ الّسیَاء لمت ِن اگس 
ہن ا 6 اط الى ےد اه شات ال ف ھی فل وا اک ک 
ولا من توابعه» اما الاول فلانه إسقاط الملك عن رقبته وإثبات الین في ذمة المفلس فاشبة الزوال بغير 


۳۲ سس >> 7 سام د ص ت : ڈ 9> سی و کی و 9 و سے رر 4 ا 
نر ٭ کذا الٹانے لانه اعتاة م الحقيقةء و اما الثالث فلانه تنقیص للعبد وتعييب لَه وشة 
جو ر ي ق على ل في و0 a 000 er‏ رتس وشغل 


ره بالْمَهر وَالفَقّةء بخلف تَزویٔج امه ال اساب لاسْا5ته المَهْرَ على ما مر . قال ذلك الب 
لوي في رقي الشَیْر نة کت لها يلان یساب عَالمکاتب, وَل في زوج الم 
اة تر راط فيا اهما والولاية نریڈ 
تڑچہ: زر اۓے کہاگ کاب نے مال کے کش ہنا غلا مآ زا وکیا ی اس فلا مکوای کے اتی فر وخ تکرد ایا اک غلا مکا کا 
کردیا ت ہا ہیں ے یوت ہے زی ںکسب اوراس کے لوا مات بیس سے یں ہیں ۔ ری می چو اس وج سے چا کیل ےک دہ 
ال کے رت س ےکی تکااستقاط ے اورمفلس کے ذ رک انات ہے اپا رکش کے !خی رز وای ملک کے ما یہ ہوگیا۔ اور دوسرے 
ک کی بجی مال س ےکیوئکہ ہہ درتیققت اتا می بال ے او رتیسرىی جک عدم جوا اس وج سے ےکہ ہے غلا فص او ریب جوک اور 
ا یکرو کو راو رتفت سے شو لک رن ہہوگا۔ برخلاف با تد کے ناج کے یوت ہکا کنا ہے اس لی ےک ہکا کے ذ لمکا تب 
کم رمال ہوگا جیا کلذ ر چھاے- 

وا غلم کے بار ے یل پاپ اور وک یکا ھی مک ی جیا عال ےکیونکہ مکا بکی ط رح بی دوفو ں کک یکا 
کے کے مالک ہیں اوراس ل ہک کی باند یکا فکا کر کے اورصنجر کے فلا مکو کا تب بنانے یش اس ےکن میں فقت سے 
اوران دونو ںکاموں AE‏ ےاورولا ا ر ی ہے۔ 
اللغاث: 
ات ڙج شاد یکرانا۔ [الکسب چ کماکیء اختیار۔ اسقاط چ ساق طکرنا۔ فإ رقبةک گررن» غلام کی ذات۔ 
المفلس کئال تلا۔تنقیص پچ کرنا۔ عیب )گب دار بنا ۔ انظ ر فقت ت تی ۔ 
مکاتب کے پک دی رت رقا : 

صورت مل یہ ےک اک مکاتب ا سے غلا مکو مال کے وٹ آز ا دکرنا ے یا غلا مکو ای کے پات فروخ تکرتا سے یا ا کا کا 
کرتا ہے و ان می سے ایی کی حل درست اور چا یں کوت ہے افحال تتو کب ہیں اور نہب یکسب او رکا کے اواز ات 
لوآخقات یس سے ہیں با نکی شال إٹمھما آکبر من نفعھا می ے ہکوہ إعتاق علی مال کی صورت میں فلام سےص ول ی 


و ایا SAG TE Sn‏ ساب کے ما مر 
کیت ساقط ہوجا ۓےگی اور چو کہ تلام کے پاس ف الال بھی پییےاورنق زی یں ہےء ای ل ےکاخ یکا وش وٹ الال ارا 
کک پا ےگا اورا ی خر یب مقر لد ےگا۔ ی ال بیع العبد من نفسہ کا کی ےتک اکر چنا را ےک ےکن معن بشھی 
اتی ال ےاور گل وریت ول ا ا کی ہے 

ارس ری صورت ال لیے چا یں ہےکہفلام اود ایی یس میا عیب ہ یتیک ہاگ رحبدشنری شاوی شدہ ہو مض یکو 
اخیاررجنا ےک دوخ دا ہوا غلام وای کرد ے۔ ب راک عیب کے سا تد سا تجح ال بے داجب ہہوتا سے اور بیو یکا نان ولققہر ای بے 
متززاد ےہ لپفرا ہن اخ تکل مال سے زیادہخطر نا اک ہے اس لے بی ل بھی پا یں ہے۔ اس کے برخلاف مکاخب اپ پان دک یکا 
کا کر سے کیونلہ پات یکا نیا مج ر ےا سے ہہ ری کل میں ال کا اور یہ ال کیا کی اذا کے لیے فی اور 
۱ معاون ہوگا_ 

وکذلك الاب الخ فرماتے ہی ںکہاختیارات اور رضات کے ہوا نے سے جوحال مک تب کاہے وی مال بے کے پاپ اور 
کیک بھی ےکی کاب کے لے نلام باندی یں تصرف کی تیا با نکی ہے وت بل ان دووں میں کی چاری وی 
کیرک ا نکی ولا ہنی برشفقت ہاور یں بے ےکن جس شتت امو کی انیا م دد یکا ی ہوگا۔ 


وی ہے رو د2ی 4 اللہ 0 EDITS‏ 


قال فَامًا المَاذوْن لَه قلا يجو له شىء من ذلك عند ابي حَیْقة علیہ وَمّحَمّد مايه وقال بويوْسف 
طا انيرو ج امت على هلا لاف المطَارِبُ ماص وَالَرِيك ش رگ نان هو اسه لی 
9ر 


المُگاتب وَاعتِرَة بالِجَارَۃِء لاان المادوة لَه يَمْلك الَجَارَةً رَه وَهٰذا لیس بتَجَارقء فام اکا گا مرد ملك 
الاكَِسَابَ وها اكتسَابُ ولاه مل المَال بغیر امال فیعتبر ا دن الَِجَارَة إذ هي ماله الال 


یووےو ور 


بالْمَالء وَلھٰذا لَاَمْلِكَ هولءِ كلهم تَزْوِيْج الْعَيدِ. 

تنجد: فرماتے ہہ سک حضرات طط رشن ےہ ھا سے یہاں تید ماذوان کے ل بھی ان امور میس ےکی کی کا مکواضم وہنا جا 
یں ہے۔ امام ابو لوست وای فرماتے ہی ںکہ اس کے لیے ابی باندکی کا فکا ںعکرن چا سے ۔ مضارب ماو اورش رک عتا کا 
ری کی ای اختلاف پر ہیں ۔ امام ابوبیسف ٹیڈ نے اسے کاب کے شل تر ار دس ےکر اجارہ پے تیا کیا ے۔ حر ت طرفیین 
ےتا کی دل ہے س ےک کید باون تار تک ا کک سے اور ہے( وع امہ ) تھا رت یں ے اور مکاح بکوکمائی کا اختیار کل سے 
ادد یکا ہے اود ای لی ہک بے خر مال کے کو ما یکا مباولہ ہے اڑا ا کنا بت مر تیا کیا جا ےکا کہ اچاد ے بے یوگ اجارہ 
میسن مال ےوش الک تال موتا سے اک لیے ان ےکس کی اہ فلا کا ا sg‏ 

اللغأت: 

فڑالماذون) اجازت دی موا - یزو ج شاد یکروات ۔ [المضارب کی کے یہ ب کا م کاروہا رک نے والا۔ 

طڈالممفاوض !خرن لی کا رپا رک نے والا قاس 4 تا سکرنا اتساب یکا یکرنا۔ 


ہہ ہے ١‏ 
mE TS‏ 2 
نی ںکرسکتا اور مکا تب و اپٹی باند یکا کا کرککتا ے :یکن حرا ت ط رفا سے یہاں عبد ماذ ون اپٹی با ند یکا کی کا کرت 
اہتہامامابویسف وای کے یہاں اسے باند یکا کا کر نے کان ماگل ہے۔امام ابوبوسف نے اسے مکا تب پر قیا کیا شن 
ہو کک و تل ے اور بے باند یکواجارہ بد ینا چا ےا سے بی ا کا ہا ںکرنا 
بھی جاتتڑے۔ ۱ 

دو ا ا ات بت 0 “-- 
اور اکسا ب کا با لک کا ب ے ن ہک کید ماذذن _ ان حرا تک دوسرکی دمل یے س کت ون امن یل تیر مال سے ما کا ال ہوتا 
سے ج بک اجار می مال کے جو با کا تباولہ ہوتا ے ای ےکی اسے اہارے ب قا کرنا درس کیل ہے۔ پاں مکا تبت بے 
تا ںکر کے ہیں کیرک اس میس غر مال سے ما لکا مبادلہ ہوتا ہے د کے ارت میس سے نہ ہون ےکی رت 

٤‏ سس یس تحت تس شی ال بات چ 


TT 


¢ ا‎ ER DOS Û و‎ 


و 


کل ان سال کے بیان مٹس ہے جو بط ن صبحیت 
نابت بیں وال ہیں 


hg‏ دو د ئے۔ و> سی ا 2 ر ٤‏ ٤و‏ و ل مد رر ٤‏ 2 و 
ال ودا رى المُگاتب باه و ابه دَحَلَ في انيه انه ِن ُهل ُن يگاب وَإِنْ لم يكن من هل الإعْتاقِ 
2 ر9 وص 92 سے نے کی ۔ گی 49 ا 9 دوہ و و کے و 
َیْجْعَل مُگاتبا تحقيقا لِلضّلَة بقڈر الإمُگانء الا ترى أن الْحَرَمَطٰی كان يمك الإغتاق يعتق عَليهء وَإن 
2.2 7آ مو ر2 2و ہے کس ےد و55 ڈ5 ص در ۶ 2 ے دےے ر اہ 2 و و ے کڈ 
اشتری دا رحو مَحْرَم مِنه لا ولد له لم يحل في کتابیه عند أبي حَييفة مايه ء وگال يَدُخل اعَیبَارا 


بقَرَاة الود 3 جوب الصلة بنتَظمهُمًا رَلهدًّا ليران في لحر في حي اريت لَه ان الْمُكاتَبَ 
گب لا لگا عير ا كسب يفي َة في الود حتى أ َر لی اگس ياب فة الال 
الو َا َي في رهما تی لَب تق اع إل على الور أو ِم قراب طت بين بي 
الأعْمام وَقرَایة الود فالتا بالثاني في التق وَبالول في الكتابةء هذا أولىء لان العتق سرع نفوذا 
چیا : نے ہ ںک اہ کاب نے اپ باب یا اپنے س ےکوخر یرای تو مشت ری ا یک کابت جس دائل ہو جا ےگا کیرک 
مکا تبء کا تب بنا ےکا ائل سے اکر چ اتا یکا اب یں سے بابز اتی ال مکان صل نی خاب کر نے کے لیے اسے مکا تب بنانے دالا 
ترا ردیر یا چا ےگ کیاد کت نمی ںک اکر زاو اع کا کک مولو ا کا خر یداہواذ ورمرم اس پرآزادہوجاۓگا_۔ 

اوراکر مکا تب نے اییے ذ گی رق رت مکوخ یا کی کے ساتھ ولاو کا رشتہ نہ ہو امام ابوعفینہ پیا کے یہاں خر پرا ہوا تش اس 
کی مک تیت میں وال یں ہوگا ۔ حرا ت صا ٹین لاف ماتے ہی کہ ولادت وا تق رایت پر تیا کر سے مہو سے خر یدا ہوا تی اس 
کی مک تیت میس داشل موہ ےک کوک صل ریک ووب ولا وک اور تیر ولا وک دونو ں قر اب کوشا ی ے ایا ےآ زار ےک 2 
7 یت کے وا ےے ے ان وفوں میسافر شس ہے۔حضرت ایام کم ولیہ کی ومک ہے س ےک مکاج بکمان کا ا یتو ےکن ما کک 
ہن ےکا ا یک ہے تاج مرکا ٹیب رقا در ہنا رابت ولادت وای صل ری کے لی ےکاٹی ےکی کہ جوکمائی قا در ہوتا ےا سے ما پاپ 
اوراولاو کے ون کا مطال کیا چاتا ے اور وال وول کے علاوہ یس صل ر یکر نے کے سحےکسب ےکا میں اض کہ بھی کا فت 


9 انال بلر۵) LAER SPIER‏ اک م اتب کے مان یں 
مرف االمداربا گی پر ہی واجب سے او راک وچس کے خر ولا دکیقرابت پا زاد چھاتیوں اورق رات دلادکی کے ماکی دائر ےرا 
کن ملل ٹس تم نے ا ےق رایمت ولاو ے لا کروی او رکاہت SE‏ یل اے ر اہی ره کےسات گنکرو او رسکی طربتہ 
زیاد “تر ہے یوت منایت سے ز یاد ہ سرخ لعفاو ےک یکر اکر دوش ریوں میں سے ایک مک تک معا ل کیا او د وسر ےلوک 
۱ حاصل ہوگابنیکن اکر ایک ن ےآزاوکرد یا تو دوسرےکوحی رخ یں س کا 
اللفاٹگ:--۔ 
فڑیکاتب ہہ مکاتب منانا۔ الاعتاق 4 آزادکرنا- فإالصلة) رشت دارکی کا خیال رکھنا- ظ(ینعظم ‏ شال ہوا 

ڈیفتر قان چ دولول چراہول گے تو سطت ) واسطہ اسر ع زیادہ جلر یکر ے والا ھپ 

مکا بکا ا ےی رشنددارو ںکوخ پرم: 

۱ مورت لہ یہ ہ کاک مکاتب اپنے با پکو با E EN‏ می مات الک مال تی 
les‏ ین دویھی سکاحب مین جا ےگا کی شر کی خودمکاب ہے اوراےآزادکر ےکا افیا یں ہے ء اس لیے ا یکا خر یدا 
ہوا ؟ زار ہوگا با مکاتب بن جا ےگا اورا اتبا سے ا کی طرف سے صر یکا کام اجام پذ ےہا ےگا۔ میم 
اس صورت یں تق علیہ سے جب خر بدا ہوا مکا ت بکا باپ با ٹا ہو شی اس سے ولاو کا رش ہو جانا اگ رخ بدا بوا ا یک 
اور دو رکا شد دار ہواوراس سے دلا دت کا تاق تمو ام عم یا کے یہاں ونس ہک جب کیں ہوگا۔حعحخرات ما یں تا تا 
ڈراے ہی کہ مکا تب اگ دو رکا رشن وار بد نے شلا بھی ء چا اور چھوچھی ویرول وو کی کاب ین جا گا کون رھ یکرنا 
ولا وت اور تیر ولا دت دوفو ں ط رح کے تعلقات والی تر اب کوش ل ےاوررولوں کے سات صل ری اود یکنا ارڈ ب اور ونپ 
ا۶ ہے باریس ولا دی ذ کن ید سے سے مکاتب جن ہا ےک ایی ردلا دی کی یر نے سے مکاتب بن جا ےگا ای 
ارآ زار 00 روز ےا راما خواہ ولا دک رایت والا ہو با رولا دک پہرصورت وآ زاو ہوگا اور ا یکی 

قرابت سے ب ٹک ہوگی ای طرح صورت مت بھی فرق کے بفیرشتز ی تس کاب ہو جا گا۔ 
حفرت امام انم وی کی وکل ےسب ہک مکا تب صر کمانکا مالک ہوتا ےکی کے کا ماک نیس مرکا کیرک رقیت 
تک کے متا سے اور مکاحب بنانے مم کی ایک ر کا ملک ے اذا غیر ولادت وا ےتکور یر نے سے ماب اک 
مکاج بکیں ہوگا ۔ پان صل ر یک نا ایک اھا کا م ے اورک مکی اس کے مرا اور خرف ہیں مان اس س کی فرق ما بکا خیال رکھا 
۱ کیا چنا ئج یش کا قاد ےا پراپے دال ہی او ا با پ کا افق وا جب ہے خواہ دہ موس یو یا نہ ہو اس ل کرو الد بین اور 
ادلاد ےتراہ تکارش سے بین اک را در بی اکب رارت ہوا اس پ فی ذلادیار نے دارو قق واج یں ےک رولد 
وال تر ایت رلت بحیدہ ادرق رت رہہ دوفوں مش رک ہے بی وج ہک پیا اد بھائ یی ط رح اپنے بھاٹ یکوگھی زکوۃ د ینا علال 
ہے اورا یکی وفات کے بعد ا کی یوی سے نکاح ھ0 ارت برخ کے مشاہ ےن شق ون پیا تو ںکا 
چن ہیں نا ر ترام ہے م صل ر یکر نا رٹل ہے اوراس اتبا ر ے برق رامت قریباورق انت ولادت کے مشابہ ہے او ہم نے 


و ا O‏ مو ہبڈ ۱ BEER‏ امام ماب کے i‏ 
دونوں مشا توں پر لکیا ہے اپا حت کے معام لے میں ۹م سے قرابمت بحید ہکوق راید تمریبہ کے ساتھ لات کر کے مہ فیس کیا ےک 
انان ا صورت ست یل جو مکاحب ے وو خواو قر ہی رک کن وک ا ضر ا 
ہوجا ےگا اور اول سی ترام یرہ 0ج میں مم نے قرابت متو سط ہک وکابمت اور مکاتب ہہونے سے لاتق کھردیا سے چنا ار 
مکات بک پپچااد بھائی وخ رہکوخ یر ےکا تو وہ ا لک یکابت می داق ل نیس ہوگا۔ 

ین ا کا الٹا یی سکیا جا ےگا ]شی قر ابت تیر ہکات کے مات اور بھی ہک وکن کے سات ھکیس جوڑاجات ےگا اورا ی می روو 
گنک نی ہو بی وج ےک ہاگ دوش رکو میس س ےکوی شیک عبدمشت ر ککومکاحب مناد ےا ایک ش ری کو من سل 
ہوا کن اگ ایک شر بک اس ےآ زا دکرد ےل دور ےلو 2 1 23 


بد 9 ر2 سے صر و 


ےر دے 7 ۔ے ر چ ا عو ٣‏ ص تھے ۶٤‏ 9 
ال وَإِدَا اشترای ام وده دحل وَلَدمَا في الْکتَايَة رلم جز بها وَمَعَْاة دا گان مَعَھَا ولدهاء اما دخول 


کی و کےے۔ کیچ کے دص و کی دے رو ےر ے کے و ر رڈ بی دول کے اا دہے 
الد في الكتابة فما دكرناه راما امتا ع بيعها قِلاتھا تيع للود فی هدا الحم قال اقا رراَعْتَقَهَ 


9 س 4۲5 رت 8 بے )8ھ بط ں ےھ ڈےے و ڈ5 2£ ووو ئن وریت امہ ر ك 
وَلَدهَا)). وَٳِن لم یکن مَعَھَا ولد قكذلك الَْوَابٌ في قول بي يوْسف مايه رحد تئیہ لاه ام 
ست ٌ رل7 دے ہےائے 


ہی ہگ ےو ے دوصے ال ہی کی ؟ بد کے ہے 601 یچ ے و ر تھوے۔ 
ولد خلافا لابی حنيفة عة ء رکه ان القاس ان يجوز بیعھا وَإِن گان مََهَا وَلَدَء لان کب المگاتب 


E‏ > سے کو I‏ 7 کے و کا کے ردو و هد ا ف کا ےر ال کے گود : الد 
موقوف فلايتعلق به مالا يحمل الفسخ إلا انه يغبت هذا الحق فِيمَا إذا كان مَعَها ولد تبعا لعبوته في الولد 
7ے سے کہ 23 fh‏ کید ب 9 9 2 گے 9 رہ 9 aS‏ ےو د گے کپ 2 ڈ5 یک َ‫ 
بناء عَليهء وبدون الو لو ثبت یغبت ابتداءء والقیاس ينفيهء وإن ولد له ولد من امَة له دحل في كتابته لما 


ہے 


تا في لمر لگا که کیہ رگنب لاہ لا کب اوک گب کہ ويکر کَذِكَ قب 
اعَْةِ قيقع بالأعْوَِ احِْصَاصُهہ ذلك إن وت الْمُگاتبة ودا لان حَق امنا ع اليم ابت فيه 
موا شري لی اود ابر سلاد . 
زچه: فر مات ہی ں کہ اکر مکاتب نے ابی ام ول یکو پرا تل ام ول کا ڑکا کنابت جس وغل وجا ےکا اورا کی ما کو ینا 
ہا زی ہہوگا ا یکا مطلب ہے ہ کہ جب اس عورت کے سات ا لکا پچ جھی ہد۔د ہا ےکا کات می اقل مون تو ای وع کی وج 
سے ہے بے ہم میا نکر کے ہیں اور ا لکی ما کو یی کا عدم جواز اس لیے س ےک اا گم ل دہ سے کے مائع ہے۔آ پ رک 
ارشادکرا بی ےکہ مار بیکوا نکل کے نے آزاوگرویا۔--- 

اوراگرعورت کے ساتھ بی نہ ہو بھی حرا ت صا کین چا کے بیہاں میک یکم سے کیوکلہ دہ ام ولد ہے۔ امام ام ول کا۔ 
اتلاف ہے۔امام انف مم وی کی دمل ہے کتیآ ا یکی ئن جا کڈ موف چا سے اکر چراس کے سا بھی ہو کیرک مکاح کی کیا 
موقوف اپا ای کے ات کوگی ا میں تلق ہوگا جس میں رخ کا احا ل نہ ہو کین اک اس کے ساتھ بے موتو اس صورت میں ٠‏ 
اتزاع کے کم خابت ہوگا کیوکہ ےکم پچ جس خابت ہے اور ما کا م اک پینی ہے اود اک کے تائ ہے اور مر ہے کے اخ کم 


7 000 جلر() EER XDI‏ احا م مکا جب کے بیان م ۹ 
ایت ہوگا ت ایتا بت ہگ ھالائکہ ق یا ا سکیا یکرت ے۔ ۱ 

۱ کا نام ےت سو رض کات تال فان ےھر وھ کے 
س بیا نکر کے ہیں ایا ےکم کاب ک ےع مکی ط ررح وکا او راس ہچ ےک یکماکی مکاح بکیا وگ ؛کیونکیلڑ ک ےک یکمائی کا بکی 
کال ہے اود جب نب کے دگ ے سے پیل ایبا ےا دوک نسب کے بع کی براختقاع م نیس ہوگا_ بیجم اس صورت می کی 
سے جب مکا ت بک مکا تبہ جا ترک سے چہ جنا یوک کا حب با دی یس اشنا کے کا کن خابت ہے او روکد ہے اہذا یق ےکی طرف 
مم ل 
اللاث: 
اماع( رکناہ کرت نمدا۔ قبع :فر کب کال [یدفی پش یکر لدعو ڈول 
کرنا۔ (ینقطم ۶4 ہونا اختصاص ) ناگ مون من جو مل تہ ی) ہار ہوناء چا طالعدبیر 4 | 
ھب جنانا۔ ظ(الاستیلاد ام ولد بناتا۔ 


ام ول کین یداری: 


ود اکر کاب نے انی ام ول وخر پرا ت ا کا لڑکا ھی اتی اں کے مو کی طرع کاب بن ہا ےگا اور 
باپ بینادوفوں باپ کے موی کے مک نب ہو چا ےکن ریس رت یل سے ا کے ےل دا 
ہوگیا ہو ) کیونکہ مکا حب سی کی رت کر مک وآ ادنو کی ںکرسکتا نکر مرکا حب ضرور بنا کنا سے اور ا کی ماں سٹک ام ول کوفر وخ تکر نا 
اجب کےلے اتکی سب کیک عدم جاز قش بے مال اپنے سے کےماع ہے اور چو کرای ےکی ئن متو اپ اا یکی 
ما کو چنا بھی ممنوع ہہوگا یوک بس ط رح پچ کن وجا زاد وچا سے ای را کی ماں می بھی آ زادی سرای کرای سے چنائجھ 
خضرت مار یقعطیہ ری الڈرعتہا کے یہاں ج بحرت ابرا م را مو نے تو ق آ پکاڈنے بیارشادفر ای تھااعنقھا ولدھا کہابرائم 
ےاےآ آراوگردیاءاورا زادگ یووفروض ت مو ے- 

وان لم یکن معھا الخ ا یکا مال ہے ےک اگ ام ول کا بی نی الال موجودنہ ہو بھی رات صا نین متا کے یہاں 
اے تنا جا ہیں چکگ ووکورت ایک مرت ای مکاح ب کی ام ولد ن گی ہے اورا یکی مجع مول ہے پا اللفاسد 
لاینقلب جائزا کے تت اے روش تکرنا ا نیس ہڑگاء ج بک تیا ںک تقاضہ ہے ےکا لک ئن جاتر ہوا 020 
موجودہواں ل ےک مکاح بک یکا موقوف اورمترددہوٹی ہے ی بیدا ع نیس موت ک وہ پر لکتابت ا واک کےآ زادہوچاۓ گا ی ادا 
کی کر ےگا اور رغلا م بن جات ۓےگا ۔اس کے برخلاف ام ولد موت اورک کا چائز ترمو ی اور شی وا ے اوراس مت کااخال 
یں بتاور تی کے ونا یرایل ہے ای ادر ادن کے اتکی وس لاتق کیا جا ۓگا۔ اور بی ےکی عدم مو جودگی یں ام ول 
کی بے جائز ہوگی- ۱ ۱ 

ال جب بمو جود مونو اس صورت می پچ ےی ہوک ما ںکی کے کی ن موی کیرک اں یآ زاوی کی ای ےکی مرون 


LL ARL IDI Le ر انبا‎ 


۱ مشت ہے اہنرا اور ماں دونو کا گم ایک ہوگا۔ 
اگ مکاح بک باندکی یا ا لک مکاعہ با نکی ےکوی بے پرا ہوا یہب باپ کے تایح ہہوکرمکاحب ہوگا اود ا سک یکمائ یبھی ٠‏ 
ماق لمت وکا کے 


و 
6 حم ا 


قال ون روج مه ِنْ بم ثم گات دت مِنه ولا دحل في ايها گان كسب ها ان تبي الام 
ارجح وَليٰدا يبعا في الرق والحربة. 
تنجد: فرناتے ہی نک ری نے اپنے لام سے اب باند یکا کا کروی پرا دوفو ںکومکاحب ناد اور مکا یہ باندی نے بے جا 
تو وہ پیر ا سک یکنابت میس دال ہوگا اور ا سک یکمائی ای با ند یکو لٹ ےکی ؛کیوکہ ما کی یت الب ہے ای لیے رتیت وص یت یل 
بے ماں کے ابع ہوتا ہے۔ ْ 
ام ول دک خر پړاری: 

سرت او ھنۓ راگ ہے الہتہ ہے بات ڈ ئن میں کنا ترو رک ےک ہت یت وریت میں فو بچ ہاں کےمائع ہہوتا ہے 
کن نب یل باپ تایح ہوا ہے :ایا لیے یہاں یکو ما کے تائع تراد ےکر ماں ب یکول سک یکا یکا وارقرار دیل گیا ے۔ 


و دے لے _۔ 


ر یس پور ری ٹوس سرت 


ا دروو راہ و رو ارد ود رال 2 ووو 


وَلَايَاَعَلْهُمْ بالْقیْعَة > وكذلك العبد یاڈن له المولی بالترویج, رها عنڌ آي ية ید واي يوست 


لی ء وقال محمد راا اودكا أحرار بالقية > انها سارك الْحرٌ في سب رت هدا الق وَھُوَ 
دوووو 


لور وهلا لأت مَا رَغبَ فِي نگاجھا ر یتال حرَيَة الْوْلادِء رهما ا مولو بين زيفين کو رقيقاء 
هدا لان الصْلَ کت الَْلَد بع الاه في ال والحرية ة. خَالفتا هدا الصْل في لحر ِإجُمَاع الع لصحَابة وھذا ۲ 
ليس في معتاهء لان حى المولى هناك مجبور مو نَجرَق وههنا بقَيمَة مجر إلى ما بعد التاق فيبقى 
عَلَی الصٔل فد َلْحَیٌ به. 

تنجمد: تج ےا زا د کہ راک سے کا حک لیا اور اگ لورت نے 
ایک بی جنا نکی کی تن ک کی ا کی اولا دخلام گی اور پاپ تمت د ےکر یں خر ہیں سم . یھی عم اس فلا مکا بھی سے 
ےا کے مو نے ہیا کن ےک جات دےرگی ہو۔ ری دشرا فی کے پہا یہاں سے اما مھ وھ فرماتے ہی ںکاس مسق 
کر تک ادلاد تت کے کو آزاد وک ؛کیوکہ یلام ال نشی رور کے ن ہونے کےسبب می ںآ زا دکا شریک ہوگیا ہے 
۱ یوک کا نے ای لیے شادکیکیائھی ماک ہآ زاداولا وک قرت اص لکر کے رات تین با 1 کل ہے ےگوہ کر دو 
فلا ول سے پیا ہوا سے ایند الام بی د ےگا کوت اکل می ےک رقت و یت شل بی ماں کے ماع ہہوتا ے۔ جم نے حرا 


2 آنْ ابا EELS (Die‏ اکا ماب کے تان می جح 
کاب بایماک ون ےآ زاوش کےجن یں اس اص لک الف کی ہے اود کا بآ زاو کےمعی مم یں ےکیون زاوی 
صصورت میل نز تبت د ےکر مو یکا بویا اکنا سے اور سکاب ولام یں اتا ات ان نے 
ما تیت ےق مو لیک تا گیا کاخ دم کےا یگ ال پ با راودا حکاحب کے ماھت ںیا 
جا ےگا۔ 


اللَات: 
لإاذن) اجازتء رضا مندگی۔ زعمت )4 خا لک ناءکمان رکھناء وکو یکر نا مت ضس ہن 

703 - [عبید ) نلام۔ (الترویج ) شاد ی کردا اح رار آزاد۔ شارك ) شریک ہونا۔ [رغب )4 کی کا 
ظینال پ4 پاناء حاص٥‏ لکرنا۔ بلاناجز فلو ری ادا گی 
پا دک کو زا پک ہکا حکرا: 

مورت فت یہ ےک ہاگ رکوگی مکاحب اپنے موی ے اجازت ت نے ری عور تکوآ زا دج ےکر اس سے متا )کر نے اور یھی 
0 و وی ہر ہس رہ سے نے ےو حرت جن ے 
یہاں ا لکا پر خلام ہوگا اور با پر کو تست د ےکر ےوآ زا دکرانا یا ے یا آزادکی رح رکنا چا ےو یں رک وسکا۔ اما حر 
ٹڈ فرماتے ہی ںکہ باپ تست د ےک راولا دلو اوک رح رکوسکتا ہے ہکوہ با پکو وع وک د گیا اس ل ےک ا لکی مکو گورت 
پاتا یہر اور اکا سے ا کا مقر مال ہیں ہو کا۔ او ری ط رع اگ رآ زاوکو روک دیا جا نو اس تمت کے کی اولا رکو 
اترار بنان ےکا ہن حاصل ہوتا ے ای طرح مکاحب اور خلا مکوجھی اکر ووک دیا جا تو نشی بھی تمت کے کش احرار بنا ےکا ن 
حاصل ہوگا۔ 

حطزاری یں اتا کی دک ل بی ےکرصورت ست شی جو پچہ پیا ہوا ہے انس کے مال پاپ دولوں ر تق اورغلام ہیں او ری 
کے طف ے دہ پیړا ہوا اذاو ہی غلا م ہوگا او ربچ رت بیت ود قیت شی لت بی ماں بی کے تاح ہوتا سے اس لیے مرد ےآ زاد تو ےک 
صورہ ت من بھی اس کے ےکور میق ہو نا پا سے کان چو ںکآ زاو کےتن میس حرا ہیا ہے اجمارح سے ہم نے اسے تمت دے 
کمراولا وگواترار بنا ےکی اچاز ت دک ے اور ہکا ب وغلام ٹل اما معدوم ای لے ان کےوتن میں عم اکل پر بائی رہ کا 
اور سق باندکی کے تایح ہوک ا یکی اولا یھی رج اور تلام ہہوگی _ اس ساس ےکی تی وکل ہے ےکآ زا وای یکمائ یکا اور ویر شیک 
با کک ہہوتا ہے اورا کے فو ری ور پر تبت او اکر کے موی ا تی ےک 000 رمو ے ان 
الال نت زی ونر ہش مون ۔ اور ہاگ تمت دب گےبھی نے آ زاوی کے بععدویں کے جس سے موک حن متا ہوگا اورا یکا قصان 
وکا اک لیے اس جوا نے ےکی غلا م وکا بکوآ اد کے سات لاان کی کیا ہا ےکا ۔ 


َال وَإِنْ وَطي المگا تب أت عل وجو الك بر إن الول ذم استحقها رجل فَعَليه لعف وح به في 


رز وو کرو 


الْكتاَء َإِنْ ریا على وجو الیْگاح لم بُْحَذ به تی يعن وَكذِكَ الْمَاذوْنٌ ل ووجه الفرق ۴۳ 


ر ناب AMEYE FREER DTD‏ رر 


الَصْلٍ 1 كَهَرَالڈیْنَ في فی کو حي الْمَوَلٰی > لان الَجَارة وَتَوَابعَهَا دَاخلَةً تحت الْكتَائة وَھٰذًا الْعَقَر من 


توابههًاء ء لاه لوه الشْرَاء لما سقط عه وَعَالمْيَسْقط الْحَذ لايَجبُ ب عقر ا لم هر في لقصل الثانی, 
0 ایگع رر تکفا کل رذ شى المكاتت حار 
تھے ہو کے کے دروو 2 ادوپ ۱ 


راء قاسدا ثم وَطِيَهَا ردا اخ د بالْمُفر في الْمُاتبة ذلك العبد ادن لا ان من باب التجَارَة فَاِنَ 


ارس 27 و 


التصرفت تاره بقع صَجبْحًا ومَرَة يع قَاسداء وَالْتابَة وَالإِذنُ يانه وعيو گات ويي گان ڪاهرًا في 
حت الول . ا 
ترچه: فرماتے ہی ںک اکر مکا تب نے مو یکی اجازت کے خی اکا طوز کی بای سے وٹ کی پروی شس اک ن کل 
گیا و اس مکاحب پ ئد یکا رو اجب ہوگا اور ےر عحالل تکمابت کی ال اا واوا حک کے ما ان کے 
و کی نو ال کےآزاد ہونے سے پیل م نیس لیا جا ۓگا کید ماذ و کا بھی کیم ہے۔ وجفرق ىہ ےک ہمہ صورت بی ین موی 
کے میس ظا رہوگا کون ارت اوراس کے متعلقات عق دکتابت کے تت وال ہو تے ہیں اور ینف کی تبارت کے وع بیل ہے ٠‏ 
د یی س وت زا ماق نچو اد جب مداق د بون ای پرق یی اجب 
نہ 

اور د وسر ورت میس دس ن موی پر واج ب نی ہوگا کک کی کی 1۰ ہے ال 07 
انا ن ول کے اناا ا می غا ل ن وول 

فرمات ہی ںکہ اگ رمکاحب نے شراسے فاسد کے طور ےکوی اترک خر یری برای سے و یکر کے اسے وای ںکردیا او بیالت 
مک تبت بی اس سے مق رلیا جا ےگا عبد ماذو کا کی سی یمم ہے ینہک اس کی باب تھارت یش واش ہے چنا یھی تمر فک 
وت سے او ری اسر ہوا ے۔ او رکمایت اپات کی لک طرحع دی وون یں ای مون ا عقر مول کے کی 
یس اہر ہوگا۔ ۱ 
اللغأث: 

إو طی )حب تکر نا و جه الملك ) کک کے ور پر العقر ان الماذو 208 لے 

ا اا تر 
تنل نے وی با ند یکم : 

عار ت ٹیل ووککے بیان کے گے ہیں : 

EAL ESED‏ 7 نے اس باندیی برا ختقاق یکا ووی 
کر کے اسے نے لا تو اس مکاتب سے مال تکتابت ی موطوء 3 پات کا رلیا ہا ےگا اور ا کی آ زاو کیک اے موف رک کیا 


1( ہے بلر9) OX‏ ار فک EAE‏ اکا م کاب تیان شس ۹ 
جا گا اس کے بنخلاف اگ کاب نے کا کر کے اس باندگی سے وی کی شی فو ان ۓل الال خی نلیا جا ےگا ودای 
آزادک یک مو کیا جا ےگا ۔ ۱ ۱ 
یا اورشراء فر ىہ ےک شر امس خر لوف وخ تک ےک یکا ما کک ڑا عق دکمایت ےت اقل س ےکیوک ای عق کی 
وج سے مکاح بکوشرا کا کن ے اور ای شرا کی بفیاد ر یکی ے اورعد ساقظ موی ے اور چو ںک عق رکا ہے مو یکی 
اجازت اور شی سے ہوا ےل ہنا کور عق رکا وج ببھی مولی کے میس طاہ رہوگ اور مکا تب سے فی ایال ال عمق رکا مط کیا جائۓے 
کا کے برغلا ف نا کر چو ںککتجارت اورا کاب ہے تح یں سے اوراس میس مہ رکا وجو بش ناک ہے ےا 
اس وی می سکنابت اور مو یکاک وی کل ل یں ہوک اور اس غلم ےآ اد ہون ےتک مو رکیا جات گا۔ اد رکا ہت یں موی کے تن 
یش پیٹ ھا نی ںکی جائے گی یھ اگر مکاح کی کنیل ہوجاۓ نذ عق رکنابت کے بح ی اس س ےکا کا مطالہکیا پاتا ے ای 
۱ طرح صورت متلہمیش کا وای وگ یکا مکی مکاح بک یآ زاوی کے بد ہی دضصو کیا جا ےگا 
(۴) وو سرا ستل شراۓ فاس رکا ہے اورشراۓ فاس کاو یم سے جوشركم ےج کا یوگ تر فک ی ہونا ضرور ی ہیں ے 
بض تقرف میس فا ری ٦‏ چا ے او رعق دونوں ضر فکوشاٴل ہوتا ڪان رونو ں صورتوں یس جوم رکاج بک ہے وی کیر 
۱ ماذو کا کی ہے ءکیونکہ مکا تب اور ماون دوفو ںکوموٹ یکی طرف سے ہرک جنڑی اور گر بین مکل تیاب موتا ے۔ ۱ 
قصل) ال وا وَدتِ المُگاتبة من امول قھي بالْغتًارِ ِن شَاء ث مَصّت عَلى لكاب و إِنْ شَا٤َتُ‏ 
کرٹ ها وَصَارث ام وو ل لاتا تنا جهتا خرن ڪَاجلَة دلي اجلو قير دل َير ينها 
وَتَسَبٌ وَلَيْمَا ابت من الْمَولى وهو حر ان الموْلى يَمْلِْكُ عاق في وَلَيْمَاء وَمَاله مِنَ املك يفي 


و و PE‏ 


€ یں ا ا یں ےی ہےر کے 3ور م ا د کیا ر ا کے 
لصة الإستيااد بالذَّعوة وَإذّا مَضَت عَلّى الكتابة أحَذت العقر من مَولَاهَا لاخيصًاصها بتفسها وبمتافعها 


س‫ َ‫ ہی را 2ے ر پ 2 ر و 2 سےے۔ ق ا ۶ 
على ما قَدمُتَا. تم إِنْ مات الْمَولٰی عَتقَت بالإستيلاد وَسَقَط عَنهَا بل الكتابةء وَإِنْ مَاتَتْ هي وتر كث مالك 
ےل 7 ت کے ص 0 سے ت ت ساوت ا 5£ 3 9ر r‏ سر سےج ر 
تی مِنهُ مُگاتبتهاء وَمَابققي مِيرَاث ايها جريا على مُوَجَبِ الْکتاتةء ِن لم ترك مالا لسعاي على 


ےو 


لوہ لان حر ولو لد وَلَدا احَرَ 


کی ڈراو پر ر ودے ۔ ے صوے ‏ 9 94 ےم ساس سے 3 
لم يلرم المولى إلا ان يذعي لِحرمَة وطيها عليه فلو لم یڈ ع وماتت 
من غَیْر وَقاء يسع هلدا الود ِالَه ماب تَا اء لمات المَوْلى َع ذلك عَتقَ وَبَطل عَنه الاه نه 

و ے اس 9ے .9 ا 9 

ةم ر ذهو ردا مُها. 

زچه: راے ہی سک اکر مول سے نط ہن کا تر نے بچہ جنا اسے انففیار سے اگر چا ےو عق دکتابت با رے اور اکر 
پا ےت بد لتاب تک اوا کی سے اسآ پکو عاج قرار در ےکر مول یکی امم ولد ہوجاے ء ال سل ہمہ ال ےآ زاو کی دوراہیں 
عاص۷ لک می ہیں: (۱ بر اذ اکر ےرا آزاد ہوچلاۓ اور (۲) !خی پرل کے مو یکی وفات کے بح رآ زاد مواپ زا اے ان ٹیل ے 


رآفابلاء AE AERA SDSS ORO‏ 
ایک کا اغتیار دیا جا ۓ گا اور ای کے ےکا نب مولی سے خابت ہوگا اور بچ ہآ ز اد ہوگا کوت رمولی مکاحبہ کے بی ہک وآ زا دک ےکا 
الک سےاوراس مو یکو ج ولیت مال ہے دہ وق نب کے کان ے۔اور ج بکور تکابت پرقائم سے ےکواحقیا رک ےگ 
موی سے ہر ےکی ؛کیوکلہ مکا تہ انی اور اپنے متا کی الک تار ہے جیا کہ اٹل س ہم یا نکر گے ہیں۔ پھر اکر موٹی 
رجا ےو ام ولد مو ےکی وجہ سے دہ مکات ہآ زادہوجا ےکی اوراس سے بد يکتایت ساقط ہو جات ےگا او راک لہ ب ہما تم رجاے 
اوراسں نے مال بچھوڑا ہو اس مال سے بد لکابت اداکیا جات ےگا اور جو ےگا وہ اس کےا ک ےکومی را ٹ یی لکل جا گا اوراگر 
مکا ہہ نے مال تہ چھوڑ اموا ےے ړکاک رمو یکود ینا واج ب یں ہوگا کون وو آزاد ے۔ 

اوراگر مکا یہ پا ندگی نے ووسر ا یھی جن نو دہ موی بے لا زمکیس ہوگا الا ےک موی ا ںکادکویی ےر یک مول ړال 
سے و یکر نا ترام سے اور اکر موی نے وک یک سکیا اور رکا : ہہ بر لکتابت اداھر نے سے پیل می تو TOT‏ 
کے یکاک ےگا ءکیوکہ ماں کے تاب ہوکر دوجھی مکاتب ہے ھر اکر ای کے بحر موی م رگیا تو بآ زاو وچا ےگا اور اک سے 
سعایہ باشل ہوجا ےکی کیراب پام ول م یس ے ا لح TS‏ 


اللَاتٌ: 
ڈڑالخیار ) انختیار۔ إعجزت ہہ عاج قرار ویاء بر لکتاہت ادا 7 ×۔ فإتلقت ہہ پاناء علناء امنا کرنا۔ 

لعاجلہ پاٹ ری جلری۔ الاستیلاد چ پان یکوام ولھ بنانا- مضت چ ارک ہوناء جار ر ہنا لت ہنا طالعقز برل و 
e‏ 

مکاتبہ اٹک مرا ےک مورت : 

صورت کل ہے س ےکا رو و" کن کی وی سےکوکی یہ پرا وجا ےت مکا یہ با ند یکوروباڑں میں 
ے اہک ایا :)اکر وہ چا ےق بد لات او اکر ےرا آزاد ہوجاۓے (۳) اود اکر جا ہے و بر کاب تکی اوا کی سے 
ا ی ظاہرکر کے مو یکی ام ولد بن جا ۓ اور ا لکی موت کے بح رآ زاو ہو جاۓ > کیوئگہ مک تی ہو ےکا وچ ےا ےآ زوک ایک 
جہت پپیلہ سے ما لی اورام ولد ہو ےکی وج سے اب دوسریی ججہ ت کی لگئی سے ءا ہکا کو ان دولوں یی سے اہک اختیار 
ہیگا۔ اور اکر با ترک بد کیت دی ےکواختیا ا چا موی پرا کا مہ رازم ہوگا >کیونکہ کا خی بان ری اپنے شس اور اپنے منا نکی 
ا کک وتار ے اور چو کہ و یکر کے مول نے اس کے منائحع وضصو لک یی ہیں اس 0 ناح 6 برقت لام ہوگا۔ 
0 کے ی کے ل ا ےا اتی کے وت 
ہوتا سے او ربچ رمو کی طرف ےنس بکا وکو یکر نا اس سے ےوآ زا دک ےکی طرں ہے اور چو کہ بیہاں دگوک کے !خر وہ بچ مول سے 
ثابت الضب ہے دو سے کے اتم بد رجہ او ابت الب ہوگا۔ - 

ولو ولدت ولدا الخ ا لک حال یہ ےک اکر ای مکاتبہ با نکی کے پا دوسا بجی پیړا موا ےلو وکو کے !خر موی سے 
ا کا نب اب ت کی ہوگا ہکی وک صورت مت راک عالت ٹل فر کیا گیا ےکہ باندکی نے مکا تب تکوا یا رکیا ے اور اب اس باندگی 


راب E PRE DIED‏ 
سے مولی کے ےو یکرت رام وکیا چلیزادکوں کے روہ بچ موی سے ابت الض ب یں ہوگا او رار ا کی ماں بد کنا ہے وگ 
سے پک م ھان ساد ہے بی ماں کےا ہوک مکاتب ہوگا اور ما کا بد لکتابت اداکرنا ال سے کے ذے وکا 


ال ودا گاب الول 1 ولَدِه جَازَ لِحَاجَتَهًا إِلَی اسَفَادَة ق الْحرِبَ ية قبل مَوْت الْمَولى وَذْلكَ بالكتابة وَل 

۱ وس یی تب سس و رتس بمَوْتِ کت 
عَنها بل الكتابةء لان الْفَرْض من ! یجاب ادل العتق عن الأدَاء قدا عَتقت قبل لایمکن توفیر الغرض 

عليه فَسَقط ولت الکتابة لامتناع إبقائها من غير فَاِدقء غَیر انه تسل لها ال کسَابُ وَالَوْلَادُ 2 


ٹمرو ۔ ےڈ 


الكتابة اقث في ق ي الیل وبقيّت في حي اواد ھی 30 الفسخ رم وَالْنْظرُ فِیْمَا 
ذگرناء و وت المُكابة قبل مَوْتِ المولى تق بالْكتاَةَلانھا باقية. 
تزجه: یئ رت و شش کس 
صرورت مر ے اور رور تکماہت سے پور و اور اخنیلاد وگنات یں منافا تک یں سے وگ مکا £ زار یکی وو 
جہتا ای ہے۔ پچ اکر موی م رجا ےت استیلادکی وجرسے باندیآزادہوجا ےکی کیرک ا کی آ اد آ تا کی موت ہکان تی اور ای 
سے بد کات ساقط ہو جا ےگا کیو بدل واج بک رن کا مقصید ہے ےک ادا 2 یرل کے وش تآ زار یآ چاۓے اور چپ ادا ع 
سے کل بی و ہآ زاد ہوگئی تو مق رکو برل نعط نکراک ن یں ہے اس لیے برل ساقط ہو جات گا اورکابت پال ہو جات ۓےگی اس 
ےکا فا وت ماگ کات ےت ہم ا مک کی اولاداورکائ یکی ہی کیو ہکتابت برل کن می ہے موی ہے اولاد 
داکساب کےےقن می باق ہے کیو ہکات ای مکاح کے فاد کی خاط رر کک ہے اوفائدہاسی صورت شی ہے جم یا نکر چ 
ہیں ارول موت سے چا ہے جال رت کردا کا کی سے ووآزد ہگ کیک ب تبت بای ے۔ 
اللات: 

ڑل استفادہ یہ حا ل کر ناء اکر اھا طاقافی € ناا ت ضد ضا د [السید موی ءآ قاءسردار۔ :تو غیر پچ “ہیا 
رن * لوراکرن بس ہ اٹل ہونا امتنا ع کچ رکنا ہن رنا 0 0-00 


ام ولرکومکاحب 


ہے امت مامت ینک مو یکی موت سے بم ام 
ول رآ آزاونڑیں موق ۔اورموت سے پیل اکر و آز اوک ماک لکرنا چا ےا ا یکا ایک ہی راستہ سے اوددہکنابت ےلپ اہر لکتابت 
اد اکر کے و ہآ زاو مون ہے۔ اب عق دکنایت کے بعد مکاعبہ کے بد کنات ادا کے سے یکل مولی رتا سے فو ری مکا تب ام ولد 
وک فخت رامول افراان س کاب تھی ساقط ہوجات ےک اور پر ل کتایت کی ساقط ہو ہا ےگا کوت ای مکات وآ ز اوی 
کے دوطر لے حاصل میں (١)استیلا‏ رکا ج بلایدل ے( )م تہ تکا ج ړل او رگوش کے اک ہے اوران یل سے بر ونت جوکھی 


ہر RAUL! BERA DION ali‏ 
طر لتم وجو موا ای کے اب سے بے باٹد یآ اد موک اور جب استیلا رک وچ ےآ زا ہوک و ال ے برل لمات سا بط ہو جائے 
گا ءکیوککہ جب بد يکتاب تکی اوا کی کے !خی ہی مک عباتتلا دکی دج ےآ زاو موی ت اسے بلا وج بد لکی ادا جک یکا مکل فکیوں بای 
ا ۱ ۱ 
غیر آنہ الخ ا یکا مال ہے ےک استتیلا کی وج سے اس با ندی کےآزاد ہون ےکی صورت یں اس سے بد ل امت ساقط 
اورم یت ر ہوجا ۓےگی لان بی مکاحبت ا کی اولا داور اکا ب کے می با رہ ےگی اود ا یکی اولا داور ا یکی سار 
:۰ کا ا کی اپنی وگی یرتک یہ مکاح اٹ اوراپنے اموال واکا بک ا لک اورختار ہیی ۔ او رح نات ای ے تن کیا 
: گیا نیت کا یکا تارم اورا کا قا تہ ای صوزت می ہوگا جوم نے با نکیا ےن ا کی اولا اکسا ب ا یکی لیت اش 
رے-۔) إاں اگ رم و یکی موت سے پیل بد لکتابت اداکر کے مکا ہآ زاد مولو اب وہ کا عبت اورعق دکماب کی وخ زا موی 
Ji‏ ل ہک عقد ابچ بھی قم اور مو جودے او رآ زاری کے دونوں طرلتوں میں ے ان طریقدے۔ 

ال وَإِنْ گاب مدره جار لما من الْحَاجَةء ولا تتافی إذ الحرية عير کابتق وَإِنما الثابتُ مجرد 
جو وا ا لا می و رور 9٤‏ ےو ماس ے 


ساق وَإِنْ مات الى ر ل له غير يرڪا تھی بالزتیار بين ان سی في لقي يها أو جوع مال 


ہے ے یودودو 


. الكتاتة رَهذا عند ايك وہ قال ابویوسف 6 لی تسم في الل من > وقال محمد ر می 


وو < 


ج ہت بد جو وس eee‏ 


لاق علا E‏ رَقِبْقًا ااا کت0 رت 
كير وَعِنْدهُمَ یس تی رة َوب ید یہ وس َالة 
٣ک‏ تی کر راک ودار کی وای اله ابل الل بالكل وق سَلَم له ا ال با لتذبير قَمِنَ 
" لحان جب لدل بمقابکیه الا تری کار لم لھ ار بان حرجت ین الب بط عل بد 


اا کت عط ای قصار تا إا کر ینز شی لکنا راه أ حي تل قابل بغلقي 
ری بر ر وکو دو روق 


مل سس تی LO‏ 


وإرا5ة انها اسْتَعَقَتْ حر اش اهر الاه ا اسان يرم اَل اة ماسج خرب 
د ےگ یں 4 71 


وَصارھٰذا كما اِدّا لى امراته ثنتین ثنتين ثم طَلْقهَ لان على الب گان جَميع الف بمقَابكة الْوَاحدَة البَاقيَة 
ا و و رو 1 ورور @ دوب د 
,0---8 1 مَتٍ الْكتابة وهي الْمَساكة الي تله لان الیدَلَ مقابل بالگلٰ إذ 


3 
ت س 


۰ کل جلر(٣۲) FOX‏ س75۳7 اظکام کاب کے انی ۹ 


ا استحقاق عند في سىء قافرا . 


رچه: فرماتے ہی ںک ہاگ رمولی نے ایی در TT‏ و 
کمایت وط ہی ریس منافات کیل سب کیرک مد ب ل ھ بیت غاب ت یں موی اس می فوع ت یک اتقات ابت ہوتا ے۔ اکر موی 
عبرجاۓ اورا ا کے لاو و مو یکا دوسرامال نہ مولو ید پر ہکو اختیار ہوگا ارچ ےآ ای دوتھائی تمت اداکھرنے کے کا 
کہ ے با پودابد کتابت اد اک نے کے کاک ے۔ کم حضرت امام م ھی کے یہاں ہے۔ امام ابو لوسف وھ فرماتے 
ہی نک دونوں شس سےکم کے ےو ہما یکر ےگ یاکہدوتھائی تمت اوزدوتھائی بد لکتابت میس سے جوم ہوگا ان ےکا لیے 
گی او الاک اسے اخقیارد ہے اورمقداردوڈوں میس ہے۔ امام الو لوست ول مقرار کے سلس میس امام کم لیو کے سات ہیں 
اور خیار نہد سے یل امام کہ ولیہ کے ساتھ یں خیارکا اختلاف اتان ےرک ہہونے کے اختا فک فخ رر سے چوک امام م وید 
کے یہاں اتاق میں زی ہوکتی ہے اس لیے اس یرمک ددتھائی حص رق با ہے اور اے دو بدل ےک یت کے درا سے 
مل ںای یکر ری دہ ے داد ہآزاد۱دجائے۔ددرے ییک بل کات ادا نے کے بآ زادرہوپزااے اغیاردیا 
جا گا۔ ١‏ 
قرات این چنا کی وی ہے ےک جب عق لان سے پوری با ند یآ اد مواق سےنذ دوہ ہوگی ہے اورا پر وولوں 
یں میس سے ای کو لازم ہو چکا ےلپ اوہ لاا اق لکوا میا رک ےکی اور اتتا رو ےکوی مطل ب نیس ے_ 
مقداروانے اختلاف میں اہم یر 0 ل ل ما کڑس 
باتدی کے لیے ایک بای حصرسلامت ےلپا ای کے متنا سے بد لکا ہونا یال ہے اظ کے RE‏ اکر چرس یس کے لیے سدامت 
د ہتا بای طو رک وہل ےل اپرب ل امت مات ہو لکن جب ووٹ ےی برل سے ایک کٹ ماقو 
٢دا‏ ےگا ہہیا ہوگیا یس ےت یرک وکابمت کے بع داتجا م دیاہو۔ 
حف رارت تین پا کی وبکل ےچ ہک پہدا بل اس پانری کے دوست کے مقائل ہے اذا بل یش سے ایک دو ےکی ماقو 
ٹنیس ہوگا۔ ییگم اس دج سے س ےک گر چہ بدل لفقا اور ورتا باند کی ایی ذات کے مقائل ےکن مھنا اورمراداًہھارکی بیا نکردہ 
موز نے ند ےک( کی وت اذا فا ا ھال تک ن کے اور انر نے انان ن سے 
7تک ن ہوجاتا ہے اس کے بے مال لازم کرت ہے ایا وکیا بی ےکی نے اپنی بیو کو دوطلاقی دک پھر الیک ہار کے کش 
ا تن طلاقی وی تو پودا یک زار بای ایک اق کے مقائل موک »کیوت ارادہ اس بر ولال کر ہا ہے ا یے بی ییہا کی ہہوگا۔ 
برخلاف اس صصورت کے جب پکمابت پل ہوگی ہاور وہ ال کے بعد وا نے نے مس رگد اک بد لکل اتر ی کے مقائل ے ۰ 
اس کاک دت تر شس اتتام ہی متا 
اللغاث: 
مدبر ة4 7 باندی جے مو یکی موت کے بحرا آ زاوی کا کہا گیا ہ۔ مجرد ا ارگ _ 


7 ناب بلر) 3س SEERA‏ اام کات کے یانش ۹ 
متسیس یکر ء1 زاوی کےتصول کے لے مال ”کٹ ھاکرنا۔ ولاتجزی یم ہوناءاجزاء اتزاء جنا۔ تخار پچ اتی رکا 
پت نا فقو یت کا افر ) جداہوناء با مش رک نہتا۔ 

ھ ب باند کو مکا ت بنا 

کے وت 

6ھ "مھ 0 کی موت سے پ شی لآزاری 
۱ کی روزت ےاور رورت صرف عق ر کات کے را ورک 6 7 ےا رو9 لیے مول یکا عق کیا تک موای کرنا با درست اور جات 
ہے اور چو کت ہےر سے دہ باندیآزاوجیس موی ے بک زاو کی شی ہو ہے اہن امنابت اور بی می منافا تجھ ینیل ہوگی اور 
کا کی طرح اس بھی آ زاوی کے دوطریقے حاصل ہوں کے (ا) عاجلت بیدرل (۴)! جل بلابدل اوران دوفوں ںو متافات . 
ٹیس ہے۔اس سے یعقددرست اور ہا ا ہے (٢)اگرمو‏ لی ند بروکومکا یہ بنانے کے بحرم ر چاسے اوراس پاندک کے علا و موی کے 
پا ںکوئی دوسرامال نمو ام م وٹ کے بیہاں اس پا تر یکو دو پاتڑں ٹیل سے ای یکا اتی ر لگا (۱) آزادی کے لیے انی دو 
د تم تک اکر اوا کر ے(٢)‏ یا را ول زاو ہو امام اإو لوسف ا یہاں اسے اقتا ہیں لگا لہ دوتائی 
تمت اور ہر لکابت ٹیس ےج سکی قدا رکم ہوا سے اد اکر کےآز اد مو چا سے ۔ امام مھ ول کے بیہا بھی اس ایا رس دیا ہاے 
گاالبت د وتا تمت اوردوتچائی بد لکمابت ٹل 722 ہوا ےک اکر دی ےا رآ زادہوجاۓ- 

یہاں خیارد ےے اورشرد ےۓ می جواختطلاف سے وہ درتفیقت اتان کے م زک ہونے اور نہ ہونے وا لے اختلاف پاق ے امام 
نشم یڑل کے یہاں چو ںکاعتاق یی ری موی ہے اور اس کے مول کے پااس اوس جاندی کی یلاہ دوسرا ما لک یکییں سے لپا 
موی کی یراس کے ایک تپا حص می مو موی اورموت موی سے ا کا ایگ لک تآ زاو موا ےگ اور دوہی لث غلام رہ ےگا 
اورا تا تہ لطر یقہی نکی ہے اورکنابت مول ہے اس لیے اسے ان جس سے ای ککوافقیا کر ےکا 
انار ہوگا۔ کہ وہ اپتی حالت اورحیٹیت کے اتبا ر ےآ سان طر بت اپا ناک رآ زاو یکا جشن منا کے_ 

ال کے برغلا ف حرا ات صان چا کے بیہاں اعا ر یش ہوتا اور موس موی سے اسک ایک نل ٹکیا آزاد ہوا وہ 
مل عو رآ زاواور۶ و موی اوراب اس بوت بال لازم ہوگا جو بد کات اورا یکی تمت ےم ہوگا اور ہے بات تشد ےک 
۱ نے وش نل مند پیش مکوافقا رکرتا ہےاس لے سے افقیار دنا ا یکوھانے اورالچھانے کے متا رف ہوگا۔ امام اوس ف ای 
کے میس اما رح و بھی کے سا تھ ہیں۔ 

مقدار کے سللے میں جواختلاف ے اس کے علق اما ممحھ وٹ کی وسال بی ےک موی نے با ند کی پو ری ذات کے کوش برل 
ات کی متا رمغلا ٭٭٭ دبع مقر رکی ی کان موی کے مرجانے سے بوچ بے تیا ایی اسآ زاو موک باندی ا 
کوگیاادرصرف دونلت ہی بات ر پا تو ظاہر ےک ای ک لت کے مقائل بد لکی جومقدار ے "شی ٭۰٭ درم ووککی ساط ہو جات ےکی اور 
دونلث تمت اور وتات بد نابت ٹیل سے ہوک ہوگا ری ا یکو اکر ن ےکی ملف موی ۔ می وج ےک اکر موی کے پان اس 
باندی کے علاوہ دوسا مال ہہوتا اور پا ترک مث مال سے پل چائ من اس کے علا وہ اتتا مال موت کہ با ند یکا لث حصہ کا لے کے بعد 


لم آنْ اب ب NEEDS‏ اجام کاب کے مان کک ۱ 
بھی دہ نی جات تو باندی سے پرا ہر لکنابت ساقط مو چاج لن اصورت مل شی جب بان دی نت ےکی کل ری ےلو لت برل 
ساط ہوگا بی ے اکر موی باند یکو لے مکاتبہ بنا تا رمد برہ بنا او اک کے بد يیکابت اداک نے سے پل مرھاتا قذ اس صورت میل 
بھی لث برل ساقط ہوجا تا ای طرع یہنا کی تلت بد ساقط ہو جات گا۔ ہاں امام ابو وس نے امام مم وی کا اتی چو دیا 


کڪ 


حرا تی نکی وکل ےسب کہ بدل یس سے ایک روپ یکی سا قڈمیل ہوک یوند بدل پات یکی پورگ ذا کا متا اور ۔ 
جس وقت برتقائل ہوا تھا اس وقت ہی اصل اور تی ہے باندی کے دوف سے ہوا تھا( ای ےک ہت ہیر یکل سے موجووی )اکر چ ہہ 
اہر می تقائل برک پائ دک ے تھا کن معنا اورمراوآاور انیا ہے باندگ کے دو تیان رق ےق اور موت موی کی سورت میں اوچنن ر‫ 

الد یکا ایک نل آزاد ہونے سے بتاک ل مو یں موک اور برستور پور ے بد لکنابت کے توش باند یآ زاو موی اس می کی اور 
کون نیس ہوگی۔ ا سکی مال | شی ہے ہے کیا ای یرظان ری برای ہنرار کوٹ اسے تمن طلاقی د یرک ت را 
ایک رار بای ایک می طلاقی کے منقائل ہہوگا :وگاب ووصرف کیک ہی طلا کال ہے زا وش میس ےکوی و 
یں موی ۔ 

اس کے برخلاف اگ رکماہ تکا محاملہ لے وتو اس صورت میں مھا ہرہ اکن اورصورت اا ل 
ری ذات ا وکا اود زی سر کے ی وو تے اوو کے نے سے جب پاند یکا تل ٹآزارہوگا و ول مس ےی 
لت ساقط موا ےگ بک صورت م س جب بد یی لمات ےق دم ےلو وگو معنا ا کا ای کل ث؟ زاد ےا لیے برل تا 
ندکی کے دوتھائی رقبہ ے تلق ہوگا اورموت موی ان کسی من ولد 


^ سر کم ص ہے آ5 و سے 3 و ا سےے ڈ3 ےہ و رت بط OEE‏ 
ل وان د ماب صح التذْبير لما لاء وها ایر إن شَاءَ ت مضت على الكَابة وَإِنْ شَاءَ ت عَجَرّتُ 


Gn 


تفا وشا رث مُديرَق ِا الكتابة لمت بلارِمَو في جَایبِ الْمملُوْلٰہ ِن مَضَُ rT‏ 
لرل رو کوک ی لا کت مسر کرس وا کے ا ماع حَنیفة 
اد ر تسى في اقل مِنهُمَا قالخلاف في هدا الفصْلِ في ایا بء على مَا دكرناء ام المقَدارُ 
مق عله وَوَجْهة مانا قالَ ودا أ الى كات ع يإغتاقه لقیام مه فيه وَسَقَط َل لكايه 
ئن زا ِا یڈ پیل وڈ عَل اکر یازا وبا وون ات رمف عیب ازن 
بالعتق وقد عَصَل لَه دوه ق يْرَمه» لابه وَِنْ انث لَازِمَة في جاب الْمَوْلیٰ ولكتها تفْسَح برضاء 
لوہ اام را رکد ای علق بر بقل تع سکم الا سب للہ لک تھی الا ع 


ازچه: ز٤ۓ‏ ہی ںک۔اگرمولی نے ایی مکاح کوب یبای تق م یر ہے اس دک لکی وج سے ج تم بیا نکر کے ہیں اور ای 


2 ہے جلر(۳۳) جا لیے لن LOLA‏ اکا م ماب کے نان یش 3 
اند یکو انخقیار ے اگر چا ےق یر کنات پرقائم رہے او راک اہ فو اپ ےآ پکو بے ا طلا کر کے بد برہ بی رر ے کیو لوی 
ےن میں تات لا مکی جہوٹی ۔ اب اکر باندکی تن ےکا تکواخقیارکرکیااورمو لی مرگیااورموٹی کے پا اس اتد کے علادہ مال نہ 
ہوا سے تیار ے اکر ی ےا دوتھائی ما لکتابت یاددتبائی بت کے ےگ یکرے۔ مم امم یھی کے یہاں ہے حفرات 
صا ین پٹ ےلت فرماتے ہہ کہ ان جس سے اتل کے ےس یکر ے۔ ارال میں ات ر ےعلق جواختلاف ے وہ مارے بیان 
کر دہ اختلاف ہی ہے اور یہاں مق ا رشن علیہ ہے اور ا کی وکل وی ہے جو ہم بیا نکر کے ہیں۔ 

را ا اکر مول نے اپنے ما بکوآ زادکروی فو و ہآ زاو موا ےگاء ای ل ےک اس میں مول کی ککیت ی ا 
ل NE RR‏ کے متا لبج ےکر بر یکاہ کول زم کیا تھااور برل کے یری ا ےآ زادی 
لی ا لے اس پہ بدل لازم یں ہوک اورکابت اکر چ ونی کےت س لازم موی ی ےکن خلا مکی رضامندیی سے اس ےکن کیا 
اکتا سے اور ظاہر بی ےک وہ اس پر رای موک ءکیونگ دہ خر 20 زاورپ ے اورا یک یکمائی اس کے لیے سلامت ے اس 
کا کان می ب مکتابہ تک باقی رک ہیں۔ 


اللعات: 
بجر پچ غلام ما با ند یکوم بر بنا ناءموت کے !حدر زاو یکا کہنا۔ اسقط ت ہونا ای مون ۔ ف[متفق عليه وو سل 
ٹس ہی ںکوئی اشتلاف د ہو ب التز ام پچ پابندیء اپے آآپ کو شرط دغیرہ عا رکرنا۔ طانفسخ گن ہونا ہعتم ہوناءکالعرم ہونا۔ 
وت -[تبقى بای ہنا »ارک رہنا۔ 
مکاتب پار یکو ب بنانا: 
لمکا بکد ب بنا کاہے جو اشک شس e‏ کل تر کرات از ۱ 
سے اک رع مکاح کوب ب بنانا کی درست اور چا ر ے اور بیہاں کی اس مکاتبہد بر وکو بر کایرت اد اکر ےآ ز اد مو کے اور اپے 
1 وھا رار ےار بر سپ دولوں می سے اکا انتا ہے اراس یں جوا لاف ہے دو آل دا سے اقتا ف کاچ 
اوراکی ق ے۔ 
ووسر مت یہ ےک اکر مکاح بکوائ کا مو یآ زا وکرو تا ےو پاتتا درست اور چائز ے یوک مک ب میں مو یکی لیت 
ہثرار ے اذا ان ۓغآزا رر رسک ہے اور جب وہ آزاد وچا ےلو ال کے مہ سے بر کنا ہت ساقط ہوجا ےگا کیہ برل 
کاب تحن کا تا اور جب اسے مفت می عق ہا سل م وکیا سےذ وہ برل اکیوں ادا رے۔ [" 
والکتابة الخ فرباتے ہی ںک کنا تکا معالہاگر چ موی ےن میں لازم ہوتا ہے کن پل ریھی دہ تی سے ہوا کیک 
کے لیے مرکا بی رضامت ری ضروری ہے اور جب مک ل ر پاش تھا ت لال بدر ج اوی ن پا 
ا سورت می ال نے چچ مال ویر مایا سے وو سب ا یکی کیت میں شائل اود واشل ہوا ای س ےک اس مغ شفقت اور رای 
ری ےتا تاور کک کے لے سچ پاک تاس َ۶" 


9 نا کل 027 رسک اکا م مکا ہب کے بیان ن ے4 
گیا رضامت دی ظاہردباہرہے۔ 
ان و ک5 لی آلی پھر رق تو لام علی کلی پا ؤار او عو رتیاتا وی 
اقاس لاجو بات عياص عن ا جل وَهْر لیس بال الین مال گان ربوا وها اجوز م في 
ٹ۶ویپس۔ روود کی P2‏ 9 ر9 ورو 
ال ومگاتب َير جه مان أن اج في عق اتپ مال ِن رجا يفير علی لادا 


الا ؟ به عطي آە کم الْمَالء وَبدُل الکتائة ةمال کس رجه وو نص كاله به فَاعَتَدل ایکون ربواء 
ولان ءَ َف تابه عفد من وَجُو دون وجو وال جل بوا ِن وجو يون َة لعف العقد بين 
الحرین, نه قد من کل وجو فکان ربوا والأجل فيه شبهة. 
تھے : ےپ کرای نے ایک سا لب کک ادا گی کے لیے ایک برا وو چا 0۳ 
مورک ورتم کرک ت اسان لا جات ےہ تاس جا ٹیل ہے وتک یہ یع دک ہے عالاکمہ یعاد مال یڈیل سے ج بک ین 
ال ے ابر !وا ہوگا اور بین آزاد یل اور غر کے مکا تب شل چا ہیں ے۔ اتان ای دمل ہے کہ مکانب ےت میں یعاد 
کن دجا ہا لی ےک ال کے بی کاحب بد لکی دای پرا دی وگ ا اکل کال گم دید جا ےکا ۔اور بد یکابت 
من وچ ال سے یک برل بت پ کنا ہیں ے۔اپذاا مل اور بد لکابت دوٹوں برا ہو گے اورر ہوا تم ہوگیا۔ اور اس لیے 
۱ کہ عق کہ تعن وجخقد ے او رک دج عق یں ہے اور اچ لن وچ رر إوا ےڈا کیک ر ہوا ہموناشہے الشمہہ کے در ے مل ہوا۔ 
برخلاف اس عق کے جودوآزادلوگوں کے مین ہو ءکیوکہ ددم کل وج تقد موتا ہے اراس میں ال ر بوا نوی اس لیے 28" 
زر ے میں موگی۔ 
اللغاث: 
طالف 4 را إسنة) سال -ف(صالح 4 If‏ نت وکر وسوس 
عین لبن ۔ ربوا سود بيان ۔ اعتدل ) برابر موا جال ہونا۔ 
مرک بے ار اکامحاط_: 
صورت ستل ی سب ےک اکر موف نے ایک ہرد ےک اپنے غلام سے عق تتاب تکا معام کیا اود ہے ٹے ہوا e‏ 
مال کےانددائدداداکرےگالین کرای سال سے لے ی مولی نے ب وت الال واجب الاداءبرال سے عمال تکریاد 
اتسا یہ صا حت جائز ہے تاا ہا یں ہےء ال ل ےک مکاحب کے ذمہ جو پر ل تات واجب سے وہ مال سے اوراچل الکن 
سے ج بکہ پا سودرہم رصاح یکنا امل اور میعادکا وش ہے اس لیے ہما حت ہا یں سے کیو خی رما کا مال کے ساتھ 
تر موا رش جادل رست ای ہےاں ل ےک میس ربا ارسود ے دروکا موا رام ہے چاچ اکر ی متا لآ زاو کے ساتھ 
ا ےک پہ رادم ادسارہوں اور وہ پا عون نےکر امل تم کرت چا ےلو کی ںکرسکتا اں ی ک پا سو پان سے 


32 


آنْاہیم رھ LAFE SIOR‏ ا مک جب کے کی 
مقائل ہو جات گا اور ا ا ےک ای ہوگا او رسود ہوگا۔ 
اتسا نکی وکل ہے س ےک مکاتب یعاد اورا جل کے بغیر بد لکتابت ادارنے پر قاد رکٹ ہوتاء اس لے کاب کے تن میں 
ضر ورت ا لکو مال قر ارو گیا سے او ید لکاہت لن وال ےت کو یا ما نت میں مال کے کش ما لکا تبادلہ ہوا اس لیے ہے 
ما ت درست اور چان ے۔ٴ ۱ 
اتسا نکی دوسری ل ایک اقبار ے عقر س ےک اسقای کک ے اوراک انقبار ے تقرش سے کوک 
یی ۷ئ کے مشاہ سے اور ای جوانے سے وو تین ہے اورا ل کی کن وچ ی ر لوا ےئگ ہے ال کیل سے ج بک تی 
روامال می تق موتا سےالہفرا ال اور میعا رکا ر ہوا ہوا ہی الشمہنۃ کے در سج میں ہہوگا اور شر لیت میں ہہ بی کا اعقبار سے بہت 
الخ اخقپارکییں ے۔ اور تی ی والو ںکا اےووآ زاوآ یں کےعقد قا ںکرنا و نے اک لی ےک دوآز او وکوں یں جو 
عت ہوتا ےد وکل وقد ہوتا ےاوراں میں ر ہوا قن ہوم ے اور میعارشہہ کے در ے میں ہوٹی سے اورش رلت میں ہہ 
تر ہوتا ے اپا م بیس تو اس طر حکی ممما حت تیا اور اتان دونوں اتتبار سے ا یں سے ج بک عق دکمابت والا محال 


افسااجاتڑے۔ 
ال وَإِذَا اتب المرب عَبه لی الي دِرّْعَم إلى سَنة وقيمته الف ٹم مات ولا مال له غیرۂ ولم یجز 
الو پل ہد رت رف ذ رک لد ای عو لا ا مت 


اا“ > وعد محم 5 ری يوي تي الال حال وَالباقي إلى ایل لان له أن يرك الرياة بان تبه 
۱ 


ر2 


على قَیْمَیه قَلَه أن يَُحْرَمَا فَصَار كما إذّا الع الْمَريْض امُرأته على الف إلى سَنَةٍ جا 

کت يع المُسّمْى بل الرقبة می أجري لبها أحكام ابال وَحَق الوركة متا 
مدل فَگد بالَدَلء رالتاجیل قاط عى ير ن ي ايء يخاي لحلع لان الیل فيه 

لابا ل المَال فلم يعلق حى الوَرَكَة باْمبدُل اعلق بالََدَلء > وَنظْیرٌ هذا إذا باع ع المريض دَارَه بغلائّة 


ا 


الأ إلى سَنَو وَقيمَها لٹ کم تات رلم بجر وره يک ال شري آي جي لکن عا 
الت إلى أَجَله وإ قائقٌض ل > وعند کے ری شس ن من المَعني. 
گال وَإِنْ گاتبة على الف سَنو وقيمتة الان وَلم جز الورئة ١‏ يقال له ا ي الِْیْمَة حال او یرد رقيقا فی 
اولھم جَمِیعا إا المُحاباة ههت في افدر الاير قاع الث فَِيْهھمَا. 

تر چه: زرا ے ہی کہاگ رم یل نے ایک سا تک کے لے دو تار ددم پر اپنے خلا مکومکا تب بنایا الاک فلا مکی تمت ایک 
نارددرہم ہے پل رم ٹیس مرکا اراس غلام کے علادہ ال کے پا یکدی ما ہیں ہے ادر اک کے وراء نے اس عق دکی اجازت کیل دی 


9 الا بر جس AEE‏ ایام سب کیا 2 
ہے یہاں بیغلا دو برا رکا دوتھائی قاو اکر ے اور ای میعا وتک او اکر ے پا ا سے دوپارہ لام بنا لیا جا ۓگا ا 
مھ و کے یہاں دہ غلام ایک برا کا دو تھی نق اراک ےک اور اق برل میعاد اورک ہو نے تک جب چا سے دے کوت جب مول 
کو یئن اکل ےک فلا موا لک تمت پر مکا جب بن اکر زیادٹی تر کرد ےآ اسے زیادٹی مو کر ےکا کین سے نو بر الیم مدکی 
کے م ری نے ایک سال یکک کے لیے ایک ہار ایی ہیوکی ےش کیا فو نلم جا ت ے یوک اسے بغیر برل ےکی طلاقی دی ےکا 


بی ہے۔ 


حرا ت نین تا کی ول ہے س کہ پودامال خلام کے رت ہکا لی ےت یک ای پراجدای کے اکا م جاری کے ہا ر کے اور 
وراک تت مرل تلق ہے ابا برل ےک یق ہوگا اور خ رک نامعن اسقاط ے اذا جا ٹیل پور ے برل کے للف ے ”تر 
ہوگی۔ برخلاف نل کے یوت ای میں جو برل ہے وہ ال کے مقای یں ےاہنزاضع میں ورتا کان مرل ے تخا یں ہوتا اس 

ۓیے برل ےکی تلق نیس ہوک اک یری ہ ےک میٹ نے ایک سا کی میعاد بن مار درام کپ اپن مھ رفروش یکی 
مالک ا کرک تمت ایگ بنراردزاہم ہے پھردہمرکیااورورخاء نے اس تی کی اجاز تن وکیلو حرا کے یہاں مشتری 
SE EE E SL :‏ 0 0م 
کردوء امام ول کے بیہال تست کے اعقبار ہے نل تک اختبار ہوگا اور تست سے ز اہ ٹیل ا کا اتپا ہیں ہوگا ای د لکی وج ے 
جم یا نک کے یں ۔ . 

ہے یں کاک مر یش نے ایک سال یک کک میعاد پر ایک برار ےک اہین لام او مکاح مٹیا اورا کی تمت دو زار ہے 
اورورشاء نے ا کی اجاز ت کیل دی نے سب کے بیہال غلام س کہا جا ےگا کہ باتو تم قب کا رولت نق اوا ساوت 
کک یہا ںا بات مقدارادرتا شی ردوفوں جس چ اپا دونو می کت مھت رہوگا۔ 


اللغاث: 


طالفی درہم ہہ دو جراردرہم۔ [المریض ریب ارک ٦‏ دی ۔ جلاخحالع 4 عکرا۔ وإبدل الرقبه )ردن کے 
بر نے التاجیل پیم وی ی کرناء ا اوسار معاي ل رن الا بدال 4 بد لکی مع ےک ۶ں پرلہ۔ المبدل ‏ دہ چ جن س کا برل 
دیاجاے۔ طانقض پان ڑ نان مکرناء رح کرنا۔ طرقیق 4 فلام۔ ب[ المحاباة پچ رعایتہلھاظہ پا 
مض اموت ںای کی ایک صورت: 

صورت متلہ ہے ےک ریئش مر امو تکا ا ایک غلام ےج س کی مت اب ا وھ تر 
درم بر سیل کے سا تھ کا تنب بتایا باکددہ ىا ایک سال میں اد اکر ےگا پچ روو لی مرگیاا ور اس کے ت کہ می صرف می غلام 
ہے نے قد ورغا مکی اجازت برموقوف ہوک ینہ اس غلام سے ا کا تل ہو چکا ہے او ایک سال تک کے اطا ٹل ا نکاضرر 
ہے اذا عقدا نکی اجاز تپ تحص رہوگ گر دہ جاز تمل د سے ہیں اض کے یہاں خلا مکودوباتوں یل سے ای ککااخقیار 
1 لت 33 رم فی الال دےاور ی ا اکٹ ال دا ہون ےکک دے (۲) یا صب ساب 


9 0 ای سس سسھے یھر اکم ماف کے بای ۲ 
فلام بین جا سے اما مہ وای کے بیہاں ا سے اختیا ریس سے ےکا بکمہ اب ای کے سا سے ایک کی راستر س ےکر وہ اپٹی تمت ن ایک 
برا رکا ولت ف ایال د ہر ے اور ماش ا ایک نمث معاد ےد سے اما محھ راڈ اش لک دی یس ےک ددٹا کات صرفتاخ رم ے زیی 
میں ہے اورمو یکو بی عاصل ےک وہ ز یاون ن شی نکو کک ر کے صرف ا کی تمت پ موا لک ے اپ اجب اس ترک 
زاوی کات حل ےت ترزیادئی کا بدرجراد یکن مال ہوگا اورا لکی تمت پر جز یادف ے ا کا اتپا ریس ہوک کوت اس 
سے ورغا کات یمتح یں سے بلنہ ورغا ءکاضن دوق میں ہے اس لیے جم نے اسے دوک کی اوا یکا ملف بنایا ے اور بیتا یل 
چو نکاس زیادٹی بے ہے جو ورثاء کےےکن سے زات ہے اس ل ےک می مر امو ت کا تصرف تھائی مال یں حر ےہا ای میں 
میاویک ا شر چان ہوگی اور بای ایک تل دہ میعاد پرد ےگا ۔ ا لک مال ایک ہے جیے ایک م ری نے مر اموت ٹس اتی یوی 
سے ایک سا لک میعاد پر ایک پزارددہم کے ئوش غل کیا چھر دو گیا اراس کے پاس صرف فلع ا کی رو یب سے اورورٹا تا جی لکو 
بر داش تک نے برای یں ہیں تو یہاںگگی یوی الف کم و میعاد پر اد اکر ےکی ء ای ط رج صو رر ستل 
بھی تلام دت نافال د ےک اور ای میعادتک ادا ےگا ۔ 
عفرا ت ]خی کی دی ہے چ کہ جب میت کے کم صرف می ایک لام ہے تے درا کان اس فرام ہے تعانق ے اور 
ناخ و ےکی ران کے بے بی ےعلق ے اورم نے ا ضا اون خی رما ی را رکا 
ہے ایل کا مقوط پور سے بدل سے ہوگا اس س کراب بل ہی اکل فلام کے ام مقا م ہے اور جب لور ے برل سے قوط ہوگا 
و طابر ےک ای 13,33,33 وراتم فی الال واجب الاداء ہوں گے اوراما مھ ٹچ کا اس ےتلم ہق یکنا درس ت کیل ہے 
` بوت حال ت خر وع سی قلع اور طلا ق کی حالت میں کور تکی ملک شح کو اس شارکیا اتا اوس ضع سے ورا ,تق تھا ہیں 
ہوتا پرا ای کے برل سےبھی ورھا کیا تی خا یں ہوگا ج بک سورت ستل شی عبر سے ورخا مکی متحلی سے اور ای کے 
واسلے سے فلام کے برل ےی ا کان وابید ہے و میس علیہ او رتس میں ز م۲ نآ نکا ذرق ہے اس لیے ای ککودوسرے ر 
قا کرم درست یں ہے۔ ا یک تیر ربل کےکھریج ےکی سے کوکناب میں اورا اکر 
قال وإن کاتبه الخ ا کا عاصل ہہ ہ ہک فلا مکی تمت دو ہنرادددہھم ے اورم لی مول نے اسے سال کرک میعا دیک کے 
سے الیک ہار کے کوش کا حب بنایا اور ورثاء نے تا شی لکو کردا تو اپ یا تو وہ تمت ممن دو ترا رکا دو تھائی او اکر سے یا غلام 
ہوجاے۔ محرا 5 کی ورام تہ ی سب کے یہاں سے وگ بیہاں مول نے جو احمان اورتر کیا وو مقدار( نی 
الف یش )ھی ادرت نرت ےکی لزا مول کے اف رادرس کے تصرف سیت جف ہے وہ غلا مکی ورک قبت سے حبر موک 
اور ورک تمت دوملث اے اداکر نا ہوگا اور چو کن مو یی وچ ہے ای ا ساط سے اور چپ لث ساقط ےو ا سک ما جل 
بھی ساقط ہوگی اور ای دونلٹ میس سے اڈ ایک رہپ یسا قط موک اور دی اس میں تا جیل مث ہوگی_ واللّه اعلم وعلمه آتم . 


”ات 


9 اَنْاہلٰ ہر OER SSI‏ اکا ماب کے مان مل پچ 


ایاتب ڪن ال ` 


یبا ب ال کے یال شل جوخا مک طرف 


قل را گب ار عن عبر رای ورک ون گی عن عق وین بلع د ققیل کو كات وَصِوَرَة 


ڈے وے۔ہ ٤د‏ رئدە۔ 7وی ےد ہر ۔ ۶ بور ول 


الْمَسْتَلَة أن يقول الحر لمولى الْعبْدِ گاب ب َب لی الف رهم عَلی اني إِنْ ¿ ات اليك ا الفا فهو حر 
گات الول على شس ائه بحُکم الشَرطِء ودا قبل لبد صَارَ ر مگ لا اتاب انت ت موقوقة 


ت 
رد 
لم يقل 


فو 


على إِجَارَر ته وَقََولهُ جا کو يقل عَلئ اني إن کیب ليك الفا فهو حر قاڈی يعي تق قَياسًاء لاه لا 
37 


aos,‏ رو و ی 9 ٤‏ د 


شرط وَالْعَفْد موقوف» وَفی الوس وتان نی رملد لقب فن تلینی اہ عقي بادَاءِ الْقَائلِ قَيَصح 
في حَق هدا لمکم رل هي ع لن اللي عَلی الْعبْدِء َيل هزم هي صُورَة مَل الَتاب, وَل 
ادى الْحْر ادل لایر جع م على اْعبْدِ ته متبرع۔ 
تم : ف ات ہی ںک اگ رفا می طرف ےآزا و نے ایک بقرارددہم کپ عق کاب تکا موا مل ہکیا اود ا کی طرف سے 
برل اداکردیا تو لا مآزاد ہو چا ےگا اور 221 کی اوراس نے اس ے تیو لکرلیا و وہ مکاتب ہوجا ےگا ۔ سورت ستل یہ سے 
می زا فلم کے موی سے کت ایک جار کول اپنے خلا او کاب بنادد ا شرط رک اگ ریس ایک زاراد اکرو و دواد 
۱ ہے اور موٹی نے اس شرط پراسے مکا تب بنادیا ۶ کے پار دہ مز اور نے رکم شر ط و ہآزادہوچا ےگ اورغلام جب ا ےٹول 
کر ےگا ماب وبا ےگ ال ہابت غا مکی ا ات قوف ہے ارا لک قو ل7 ابازتے۔ 
اور اگ رآ زان نے على أني الخ نک کہا تھا اور بل زاس نے ہنراراداکردیا تو تیا سا دہ ظظا مآ ز اویل ہوگا کتک ہا شرط 
جد سے او رعق مولو ف ہے۔ اتا چزار درم اد ار نے ے وہ آزاد ہو چا ۓگا یگ نمی کے اداکمر نے ریت کو موقوف اور 
مق کے ےب رفا بک اکوگی ننتصا نہیں ے لا ا ےک ق می عق ہوگا اورغلام دم رار کے ھوانے سے مووف 
ہوگا۔ ایک قول ىہ س ےک بی ہا مح تھ ری صورت ستل سے ۔ اود اگ زاد نے برل اداکردیا نے لام سے وائی ںین ےک کون لہ وہ 
N‏ 


71 ناب O:‏ ا لے سر ایی یا بر اکا م کاب کے ان بیج 
اللاٹ: 
إقبل 4 ول کر ا۔ ادیک اداکرنا E‏ طاضرر پچ نتصانہ ہرع۔ واتعلیق ےت یکرناء 
شرو مکرنا۔ طذیعو قف ہی4 موتوف بونا روط ہونا۔ تبر ع تر )کر نے والا۔ 
تی فلا مکی طرف سےکتاب تکرن: 
صورت ستل ہے ےکہ خلا مکی طرف سے اگ رکوکی اک ہا وق ی زین عمل فان رفاک کور 
قرام قیو لک ےل دہ مکا تب مین جا گا اور اگر وی ای ماج بک طرف سے بد لکہابت او اکرو ےگا ووو فلا مآ زاوی 
جا ےگا۔ اب یہاں تنبل ذ جن می رکا ضروری ےک اگ رفمولی غلام کے موی ے کیب عبدك علی الف علیٰ اني إن 
أدیت الیگ الفا فھو حر کہا ےب و الف درا ہم اواکرنے بر خلام کم شرطآزادہوجاتۓےگا لکن اکرو على اني إن أدیت 
إلیك الفا فھو حر نی سکپنا ت اداۓ الف کے پاوجودقیاآدہ خلا مآ ایی ہوگا لہ ا خسان آزادہوجا ۓگا۔ تی کی وکل یہ 
ےکہ علی أن إن أدیت الك ال کی ےکی صورت می مش رط خلا مآزادہوتاہے اور جب بیشرطمعدوم ہہوگی فو خلا مآ اوک یں 
ہوگاء بل عقدموقوف موک اگ ر لام اہ ےتبو لک ےکا وچب ووالف ورم اد اکر ےگا بآ زاد و _ اتا نکی دن ےا 
مقصد خلا مک یآ زاوی سے اور ا سآ زادگی کے مو کو الف در پھ ئل رز پا ےایذرافضوی خواوعلی أني إن أآدیت الخ کے با نہ سے 
۱ جب م ول یکواخا کا عون ئل ر با ےو ملا مآ زاد موگا او ریت کےجوانے سے عقر ہوک لت غلام برا وم الف کے حا عق ررقف 
ہوا اور جب ملا مکی ا سے قبو ل کر ےک ت اس پرالف لا زم ہوگاور نیش کان خلا مکیوں ہا ےک تو لکر نے ؟ جب مفت می اسے 
زاوی حاصل مورت ہے ا کا دما قھوڑئی خراب ےک وو تیو ل کر کے بلا دج ایک برارددہ مکا تر دار بے ۔ ۱ 
وقیل الخ فرماتے ہی ںک ہت حفرا تک رات بی ےکہ گاتبٰ عبدك علی الف درہم دا ی عبارت جائ رک ے اور 
ال مل علی اني إن أدیت ال خکااضاذ کال ے۔ 
ولو آدی الحر الخ توا ع س ےک تبر اون ما لت عکووالپی یں نل ےسا 


قال وَإِذًا گاتبَ ابد عن تفه وَعَنْ َب خر مه وَهُوعَایِبٔء قن دى الشَاهد أو الِب عَتقَاء ومَعتى 


ار د٤ہ‏ ٤و‏ 2دە۔ دروو ے 


سال ان تقول ل کي رانب ورک علی تفي رعلی فان اليب وهيو لابه جرزة رشا 


ر پا 


رفي اياس يصح على تفه لو یه عَلَيْهَا وََتَوَْفُ في حَقّ الاب لِم الو ية عليه وَجْه الْإسْيِحْسَان 
ن ار اضآقة اع ِلٰی فی ید جل فس ونو ضا اب تک اك على هة اوج 
مَسْرُوْعَة گام إا كيت دحل ارادا في تاها با تی عفرا باڌائها ولس لبهم من ادل َء 
ودا امْگنَ َد ضيح على طلا الوَجْه يرد به الْحَاضْر قله نيحد خَدَه بل الیدلِء لان لدل عليه لكرنه 


کے سو و 


یلا فيه ر ایکون على الْغائب من ادل سء رلانه تبع فيه. 


0 آنْابل LAS ¥ gE‏ اکا م کاب کے مات بی چا 
تنجد: فرمات ہی ںک اکر غلام نے انی طرف سے اورا کے مول کے دوسرے غلا مکی طرف سے عق دکماہم یکا اس حال جن 
کہ وہ دوس الام تا تک ےلو ما ضراو رتا ب میں سے جو خلا مکی بر لکنایبت اد اکر ےگا ال ے ریو لآزادہوں 22 
صو رر ستل ہے س ےک لام عاضر لوں کہ ایک پارا ےکڑل جھ سے اورفلال تھا کک سے مکا تہ تکرلو۔ یہابت تسان ہار 
سے اور قا اغلام جا ضر کے سی ےکیوکلمہ اسے اپ ےنس بر ولا یت حاصل سے اور قلام تا بک 24 میس عترم وتوف ہوگاء 
کیرک حا رادا بے ولا ینیل مکل ے۔ 
اتسا نکی وکل ہے س ےک فلام حاضر نے شرو بیس ابی طرف عق رشو بک کے اسآ پکواس سس اکل بنالیا اورا کو . 
ائ مالیا او ای طر لے کاب ش روع سے جیلے اکر با ترک مکاعبہ مقا ہا سے تو ا یکی کحابت یس حبعا ا کی اولا بھی زاش موی 
یک باندکی کے بد ل کتاہت ادائھر ے سے ا کی اولادآز اد ہو جا ے گی اوران مکو پر لک ہوگا۔ اور جب اس ط ر ےت پر ہکوہ 
عت داوع تقر ارد یکن ہے نے لام حا ضرعق یش ترو وگ او رمو یکواسی سے پورابرل لی ےک خت ر ہوک کوک پودابرل اک پ لا زم ہے 
اس لیک بجی عقر س اسل ے اور لام تا مب پرکوگی بد کی ہوگا اس ل کد وقد س ماع ہے۔ ۱ 
اللَات: ۱ 
لإعتقا) ۲زا د وت کاتبنی بل امرحاضر باب مفاعلمہء لن ووقا یہی می رمفعول ہہ می می ر سے سے نابم کا معاملہ 
کر۔ ل اضافہ سو کر ناببس تکرنا۔ یتفر د منشردہوناءمیحدرہ ہونا۔ فإ اصیل پ4 اک لآ دی جو جیادہد۔ طاقبع ٥4‏ فرح 
دوفلا+و ںک یکنابت: ۱ ۱ 
صورت متل ہن وا ع ےک اگ کو لام اتی اوا سے سای تا مب فلا مکی طرف سے اپنے مولی سے عق رما کے اور لوں 
ےہایک برا ددم کے عو کے اوراس ھول کو ج وای ںکیا سے ( تا ب سے ) مک حب بنا لواورمولی ا سے تیو لکر نے تذ اام 
وولوں ےک یں قد درست اور چا ر ہے اوردواول میں سے ہجوگھی برل اوا کر ےگا آزادگی ونو ںکو مال ہوگی۔ قاسا ی ےکقد 
مرف مار ےن سی سے اور نطاب کےا یس درس ت یں سے اس لی ےک حاض رک اننس باو ولایت مال کان خاب بر 
کے اوی وا ت اورفزر تگال ےلب اتاک کے یل ا کا تصرف درست او حت رکا ت 
اتسا نکی دعل یہ ےک حاضرنے اتی بالف درھم ال خک ےکر سل عق کوان طرف ملسو بکیاسے اوراپ ےآ پکواں - 
یں سل اور نا بکوجاپع رار دیا ے اورش راجت یں اس طرح عق ہکاہ تکرنا ہا س ےک ایک اکل مو اور ایک جالع یی اگ رکوئی 
ترک مکا عبتا ہا کے تو ل کا تب ہوگی اورا لکی او دجا بح ہوک مک جب ہوگی ای ط ری بیہا بھی غلا م حاض راصلا رکا تب ہوک 
اور غاب بی مکاب ہوگا اورحقوق ما قر ایل ی کی طرف کو رک ے ہیں اس لیے اض ری سے برل ویر ہکا مطالہ ہکیا جا ےگا اور 
ونی اک کاڈ مر دار ہوگا_ 


ق کے 3 عَتَقَا I99‏ ٭ 2۱ 2 2 الُکا 5 4 ق الد 7 ۔۔ھ 7 الک 4 ف ر و 
ل وايهما اذى عَتقاء ويجبر المَولیٰ على القبولِء اما الحاضر فلان البدل عَليه واما الغائب فلانه ينال بم 
شا سیک ۔ د ےھ ے۶ د ےر ودر دوو 


صر رہ 9 ےط میں 2 سرک سر رص د کی ئ د5 اوہ 114 
شرف الحَرِیَة وَإِن لم یکن البَدّل عَليه وَصَار كممير الرَّهَن إِذا ای الڈیْنَ جير الْمُرتهن عى افو 


ك AFR ISDE Oy‏ دعس 


ےت . ال ويها ڏى ليجع على صَاجبهء لان الْحَاضِرَ 
قطی دَیتا عليه اعاب متیر ع به عير مُضرِلْه قال ولس لِلْمَولی ان باخ الع اعاب يحَیْوِِما بَا 
إن قبل اعد اعاب أو لم يبل َيس ذلك مِنه ىء ء وَالْكتابة لَارمَة ِلشًاھیہ لان الكتابة تفده عَليِ 

سے یھو ڈوو سرع کے ر6 کی رم کا شا ان ۔ 54د 


ين عبر ل دوب قيقر وله گنگ ِن عبرم بر آرم قبل جاه لیر تی لو 


ر ہس 


ادى جع عَلَيْه گذّا هذا . 


ترچه: فرہاۓے ہی ںک دونوں میں سے جو کی پرل اوا کر ےگا وولو ںآ زاو موی س کے اورمو یکو برل یک پر ہو رکیا جاے 
گا۔د ہا مارت ای دجرس ےک برل اک لڈم ہے اور تاتب کاہرل ا لیو کیا چا ےک دہ ای اوائشگی سے شرف بن یت 
ہوگا اکر چراس پر بدل واج ب نیل ے۔ ایا وکیا کے رن عار یت برد سے واا اگ رس تھی رکا رض اداکر ےا می نکوا سے 
لیے رو رکیا جا ےگاکیونکہاسے اپنے عی یکو ہرایط روات ہے ار چرال پر دی ن یں ے۔ 

فرماتے می ںکہ دوڈوں میں سے جویھی بدل اد اکر ےگا اسے اپے سای سے واپی یں ےک *کینکہ فلام اض را سس رکا 
بو چےاداکرتا سے اور تا بب اس ادائگی می تر ہو سے میں ہوتا۔ 

فراۓ چ کن ولک ات رین ےک دہ خلا تاب سے ج سے اک دی لکی وج سے جو ہم بیا نکر کے ہیں او رر 
ناب خواوقجو کر سے یا نکر سے ا لککاکوئی اتپا نیش ہوگا۔ او راب تعبدعاض پر لازم وگ ۱ال ل ےکنا ب کے تول کے بنا اس 
بے بے ابت تاف وی اور تا بکی قجولیت سے اس می ستقی نیس ہوگا ییک نے دوسرے ےم کے بی را کی طرف س ےکفاات 
تو ل کر ی اورمکغول ع رکو جب ت یی ت اس نے اسے ہار ارد ےو و کی اں ےکم تی یں وگ تی 2 ایل نے مال 
د ےو پان قول عنرے وای یں نے سکتا ۔ا یی بی صورت متلہ س گی ہے۔ 
اللغات: ) 
ايھ ما رف استفہام۔ وإیجبر ) مورک جانا۔ شرف الحرية )۲ زار ی کلت [معیر 4 عار ہت 
دالا [استخلاص پچ پاتا یہ وکرناء1 زاوکرنا۔ إمضطر ر نافد 0فز ۔ لیتغیر ۲ 
روغلا مو لک یکابت: 

متلہ ہے س ےک حار اور اب دوفوں یش سے ج وی غلام بد لکا بت اد ار ےگا اس ادانگی ے وولو ںآ زاو موں کے اور 
: وولو ںکی طرف سے دبا جائے والا پرل مو یکو لین ہوگا »یوت حا ضرف ال وج ہے د ےکا کہ ونی افر اور ال ج اورا ی پ برل 
. لازم اورقا ب پراگر چ ہلا میں ہے تا ہم اسے اس برل کے بد ےآ زاو یکی لصت عاصل ہوگی اس لے دوفوں مس سے جوکھی 
فلام بدل د ےگا مموٹی کے لے اس قیو لکر نا ضروریی ہہوگا۔ ا سک مثال اک ہے جیسے ہیر نے بر سے ایک چ رن رکھنے کے لیے 
عار یت پړ لی اور رن رکه وی پھرخودمع یڑ یِیکر نے مت رکا تقر ضہاداکردیا ق یہ اداشگی متیر موی اورم کے لیے اسے لالا زم ہہوگاء 


3 آل ابا جلرزع) EAGLE DF OX‏ اام ماب نے نان ش ۲ 
کیوک ہار چ مور پور نیس کین ربھی اس سے مع رک چر ران سے لیہو ا سی ا کی طرف سے ادا اکا جاجنوالا 
دین مو یکوقو لکنا یڑ ےگا _ 

تاتب اور حاض ریش سے جویھی برل اد اک ےگا اسے اپنے شی سے ا کا حص وایں لی کا نی ہوک کیو ہاگ حاضراوا 
کرتا ےن ماس پ لا زم شد دن ہے اور پورابرل ای پرتھااس لیے وائیں لی کاکوئی مطلب میں سے او راگ ا عب اداکرتا ےا 
ووشتبرغ ے اورحاضرکی طرف سے اس ےکوی دبا ہیں ے اس لیے و وبھی حاضر سے اس کے ےکی رتم واب یں نے سا اورخواہ 
ناب ا عق کو چائمزقراردے یاتہ د ے موی اس سے بدل اورعوٹش کے نا م بر یھ وا ی یں نے لت کیرک اکل عا دق مار ے 
اور تا کا اس می کو یکر وار اور رو کیل ے اور غا وج رت بر راست کسر اور 


صاف ج 

ر کے ہے 9 2ے ہے 99 کر ر درد بور ے0 رودل یدرد ےرك“ ۔ے 
ف لم یرجع على صاحبه 
ر۶ادہھ ےد ےد در گے ۔ سے و ےہ موي ۔ ر 
جر المَولى عَلى الول ويعتفونءلاتها جَعَلَتُ تَفْسَها أصيلا في الكتابة و دَھَا تبعا على مابینا في 
المَسَكة الاولى وهي اولیٰ بذلك من ال جتبي. 


زچه: فرماتے ہی سک اکم باندکی نے اپنی اور اپنے دومچھوٹے بیو ںکی طرف سے عق دکماہ تکیا تہ ہاگ سے اوران تنوں مل 
سے جوھی برل واک ےگا اپنے ای مکاتب سے والیس لی کان دارکیس ہوگا اورسو یکو ای پد کے لے پرجبو کیا جا ےگا اور 
ایک کے ادا نے سے س بآ زاو ہوجا یں گے (جوازعقدکی وکل ہے کہ با نکی نے اپ ےآ پک تات میں ایل قراردیا_ 
ہے اور ابی اولادکو جا مایا ے جیما کہ پیل ل میس چم ییا نکر کے ہیں اور (ا ی کے س )با ندکی ابی سے زیادہ عق کو 
ارک ےکاحی داد ہے۔ می جب ایک اک لام دوسرے ای خلا مکی طرف سے عق دک ےت دولوں کے میں عق چان ہوا 
سے ابذاجب ب ایک ماں ای ادلا دکی طرف ےق دک ےو یق بدرجہ اوی چائز ہوگا ینہ با اوراولادکا رش کی کے مقا لے 
یں بہت وط ے۔ واللّه اعلم وعلمہ اتم 


444“ 


2 آنْا بل س L7“‏ سکاب کے مان شی ور 
و ٤‏ یہ 21 و اس 


ہے با بش رک فام کے عق امت کے بیان شس سے 


َال وَإذًا گان الْعَبد بين جين أوْنَ أف لصَاجبہ أن يگاب تَصِيب لض دري ویقبض بَدَل الكتابّة 


71 
ولا ع رد 2۶ے 


اتاتب زس بل الت م عجر لل َي عل عند ا عیقة مما زا هر مك بینھما 
رما ادى فَھُو بَيْتهمَاء اله أن الكتابة تتجزى عند جلاف هما بمثزلة العتق نها تفي الْحريَة من وجه 


کے 


سو ری ت تر کون له ی می القع کی بر رت 
بقبٔض ادل ادن للعبدِ ال دای فیکون متبرعا بت صي و عا يھا گان کل امقر کا من اون 
ا بكتابة ة الكل دم ري هر ابا في الیْصْفِ وكيل فی الصف فهر بَيْنَهما 
وَالمَقوَض E‏ 
ترنجد: فربات ہو ںک ال رکوئی تلام دولوگوں کے می نشرک ہواوران مس سے ایک نے ای اش یکو با جازت د ےد کہ 
ایک ہرار کوٹ اپنا حص مکا حب بنا کر بر کتاہت پر دک نے چنا چ ہا نے سے ع ےو مرکا تب بن اکر ٹہ رل بر قب کر لیا پھر 
فلام عاج ہوگیا اام ام ویر کے ییہاں بد لکتاب یکا بال بضہکر نے وا سے ش ری کا ہوگا ۔ حرا ت صا یں یکو فر ماتے ہی ںکہ 
دوان دوفو لکا مکا حب ہوگا اور مک تب جواد اکر ے وہ ان کے بایان مشت رک ہوگا۔ ا کی اکل یہ ےک اما مام یا کے یہاں ن 
کی طر ں کنات چ ری مون ےرات صا یں با کے بیہاں تج ز یی موی ءا لک ہکا تک یکن دوجت بی کا فا دہ د 
ہے۔ لا امام اعم لے اھ کے کے بیہاں اوج ری ایک بی شریک کے ے ہکات زی ہوگی۔ اور دوسرے سا کی اجازت د ےک 
فدہ ہے موک کہ ا ےکن ہن نہیں لگا حا لالہ اگر وہ اچازت ند دبا تق ا ےک سال ہوتا ۔ اور اا پرل بے کرت ےکی 
ہیں وت سوب جو رر ہے ےت انی لج 
ورا تیو ا یکا ہوگا_۔ 
مفرات صا ہین چا کے ہا ایت یی لت زکیننیس مون اس لیے ایک ای کے ج ےک کاب تکی اا زت لور ے غلام 


1( آنْ لاہ جلر'7ا 2 1چھ ر٠‏ تی KAK‏ اکا م مکاتب کے بیان مک 0 
ک ےاج تک اجازت ے لذا عات نف میں اکل ہوگا اورنصف میں وکیل ہوگا اس لیے پرل ددفوں میمش ات تی 
ہے دو دونوں میں شترک ہوگا لہاج ز کے بح بھی دہ اش راک پر باق رےگا۔ 

اللَاٹ: ۱ 

ظا بین رجلین دوا دٹیوں کے درمیانءدوآ ریو ں کا شخ رک وإنصیب 4 حص جج رز ماج آ آناء برل »کنات 

دا کر انا۔ طانتجزی زی ہوم ہوا۔ طلاصیل 4 ال المقبوض پچ ضس چڑ ی ہکیابو۔ [العجز ‏ برل 

0, -2 

ٹہ یہ س ےک اک رکوئی لام دولوگوں کے با شت رک ہواوران مس ے ای ٹس اپنے یش ری ککو برا جات دی ےکم 

ا سے ےک فلام مک ب بنا لاور بد لکتابہت CFE‏ پر تک لکرلوو عقر درست اور جائز ےکن اس میس اختلاف ے۔ اام 

الم را ی کے بیہاں صرف ایک بی ش ری ککا حص ہآ زاو ہوگا اور بد کاب کا وین وار ہوگا ہکوہ ان کے ہا ں ن اور اتا یکی 

طر کات میس کی ری ہوئی ے اور چو کہ دوسرے جح رک نے اجازت د ےکر اپے سای اور تلام دوفو یکوخود ا رک دیا سے 

اوراپنے جک یما یکر کرد یا اس ےا ایک پیش ری کک حص مکا ب ہوگا اور ونی ایک ہی لور سے بد یکاہ تکا مان 

اہ کے برغلا ف حرا ت صا ٹین چا کے یہاں چو ںکہکنابت س ر یش مون اس لیے ایک ات کےحص کی اجازت 

بود سے ظا مکومکاتب بنا ےکی اجازت ہوگی اورش ری عاقد اپ جے می اکل ہوگا اوردوسزے کے جھے میس وکیل ہوگا اور لام 

مشت رک عور پر کا تب ہوگا لپا جو برل ہوگا ووی دوفوں میس خت رک جوک اوراگر لام بکھ برل او اکر کے عا ج ہوتا سے و اداکمردہ برل 


بھی مشیر ہوگا- 

کو E‏ سای یو ر9 رد روو ال یا ا ٤ر‏ 99ر ے ریرج ص ا و کت 

گال ودا انت جَارِیَة بَْنَ رَجْليْني کَاتباهَا فَوَطِيَهَا أَحَدُهمَا فَجَاءَ ت سس ےت 
7 کے با 4 E‏ م ۲ 7 2 ہ .9 
بول قَاعَاه ٿم عَجَرّت هي آم رَد اذل لان لما اذٌطی أَحَدمُمَا الود : صَحت دعوت لِقیام ال له فيه 


و 


وَصَار تعيب آم ولي ل ان المْکاتَة لاتقل الَقلَ من لپ إلى ملك فَفْتَصِ موم الو على تَصِيْبه كما 
في المذبرة ال TT‏ ر80 


7 


ذلك جَعلَيِ الكت لکتابة کان لم ن وَين ان اريه كلها ام ولي لدو ل لَه َال الْمَای من النْقَال وَرَطيه 
سا e‏ ْمَل اسيلا وَزضت عفرا لوطي 
۶ور 27١‏ ۱ 


جارية مشتر که وَيَضمَنْ د ریک كمال العقر وة قيمة الود ويكون اينه لان بمَنزة مغرو ره يْنَ وَطِیَقَ 
گان ملک ما اھ رء وَولَد الْمَغرور ر کاب السب بِنه رة على ما عت لته وى آم ولو اي 


AES AREAS SE ر نبا‎ 


اہ اس ا ر 4 و ر اچ ر 2 
حَقيقة فَيلرّمَة كمال العفرء يما دقع عقر إلى الْمَگاتیة جَارٌء أن لابه مادام باقية فَحَقٌ اض لھا 


2 7- سے و گے ہر سے ت 2 9 و ےد رور 7 ص 2 1 
رلاختصاصها بمنافعها وَابَدالھاء وإِذا عجرت ترذ العقر إلى المولى لظهور اعَِصَاِم هدا الَذِي دَكْرنا 
کی یو۶٤‏ 2 ہے وسے اھ ہے ۔ توویدھو۔ اھ وے یی الله ۴ے کے ودورد 
کله قول اب حَنبفة ساي ء رَقَالَ ابویوسف مغ ومحمد تئیہ هي آم ولد للاول ولايجوز وطي 
ص 9 ۰ ور 0ے 59 < 


گا کو سی ای ت ۶ 
ول الول صَارّث كلها ام ولد له لان امَوممَة الو يجب تَکمیْلھا بالْإجْمَاع ما 
تھے ےے رھ جح- ار ے 9 s2‏ م3 ہر سےےءچ ے گے سے ر 9ر 
وقد َمُگنَ يفَسُخ الكتابة لھا قابلة للخ فسخ فيما لَایَضَرَر به المَکاتبَة وَنبقی الِْتابة فما 


21 


٠۔ح E‏ ر 
الأخرلانة لما اذعى ا 


5*1. 
۱ 


رع ,ی ود یک ےرڈ ر2 د ے یں رد او کے ےو ود و کے ےر > 
وراء ۵ء بخلا التدبیرِ _لانە لایقبل الفسخ وبخلاف ب المكاتب» لان في تجریزہ إبطال الكتايةء إذ 


& )2 و سر ڈو و صہے. ھ۶ 


دودے 3 ےو اس س سو ر م رو گر ٤ے‏ 6 کے اس ہے 2 
المُشتري لَايَرْضی ببقائه مگاتباء وَإِدا صَارّت كلها ام وَل له قالثاني واطىء ام ولد الغير قيعت دسب 


ے۹ سب 2 ۴ ہے گی ہے ت ے۴ ور مص ر ص ر 9و 
لی ينه وَلَايَگوْنْ حرا عَليه باليمَة َير أنه ليجب الخد عَليه بالشبهة ويرمة جميع العفر ن الوطي 


گ۔ ص ےر KL ea E‏ م بس 9 م 2ر ر 
لایغرلی عَن إحدى الفرامتینء وَاِذًا بَقَیتٍِ الْکَتابَة وَصَارث كلها مُکاتبَة لَه قيلَ يجب عَلَيْهَا صف بل 
۹ ا 1 ا کی 2ے ہےر کو ا 9 سے 4 5 کی سے ص 7 3 و 
. الكتابةء أن الكتابة انقسخت فيما لَايَضَرَر به المكاتبة ولا تتضَرَر بسَقوْط نصفٍ البَدّل وَقیْل يَجبٔ كل 


ہےو صلا 2 ورو 


۔ کپ کے ے ےو دص 9 لد .7 ر مہ ود ر CANI A‏ و وھ 
البدلٍء لان الكتابة لم تنفيسخ إلا في حَي التمَلكِ ضرورة فلايظهر في حَق سقوط نصفِ البْدلِ وَفي إبقائه 


رپ ے ثھ ڑود ۔ د ے ۔ کہ ہے چو کوے سے و ر ر۶ ے۔ 8 د 2و و ھا وا و 
في حَقّه نر للمَوْلی وَإِنْ ان لَايتَضَرَر المکاتبة بسَقَوطه» وَالمگاتبة هي اَي تعطي العْقرَلاحَتصَاصٍا 


سے 


ايل ايء وَلرعَجَرَت ردت فی الق برد إلى الول هور إحصَاصِه على مانا . 
تنجد: رم نے ہی سک اگ رکوگی پاندی دولوگوں شر یی اوردووں نے اسے مکا تہ بنادیا تھا ران و سے ایگ شرک 
نے اس سے و یکم لی اور بچ پیړا ہو نے بر وای نے اس ےکا وکو ی کرد یا چردوسر ےش ریک نے بھی اس سے وٹ یکی اور اس ےکی 
پچ دا وااو اک دوسرے ےکی ےکا وگو کرد یا روہ نکی بد پکابت اداکرنے سے عا ج موی تو وہ پھلے وا یکی ام لہ ہوگی : ۱ 
کتک جب ایک شیک نے سی ےکا وکو کیا ڑا اوی ہے ءکیونکہ اس باندی یس بد یکی کیت مو جود سے اور با ترک اس بی 
کے حص یں اس کے ام ولد ہو جام ےگ ؛کیونکہ مک برای قلیت ے دوسرےکایت می سمش لیس مون لپ اام ولد ہونا گی کے 
جے رخص ر رےگا لے ہر بر وش رک س موا ے۔اوراکر دوسرے وا ی ور رکو ی کیا تو ا کا ووی کی بوک کیو 
بر اہر یک مکی ت بھی مو جور ہے۔ پچ راک پاندکی ہر لکتاہت نہ ادا کے کاب تکومعد و قر ارد ید یا ہا ےگ ادر ہما جا ےک کہ 
ری باندی داش او کی ام ولد ہے کبوکمہ اتال ملک ے جو ماع ھا و نتم ہوگیا اور او یکی وی مقد بھی ہے اور اول اپنے ش یک 
(خا کے ے باند یک نصف تم تکا ضامن موک اس ل ےک استتیر و ل کر کے وا ے ےک ا کک موگیا سے نیز ای بے باندی 
کا نصف رلا زم ہوگا > وتا نے مت کہ ب ری نے کی ہے اوددویراش رک پپرے ماود ےکی تک ضا ہوگا اور وہ 
کا ا یک با ہوگاء ای ل ہک غا خرو کے در چ میس ہے »یوت جب ال نے م یکی ی تو اس باتدی میں بہظاہرا یکی کیت 


7 بل جر۳ا EFER DYER‏ احا م ما تب کے وا ئل 
مو جور اورمف و رکا ڑکا اہی سے ثابت الب ہوتا سے اود تمت ک ےکن لآ زاو ہوتا سے جیا اکسم مو کات ہم اس ققق 
و2 می دوسر ےک ام ولد سے ڈ یکی سے اس لیے ا پر پرا عقرلازم وگ اوران میس سے وی م ت کوت راد اکر ےگا ہا ہوگاء اس 

ل کہ ج بک کنات موجود رہ کی اس وق ت کک اسے مق رپ قب کر نے کان ماک موک یوک وہ بانلدی تی اہ منائح اور 
اکسا بک اکلہ ہے۔اور جب دہ بدل اداکر نے سے عا ج موی نو ترمو یکو ایی کرد ےکی »یرتکاب موی اس کے منائ کا مالک 
وکیا ے۔ بی ج ہم نے جیا کیا سے ای مام وی کاقول ہے۔حقرات صاخین افر ے ہی کہ دو بای داع او لک امم 
ولد ہوگی اور ووسر ے کے سے ول یکنا ہا یں ہوگا ءا لی کہ جب واش اول نے ول رکا وگو یکر دیا ت پرکی با ری ا کی ام 
لو ای سل ےکی الا مکان ام ولدکی مل پالا نفاقی اجب ہے او رکتاب کور کہ کے بیہاں ا یکی کی لکا ےہ اس لے 
کہکمایت رک کے تال اجس چیم مکاح کا رد ہو م کا تک کرد جا گاادرائل کے ماو س دہ ال 

رےگی۔ 

eA ع ھا‎ SEEN EEE o 

ہےاس ل ہک رشت ری فلام کے مکا تب رب ے پر داشینیٹ ہوگا۔ رحا ل جب بوری با دی وای او کی ام ولد ہو ور وا رصرے 
کی ام وللد سے و یکر سے والا موان لیے اس سے ےکا نسب ماب تک ہوگا اور وہ یہ تست ےکآ ز اوک کدی ہوک جا تمم شہہ کی 
و ے وای پم نیس موی اورا پر پوراخقرلا زم ہوا > کوت وی وو یں ے ایک تادان ےنا ہوکی ۔ اور جب (ماورائے 
۱ ضرر یش ) عق دکنابت باق ہے اود ىہ با دی پور ےطور پر او لکی مکاتہ موی تو ایک قول بے س کاک باندگا راصف ل واب 
گال لیے ہکتاہ تکواٹھی چیزوں میں رخ کیا گیا ہے ج انی کے سی نتصان د ہکا ہیں اورسف برل کے ساط ہونے بی ای 
کاضرریں ہے۔ دوسراقول ہے س ےک اک پر پودابدل واجب ہوگا ال لی ہک ضرورجا مر فجملک کے می سکتا می ہوئی ہے لیا 
نمف برل کے ساط ہونے می پیر مو نی ہوگا اور صعف برل کت عقکوباتی رک سے مو 6آ سے اگر اس کے 
قوط سے مرکا تب کا ضرریں ہے اور مرکا ج تہ کے اپے ماح کے ساتھ ا ہو ےکی وجہرنے کی اے قربا ل 
ہہت سے عا وجاۓ اور دوپارہ رق تک طرف ۶و وکر چا ےو اب عقر مو یکو دیا جات گا ؛کیونکہ ا ب مولی کی ہن اوراخصا ی 

تارم گیا جیا کم یا چ یں- 
اللغافث: 


اڈعی) و یکرت 9ئ ؛مطالہ 9 E‏ ۔ امومية ال بون 5ھ" 
اہ رہواء داش ہوا۔ الاستیلاد 4 ام ولر بنانا [المغرور پ4 دوک زدہ۔ ابدال ہچ بد لکی مع “کن کس العقر 6 
ړل e‏ _ الغرامة )تواك »ی ۱ 

۱ ک ‏ ہاظ ‏ مت تہ بناد یا پچ رائنع مل سے ایک نے اس ے 
ڑگ یکی اور ہہ پیدرا موا سکا دای نے وکو کردیا فو ا کا وکو حجر موا اور وہ بای سے ھابت الب بھی ہوگا جا جم امام کم دید 


7 02371 لر ) EAU DSI‏ اکا م مک ب ےمان س ۲ 
١‏ کے بیہای دوس ر ےش ری ےکوی اس باندکی سے و یکر ن ےکا اخارہوگا وہ اس باندی بیس ا ش ری ککی عککییت برقرار ے اتی اکر 
وو سرا شر یی کی و یکر ے اور بچ ہوسا لو ساب لیت کی وچرے وہ یراس دوسرے وای ے خابہت الب 07 
دوسر ےکی وی اود یہ کے بعد پان ری برا یکاہ کی ادا کی سے عا کی اور بے یکا اتپا رکرو ےلو دہ پا نک پور ےطور پر وای اول 
کی ام ولد ہوجات ےکی او لتاب کو محرو م قرار د یدیا جا ۓ گا اور ی یات اول کے یگیل استتیلاو سے ما تھی کان جب 
معدوم ہوجا ۓگ تو ا کی کی لکا اتر صاف ہوجاسے کا اور چو ںکہ او کی وی مقدم ہے اس لیے اک استیلا وککی مقرم ہوگا۔ 
با اس اول پر اپنے ش ریک کے لیے اد یکی صف تمت لازم موی ہکیوننددہ ای کے ج ےکا بھی ما کک ب نکیا ےاپا ای کے کے 
کرم اس اجب لا دا ہو یش رک اند سے وٹ یکر ن ےکی دجاس پان یکا صف قوی لازم ہوگا۔ 

ویضمن شریکہ الخ بیہاں سے مہ تاد سے ہی ںک اول کے ما سا تجح دوسر ےش یک +7 ہے اور یی 
ک ام ولد ہوت کی وچ ے ٢|‏ نشی نے قیقت میں دوسر ےکی امم ولد سے وی کی ہے کا اس ے پر پورا مقر لازم ہوگا الہ پا 
ہونے دالا یہ کی سےخابت الضب ہوگا کیرک بر دای خرو سے اور کی نے ابی ککی ھکر یں سے دی کی کرای کے اظھار کو 
کے بعد ہم فل لا اورا سے دع وک ہ وکیا اور موک کیا سے ہو ےت کچ لک تست کے کے شآزاد ہوتا سے اس لیے اکر یدسا دای جے 
کی مھت دید تا ےا ا کا پآ زادہوجا گا۔ 

وأيهما دفع العقر الخ ا کا مال ہے کہ ج ب کک باندکی اداۓ برل سے عاج کی طلا کہ ےکی ال وق کک وہ 
مشت رک طور پ دوفوں شر کو ں کی ام ولد موی اوردونوں مس سے جوککی عق راداکرد ےکا کا ال جا ۓےگاکیوکہ ج بک ک کات بات 
دس گی ای وقت باندکی ہی اتی املاک ومنان کی ن ر ےک کن جب وہ بد لکی اوا کی سے عاب ی تلاپ رکرد ےکی تو اب مولی 
کی با ندیی اورک کل وج لوک ہوجا ۓگ ء می می وت سس ےج انم یم 
قول کے مطابق ہیں۔ 

مخرات صا شن ٹا کا لک ہے ےکہ جب وای اول نے س ےکا وگو یکر کے اس خابت النسب مان لیا تو شرو ری ہوگیا 
کہم ورأ کات تو 208و کےدلو لیمک ے بد یی پا ند یکوا کا اش ول رادید سی > کو تی الا مکان استیلاد 
کیبل رو رک ہے اورمعق تنا کو کر کے کیل مک نکھی سے اپار آاسے می کرد یں کے اود وی ہانگ وا او لک ام ولد 
ہا ےگ لپا دور ےش یک کے لیے اس سے وگ یکر نا چائز یی موک او راگ دو وٹ یکر ہے نو غل اکتا ہے ای لیے م نے اس 
وی سے پیداشدہ ےک دوسرے وای سے خاہت السب“ بھی یل مان ہے اور ہنی ا سے بت کے وآ زاوقر ردا ےتا چم اپ یکم 
کےاعتپار سے ریش ابی کللیت میں و یکرت ےا لیے ییول پاش وگ او رش کی وج سے اس پر حد و یں ہوگی رین را عفر 
لازم ہوگاء کٹا کے دو یکو ہیں( عقریاعد)۔ 

وإذا بقیت الکتابة حص : ۳۳۳ برای کی ٦ری‏ لای کے فتفسخ فیما لايتضرر الخ ےل ہے۔ اور ا یکا 
ا٣ی‏ ےس کا تن کرنائمکن ہے اور جھ یز باندی کے لیے نقصان دہ نہہواس می عق راوغ کیا ہا کنا ے اور ظا ہر ےک 
اند کے ام وللد ہونے ٹیل ا کا نقصا ن کل کوک ام ولد ہونے کے بعد ا یکی تع وشراءاور ہبہ یرہ س ب موم ہوگا اورمولٰی 


2 ہے دھ کر کی رر ARLE‏ امام اجب اش : 
ےت ےت کردا جا ےک کن انس کے علاو متاح اورا ا 
ویره کن می عت د یں کر میں کے کوان چروں شس ایک نقصان ے ٹن نیس ہے اس لے ان چز وں ےن میں عقر 
اتی ےک اوران اشیاء یش بو ری پا ترک وای او کی مکا تی ہوگی اور اس ورت میں اس ش یک نای کے ج ےکا نصف بد نابت 
واجب ہوگا اورنصف سا قط ہوجا ےگا اور ضف کے سقو ط میس ا سکا ضر ہیں ےلپ راصف سن اول وا ےکا حص سا قط ہوگا اور وای 
خا کا حصا راجب الاداء ہوگا_ 

کا راۓ ہہ سب ےکہاس مکاتیہ پہ پو ابد لکتابت داجب موک یوگ م ک8 اتیلادکی اط رضرورج 
0 وا 
کےفت رت یی دی جا ۓگ اود اس پہ پودابدل واج بکیا جات ۓےگا۔ اگ پات ری بد لکنابہت اد اک نے سے ماج ی ظا ہنی سکر تی نو عر 
ا کو لگا اوراکر عاج ی کا ہرکرد تی ہے وومولی کی ریت بن جات ےکی اور پوراہرل اسی مو یکو 28 
قال ومن ول ریک في قاس قول ابی برست مااي بضت یھ ممه ا لَك تيب 

شرید شریکه وهي مُکاَة يضمن يرا گان ار مغیسرا لاله صَمَان املك رفي قول مُحَمَدٍ مايه من 
ئ یشب یت یل یشب تان کی کی ع ترون شي از کل تیر 
الْٰمجْز وف ز نصفِ يدل عَلَی اعبار الداء ۽ فَللَرَددِ بینھمًا یہ : بح ا قال وَإِنْ کان الثاني لم َعَمَا 
وَلکنْ برها ثم عجرت بطل الَذيِيْرلَنَه لم يُعَايِفِ املك گا عَم اه رن الْمْسْتَوِد تملگھا 


ا اف ي رص 


بل العجز واما عند آبي حَیِیفَة انه بالعجز تہ سی ول و ا 


وو ¢ ۶ 


غَیْرء التدبير يعمد املك پیعلافِ السب لان عمد الغرور على ما مر . ال هي ام رَد وء ن 
علق ْب ریک رمل یلاہ لی تا ینا رضن ریک بض فرعا وط جاه محر 
نص ہڑے سر O, O‏ 


ونصف قيمَيهاء نه تمَلْكَ نصفها بالإستيلاد وهو تَمَلَّكَ بالْیْعَة و الول ولد لول لاه صَحَب دغوتة 
لقیام الهُمَ ٠‏ 


4 وکو و ق2 ہے 9 ) ر ےل 


ء وھذا قولھم ججمیعا وو جهه مابینا. 
تزچه: فرماتے ہی ںک امام ابو سمت کےقول میں دای اول اہپنے ریک کے لے مکاتہ با ند ی کی صف تھ ت کا ضاسن ہوگاء 
کوت واٹی اول اس حال یش اپنے ش ریک کے ج ےکا با کک ہوا کہ وہ مکا تیر ے لیا مکا تی ہو ےکی الت ٹیش ای کی قیم تکا 
۱ ضا کن ہوگا خواہ وو موس مو پا ہر ہو اس ل ہک ہے ھا کک ہے اما مہ ٹیہ کے یہاں تمت کے اور بای برل کے نصف میں 
سے ج وک اول اس یکا طا کی وکا ای لیک بای کے واوو عت ہوئے اس کےش رک کان نف رہ میں ہے اوراراکر وکت 
بیو نے نصف برل میں ا کا ن ےلپ ڈادولوں یل تر ورک وجرے اٹل واجب ہوگا_ 

د اتے ہی ںکہاگردوسرےےشریک نے بد سے وی کی الد اسے مد ی تھا جرد ما بز ہوم ا ہو جاۓے 


ر بے AL ARLE DYES‏ 
گیا کوک وہ گلیت ل ہوئ یی حضرات صاضبین ہا کے یہاں یعدم تصادف لو اہر ہے کیوگکہ ان 2 ا 
ستول ر( شن ووی سے ) اظہار بز سے پل تی اا کا مالک کا چا سے امام انم وش کے یہاں عدم لصاوف ال وچ رے ےک 
ا ا 000/4 کا ر 
تی حا لامک ہہ ہی رکا دا ریت پر ہے۔ برغلا ف نب کے ال کہا لکامداررود پہ ہے لی اکہگذر چا ے۔ 

ْ فراتے مو کہ می پ ندال او لک ام ولد وی اک لک دہ اپ شیک کے ےکا کک ہو چکا سے اوراست یلال ہو پا 
ہے علیہ اکم جیا نکر گے ہیں ۔اوراول انا ریک کے لیے نص ف عق رکا ضا ہوگاء اس لے ہہ اس نے مشت کہ باتری سے و یکی 
سے نیزا بے باندی کی نصف تبت کی اجب موی ال لی ےکہنص فک استیلاد کے ذ یچ دو مالک ہوا ہے اوراستقیلاد یل تمت 
سے ما لک بنا جانا ہے اور اس صصورت ٹیل جو بچہ سے دہ او لکا ہوگا ای ےل ہکا کا وک کی سے یہو یکو تر ارو نے والی چ 
موجود ہے یتام قبا کا قول ہےےاورا کی وبل دی ہے جو ہم میا نکر کے یں۔ 


اللغات: 


طیضمن 4 ضاں نا۔ موسر ران وسست» ا سووم مال۔ طمعسر 4 رست نریب۔ التملك ہہ مالک 
ننا۔ مال قبة ردن ۔ [العجز) عاتز آن۔ إیصادف) وا ہوناء اا ہونا۔ المستولد) ام ولد بنانے والا۔ 
یعتمد) برو سک ناء اعماذکرنا۔ 
صا ٹن یا کا موئف: 
عبارت یل مین سے بیان سے کے ہیں ن میں سے پہلا امل وا نے کے ے تلق سے اور ایکا e‏ 
واک یں جب پا نک داع ادل ھک ام ول موک امام اووس کے 2٤‏ -ص “09000 ۱ 
لی کے لے اول پر واجب ہوگی کیو ںکراول مکاح ہو ےکی عالت یل خان کے حص ہکا ما کک ہوا ےلپ ا نھان بھی ای حال کی 
تمت کا ہوگا اورخواہ اول مالدار ہو باتاحع بہرصورت اس پر بی تان داجب ہوگاء اس لی کہ ہمان ترک سے اور ضمان تنک کا 
وجو ب ر او رر ےل یں ہوتا اما مھ لی کے انی نا تبت اورتصعف پر لکثابت شی سے جوک وکا ہی 
واجب ہوگااشں یہ اگ باند یکا بر رک ھا جا و ش رک اف نمف تقر تکا اع ےاور اکر پر ل پرا یکی قد رہ تکود یکھا جا تو 
دورن ےکا حص نمف برل سل ےاوران 7 ٹیش ےا ی اتل داجب ہوگا کی ںول مت مین تاے۔ 
(۴)دد را ستل یس ےک دای اول کے پا ند یکوائ ولد نانے 00/7 
اور یھر با نکی اداۓ یرل سے عا ج کی ھا ہ رک ےئ پالانفاتی سب کے بیہال ن ہیر پال و چا کے کی کیونکہنھ برک مجح کا دار ویدار 
لیت پر ہے اور یہاں نع رک یت معروم ہے؛اس ل ےک حرا ت صا کین چنا کے یہال فو اول کے ووی کے بع را ھار زر سے 
یل نی اول ایس دی پاند ی کا الک ہیا ہے اود امام آم یھی کے ھال پور جھزرے بی طا م ہوا ےک دہ دقت وی سے کی 
دوسر ےکا حصہاپتا چکا ےاہنا دوسر ےکی مھ بی کیت سے نای مو ےکی وج سے ال ہے۔ ہاں اکر دورا ش ری کی و یکر لیت تو 
ال ے پیدا شدہ ےکا نب ابت ہو چا کوت بعد می اظہار ب ہے دو مخرورہوتا اور وللد مقر رمفرور سے خابت الب ہے 


7 07 جتر۳7) اھ ات بے مک کت6 یر اکم مک ب کے بیان مک 0۴ 
اس کے لی مل کک رور ہیں پل لپا استیلا داو رھ بی رٹل فرقی ے اسے ذ جن می رکھنا ضروری ے۔ 

(۳) فرماتے ہی ںکہ دوسرے کے مدب مان ےکی ورت می بھی وہ پاندکی واش کا ام ولد ہوگی > وتک وہ سب کے یہاں 
دوسرے کے حع ےکا ما تک ہو چکا ہے اور ما نیل وا لے نت کی ط رع وای راس باند یکا نصف تتت ر اورا یکی نصف یت داجب ہوک 
0 ۳ھک ) 


ال وَإِنْ گانا کَاتبَمَا م عتما اَحَدُھُمَا وهو موسر ثم عََرّت يضمن شمَنْ المَعْيِق شريه نصف فِیْمَيْهَا 
يرجح بلك علا عند ابي حي مايه و رج انها که لگا رٽ ززگٹ في اق تب 
بد جو ےو و ہی 


AT 7 


الإعتاق وقد فَرَرنَاهُ في الإعتاق اما قبل العجز ليس له أن يَصَهْنْ غ اميق عند أبي عَِقة عرقة بل کا 


ت 


بے ہے۔ پ ٤و‏ چو صے دے 
اشاق تنا کان بجی عند کان ار از جن کت رال تة گالْمگاتب قلا قلایتغیر به تَصِيْبٌ 
و 00007 7 


صَاجبہ لاتھا مگاتبة قبل ذلك وَعِنْدمُمَا لما گان زی عق ا فله ان يضمن قیمة تصیبه مگاتبا إِنْ 


ظ<5۶ ام ۔ ھ2ھ5 ِ7 


گان مورا ویْسَسْعَی الد إن گان عر له ضَمَانُ ف 0 


تنچد: فرماتے ہی سک اکر دوفوں )آلوں نے پا ٹر یکو مکاتہہ ہناد یا ران میں سے ایک نے اس ےآ ز اکر دیا ای حال مم کے وہ 
بالدار ے کر مکا عب برل بت اداکرنے سے ماد ہو تن اپ شر یک کے لیے لصف تبس کا ضا ہوگا اورامام انم و سر 
کے ا نکواس مرکا ہہ سے م وای کان ہوک _حط رات صا یں موا را ے ہی ں کن ا 
کہ جب ودما ج مو اورنلا ھی ٹیل واری ای ای ی f‏ نیش وو رق بی ای اورا اس شیل رج“ کے جانے ے جواختلان سے وی 
اختلاف خیارات دغیرہ سی ہے جیا ک اتاق کے ری ہونے می ںبھی کی اختلاف سے اور اتان میس م اسے بیا نک کے ہیں۔ 
اور مکا ہہ کے اظمار ہمز سے پیل امام کم بی کے یہاں ر کو ریت یں ےک وو نکوضامن بنا رےء اک لی کہ 
نام کے ییہاں جب اعخماق مر زک موا کے ا کا2 بی ہوگا ال ودغن ےک اق ا ری نے این 
کے شش ریک کے ھے می ںوی اخ کڑس ہوگا یگ اک سے یی نی دہ مکاح وی ہے۔اوتقرات این یت کے یہاں چو یکم 
اتاق نز یی ہو ان لے اک کے اتاق سے پپ ری باندیآزاد ہوک اور فیرش قکو بیان باک وک نکواپنے ج ےکی ۱ 
(مکاتب دای ) تم تک ضا بے ال رمن موس رہواوراگرو رمضم ہو کا گرا ےا ل ےک رطان اعات ےلپ زات کے 
راو رر ہو سے اس میں تب گی ہوگی- 
اللَات: 
ِ 7 سر فراغ رت1 سودوعال۔ مر ق فلای- لم تزل ) یغ ر ہنا اقنة ہہ خالصس باندی 2" 
تم ہن ڈلیستسعی یکنا امعسر )رست وڑالیسار پ14 اف وات بفرای پا لاعحسار کر رمال ۔ 


ر أ AREAS SS E2‏ رح اب AE‏ 
مت رک ماب باند ی ک۲ دیآ زادی: 
صورت متلہ ہے س ےک ای پاندی دولوگوں I a EOE‏ 
نے جو بلدا رھ اپا حصا اق E Ea‏ ال ول کے یہاں ایک م 
ی س ےکن اکت مق نی کو با ندب یکی نصف تھ کا مان د ےگا لیکن بعد یش باندی سے ہم ابی نے لن ےگا ححرات 
صا کل بو ے کے ییا ن اک تکودی ہہوئی رم باندگی سے وام یں ےکا ای لی ےک جب دہ با نکی عاج موی اوردوبارہ 
رن موی و ا ںکی۔حالت ای مو یکو لک وہ یش بان ری یی اور ہکا حب کی موی اور چو ںکران کے بیہاں اتاق مم سجزی 
ا کے ایکا اتاق پور باندکی کا اعاق موک وتن ف رن کے حع ےکا ضا ہوگا اور ای ھان ٹیس ووضتر موک 
اوتبرع مال تر کو وا یک یں لتا لہ تن بھی دوسرے کے جے میس دی موی ر دای لی کان ارش ہوگا۔ 
فراتے ہی سک امام نم وی اوررات ضاضین تا کے مین رجو اور عدم رجو میس جو اختلاف سے می اختاف 
ارات خلاغہ وغیبرہ می کی ے۔ اخقیارات خاش سے مراد یہ س کہ ایک ش ریک کے اعتاق کے بعد امام ام وو کے یہاں 
دوسر ےش ری ککوحین باتوں میں سے ای ےک اخقیار موک (۱) گر جا سے نے ووی اپنا حص زادکردے (۴ )1ک جا ہے و اس بان دی سے 
کا یکراۓ اور اپنے جح کی رتم یصو کر ے (۳) اور اکر چا ےلو مت کو اپنے ےکی قب کا ضا ہنا ء ج بک رات 
ماین ب کے یہاں اگ رمتن الدار ےت رخن ال سے ان نے اوراگر دو مر ہے و باندی س ےکا یکرائے۔ یس میں 
ک راتا ے اس کے علادہ وی سکرس تا_ وغیرھا ےرت انا لم ارک یہاں دو اش ریک اکر ایتا حص ہآ زاد 
کنا سے یا اس س ےکا یکراجا سے فو ولا ان یش مشت رک موی یوت امام صاحب کے ہا ں عق میں زی موی ے کن حضرات 
صا ٹین تیدا کے یہاں بب رورت ولا شی او کو ٹ ےکی کیرک انی کے یہاں اعخاق می رکا ہو ۔ 
اوبر جوم یا نکیاگیاے دہ ا ہار ہز کے بع دکی حالت سے تخل ے اوراگر انار جھز سے پ یکا معامل موتو امام اشنم یز 
کے بیہاں ساکمتہ مت قکوضام ن نیس بنا تا اس س کان کے یا ں حن سج زی ہوا ہے اہ ایک شیا بک کےاعخاقی ےصرف ا یکا 
حص ہآ زاد وکا اور دوس رے ع ری کا حص پرستور رکا تب می ر ےگا اوراعان ای پر اث انراز یں ہہوگا_ اس کے برخلا ف حضرات 
صان چا کے بیہاں چو ںکاعخاق یں تریس وت ڑا ال از اوربعد اج 0 ا یمزال ہوک 
ی ایک رک کےا اق ےک مکی نین افناق ایت وکا اد Ei CS‏ سے مان لک O‏ اسان کان کر 
مت موس رون اس سے ان ےگا اوراگروومحسر وتو اس باندی سے اپنے جے کے لی ےکمائی کرات ےگا جاک بعد ہز وا ی صورت 


ہم نے اسے بیالنکردیااے۔ 
گال وَإِنْ گان الْعبْد بين رَجَليْن دبره أَحَدُهُما م اتفه الا وهو موسر ان شَاءَ الذي دََرَة ضَمَنَالمُعْيقَ 


0-07 ٿه بره الخ ر لم ب ا 


صف قَيمَیه مَدبْرا وَإِنْ شَاءَ اسمَسَعی اعد وَإِنْ اء اعتقَء وَإِنْ اعَتقَة اَحَدَهَما ثم ذَيِرَهٌا خر 


سے رور ۱ ت 
يضمن المعقَ وَيّستَسعى العَبد أو يعيق» رها عنة أبي حَيفة مايه وَوَجْهَة أن الذبير جى عِنْدۂ 


7 ہے جلطر(٢)‏ کہ ہے عررے نی ین اا م مرکا تب کے نان ٹیل ۹ 


بير أَحَدِهمًا صر على تصيبه ہہ یں وف وت مير 


ہے۔ و 54 


نشکا مغ مو مق د أ لبن لا خيار التضه ن وَالاسمِسْعَاعَ وإ عتاقة یقتصر 


-- ر ے لے س دھ کا ےن پدےے 9 
لاه زی عند وَلکنْ يَفْسدٌ به ميب شریکه فله ان يضمنه نصےه نصيبه وله حيار التق وَالإسْيَسَعَاءِ 
ر ار ےار رر دہج 9 9ر 2 و م ٤‏ لہ ق گور و 


و 
ایضا کُمَا هو مَذهَبه َيَضَمََه قَيمَة تصیۂ مََبْراء ان زان عات فد کر قيمَة المَدبْرٍ عرف 


. 


٦ے‎ 


تقوم الْمََوميَْ وَقیْلَ يجب لتا قيمته وهو قن ا لماع وا اڈ الع واخ نيشت 


کوے۔ گی ۔ بر رو 29 22338 


رامال و لتاق وتوابعة» وَلْقَالُ ليع Re‏ ۲ رادا ضَمَنة لَايتَمَلكة بالْمَان لان لایقیل 


ہر یر پ یہت قابقَء وَإِنْ أَعْتَقَة اَحَدُمُمَ ولا گان لاخر الْخیَارَاتُ 


اث نه إا ا بره لم ق لَه جیا مین وبقي خيار لتاق رالإستسعاءِ لن المذبر 
9 ۔ یووودھ 


ویستسعی» ٠‏ رال بوبوسق اید و 


خی ئة ا ا ره عدخت یق خر ب نه ایز 
عتتا ا َيب صَاجب بالدبیر ود از مل 


ت 2 و 4 دوو ۔ھ 


فلایختلف بتار اسار وَیَسمَن صف قيْمبه فنا َه صَادَقَهُ التدبير وھو وق وَإِنْ اَعْتَقَهُ أحَدهُمَا 


دير لاحر باط لان لتاق جى فيع كله فلم یُصَاوفِ اللْذبْر اك وهو يعمد وََسْمَنْ 
پے 2 م % ہب 


مه کوکریے ا ن و 


ا PER‏ اس 2 
بالیْسَار وَالإعسار عندَهُمًا. 


تنجمد: فرماتے چ سک اگر خلام دولوگوں کے ماک شت رک ہو ادر ان یل سے ایک نے اس مھ بنا دیا بر دوسرے نے سے 
زا وکیا اور وون الد ار ےآ اکر بد بر چا ےلو مض سے و برغلا مکی نصف قب تک عضمان نے اور اکر جا ہے تو اس غلام ےکا 
کراۓ اوراگر چا ےلو خودیھ یآ زا وکرو ے۔ اوراگر دوفولش ریک ٹیل سے پلیہ ایک نے اپنے ع ےکوآزادکرد یا چم دوسرے نے مد ب 
نای واب ا ےن ےمان لی کا ن ہیں ہوک کا لام ےکا یکرائے پا ےآزاکردے۔ م صرت امم ر 
کے یہاں ہے اورا لکی دعل ہے ےک رت الاما مم کے ییہاں تر ر ری ہولی ہے لپا لیک ش ری ککی یراک کے صے پر خر 
ر ےکی لیکن اک ہیر سے دوسر ےکا حص فاسد ہوجات ےگا (اس کے لیے مدر سے ضرمت ینا موا سے )٤‏ اپا ا سکواخزاقی 
مین اوراسترعاء یس سے ای ےکا اقیارحائصل ہوگا۔ جیا کہ می عضرت الا ما مکا ہہب ہے۔ 

اوراکر وو سرا ش یک اپنا خآ زا رکرو تا سےا ال ےشن اوراستسعا مرکا اتتا رسا قط وچا ےگا اورا اتاق اس کے جے 
تک ولوف ر ےک کین کن دال مام اتان مرک وتا ے کن ان ا کی ون ان ای ی کا عو فا موی ےکا 
اپزا ا اتان سے مان لک کا زا دک ےکا او رکا یکران ےکا کن ہوگا ججی ا کہ می ( یہن اور )کر ےلت ) حضرت 


7 نبا 27 SDH‏ ںیھ یھر اکا اب کے نان مم حم 
الاما م کا ہب ے۔ اود رمضم سے ھ بر خلا مکی تب ت کا مان لگا کیوکہ اعاق بد بر غلام سے ل س( دوسر ےش کیک 
نے اس حال مں انا حص زادکیا سپ کد سے صھے یل فلا مب" ہے اداد م بر والی حا کی تج تکا ضائن ہوگا) پچ راک قول 
: ید ےکھد رکا تمت مقومی نک یق مم سے معلو مکی جا ےکی ج بک دوسراتقول ہے کہ خاش خلا مکی تہ تکا دومث واجب ہوگا 
(اور یی نی رمضم کا مان ہوگا) اس ل ےک ماع تین طر کے ہیں ئن اور کے مشا ہق دلا ہبہ صرق اور وصیت یرہ )٣(‏ 
ٰ ارام اوراس کے ہبش لمقود(جیےاجارہاوراعارہپرد بنا )(۳) اعماقاوراس کے تایح دی کو ٹلا تا رع روا 
مس ٹم فوت سے ( ی اسے فروضتتکرناممنوح ے ) للہا اس ایک نفعت کے فوت ہو ےکی وج سے تمت کا ایک لٹ ہا ڈیر 
ہا ےگ اور دو نلث کل ان واجب ہہوں گے ۔اود مہ کے ان لے کے بعر خن فلام منص یکا نال ککیں موک 
کیو ( نما نحلو ۰ھ ہے اور مت ایک لیت ۓ دوسری مکی تکی طرفل یں ہوتا یے ری ےکوی 
برتلا مص بکیا روہ ا صب کے پا سے بھا گیا توا صب برا کی قیمت اجب موی _ 

ورائہ دولوں یش سے ایک نے پی زا کروی تق امام م El‏ اور 
دوسرے نے اپنا حص بای تو تیا رشان ساقط ہوجا ےک اور خیار اتتا اورخیار استسعاء باقی ر ےگا INE‏ زا وک یکی جا کت 
ہے اور ای ےئ یپھ ی کرای انی سے ۔ حفرات اتی پچ ہے می ںکہرایک کے مدع بنانے کے بعد دوس ےکآ اکر 
۱ ال موک یوگ ا ان2۷ ت کے یہاں تھ ہی پیج یی ہو ی لدابتم یی ری سے اپنے ہی کے ےکا ما نک ہوجات ےگا اور 
۱ نی کے لیے فلا مکی نیف تم تک ضا موک خواہ تروع و امہ وکیوکمہ(زان کے بیہاں )غا ن تک ہے اور ضا تک 
یاراوراعمار ےل یں موتا اور ایک فرت ان حرات کے بیہال کی ےک ب بر خاش خلا مکی نصف قب تکا ضامن ہوگا 
اں لی ہک عحالتققیت اس غلام سن ہی تل ہوئی ے۔ 

اور اگ دونوں یس سے ایک نے پیل پٹ ا حص ہآ زا دکردیا و بھی دوسر ےکی ت ہےر اگ ہے اس لی کہ اتان میں (ان کے 
یہاں ) تک یی ہوٹی ای لیے پوراغلا مآ 7 "0 
اک رن موس رہ وق وہ اپنے سای کے نے نصف جم یکا ضا کن ہوگا اورک وو مسر ہو خلام خی تان 2ء 0 
یگ یمان انات چاو رتبا ات صا نین کے یہاں عفان با روا عار لف موتا ر تا ے۔ 
اللغاتث: 

دب مھ نا اپ مرنے کےلرقلامکوآ زاوکرنا ۔ [یفسد )قراب ہوناء فاسد مون ئ0 

لإخی رة اغیارہ رات ۔ یقتصر 4 ےگا دود ر ےگا لإصادف ‏ وات وناک یکل میں جا اکر بنا ابق وڑا 
ہونا۔ لاقن اغلام سار 4 سوددعا لی [الاعسار یدق _ 
کور وسک ےکا غلاصہ: 

مت تک ب 7ھ سے دانع سےصرف ای اتاو کن ی وکنا رور سک فر الام سے ا 
اعات وونوں یں ری ہو ے او رحطرا ت صا یں ےتا کے یہاں تا اتاق بیس تی مون ے اور ہی تھ ہی ریس ۔ ای فرق اور 
اختلا فک وچ ے دونو ں را ے یہاں اح م میس ینیقی ہوا سے_ 


3 الہ بر (O‏ جب ار EOLA‏ انام کاب کے اکنا جا 


باپ موت البْکاتب و روموت المَوْل 
ہے باب کا تک کے ھرنے ء ادا ے برل سے اس کے عا 2 ہو 


9 


2 و جو ہے داو س ام2 سے 3ے ا ے ر ےی روق ر ۶ کور 9را 9 
قال وَإِذَا عَجَر المگاتب عَن نجم نَظر الا کم في حَاله فان كانَ له دين يقبضة او مال يدم ليو لم 


م ¥ E‏ 3 ہے 92 9ے 


عل 


جو 
27 


و ر اسا و ۔ <وے ےد ۶ رو وہ 92 
ا للجانبينِء والنلاٹ هي المذة الى ضربت لابلاءِ الاعذارِ 


e 2‏ ے9 ےو ٤‏ سے ےھ 
بتعجيزه وانتظر عَليه اليومَين أو الفلائة نظر 
ك اس د 2 ا و دےے یں ٣ٌ‏ ے7 7 1 ےد > رد E‏ کے Be‏ ت 
مهال الحَصم لِلدفع وَالمَديون للقَصَاء فَلايزَاد عَليه فَإِن لم یکن لَه وَجة وَعلَبَ المَولى تعجيره عَجُرَه 
1 ۱ ۱ 
س 4 کے 1 E‏ 2 ۔ د الا ہ6 ہا ا ct‏ ۔ 9و9 ارغ کچ کہ س 3ء ر 217 ,2 
وَقَسَح الكَتابة وهلذّا عند أبي حَييفة ةة ومحمد مايه ء وگال ابويوسف لَایعَجْرَة تی يتوالى عليه 
مو ۲ اھ ۰- َ‫ 0 ر2 بے ص رت وس رو یل ۳ ر 2 7 2 ۶ 
َجُمَان قول عَلی رضي الله عَنهُ إا الى عَلّى المگاتب نَجْمَانِ رد في الرقء عَلقه بهذا الشرٴطہ ولانة 
9 2 ر ر 0 0م مو با 7- و 9 7 
عَقَد إرقاق ختی گان احسَنه موجَلةء وَحَالَة الوجُوب بعد حلول جي فلاب مِن إِمّهَالٍ مد اِسَتَِسَاراء 
َ‫ َ‫ 7 َ‫ 7 ۳ 
سں 1 ہے صے کے ے9 وص ی 9 ٤ب‏ ص 4 4 سے گے رور دھ ا۔5 ہے ے3 ٤‏ 
واولیٰ المدد ماتوافق عليه العاقدانء ولھما ان سیب القسخ قد تحَقق وهو المجز أن مَنْ عَجَر عن ادَاءِ 
اھ ر د و ٤د‏ ڑا ےا ر A92.‏ ے ےے> ےھچ 99ے ور ٹدڈوودئ(ے۔ کے خی و 2ھ 27 
نجي وَاجدٍ یکون اعجْزٌ عن اء نجمَینِء وهذا أن مُقصود المَولى الوصول إلى الما عند حلولِ نجي 
4I‏ 4 4 27 


ا ۓ ے ا ر کس کا گر ا ا کی ک 
وقد فاك فینفٍخ إِڈا لم یکن رَاضِيا به دونه» یخلافِ لومي والثلائة لات لاب منها لإمكان الادَاءِ فلم 


ہس دے د۶ ر ند و وہہ ہچ رر وو 9 ظثرےے۔ ے و دور گے وس ہ6 کی ےےہے 2 د 
يكن تاخيرا. والأثار متعَّارضة فَإِنْ المَروي عَنِ ابن عَمَر رضي الله عَنهمَا ان ماتبَة له عَجَرّت عَن نجم 
4 گے 6 و 


کے ىاھ 4 
فان ا 


سے 7 صس 4 ےہ جح ؟ کے ہےر سے 926 ر مہ و وہ ے۔ 4ھ 
فَرَدَهَا فَسَقط الاحَیجَاج بها. گا حل بنجم عنڈ عَير السلطان فَعَجْر فَرَده مَوْلَاه برضاه فهو جائزء 


با الک شع بلک اض مل غزر عر فبالکڈر آزلی رار تزض ید اة لابه مي کم باقن 6 
الكتابة تفسۂ بالت اضے مه به القضاء 
لان الكتابة تفسّخ بالتراضی من غير عذر فبالعذر اولیٰ ولو لم يرض بو العبد لابڈ من القضاء بالفسج, 
2 س 29 و ے کے ٤‏ 2 کس ےد رار ڈو کہ e‏ 9ء ےہ رر 
عقد لازم تام فلابد من القضاء۔ا الرضاء کالرد بالعيب بعد القبضء قال إذا عَجَرَّ المكاتب عاد إلى 


س لیک یچ :. کا سے رس ے وہ ر ور دی 9 س رر 9 2 
احكام الرق لانفساخ الكتابّة وَمَاكانَ في يده من الاكسابِ فهو لمولاہ لانه ظهر انه كسب عبده» وھذا 


۲7 


رواو ےو ٤و‏ 


أنه کان موقو فا عَليه او على مو لاه وقد زَّال التوَقف . 


Are PRLS De ai 
تر چه: نے ہی سک اہ مکاجب ایک قط اداکرنے سے عاج وچا ےو اکم ا یکی عالت د سے چنا یہار اس ےکو وین‎ 
لیے والا ہو یا اس کے اس ما لآ نے والا موتو ای کی ماج یکا فیص کر نے میں جلری 07 اک‎ 
مول اور مکاح دونوں ےکن میں ش کے تی وع ون کت ای وت ےا ا کے تین کی ہے‎ 
کے ی عل کو ری کک افص تکر نے او رمت رو شوق رض اد اکر نے کے لیے تمن د نکی بات دی جالیٰ ےاپڑا ال‎ 
اضافہ ت کی جا ےکا تین ون کے بعر اکر مکاحب کے پاس مالآ ےک یکوئی حصورت نہ مواور موی ا ک یی رکا طالب وتو تو‎ 
"لے و رو بن حفرات طرش کے یہاں ہے۔امام الولوس ف ر ہے ال چب وہ‎ 7 
گا تار دوقطا ادان ہک سے اس وشت تک ق کی اسے ما ج تر ارد ے۔ اس لی ےک ضر تی رصی اٹ رع ہکا ارشادگرا ھی سے جب مکا تب‎ 
پک تاردو مات وجا ہیں تو وہ رتیت میں لوا دیا جا ےگویا حضرت می اٹہ نے اس کے رولو ای شر ہت کر دیا سے اورا لیے‎ 
بج یک ہکات اما عقد سے جومسائحت اورنزی پک ےک یکم وگل اورموشر عق ہکمابت اچم قد ہوتا ے اور و جوب ادا کی مال ت تو‎ 
طط ات نے کے !ع دک سے ابا لیک مر ت کک اے ہلت د ینا ضرورکی ےک مکاتب بہآسالی بد لک ڈنیل اوا کر کے اور سب‎ 
ےہ رن ت ود ے* جس بر عا رین تق ہو جاتیں۔‎ 

دو سے وس تک سان ئا ئل 
E‏ کم ای وج سے س ےک ق یاک اوا یکا کا وت ورا ہو نے بمو یکا مقر ہے ہوتا ےکر سے الع بے مانا 
ارات ہک نے ےم و کا رقص رفوت ہہوگیا لزا اکر موی قر لے !خی ابتاے عق برراشی د ہولڈ عقر غ کر دیا جا گا۔ برخلاف دون 
دن تک ہلت ر ےے یوت اق حر ت کک ہت د بنا از سے ال ےک اس رت میں اواکرن کن ہے لپا اتی 27 
ابال سے ت ٹیرکیس موی ۔ اور اخار م تفارش ہے چنا حطر ت این گر سے مروگ ہ کہا کی ایک مکاحی با ند اسیک قا برل 
ا ا آپ نے اسے رتیت میس داب لوٹا ی اپا حط رل ری اللعنہ کے اش سے امام ابو لوس فکا 
اتدلا ل رتا ہا قط ے۔ 

رما کے ہی سکی اگ مرکا تب نے ق ی کے علاو کی اوریگ قط اد اکر نے سکوتاج یکی اور ے بی ب گیا اورا کے مولی نے اس 
مکاح بک رضامت دی سے اسے دوبارہ رق بنالیا تو یرد ادرک جا ےء اس یی ےک ہکابت ب اوروستلھبوھ ول 
عافوررظکط یو یل سو گی اور اکر لام اس پر راشمی تہ ہو کے لیے قتا سے قا کی ضر ورت ہوگی ءال ےک ہے 
عقد لازم کی ہے اور مبھی ہے انا ےت کر نے کے لیے قضاء یا رضا ‏ ضردری ہوک جیے زف کے بعدعی بک وج ےی کی وای 
کے لیے قضاء یا رضاعضروری ے۔ 
ت فرماتے می ںکہ جب مکاحب بد لکتاہت اداکمر نے سے عاب ہوگیا ت دہ رقیت کے اح م یل وائیل ہو جات ےگا ء اس لی ےک عقد 
ا اورا کے پاس جوکمائی ہے وہای کےم وٹ یکی ہوک یکیوکلہ یداع ہ وکیا ےک وہ ای کے مو یک یکمائی سے 
ےک نق یں ل ور یدک ا 


٤‏ ہے ہر 7 رسک اکا ماب کے وا ناش جا 


لک 


للغات: 
و(نجم)تطاء حص جطاتعجیز 4 غلام کے عاج 7 ہا ےک گم جار یکرنا۔ طاضربت پی مرک یگئی ے۔ بڑابداء پچ 
ظا رکرن۔ الاعذار پچ مع ہے عذرک۔ یتو الی € پے در پے ہونا۔ طارفا 4 مب بائی۔ دامھال ‏ ڈنل د ینا ہلت د ینا۔ 
طظالمدد )تک ع ے۔ متعار ضہ ہہ ا کے وانے امور_ 
0 روا الببھقی فی سننہ الکبریء رقم الحدیث: .۲۱۷٦٢‏ 
تک اوا ی شس تک 1 ۱ 
صورت ستل ریہ ےک اکر موی نے بد لتاب تکوگئی طوں میں شی کروی ت اور مک بکوگی قزرا وقت پر ادا کر کا قذ رات 
گوس کیو E‏ مات NERD SO‏ 
ہے نے سے جاۓ ال لیے کا کون د نکی ہلت اور رخصت دی جا ۓےگی اور ال ا وی جات ےگیاء 
یوت دی علیکو بر یکا جواب د سے اود مد مو نکودین اداکر نے کے ل بھی ش رجت نے بی مر ت مق رکی سے یکن اکر ا ےی 
رف سے مال مل ےکی امیر اورقا ت رین رمو ای سے طا کر ےک وی ان عاج راز ڈ ے رق تن کرو ےو 
یکو چا کہ موی کے مطا لی ےکی ا ع تک کے عق کرد سے ۔ اس کے برغلا ف ضرت امام ابو یس کا ملک یہ ہ ےک ایک 
بی قط ادا تک نے برق شی اسے عا ج دقر اردےء کک ج بکک لگا ا ر ووشطو لکی اوا یکا وق تآنے برا سے ادا نہکرے اس وت 
اا2 زارد ےکر عت کر سے »وتک ای طربح خط تم اکر سے مروگ سے اورپ راس عق رکا دا رہولت اورزی بر 
ہے اورنرگی اک میل ےک دوق ماک ایک تن 2ا ےا ن ی دن شی ا کی ]ھ72 کا فصل کیا ہاسے۔ 
رات ط رین پت کی یل ىہ ےک جب ماب یک تھا اوا کرک تو دد یس بھی مال می ادا نی کر کک اورمولی 
کامقصودبی مال ے اپا شس ت2 تق ہوک اورا ب مولی ابقاے عقد راس سے اس لے سح عقر 
ATE‏ دوسرا چا رکس ے۔ ہاش دون د ن کک ہلت دیے رن رج ن ہے یوگ دو جن ولوں یس مکاحب ا وڈ 
کر جک لگا او رر کی ط رع بل اداکر سک ےگا ۔ اور ابام ابو وسم کا حصط رت می ری ال عن کے فر مان سے اشدلا للکرنا رر ست 
کل نگ صرت ای نع راغ سے مروی سب ہکا نک ایک باندی اپ بد لکی ایک تیا وای کرک کی تو انہوں نے رتس بنا 
لی تھا ا ضر تی یھ کے اش ادرف مان کے تالف ہے ای لیے اس سے ات رلا لک رن درستنئیں ے۔ 
قال فان أخل الخ ا کا عاصل یہ ےک گر ق کی ادا جن یکا ون تآن پیا اور ہکا ب ای مہرد ہک رق کس و ےر ہا ے 
جہاں مام اورت ی ہیں ہے اوداسل نے اس مقام پر اداے قسط سے عاج کی اہ رکی اورموٹی نے اا کی خی اور می سے اسے 
ددبارہ لام بالات یرد دادر درست ہ ےکیوکلہ ج ب کی مزر کے لق ربا کی رضامندی سے عق داو کیا اکتا چا عذر سے رجہ 
اوی اکا ب موا ین اکر ہکا حب اس پرراضی نہ ہوا قغاۓ قاضی کے بی رر نہیں موک اور ہونے کی ورت میس مکاحب پر 


۱ اکا م مکا تب کے تان مل جا‎ XK GBA آنْاہی بر پ2 یک‎ J 
اتپا سے فلام و جاسے گا اورا کیکمائی یرہ اس کے مو کی ہوگی اس لیے کمائ یکا ھاب مووف تی ن اکر کا حب بد لکتابت‎ 
او اکر کے؟ اوہ ومام تو ا سک یکماکی خو دا کوک او راکر برل ت اواکرج تو مو یکوک اورصو رت مستلہمی اس کے اظہار ہز اور عقر‎ 
_ سے ییا وکیا س ےک اس کیا کان دارمو بی ے اذا موی یلوا سک یکمائی دی جات ےکی‎ 


ے ہے ور ے و و رٹ کیم ےر ا Nae‏ 9 

َال قن مات المگاتب ہہ سوج ين لوحكم رو في | جر جزو ن 
۱ 7 

اَجُرَاءِ حَياته» وَمَابقي فهر مِيْرَات ورتيه ویغیق ارده وَهٰذا قول علي ابن مَسعَوَد رضي اه عَنهُمَا وَبہ 


سے ور ۶۔ 7 ر99 ق 2 I999,‏ 


اڈ لاء ول الافوي سأ تل لكب يموت عند اترك مله وتام في ذلك رب ن 


1g 


ابت رضي الل غ . ولان المقصود من الكتابة عتقة وقد تَعَذرَ إباته فطل Ey‏ ئه لايَعلو إ ِكًا اَن 


مڑھے لد ووي اوو وب ٤‏ و ردے ؛ و 


يقبت بعد الْمَمّات ت مقصورا او يبت قبل او بَعْدَه مستندا» لا وجه إلى الول عدم الْمَحَلَية وَل إلى الثاني 


لو زی رکز ا2ۃ زا کی یی کار زت ہی فع مکی ن شین رت عط 
معَاوط صَو وَلَايبطل بمَوْتِ أَحَدِ الْمتَعاقة ین وهو َهُو المَولى فَكدًا بمَوْتِ الأحر وَالْجَامع بيهم الْحَاجَة إلى 
بغرت کو زر عا بز مز ا طب ان ره وق ر 

لكة منه للمملوكية فینزل حا تفديرا أو نيد الحريَة سینا سَبَبِ ال5اع إلى کا قبل المَوْتِ 


وو ٤ر‏ و 


و ا 
تنجد: فرماتے ہی ںکہاگرمکاعب مرجاے اورا کے پاس مال موت کات بخ کس ہوگی اود اس کے مال سے ا کا برل 
کمابہت اداکیا جات ےک اوران شل ےآ خریتھوں میں اس کےآ زار ہو ےکا فی ل کر دیا جا ےگ اور جو ےک وو ال کے ورثاء 
کے لیے مبرات ہوگا۔ اور ا یکی اولا وآ ز اد ہوک بیترت کی اور محضرت اہ مسعود وٹ کا تول ہے۔ جمارےعلاء نے ا یکواختیا رکیا 
ہے۔ امام شاق وٹ فرماتے ہی ںک ۔کابت پاک مو جا ےکی اور وہ مک حب غلام ہوک رمر ےگا اور اکا سچھوڑا موا مال اس کے مو یکا 
ہوا ۔اس سلسلے میس ان کے اما محرت ز یہ بن ایت اھ ہیں ۔ 

اوران نیک تاک متفر اکآ زاوی سے الک زاوی کا اتا ت مز ہے انی ےنارت پا پا ےگ ہے 
اس وج سے ےکن دوعال سے اٹ ی یں سے یا تو وہ موت کے بع تحص رہ وکر غات ہو یا موت سے پیل یا اس کے بعد مال 
حیا تکی طرف شوب ہوکرثایت ہو۔ پیل کٹ وم تک یکوکی صور نہیں کیو ل گلییی محدوم ہے دوس را کی ای یک ہوسا 
ینکش رط ممن اداکرنا مفتور ے او رتیسرے مال کے نزو کیک یکوکی صور تکییں ے یوت فی الا لمت کا موت حع ر ے اور 
کوٹ یبھی یز مو وہ پیل خابت موی ے برضو مون ے۔_ 

مارک دل بر ےکہبیعقدمحاوضہ ہے اور ایک عاق ]نی موی کے مرنے سے پا لیس موت ہد ادوسرے عاق کی موت سے 


جآثاب بأچھچھس وںوچچھ دعس 
yy‏ و کا ت و 
علق کو باق کنا زیاددضرورکی ہے اس لی کہ مکاح بکا ےو رق سے زیادوقوی ےی کا ےت یں عقد لازم ہو چاتا 
ہے۔اورمو ت لیت کے متنا بے یس مالک کوزیادشخمکرکی ہے لہا ا سے فما زند مغ رکیاجاتۓگاء یا بب ادا کےمطسوب ہونے 
گی وج ےت ی تکوگھی موت سے ییک عالت طرشو کیا چا ےگ اور مکاتب کے تا کا اداکرنا ا کا انا اد اکر نا ہوگا 
اوران شس سے پرجر رگن ہے ہیا اکغلافیات ڈل اے جان لیاگیا ے- 
اللات: ۱ 
بجمنعذرمضکل مون نکن ہو جانا لایخلو )4 نال ہوتا۔ الممات 4وت و( مقصو راب بط ات ت عم کا 

ابت ہونا۔ لإمستن اي بطر TT‏ م[ المتعاقدین معا ہے ےر وران والخلافیات 4 
اخترنی یی سای ۔ 
تا 
© رواہ البیهقی» رقم الحدیث: .۲۱٦۸۳‏ 
دورا کاب ت خلا مکی وفات: ۱ 

صورت مستلہ ہے س کالہ مکا تب بد نابت اداکرنے سے پیج مال چھو ہک رم کیا ہمارے بیہال ا کی موت سے عقر 
ابیت ع اور ال یں ہوگا یلگ ای کے تچھوڑے ہو ے مال سے پر ایت اوا ایا جات اورا ایی دل ےآ خی یات 
۱ آزاوقراردی ھی گے کہا یکی ادلا داور بی تآ زاوی کھت ےک مکزا ہو کے ا کے برخلاف امام شاق ای کے یہاں 
مکاتب کے مرنے سے عق دکنابت اگل ہو چا ےگا دہ لام ہوک رمر ےگا اور ا یکات رکہ اس کے مو یکو ےگا امام شای لی کی 
وجل صرت ز بد بن خابت ٹاو کا ےارشادگہ ای ے المکاتب عبد مابقي علی درهم لا یرٹ ولایور تک جب کک مکاب 
ب پر لتاب کا ایک درم کی بائی ےک اں وشت کک وہ قلام ر ےگا یوار اوریہب یکس یکووارث بنا ۓےگا_ “لوم 
ماک جب ایک درہم کے ہوتے ہوۓ وہ غلام رہتا ےلو پوراپرل اوا نکر نےکیصورت می بد چت اول دہ تلام د چک اور کا 
آزاو یکا فصل سکیا جا ےگا ٠۰‏ 

ا ن کی دمل نہ ےک عق دکاب کا مقر مکاح بک آزادکی ہے اور اس کے مرنے سے اس کن کا انات جوز ر ےہ 
١‏ کوان ی کی ن ن فر ھون سے ی غاب ت کیا اسنا از رن من ای گی یک راز از تک کن 
بے اس بت وت ےت ہت ٌ 
مضو بک کے ما بر کر کے ہیں ۔ 

لصف وھد ماس فو کان کرات 
ا ود ےرت ت حیا تک طرفو بکر ےکی من اہک کیا جا تا ہکیوں کوب 


2 نابح RRA DED‏ امام مک جب کے ان شی پر 
ہونے کے لیے فی الال اس چ کا جوت ہونا چا نے الاک کا ب کے م جانے سے فی الال اس کا جوت جز ر ے اور جب موت 
حور ےو استزادگھی جوز رہوگ اورجنوں میں سے کی کی طط سیق ےتنقص مات کین کان 

مارک ول ہے ےک عق دکمابت عقد محاوضہ ہے اور جب مول کے مرنے سے قد بال یں موتا حا لکل رمولی مالکیت اور 
آرت کے وصف سے متصف ےو رکا ا سے باجا اول قد اع لیس موک کوک کاب نو لوک ہوتا ے اور 
الز 6 زوا کے ےزوال ے اوی ہے زا جب اوی کے زوال ےکی عقد ا یں 2 تو ارف کے زوال ےکا 
ماک اش موک اور یمر موی کے تن یں نو بلق لا زم مج یی موتا اور مکا ب ےک میں لا زم موتا ے لہا اس جو انے ےکی مرکا تب 
ا نے قد بلس ہوا اور بعد از رک اکآ زاو یک بب ای کی موت سے پد ی خاہت موک اوراے زرا 
زند وشا رک کے اس رک نکوناف کیا جا ےگا جی ےک می تکواداۓ د لون او رحفیز وعییت کےجی میں بعد از موت زنر وشا کیا جا تا ے 
اور اک کے ورا کک ا کا پناک شمار ہوا سے ای طرخح صصورت متلہ می بھی اس کے مرنے کے بد اس کے ناب اور وار کا 
پل اداکرنا خوداس مکاح ب کا اد اکر نا شار وکا اورو وآ اد وکا گیا م نے اک مھا بک موت کے بح رک کو مال حیا تک طرف 
مو بکرے وا نل ےط بر٣‏ سے اس ےآ زاو قر ار دیا ے٤‏ و ہے ا کی مز ینفصعبل خلافیات یس کور ے۔خلافیات سے مرادوہ 
کتنائیں ہیں جوخلف ف تی مسا لکوش کر کے ریب دی ی ہیں ۔ 
قال وان ت وء ورك 5 ر مولودًا في الكتابة م سى في > کتابة ابه عَلی ز نجومه ودا آڈی حکمتا بعتق 
ابی قبل موته وعَتق الوَلَدَء ائ ارک داج فی کت رگ شه خف في اداو رَضاز کم بِقا ترد 


ہے تو ے دے۔ رص و سے 7- اب 2 £ 9 


اء وَإِنْ ترك ودا مُْشْترّى في الْكتَابة يل له ما اَن ودي بد بَدل الكتابة بة حَالَة أو ترد رقيقا ند أب حي 
علیہ رما عندَهُما يوه إلى أَجَله اعارا باود موود في اة وَالْجَامع أ ٤‏ مکاتب عليه تبغ لَه 


وَلهذا يَمْلكَ الْمَوْلٰی إِعَتَاقَة بخلافِ سائر اکسابهء ولي ية ید . > وهو القرق بين الَصَلَينٍ أن 
لجل ت سرا في العف يبت في حَقِ مَنْ دحل تحت العفُد» وَالمُشتَرٰی لَم دحل ده لم يضف إل 


کو ہر کے۔۔ 8 ۲1 کے 2 4 : 7 ا کھ روک 9 و چو گ٣‏ 2 وو سرت 
لَْقد وَل مس _لانفضالہء بخلافِ المولود في الكتابة لائه متصل وقك الكتابَة فسری الحكم 
ر 2 


1 او 8 2 6 RE A a‏ و یلاس 0 9ص 

إو حي دحل فی“ حکہہ سی في نجومہء فان اشترای ابنة ثم مَاتَ و : وفاء ورٹه اب بن أنه حکم 
1 2 ر سو > ۰ 2 ہے رط د 

بريه في اخر جُزوء e‏ الرقّت» لان ت لابيه في الكتابة في : 


روا وا نے 3 ئ ہ ا ا 61 ہے ر وی ور 
ا کان هو وابنه مکاتبین كتابَة وَاحدَةء ا ان الود إِنْ کان صغیرا فهو تبع 
لبه ون yy‏ ب یحکم بحريقه في يلك الَْالِّ على مَا 


SOT ©4 09 3‏ جح اکا م کاب کے میان یل جا 
تزچه: ےک ار کے بد کا ارا ر ےن ال کن چو الاھ بی لے تبت پرا ہوا ایک بے 
مزاو ڑکا ضطوں جات سے اپ با پکا پرل اداکر نے کے کا یکر ےگا اور جب وہ اد اکر ےگا وا سے ا پک 
موت سے پیل اس کےعتق کا نیم کیا جات ےگا اورلڑ کے کے نا بھ یکم دیا جا ےگا اکس سل ہک کا ا سے با پک یکنابت یں اقل 
ہے اورا یک یکمائی با پکیکماکی کے در ج میں سے ا بد لتاب تک وای یڑ اپے با پک ناب ہد اور الہ ہوگا گے 
کات نے بد اداکمر نے کے بتر یال چچھوڑ اہو 
اوراگر مک حب حال تفکنابت خر یداہ اک وی کا بچھو کرمرات امام م وای کے یہاں ال کے س ےکہا جا ےکک ىا تم نی 
القور بد تات اداکرو یا غلام مجن چا ۶او حرا ت صا تین تا کے بیہال لکا برل اداکہ نے کے وقت پر اسےا واک ےک اہب 
ٹل پیراشدہ چچے پرقیا کرت ہہوے ۔اوران یل علت جامعہ ےسک وولڑکا مکاحب پر مکا تب ہے اورا کے ای ے ای لیے 
کات بکا مو لی اس کے اتتا کا ما کک سے برخلاف اس مکاح بکی دن کمائی ے۔ 
خضرت امام اوطیفہ وی کی ول ( جو دونوںلرکوں مٹس وجذر قبھی ہے )مہ ےک میعادعقد میس شرط ب نکر غابت مو ے 
را میعادای ےکی ٹیس مات موی جو عقا کے حت داشل ہوگا اور ول مشت ری عقد کے تت دا لیس ہوا کیوکلہ ا یکی طرف عقر 
مو بک ںکیا جاتا اور ا سکی طرف عت رک مبھی مذو نہیں موتا × یوک بوت عقد دہ مکاتب سے اتک اور دا تھا۔ برخلاف 
محال تکتابت پیا ہونے وانے ہے کے اس سل ےک وہ اوقم کابت ملکاتب سے صعمل ر ہتا ہے ہنا ا یکی طرف عق رکا عم رایت 
کر ےگا اور جب وکام عترم دائل وک ت اہر ےک مکاحب ا کی شطیں اوکرن ےکی سی بھ یکر ےکا ۔ گر مکاتب نے ا 
ےکوخ يرا مر بد لکمابت اد اکر نے کے بر مال چو کر ریا ت ا کا بنا ا یکا وارت ہوگااس سل ےک جب مکاح کی زندگی کے 
ری کوں میں ا سکی1زاد یکا نمل کیا جا ت گا تو ای وقت اس کے ای ےکک یآ زار یکا فیصلہہوگا۔ اس لے ہک ل تام 
شش اپے باپ کال ہے لہذابیجھیآزادہوگا او رآ زاد با پکا وارٹ ہوگا بی م اس صورت می ںبھی ہوگا جب مکا س اور ا کا بنا 
دونوں ایک می عقا ےت کا حب بناۓے کے ہوں کیو ڑکا اگ جھوٹا ہے نذ اپے باپ تع موک ادر اکر بڈا چت باپ بے 
دونو ں ننس واد ےم میں ہوں کےابداجب با پک زندگی کے خری جزء میں ا کح ی تکافیص کیا جا ےگا وای جات شض 
ہیک گے تکافیصلہکیا جا ےگا جی اکر چا ہے۔ 
اللغاث: 
ات وفاء) اتا مال جور شک ادا گی کان ہو کے a‏ ,ھ0 
نجوم ھی Ea‏ “کی قط ۔ ویخلف )ضایف ناء وارث بنا ۔ .ا کساب )کبک کے فو 
سر ی جاری ہوناء وال ہوناء علو لکرنا۔ تع افر 
مرنے والا مکا تب اگ رک بال چو ےلو اکم 
ورت ستل ہے س ےک کاب نے اپنے کہ ٹیل اتتا ما لکیں اچوا یں سے بد لکتابت اداکیا ہا کے ابق اس نے ایک اییا 


آ ناب جلر(ت) 02ک ES KA‏ اکا م مک تب کے پان شی پر 
ڑکا ھوڑا جو بحوال تکنایت پیدا ہوا تھا او چو لکہ پیل کا ا سے مکا تب با پ کے تائ ہوک کا جب ہے اس لیے باپ پر لا زم شداوبدل 
ا یی ےل یما یر ےگا اور ج بک ارد ےگا نو اس کے مرکا تب با پک آز اد یکا فیص لکیا جا ےگا اور جب پاپ 
آزادہوگا نو ای کے ابع جولڑکا سے وہک آزاد ہوگا وتک جب مکاحبت میں ل ڑکا باپ کے تائ ہف مر یت می بھی اس کے ائع 
ہوگا اور پا پک یآ زاوی ال کے تن می بھ یآ زاوی شار موی _ 
اس مت ےکا ووسر یہلا بی ےک گر مکا جب ایا کا چو ڑکر مرا شے اس نے محال تدکنابت خر یدا تھا تق امام م ول کے بیہااں 
اس لٹ کے کے سام ےصرف ووب تیں رکی ہا کی (۱) یت تم فو راا سے با پک بد يکنایت اداکردو یا( )٣‏ فلا ئی اوررقیت یس وای 
اڈ ال کے برقلا ف حرا صا شین چیا کے بیہاں اسے فی ااغور برل اداکر ن ےکا ملف نجوس بنایا جات ےگاء بلک ای کے باپ 
0و یں اداۓ بد لکی جو میعاوشی ای میعاد پر وہ ڑکا پل اداکر ےگا کے بوالل یکتاہت پیدراشد وکا بھی قسط وار بی برل اداکرتا 
۱ سے اوراے فور اداکھر ن ےکا مکل یں بنایا جا ا ول رشت یکو ول مولود پر تیا یکر ن ےکی علت ىہ س ےک دوفول کے دونوں ا ہے اپ 
کے ہیں اور با پکا موی ت ط ررح ولدمولود کے اخ کا ما یک ے ای طرع ولدمشت ری کےبھی اعا کا ما نک ے۔ 
حفرت امام نشم لٹ کیل ہہ ہےکہحقدیش جو معادہولی ہے دشر کے در سے می مو ہے اور جوعقد ےکن وال 
وتا ہے ای ےکن ٹیس ابمل خابت مون ہےاور چو کول رشت کی بوت عقدمکا تب اور ا یکی عللیت ےل کی ہوتا اس لیے دہ 
عقا کے تت واف ل کی کد ہوتا اورا سکی طرف عق رکا مبھی ساب تنم سکرتا زاس کت میس اکل اور میعا دا ہیں موی اور 
اس پرفورأبد لک ادا سی لازم موی ۔ ا کے برخلاف محال تکنابت پیراش دہ ڑکا ہکا ب ےل موتا سے اورا کا ج ہوتا سے 
پا عق کنب تکام شائل ہوگا ور با پکی رح ان کے لبھی ابل اور میعادغابت ہوگی۔ 
فان اشتری ابنه الخ ےت ےئ اف 2ت 

کیا ا کاخ برا ہوا ڑکا اس کے تاح ہوک مکا تب ہوگا اورا کا دارث ہوگا یھر جب مرحم مکا ت بکابدل اداکیا جا ےکا نے ىہ یکی 
ا سے باپ کے سات رآ زاد ہوگا اور ا کا دارت ہہوگا کی حال اس ورت می بھی ہے جب کا ب کے مولی نے باپ بے دونو ںکو 
ایک ما تھے کا جب بنایا مو 


رو انه ورت ریو ےہ ۔ 


ل تبه فجنی الولد فقضى ب 
۱ وَلم یکن ذلك 0۳ لأ هدا الْفَصَاءَ رر حم اة رو بن قي ِلعاق رل 
رار سے وے ہے ر2 رو و 7 رد ے سروق کے ۱ 
يولي اام ورات ال علوم لک علی وجه تیل یق جر لول٤‏ إلى راي الأب الصا 


ا ا ES‏ اہو 
يقر حه ون عير وين احص الي ام وکو الي اب في ولیه قطی به ِعَوَالی الام َه 
قَتَ اشن لن هدا یت مَقَصودا وَذِلِكَ يبتني عَلی بَقَاءِ الْکتابة ة وَاَِقَاضَهَا نه إا 


7 ر کے وج 


ھ2 ثْ مات عَبدا اسه راء على مَوَالي الم وَإِذَا بقِيَتُ رال بها اء مات حرا وَانََْلَ وء 


N \ 


ر AE ARL DIOS DL i‏ 
إلى مَوّالي الاب وها قصل مجتهد فيه قينفذ مايااقيه من القَصَاء لهذا ان تَعَُجیرا. 

رچه: رم ائے ہی کار مکاح مرا او رآ زارگورت سے ا لکا ایک لڑکا ے مکاتب نے اتاد چو ڑا سے جواس کے بل 
کتایت کے ل ہکان ہے برل کے نے جنای کی اود ماں کے عا قلہ ےار کا فیص کیا گیا تو ہے فیصملہ ہکا حب کے ب کی وج ےس 
ہوگا ای لی کہا فیصلہ ےلو کاب تکام نت ہوگا :کوک عق راہ سس یی ہ کہ ست ےکو مال کے موالی کے سا ھ مات کر دبا 
جاۓ اوران پردیت لاذ مکیا جاے کن یراک طور مک مکاحب کےآ زادم و کے اال ہا ر ہے اود کا با کےکاولاء با پک 
موا یکی طرف نل ےگا اوررنس یز سےکناب کم مود ہوتا ہوا کا فیص انج نیس ہوگا۔ 

۰ ط کو EE‏ سس ھت 
قضاء ب ر ہوگا 7ھ برا لاف پالقصد ولا ءل ے اور ولا کا دار دمدارکننابت کے باق ر جئے او را ہدنے پر ہے چنائ راگ رکابت 
E‏ کو نات اق زی زان سے کاو تل 
۱ موی نو وو ڑکا آزادہوكرمم ےگا اور دلاء باپ کے موا ی ای طرفل ہوجاے گی با ایک لف رضت ےرا وی بت 
فیصلرے دہ نافز ہوگا اور قضاء ا جرخا رہوگ 


اللغات: 
ط(حرۃ14 ارت ر20 ندال جو دی کی ادا گی کے کن ہو جا جنی 4 E E‏ 
کرنا۔ [عاقلة) خانرانء درثاء۔ طاقضیت ) تقاضا۔ طالحاق ) لان کرناء لانا۔ [العقل) دیت۔ ٍ سے 
e‏ ۔ واست رہ پفتہ ہوناء ہے ہوا ےو نل ہوا 
ےت ایک ماب مرا اور ای کے وارٹوں می ںآ ادعور کا ای کل ڑکا ےء مرکا 7 مرو برش تھا اور 
ES‏ کک میسن رتا ارا ےل و 
ما ں کے عا لہ پہ جنابیت کے عمان اورجادا نکا فیس لک گیا تہ اس ین مکو ا لڑ کے کے مکا تب باپ کے بد لکابت ادارنے سے 
ھا ہونے اورحق کاب کور کرس ےکی میں ھا جا ےک اور یکی کہا ہا سے کاک راورخ کی دچ ہے ماں کے عا دل رریت 
از کی گیگ با پک کاب ہون لال کے ما قل پر یت ےو ب اوداروم تان نی ہے؛ا س کیا عقدکتب تک 
ا کے م نے کے بعد ست ےک ماں کے موالی کے سات لات کر دیا ہا سے ا م اس س بے اتال ضروری موک اکر 
اح بآزاد ایی ا کا بل اداکردیاگیا دہ اکل ےک ولا ا موا یک طر می لے کیک ولا نب کے در ہے میں 
ہے ادرک رع لر ےکا نسب پاپ سے ثابت ہوا ہے ای رح ا لک ولا کی باپ بی کے موا یکو ق ہے ادا ماں کے عا قل یہ 
اک جات کے وجوب سے نل ھا جا ےک ال کے پاپ ےرک وجہے ہے فصل ہواے اور نہ گی ہے ھا جاک ۔آزاد 
ہونے کے بعد( کی مرنے کے بعک رکوئی اس کے دین سے ا کا برل اداکردے )وا کی ولا اپنے موا یکی طرف یں کے 


7 لہا جلر(ز۳) LOGS SDR‏ اکا م ما تب کے بیان میں ۲ 

گا۔ ای لیے دوسرے مل یس ا لکی عریدوضاحت ےکی ورت ىہ س ےک مکا تب باپ کے مرنے کے بعر بی ڑکا ھی رگا اور 
مال اور پاپ دوفول کے مواٹی میس اختلاف ہواماں کے موا ی نے کے بیفلام ہوک رما ہے اود م ا لگا ولاء کے دار ہیں ء باپ کے 
موا کے گے یآ زادہوکرمراے اود ہم ا کی ولا ء ےن ہق درتقیقت یہ اختلاف ولا کے تخل سے اور ولا کا عال یک 
اک عق کاب تکوباتی ماناجاۓ اور وت اب کے بحر ی طرع بد لکی اذا ئگ یکوجالنت حیا تک طز شو نکر عقر شعحل 
تراد دیا جا فذ ولاء مال کے موا یکی موی ین چو ںک کنا تکی بقاء اور کا محا تتف فی سے اس لیے تا اکر مولع ام کے 
لے ولا اع لک ےگا نے عقر ر مان جا ے کاو رار موا اب کے لی ےکر ےگا تو عق باقی شارکیا ہا ےکا نان آمل میں جوں 
کرایاب دی کا مامارے بس ولا موہ اں تھ وین ے اس لے ماں کے ماق بردت واج بکرنے کے پاوجود وہای عقو 
یں تر ارو سی گے ای چزے دوفوں مستتاوں میں فر یکیاگیا ہے۔ 


َال وَمَا ادى الْمُگاتَبُ .الات إلی مل م عجر هر عب لیڈ الك قود نه مل 


7 ےگ ر 7 ف 


سے تو ي وه وَکقتِ امار السو في حديت تر رضي اله نها هي لجا صَة 

رتا هَِيةء وَهٰذًا پاعلافِ مًا دا ا لني َالهَاشميء لن الماح له ناله على ملك الْمیْح فلم دل 
املك فلا تطيبةء ونظيرهالمشتراى شِراء فَاِةا إا با یره لاطب له ولو مَلگة يبء ولو عَجَرَ 
بل ادا إلى المَوّلى قذلك الْجَوَابُٔ وها عند مُحَمَدٍ اهر لان بالعجر يبدل لمك عنده وكذلك 


£ ےجو 


عند .آي يوْسف علیہ وَإِنْ ان بالعجز رر ملك الْمَولی عند ته حبك في تفس الصَدَكة و وتم 
ف ا و و ی و ا ا لزيادة حرمتهء 


والح لم يوْجَد من المَولى» قصَارَ كبن السَبیْلِ إا وَصَل إلى ونه وَالْققیْر ذا استغنی وقد بي في 
دیما مَاأَعَدَا مِنَ الصَدَقَة حَیْثٌ يَطیْبُ لَهمَاء وَعَلٰی هدا دا عق الَمُكاتَب واستغنی يطب لهم ماقي مِنَ 
الضَدقة فی تو 

تزچه: فرماتے ہی ںک مک ب نے مو یمکوصدقہ زکوۃ کا جو یٹھ مال دیا ے دہ مال اس کے عا ج ہونے کے بع ری مولی کے لے 
ال سے »کیو کیت بد لای ہے چنا نے غلا م ا ےصد کی عالت میس لیا ے او رمو ی مت کا موش بی کر لیت ے ای تبر یکی تکی 
طرف رت ب رہہ لٹ ےکا مردی صد یت پاک ٹل اشاد و س کہ دہ ہہ کے لیے صدقہ ہے اور جمارے سے ہہ ہے ہے 
ورت کے برخلاف ے ج بفقیرنے مال زو کون اور فک لس اد کر نت ی د کے 
بر لگا اورککیت تیر ب یں موی اس لے ہے چان کے لیے علا نیس ہوگی۔ ہاں اکر شت ری نے اسے مالک بنا دی ت مہا 


مو جات ےگیا۔ 


SELA FDIS Due 011 7‏ اکا م کاب کے بیان جن ۲ 

اور اکر مکاح مو یکودہ مال د سے پل عاجز ہدیا بھی یم ہے۔ اما مھ ٹچ کے بیہاں نے یکاہ رہ کوت ان کے 
یہاں تذ بحو ہی سے لیت تبد مل ہوجاٹی ہے۔ امام اووس کے یہا بھی ب عم ہے اکر چان کے بیہال بز سے مو کی لیت 
موکد ہو چائی ے »وتش صرق میں خر ٹنیس ہوتا بج تو فصل اخذ بی ہوتا ے »یوگ صد ق لین ا ےآ پکوذ می لکرنا سے لپنرا 
نی کے لیے بلا ضرورت اسے ینا ہا نیش بہوگا۔ اور کی کے زیاد کر م اورمتزرز مو ےکی وجہ سے اس کے لیے زکوۃ صدرقات ینا 
جائ نہیں ہے اور چو ںکہ مو یکی طرف سے لین ہیں پایامگیا ہے نو ہے ایا ہوگیا بے مسافر جب اپنے شی نپ ہا سے او رق ری 
ہوجاے اورلیا ہوا مال صدقہ ان کے پا موجودہوق دہ مال ان کے لیے لال موک تام رای ہے جب ا ےآ وکرو گی 
اوردہمالدار وکیا نو اس کے پاس جو بای صدقہ ہے وہ اس کے لیے عطال موا 


اللَات: 
ودی )اران [عجز پچ ا7آ 0+" نت برلنا۔ إيحملك 4 لک جا 
یتنا ول کھانا - [المييح) الإحت وخ والا 00282 ٤‏ فماد رمت _ لابن السبيل ) سافر۔ استغی) 
کک 
یک لا کس رہل یکا ےب 
و زکوۃ وصرتے کا جھ بال ا نے مو یکودیا تیاو مال اس کے لیے درست اورعلال ہوگا اک چ موی صدقہ اور وة کا | م 
کوک کا تب اورموٹی وولو کی کیت اٹک الک سے اورحبت ی عبت بت مین کے در ے میں ہے اذا کاب کے ےت دہ ما 
صرق ہوگا کن مول کے تی میں وہ ن کیا عون ہوک ای کے ری اوت می مر کش کت نے نوو 
تاول فا تھا اور یلت بیان فر ای تناک هي لھا صدقة ولنا دیق کین اکرکو ی فق سرت ذکوۃ کا ا لس ین ی شی کے لیےعلالن 
اورا اا ھی کے لیے اسے استعا لکرنا علال اور چا یں موک کیونہ مرا ل ن نس کے لیے ملا کیا کیا ہے دہ 
س تبر ل کلیت کے طور بی دہ الاس ےک ب اوی فقی ری کیت بر ےکا اورقیر کے ھاو دہ ال علالی ےکی اور 
پک کے لے اسے تھے کا ع ےکر ل کیت معددم ے۔ 
ولو عجز الخ فرماتے ہی کہ آم اس سورت بھی سے جب مال صدقہ لام مکا تب کے پا موجود ہو اور مرکا تب موی : 
۱ کود سے سے پلیہ عا ج م وکیا و اہر ےک مکاتب کے سا اس کے اموا بھی ربق نہوں کے اور رح رکا تب موی کا ملول 
وک ای طرع اس کے اموا ل کی موی کی کیت میں وال اورشائل ہوں گے اور وہ مال موی کے لال اور ماج ہوگا یوک 
مکی تک تبد بی موجود ے اور بے ایکہھس نے بعالت مسافرت صد ہکا ال اش ےترک حاات میس زکوق کا ال ل کم 
مارا کرک گیا اورفقیر الاد م گیا تو ان دونوں کے لیے پل والی حالم کال ہوا مال علال اور یپ سے کوک ہے عالت اس 
مات سے اور ہکلہت ارق کیت ے الک اور پد اے اورتبدی کیت سے لت ادراب حت خابت چ ۔ 


01 ناما بجر57 جا ےک ای اکا م مکا تب کے بیاان س ا 


الک بی گت ۴ ردے ىر ےد l9,‏ 


قال وَإِذًا جن به َوه ول لم بالجتاية ثم عجر لع از بی لان هدا وجب جناي 
وهی اطي زا کن عرف بہاہ ل كته على بر مغر بلك 5ائ أك مب 
1 ےہ ر ت ر ڈ وڑھو ج دش ہے ںےہ ب ر 4 4 , 3 
ہر ور نو شر و سوہ پ سرت 
ب5 ۔ 9ت 4 و کتا ہے 92ز IN,‏ ات م سے ا م9 کے 
المَائعء َِنْ فضي به عَليْه في تابه ثم عجر فهو دين باع في لابقا الْحَقِ مِنَ الرَّكََة إلى یہ بالْقصَاءٍ 
ےہ و 2 ر وسے لل IIT‏ رھ بی ۶ و 9 .و 
N O NN‏ 
سڈ یر ا 


وين عجر قل لقعا رت تھے الكتابة N‏ 
0 انعفدت مو جب جب لیم كما في جتاية مدر رام الود ولا ا لماع قابل َال ترد رلم 


سے سے ا و 


يبت الانتقَال في الال قوفف عَلی الْقَصَاء او الإَضَاءء وَصَارَ کَالْعَد نع اٰذَا أبتی قبل الَْبْض رقف 
سخ عَلی القَصَاءِ ردم وَاحْيمَال عَووه» گا هدا پعلافِ لير وَالإسْويکدد انها لديقباان الرَوَالَ 


72 


بحال ۔ 


تنجد: فرماتے می ںک اغلام نے جنای تکی اوراس کے مو یکو جنا ی ت کا یں تھا اور ای نے اس غلام سے علق تتا تک رلیا 
کرو مکاتب عاب وکیا تو اس خلا مم اوو جنایت کے وا ےکر دیا ہا ےگا یا فد نیش دید یا ہا ےگا اس کے ےک اکل میس بی خلا مکی 
جنای کا ق ہے اور بوق تکتابت مول کے جنایت سے وافف نمو ےکا فا تہ ىہ ےک مو یکوفد پو ےک اظتیا رکش موک ساب 
کات دفع عبد سے مال سکن (عا جز ہو ےکی دجر سے )جب ہے مال ضتم ہوگیا تو کم کک یکو رک رآ ےکا میں کم اس صورت میس 
جیا ے جب مکا تب نے جنای تکی اوراس کے تع مو جب جنا ت کا فیص لکش سکیا گیا تھاکہ وہ عاجز ہوگیا ان ری نظ 
ہم جیا نکر گے ہی ںکہ مائ م ہو چکا ہے۔ اور اکر اس مکاتب پہ بال ابت مو جب جنای ت کا یس کرد کیا بردو عاج ہوا تو 
انی ان کے نے ین و وشن ینغ نی اوی ا ےگا وکنا گی تم و یکاخ این کے ری نکی نکی ۱ 
تم تک طرفل وکیا ہے بی عفرا ت ط ری نک قول ہے اور ایام ابو یسفن نے ا یک طرف رجو عکرلیا تھا۔ 

امام الو لوست پل ال بات کے قال ت ےک اس مکاح کو اتی عل یں فروش تکیا جا ےگا اکر چ دہ قضاء سے پ لے عا ج 
ہوکیا ہوامام زفر ولچ کا کی می قول ے یوک دنع عبد ے جو چ ماع ےکن مک تبت وہ اوقت جنات موجود ہے اپا جنات سے 
اوی رت ات لو و اورم ی یک 2 انی ول ےک ا ےک اکان 
ےکبونکہ کاب کی حالت کوک ہے اور فی الال مو جب ای ےل مون فاب نیس ےلپ زا ہکم تو قضا سے تی برموقوف 
ہوگا یا کات بک رضامن دک ب ہے ایا ہوگیاجیےعبرشع اکر فض سے پیلہ بھاگ جا تو کے کم قا ے قا بر موقوف ہوک 
کیوکلہ اس کا حا کوک ہے اوراس کے وائی ںآ ےکا اال باقی ےا کی طرح یرسکی سے برخلاف م بر جنانے اورام ولد بنانے 


0 02 بلر9) EL ADER‏ 2 4 
ےکک ودود کی کی مال یں اتا اول کش کے 
اللغاث: 


طجنی ) جنا تکرنء قائل تاوا ن کا مکرنا۔ فإعجز ‏ عاج آنء ا ل کات ادا ہک پان ایدفع پچ اداکیا ہائے۔ 
لإیفدی) نے دی جاے۔ وإمختار4 صاحب انخقیار۔ فإزال ہہ زل ہوناءضخم ہونا - (الاستیلاد چ بار یکوام ولد ناتا 
طالعدبیر پچ خلا کو ب بنانا۔ 

خطادارفلا مک یکمابت: 

ہے SE NEE E USE‏ 
مکا ت بنا لیا یمر وہ مکا ت بد لکابت اد اکر نے سے عاج ہھگیا تو مو یکو انار ہوگا اکر چا ے نو غلا مکو وی جنایت کے حا ےل 
ککردے او راک چا ہے تو اسے فد یش ےل ن دونوں میں سے ایک رجا ہت فلا مکی سا ے اور چو ںک مول بوق 

کماہت مکاح بک ایت سے داق فنجیں ہے اس لے ا سے فدبیکواخقیارکر ن ےکا ایانس ہوگا بک رن یا نرا دونوں مس سے یک 
| شتبکرنا گاب یم ا صورت مج بھی ہے جب فام نے جناہ تک اود کو جنا تک مزا یں سنا یگ کک وہ عاج وکیا تو 

کی وج سے عق کم کا محا ہوگیااوراپ ا کی جواصلل مزاء چاق ر بایان یش سے ایک مزا سے کی ۔ 

ا ں اکر محال تکنابت اس پر دخ یا فد یکا فیس ل کرو گیا پھر وہ عا ج ہوا تق ا کی تست اس پر زین ہوگی او رخط رات طرفم سے 
یہاں اس تم تک ادا گی کے کے نرک ےک نات دا و جا ےکی علیہ کے ورا کان ا کی 
ذزات سے تم کی طرفل ہ وکیا ے اوراس تم کی ول انی کے لیے اسےفروخ کیا جا ۓگ می امام ابو بیس کا آشرىی اور 
مرج ال تول ہے ورتا نک تول اول پیت اکر گر مک حب پر فیصلہہونے سے چیہ وہ عا ج ہوجاتےف بھی ا سے فر وخ کیا ہا ےگا 
کیو ہکتایت دلج عبد سے مان سے اور ہے مال ارق جنات موجود ےلبذاجنایت اپے وجود کے وت بی سے مو جب قر یکر ۱ 
وا مول ہے اس لیے اس تہ تک ادا کی میں اس فلا مکوفر وخ تکیا جا ۓگا کے مھ براورام ولدگی جنا بی بھی مو ج الق 2 
مو ے اک طرںح صو رت مل میں مکاح بک ہے جنا یی کی مو جب تمت موی امام زفر ول بھی ای ےتا ہیں 

ری دل بی ےکم کا ت بک جنای تکا موب ی دق یانداء ے اورعق ناب یکی وجرے جو ا ے وہ اتتا قوی او کم 
ہیں ے بک ای میس رخ اور زوا لکن ے اور اک استیکا م متردد سے نزن الال تہ تکی طرف اقا ل کی بت ہیں سے ال 
یے وکو چو کر قب یکا منلہقاۓ قاضی یا رضا ےہ لہ الکن برموقوف ہوگا اور ج بتک قضاء اور رضاء ٹس نے ایگ چ یں 
وجود یآ لی اس وش کک دخ ہی ا کی سزا ہوگی اور ابام زفر ول وغیر ہکا ا سے م براورام ولدی جنا یت پر تیا ںکرنادرست کال 
ہے کتک یراو اتیل وکس یبھی یالت یش زوال اور کوقجو لآ کر ے اوران ٹل وق جنایت ہی سے تمت واجب نو بای 
ج ج بک صورت مئل مم عق دکنابت کے ہون ےکا اال ر ہنا ہے اس لیے اس یس تم کا وجوب رضاء یا قضاء قوف 
ہوگا_۔ 


و D2‏ وا ےک تپ ALLELES‏ 

ا ہے دہ ٹوے۔ زور دو کر رر ائ ہے اےوہسے ۱ 7 رس 99 اذ کان 

قال واد سی شید رس سو سے و سوہ إذ الکكَتابَة سیب 

الحريّة وَسَيَبُ حي المرء ى ع رول و لل لی ورک 0 زب تخ خرب عل 
هدا ارج والسبّت انعفد گك ایی باز الصفة ولایتغیر 0 ان الَرَكة يہ فوته في الإستيقاءِ قِن 
َه أَحَد الوَرَكة لُم نفد عثق لات لم يمه وهلا لن المکاتَبَ ليمك بسَائر اَسْبَاب املك فكد 
بست الو ا و TT‏ دل الكتابةء أنه يَصِير راء عَنْ بل الْكتابة نه 

٤ PR ر7 وو‎ 

2 


و ۹ کے 
حَقھم وقد ری لہ ارت ا ری لگا کی ا انناتلیڈ کذا بت ر ری إلا نه ذا 


e 
ہی‎ 
+١ 
u 


رو رر a2‏ وء و س ٹوو 


اد الو کو ا نس رش مس مرش یس پش 


لو ٤وو‏ 


أو أدائه في المگاتب لا في بغضه وَلا فی کلہء ولا وجه إلى إبْراء الكل لق ية ید ال ۷ ٿة. الله اعلم . 
ترچه: نپ اتے مہ سک گر ماب مول رما ے وکابمت ع نہیں ہوگی اک ای sS‏ 
آ ئےء انس لی ےک ہکتابت ھ ی تک حبب سے اود انان کے کا سبب اک ن جن چا تا سے اور مرکا ت کہا ہا ےکک سطوں 

کے حاب سے موی کے ودرا ءکو پرل اداکردوءکیوککہ مک عب ای طر ہے برت بی تکاس موا ہے اورسیب تر بی بھی ا ہے بی عق 
ہوا ےلاپ ا ای صفت کے سا تح ھعقد با ر ےگا اوراس می ںکوٹ تق کی ہوگا جا ہم برل وسو لکر نے میں ورخا ءال کے ناب موں 
کے او راگ رکوئی وارٹ ا ےآ زا کر ےلو ا کا حن نا فی ہوگا کی ن ا کا کک یں ہے یکمک وجہ سے ےک مکاحب 
اسباب میک سےملو نہیں ہوتا نذا سبب وراشت ےکی و ولوک یں ہہوگا۔ ہاں اکر تا م ورھا ا یکر ا ےآ ز ارکرو یتو اتسا وہ 
آزادہو جا گا اور سے بد لکتابہمت ساقط مو ہا ت ےگا ہکیونک ہس بکا اعاقی بد لکابت سے ابراء سے اس نی ہک برل اکان 
ے اورا میں دراخت چاری موی سے اذ اجب مک ت بد لکتایت سے برک وکیا فو و ہآ زاد ہوجا ےکا جیسے موی کے بر یکر نے 
ےر ان وت گاے! آزادکرتا ےل یراک کے جے سے بر یکنا یں ہوگا کوک 2 اس کے کو 
فراردۓے کیک GROEN‏ ان کن ون کا 
کرنے ےکن مکا تب با لور ے مکا تب مل اتان خابت ہوتا ہے۔ اود ایک کے اتا یا ابراء ےک لکا اتاق اور ابرا ہک یکن 
نیس ہےاس لیک دنر درا کان ہا ہے۔ ول اکم ۔ 

اللَاتُ: ۱ 

پآ ننفسخ پا ہونانخم ہوناءکالعدم ہونا۔ یو دی )ہہ کنیا ے سیب ہے۔ وا بطال پچ پش کرت ضا کرت مکرنا۔ 

ور ة یہ دار ٹک نع ہے۔ دجو مب ھمکی تع ےکن قط و[یتغیر ت یل ہونء بلنا۔ الا ستیفاء پچ پا پر ومول 
کرنا۔ ڈذالارت ہہ ورات پل الابراء ہہ برک قر ارد ینا۔ 


7 آن کہا بلر٥) FERE SOTE‏ ا ۹ 


مکاتب فلام کےآ ای موت: 

صورت ستل ىہ ےک اکر مکاح بکا موکی م رجا سے فو اس سے عق دکابت eae‏ اک موت 
کے بع رک عقد با ر ےگا کیو عق دکنابت سے مکا تب تم یت کا ن ہوجاتا سے اب اگ رم موت موی سے عت کو اع لکردبسی 
کے مکا تب کے ایت شد ون کا اطا ل موا لامک کی ےکن کا ارلا ل درس ت نیل ہےء اس لیے مول یکی موت کے بعد بد لکنابت 
یصو لکرنے میں اس کے وزغا موی کے تام تا م ہوں گے اور طرح موی سے قدا وار پر کا جن دن ٹ تھا ای ساب سے 
ورماء ےکک ىہ معاملہ موک روم گت دزن سے ون ول لن کے ۔ اب اگ رکوکی وارث اپنے نے میس مکاح بکوآزاد 
کرد پا ےلو اک حن ناف او رمحت ر یں ہوک یش مز کات ات کا ملو ہیں ہوا ای ط رح وراخت 
ذر بھی وکو نہیں چوک ال اکر تام ورغاءاس ےآ راکرد ت اقا رق تافز موا گا اور ای سے بد یہابت ساقط 
ہوجا ےگا یرتک برل اکا ہن ہے اور اعات سے اھوں نے ابناضن اق کر دیا ے اس لیے تام ورغاء کے اا سے تو ج مکی 
کال تح ےک EE SE EE E‏ 
اق قکو نزو درس تقر ارد یا اکتا اور ریکل ں احا یکو قراردیا ہا کا یوکراک سے وکر رھ TaN‏ 
ایک کے نکیا نے کے چک می سک لرکو ں کا تت ماراجا ےگ ۔ و الله أعلم وعلمه أتم 


4404 


AL _ RLS IES i ر‎ 


کت تی 2 تا 2س سرت ان ےآ ٠‏ 
مکاحب جب برل ادا کےآزاوہوتا ےلو ا کی ولا ءال کے مو یلوا ہے۔ 

ولاء کے لقو ی ن ہیں :مت ابت دوک برد اور ولا کے اصطلاگی ن ہیں ۔ وہ راث ث جوآ زادکردہ غلام ے یا عقد 
موالات ےم کل ہو- 


و ہدے S9‏ 


E ETE E یچ‎ TIT وڈ‎ TRT ےم‎ 

َال الولاء نوعان وَلاء عتاقة ویسمی ولاء نَعْمَة پل یر تی ہی پر ا 

عَليه بالوَرَائَّ گان الَوَلءُ 9 0 و لاء المَوالاةء والجكم 
¢ 


يضاف إلى سه وال مَعلٰی فيهما التتاصر وَكَانبِ العَرّب تتتاصر مت عل علیہ السام تارم 
بالوڈو لہ قال ب کڑکی الکزم بن رَعَِلل لم 7 د بِالْحِلیْف موی الةم گار 
يو دون الْمَرَالة بالف . 


تڑچہ: نرا ے ہی ںکہ ولا ءکی میں ہیں: :)ل تہج دلا ھی کت ہیں ۔ ا کا سیب ہے ہ ےک ہموٹ یکی لیت پہ 
صن انح موئ کہاگ رس یس پ وراش یک دج سے ا کا تی رخ جت وار ۸م۸[,,.-73 زادہونے وا گ کی ولاء گی (۲) 
دوس رٹیم ولا موالات ہے اورا یکا سب ب عق رم والا ê‏ ے ای لیے ولا تتا قہ اور ولا موالا کہاما ا ہے اورم اس کے سب بک طرف 
و بکیا جاتا ہے اور دونو ںڈمموں میں با بھی نصرتقصود موی ہے۔ ائل عر بآ اسباب سے بای نمر تک یاک تے تھے ۔آپ 
نے یں ولا مکی ای دونو ں ت موں پر برق اررکھا اور یوں غر با ل کرتو مکا آزاوکردہ لام لی یش سے ہوا ہے اورا کا ملیف کی 
ھی میس سے ہوتا ہے: ادرعلیف سے ۸وی الموالا ت مراد ہے اس لی ےکہائل عر بم سے موالا ‏ تکوم وکرکر تے تھے ۔ 


gE SEER SDD Hi 
اللغأث:‎ 
4 الو لاء دوک ایک د وسر ےکی زمر واری_ عتاقه )۲ زادک_ وا التداصر ) با ہم بردکر ناء تیاو ن ک0 - قر ر‎ 

بترا ررکنا تپ رہل کر انو عین € و یں ۔ لاحلیف چ طرنداں مایت ۔ ۰ 
© رواہ النسائیء رقم الحديث: ٤‏ والبخاری. رقم الحدیث: .1۳۸٠‏ 
ولا ءکی دو ں کا یان: 

ستل ہے س کہ ولاءکی دو یں ہیں ان یل سے ای ک مم ولا خا سے ے ولا زم کی کہا جانا ےکیوککق رآ 0-7 
آعت:وإذ تقول للذي أنعم الله عليه وأنعمت عليه رت زی بن مار مول رسول اد ملاظم کے لی نازل ہوئی ہے اور 
ا ںآ یکر ی میس ای ںآ زاو یکنت مال ہو ےکی خو خی ری تا یگئی سے اس یکی اق اء مس ولا وا کو ولا اھک کہا چاتا 
ے۔اورال ولاء کے تصول اور وچودووثو کا جب بد ےک لی کی لیت س فلا مک یآ زار وا مووا وفو اا قکی وچ ے 
ا خی څح وا رمشلا پاپ یا س ےکور پړا و پرون اعاقی کے وو زاد ہو جائۓے ۱ 
گا اورنشتز یکو ا سکی بک دلاء ٹ ےکی اکٹل اپے پاپ یا بی ےکادارٹ چوا ا یکی ولا دار کو لےگی۔ 

(٢)ولا‏ و ددر ولا ءموالاۃ ہے اورا تم کے قو کا ہب حقدموالا تکرنا ا ہے اوران دوفو قممو ںکامقصور ومطلوب 
صرف اورصرف ہے ےکا عقود کے ذر ےچ دولوگوں نی ب ی نصرت اورتحاو کا چذ ہہ پرا :×جاے اور بت بول ے یلال 
عر بک چزوںکی شیاد پر ایک دوس ےکی حدداورتاون کے ل ےکر ہے رتچ ے اور صراقتء موانما 3> اہ اور عاف لے 
اسباب سے ان میں تا صر جاک تا پیک نے متا ص کی دنک راقسا مخت ر کرای ولا مکی رورو دوفو ںتتصوں پر برقراررکھ تھا۔ 


ال ودا عق المَوَلیٰ مَملوگه قو وه له وله عَليْه السام ”وء لمن احق“ ولق التنَاصُر به فَيَعَقلَهوَقَدُ 
حْياهٌ ٥مّت‏ بارا ل َة الق عَنه ق سو سر وت وت 


وَمَاتَ معتق لابنة حَمْرَة رضي الله ء نه عُنْ بت فَجكَل الي صلی الله نه وَسَلَمَ لمال بَيْنهمَا يَصَفيْنٍ 
ويَستوي فيه اعناق بال وبغیره لإطلاق مَاد کنا ٰ ۱ 
ترز چه: ن رات ہیک اگرمولی نے اےۓ مکاح بکوزاوکیا تو من م یک ونش ن کی ولاء ‏ گی ء اس سل ےک ہآ پا کا ارشاد 

گمرابی سے نوا مت کے لیے سے اور ای ل ےک تا راان بی سے اکل ہوتا ےل ہنا موی ہی ا سکی دت کی اد اکر ےک 
اورموٹی نے اس سے رتیت مک کے معن اسے ز ند ہکردیا ے ابر اوی ا کا وارث مو اور ولا رکا حال اولا دجما ہوگا۔ اور ای لیے 
یگ یک ع عان کے مال ہوتا ہے مکی حال مت ہعور تک بھی سے اس عدی ٹک وجرے جو کم روا تکر گے ہیں ۔نظرتمزہ 
نل کی صاحب زاوی کا آزادکردہ ایک خلام ایک لڑکی چو کر مرا ھ تو آ پرا نے ا کا کہ دونو ںکونصف نصف دیا تھا اور 


3 ان الہاے بلر9) ا ا کک کی نک اکا ولا کے اکس( 
شوت ولا یس اتتا بال اوہ اتاق پرون امال دوفول بابر ہیں >کیوکگہ مھا ری ہیا نکر دہ عر یک ے۔ 
لَاٹ: 
ملوك ) لام ۔ [اعتق )۲ زاد۔ [التناصر ہچ بای تتاون »ابرا بای ۳ 2 

ظیر ٹہ دارث۔ الغ مت »ماح ۔ ف الغر مک تا وان بو جھ۔ ٹڈیستو یک برا ہوا _ الاعتاق پ14 زارکنا۔ 
ولا اق کےاخام: 

ستل یر ےک ہآ زا دند خا مرو ہو پاعورت بر سورت ای رح اتتا ت کی مال ہو ی اقب را لمال ہوا ے اخ کی ول لکر 
ےل ا ے ”الولاء لن ای ری ت ر ات از 
رار اتتا بی سے اور اعات کے ذر یج موی اپنے غلام برا سان LE‏ خا ے لہا غلا مکا EEE‏ 
کیونلہ الغنم بالغر کا ضار ہاور فا رمولہ بہت شور ے او ر خر تز الک ماعب ز اد کر مو کے ا 
E‏ ارسالک فيس ا لغب رصل ے۔ 


سی 


ل 7 کک 8 سَائبة ال ج لن اق ا ات مُحَالف ھا سے یس 


فی لنعت رکٹ د تز از براه زین بل ریب ا ل لون بث 
موہ کی معا لم ارگ لی حُکُم مک ورن مات الى تق مد رامات ارادم لما ا في ايء 


وَوَلَ‌رهُمْ له ِاَه اعنَكهُم لیر وَالسْيّادء وَمَنْ مَلَكَ دا رُخم مَخرم من عَتَقَ علي ما بيا في امتاق 
وةل وجو السب وهو الق عَلیْو 
تنج : ذ ماتے ہی ںک اکر یشرط فاد یک فلام سات ےا شرط اٹل ہوگی اور ولا خت کو ے ےکی کیک شرا کے تالف 
سے ال ۓیے درس تکیں ہے ۔فرماتے ہی ںکہ جب کا س بد پکابت ادا کرد ےک نوو مآ زاد ہوچا ےکا اورولا ءال کے مو یکو لے 
گی اکر چردومولی ےر نے کے بحدآزاد ہوا ہوکیونکہ مکاخب ہابت عق کاب کی وجہ ےآ زادہواسے او رکب اکا ب میس چم ا سے 
یا نکر کے ہیں ۔ ای رح عبد می کی ولا یا موی کے مرنے کے بع دی غلام کےےشراءاو رت کی وصیس کی کی ہو ا کی ولا گی 
ا تن ر ۱ 

اکر موی مرچا ےآ ای کے بد بر اور اپات اولا دس بآ زاد موی میں کے اس و لکی وج ے جوم تاب التاق میں بیان 

کر کے ہیں اوران س کی ولا موٹ کو ےکی کیک موی ھی کے بیرادداتتیلاد کے ذر بی ا آزادکیا ہے ۔ جو کی زی رم 
محر کاما کک ہواتة لوک اس ما کک پرآزاد ہوا ےگا اس دلی لکی وج سے جوم تاق می با نکر کے ہیں او رماو ککی ولا ما کک ی 
کو ےل ےکی کیرک سب ولا مسق اس پآ زادہوناپایهگیا۔ 


7 نا بل بلر۵) SATE LOTS‏ احم ولاء کے .یا نع یں م 
اللغاث: 
انیپ ڑآ زا طڑالنص پت رآن وسن تک ترجا ت ۔ پباض نو دکامسرامام دا امهات الاولا 4 
کت د ایال ٹن ےآ او ںک اہ اہب خو رحم محر م کر ی رش دار 
ولاءش لش رکا یان: 
مستلہ یہ ےک ہاگ رام نے یا موف نے بیش رط اگاد یک مرا ہے لامک 5ا“ اور ہرطرع ےآ زاو ےن اس اوران 2 
موی کے ما ین ولا میں موی تو یش رط چو کیل ص رع الولاء لمن أعحتق کے متا سے اس لیے تنا سے عقر کے تالف موی اور 
شرط پل وی ورتس یوی کے مطا بی مت کو ا یکی لاء سے ےگی۔ ای طرح عبد مکاح ب بھی جب بد لکایت اد اکم کے آزاد 
ہوجاۓ یا مو لی پنیا موت کے بح کی غلام کے اد ہو ےکی وی کرد ے یا یویب تک رد ےک میرک موت کے بعد ایک خلا خر ید 
` گآ زادکردیا جاۓ تو ات تام صورتوں میس مول اور موی بی وا ,کا ا شی ہوگا کی ون سبب ولا ءا یکی لیت میں حاصل مود پا سے اور ۱ 
ادوم ره ےنآ ےم یکل اس ےا ل کر ے او رکہر مکا ی او رکب ر مکی ای اک اوا 
لہاان م اگم اورآڈرنافز ہوک 8 ل ا ا د 


روا تروع ب جل امه بار قاض موی لامج اة وهی حال و من الْعبْد تفت وى حملا وء 


الَْنْلٍ لول الام لام ينتقل عَنه أباء ان عق على ميق الام مَقصَودا لذ مر جزء متها تفيل لِم 


موک ک> سے و رو 


5 لانتل ووه عَنهُ عمَلا بما رَوَيتَاء وَكَذْلِكَ إا وَلَدَث وَذَدَا ل من تة اهر لليف یقیام 


الْحَمْلٍ رفت الِعتَاق ا ردت وَلَدَينِ RE‏ سا یس لاما ومان يمان مقا هدا 
جوري روو 2 ی7 1ے 2 کے کے ناو 


بخاڈف ما إا الت رجلا وهي حبلی والروج والی یره حیث یک رن وَلاءا ولدلمو لى الاب لان الجنين 


2ود وو 


سی شس جرر تر محل لَه قَال فَإِن وَلَدت بعد عنقھَا 


ر تر من تة اهر ولا ووه ولي الا ته تق تا بلا لاه بها بغ عد عتقها فَيتبَعَھَا في الوَلءِ 


ولم بيقن بقیامہ وَفتَ الٛاعتَاق حتى بَعْيقَ مَفْصردًا. 

زچه: ارس یٹ کے لام نے دسر ےکی با نکی سے کا کیا ور بانکی کے مول نے ند یکو اوکرد ا ای حال شک دہ 
اک نلام بور سے عامل ہے نو باد کے ساتجھ ا کا REESE‏ 
یس ہوگی کوک ری لنقصودی نکر ماں کے خان پآ زا موا ے اس ل کل ما کا جزء ے اور پالقصد اعا قکوقو لکرتا ے۔اپزا 
جار ردای تکردوعد یٹ پگ کر سے ہوۓ ا یم کی ولا ہمت ام ےل یں موی ا ےک جب اک نے جج ماد کم ممت 
س بے جنا کوک بوتت اعا تمل کا لقن ہے یا نے دو ہے جے اوران یش سے ایک بی جج ماد ےکم مم پیر ہوااس لیے 


۶2 ابا بر7 کر ری مہم بر اکا م ولا ء کے ان ٹل 1 
۱ کہ بیردونوں وال بے ہیں اور ایک سا تح علوت ہے ہیں ۔ ۱ 

ینم ال صورت کے برغلاف ہے جب اند نے عاللہ ہون ےکی عالت مم سس فنص سے عق موالا کیا اور شو ہر نے 
دوسرے سے موالا تکی تو ےکی ولا موی الا بکی موی ؛کیونک یرن پالقصد اس ولا کوقیو کی کر کنا اس ل ےک ولا م ابت 
ایجاب دقبول پر موقوف ہے عا لاک جن ا یجاب وو کال یں ہے۔فرماتے ہہ ںک ہاگ رآزاد ہونے کے بعد تک ما سے زائد مت 
یش اس باندی نے بپچہ جن تو ا یکی ولا ء مال کے موا یکو گی > ئگ دہ بچ ماں کے تاع موک رآ زاد ہ وکیا ہے ای لیک ماں کے 
آزاد ہو نے کے بعد وب ہاں ےل ہے اذا ولا وم اس کے الع وگ اور چو ںکہ بوتت اتا ا یئ کے موجود ہو ےکا 
ین ہیں س ک روو دود موک رآ زادہوچاۓ۔- 


اللغات: 
نزو ج شاد “ناء کا کر ۔ فلاحامل ‏ ما کرت ینتقل ی ہونا کسی دوسری مج جانا ل الیعقن ن 

ہوا ڈڈالاعتاق پ14 زادنا تو مان دو جر وان ےء دو لازم وزو مکام_ حبلی پچ مال ف الجنین 4 پیف میں مو جور 
بچ يتىع 004 ہونا۔ 
فلا مکی باندی ےشادی: ) 

صورت لیے سب ھک ہز بل کے غلام نے ج رکی با دی سے شاو کی اورا سے لپ کیچ بجر نے انیبان یکوآ اکرو یتو پا وی 
کے سا ا کا کل کی آ اد ہوگا اور باندکی کے موی یکو ارک اوراس کے٥‏ لکی دلاء گی کیرک ین ما کا جز سے اورمولیٰ 
نے مال ن باندکی کے ہر بج اوآ زا وکیا ے لپا ای اتات میں ا کل کی شای اور داقل ہوگا اور ووک زار ہوگا اور مر نیٹ 
الولاء لمن أعتق کے ہوۓ ا سمل او ری نکی ولا کی باندی کے مو یکو گی یم اس صورت بھی سے جب 
اش باندی نے وتک اخاقی سے چہ ماد می کی بی ےکوشخم دیا شی اس صصورت می بھی ماں ےکی ولاء ماں کے مو یکو ٹ ےکی اس 
0 و مدکی اک یکل بوتت اتتا موجودتھاادداس پ کی اتان وا ہواے۔ 

ال ے راف ری کی عاعلمہ یوک نے ا نیش سے عقدموالا کیا اور اس کے ہر نے فی ےکا پچ رپ ۱ 
چھا ہوا ےکی دلا اپ کے مو یکو ل ےگ ءال ل کہ ہا تین نے پلقصد ولا مک قو لکیاس کیک قوی ولا کے لے 
ایجاب دقبو ل کی ضرورت ہے او رین اییاب ونبو لکا ال یں ے گیا ای نے تایح ہوک را سے تو لکیا ہے اور ولا ونب کے در ہے 
ٹس ے اورنضب کے نموت ں یچ باپ کے تا ہوتا سے اس سی دلاء کے نوت می بھی دہ اپ کے تال 0 موی 
ا کی ولا کان دار ہوگا_ ۱ 

قال فان ولدت الخ ا کا ماگل بی ےک ہاگ رب کی باندگیانے اعا کے بعد چ ماہ سے زائد ممت مس بچ جنا تو ای ےکی 
دلاءاں کے موا یکی موی کاب وت اتاق ا کا اچاپد پیا کح ہوکر یآ زاد ہار داش 
ماں کےتائع موک اپا چو با ں کی ولا مکا ما کک ہے دی اک ےکی ولا کا کی ما کک بہوگا۔ 


و انال LAE SPIER Oe‏ اکا م ولاء کے نان مل 6 
شی لاٹ سک اى و5 انه راق عن توالی الم إلى کوالی الب ان ال همتا في الود بت 
ان اعَیق الاب جَر الاب ب وء ايه اقل عَنْ مَوالي الم إلى مالي الاب ان الق ھا في الول ينبب 


عو 2 و روھگ ہے کر ےی 


الہ بدني فالا ول وها لآ وء رة التب پا سیت جشد 


\ 
۷ 


ولایوهب ولایورشہ ٹم السب إلى الأباء ى الوَلءٌ وَالِْسْبَة إلى مَوَالي لام کَاتَتْ لِعدم هة الأب 
و 


2 e وور‎ 


ضرورة فإذا صَارَ اهلا عاد الَوَلاء 


ور ا 
نفسه ل 


الملاعن 


۔ وا۔ و تر 29و رت سے ے گے 
اليه بمنزلّة ولد الملاعتة ينس إلى قوم الام ضَرَوْرَة قدا كدب 
7 9 اا 9 l7‏ 


ینب اِلَيهء روا ۶د وب اع ۓآ و کت رز ست 


من وَقْتَ الْمَرْتِ او أر لاق ع کر الود 0 لمَوّالي ا رن اعت الأب تر إضاقة عرق إلى 
ما َد الْمَوْتِ وَالطلاق الان لِحَرَمَةِ الوّطيء بعد الاق الرَجْعِيٍ لما ہمہ 
! ی حَالَّة النگاح فَگانَ ع لرل مووا عند الاي نطود رفي لامي الور ودا رجت مو 
بعد تاودا و فَعَتی ار فلم على مالي الم نهم عَتقَوا تما لاهم وله مالغ زا 
تو تنیز بتزلی اخ شَرزرَاً کا ولد دعتو علی تا کرت ون وق َب ب جر ول الاولاد 
لی تیه ِا بسنا وآ يَرْحمُوْنٌ على عاقلة الب بما عَقَوْاءِلانهُمْ جين عَقَلوٰةُ گان وء ء ابت لهم 
ردو و دے 4 رے ر9 9 09 رور وو وا و کپ 


بت لاب مَفْصُورء إا س فصو وهو ا جلاف وأو عة 5ا َل عن قوم الاب ثم | 


رو روو دے 


ملعن نَفْسَة حَیثٗ يَرجعون عَلَيِ عَليهء لان السب شب َك بك مُسْتيدا لی فت اعلوق وگانوا ورين 
على ذلك قيرجعول. 
رچه: ب راک با پآ زا کروی گیا نے وہ اسیلک ےکی ولا ی ےگا اود ماں کے موالی سے موا ا بکی طرف ولا انل 
ہو جا گی کی صن مان ےل مو کے زرا وت ہے ناف گی سورت کت نگم اس وجہ سے ےک 
ولا نسب کے ور ہے میں ےحضرت نی اک رم کا ارش وکرائی س ےک ولا ھی ق رای کی طرح ایک ق رایت ہے جے تو فروشت 
کیا اکتا ہے نہ ہب ہکیا جاسکنا ہے اور نہموروث ہوتا ے پھر بآ بام سے ایت ہوتا ساپ ادلا ہش یآ باء سے ثایت ہوگا۔ اور باپ 
ا باشو کیا جا ےلان جب آپ ان کا ای جیا ولا ءانن 
کی طرفل ہوجا ۓگا کے ملا ع کا بچ بر بنا سے ضرورت ما ں کی قو مکی طرف سوب ہوتا ہکان جب لان اپ ےآ پک الا 
دیتا ےو یراس ےو بک رد یا جانا ے۔ 

برخلاف اس صورت کے جب معن ,موت پا طلائی ےآ آنرادک یگئی اورموت با طلاقی کے وقت ے دوسا ل ےکم میں اس نے 
بی جن تو پیر مولع ا مکا موی ہوگا اکر چہ با پآ زاوکرد گیا ہو کیونکہ الع د امو کی طرف علو کو بکرناھتوزر ہے اورطلاق پان 


7 آ نا بل جلرز۴) بے سر LOGE‏ جوسھ رس 
کے بالخ رک طرف کی ا ے مضو بک رن کک نہیں ے یوک طلا پاک کے بعد وی تام ہے اورطلاقی رجی کے بع رک طرف ی اس 
کی اضافت کنا ے اس سید مرا 5 کرک کی وج سے مرا جوک بعلو قکی حالت کا کی طرف شو کیا جا ےگا 
اور ڑکا لوقت اتان مو جود ہوک لہ زا فصود ی کر وآ زاو وا _ 
جائع مص ر ےک ہاگ رمعلقہ سے کی غلام سے یا کیا اوراس تک جئے پیدا ہو ئے اوران کوں نے جنا تک تذ ا نکی دت 
مولع ام پر ہوگی ہکیوکہ رسب اپنی مال کے تایح وک ہآ زاد ہو سے ہیں اوران کے پاپ کے نے عا قل ہیں اور نہ بی موالی زا ضر ورم 
یں موی ام کےساتھ لان کر دیا جات ےکا عیے ولد املا عن تل ہوتا ے جییہا اکم یا نکر کے ہیں۔ پ4 اکر باپ کی آز اکرو 4 
.و اولادگی ولا ء ایی طرف ی ےکا سرت ھ و کی راک ا دا نے ۱ 
٤٦‏ / 9000 
ال کے وق حن تحص ر وکر دت خابت ہوک ی کیہ ال کے ان یں ورت دی کا سبب شیع قصور ہے۔ برخلاف ول الملا عر 
ےک ما کی قو م نے ا کی طرف سے دت اداکردی پھر لان نے اپ ےآ پک جن و ب کروی و ما ںکی قو م کے لوگ پاپ سے 
ہر ان ےلین یی ےک 00 0 
اس یھی باپ سے رجح یکا اختیارہوگا۔ 


اللاث: 
جر 4ین لاا۔ امو الى )۲ زادکردہفلام ) قا۔ وإلحمة )ةرامت دباع روخت _ الم لاعنة ہہ وہ 

ورت چوس تکی وچ سے مرد ے کی رک اقتا رک ے۔ تعذر 4 شکل ک٦‏ :۔ ل العلو ق ل شما إعاقلة) انان ۔ 
لإ اکذب مز یی بگرنء7 دی کنا 
9 روہ البيهقی» رقم الحدیث: .۲۱٤٤٢۳‏ 
راوروصورت مل ولاءکا 1 

صورت مکل یہ س ےکہ کے ماہ سے اد مرت باکر ہے پرا ہوتا ےلو وو اU‏ کے مان ہوک رآ زاو ہوگا اورا کی ولاء مال ے 
موا یکو ٹ ےکی جا ہم اکر ا کا با پآ ادکردیا گیا قذ اب باپ اک ےکی ولا ءکو اپ موالی کی طرف کی کا ادر ہے ولا موا ی ا بکی 
رف تع وو نے گی کوک مولع ام کے لیے یی ولا مجع اب تتھی لہا ا سکا انتا ل کن ہوگا اس کے برخلاف پیل مس میں مین 
جب پا ثد یکوای کے مول نے بوال تک لآ زا دکیا تھا تو دہاں چک ولاء قر موا ام کے لیے اب تھی اس لیے و وکس یبھی حال 
میس مدای ان کی طرف ل یں مول او زوا فا ہت مو ےک ورت میس ولا ل موی کوت ولا بیقر ای تک رح ا قرات 
ہے اور چو کنب کے جوت بی باپ اکل ہے اس وت ولا ء می بھی پاپ اکل ہوگا اور جب اس یں نب اور ولا غا ہم 
کر ےکی اہلیت نیش مون و بر ہنا ۓ ضمرورت اسے ما کی طرف “طسو بکر دیا جاتا ہے۔ ورتا ک ےکی عمزت وآ برودا ےلگ ہاے 


) 0 شیسیھورھچوچوریسچےجتتککر ا 7ے 0 
گی اورا یک سل غراب مو چا ےکی ۔ ال جب باپ ٹس نب غاب تک ےکی ابیت لیت ہو سے و برشب ان صلی مال باوت 
جا ےکا اور باپ ی ےا کا مورت ہوگا۔ 

بخلاف ما إذا أعتقت المعتدة الخ ا کا ال ہہ ےک ہاگ رکوئی پا تد ی کی کا ح بک یوی ی اورم ا 
EES aE‏ بر رت IE Ea E‏ 
وای امکا مولی موک شآ زادہوگااورا یکی ولا موا ام ت یکو ےکی اکر چا کا با پآزادہوجائۓ ھک پاپ کےآزاد ہو نے 
کے باوجود ہی ولا ء+ موا ا بکی طرف ضیف میس موی ہکوہ با پک موت کے بعد عالت سے علوقی تا کی سکیا جاسکت ای ل ےک 
باپ مر چا سے اورم در ےکا وٹ یکرن حال سے اور تاکن ے اور معت مکی طلاقی طلاقی بای ہو ہے اور لاق بای کے بعد و یکرنا 
ام ہےاہفرااس مال کی طرف کی علو قکومضسو بک کیا اکتا اور کہ ک بھی علو کوخ بر تی سکیا جا سکناک مکا تب شو پر نے 
۱ طلا رحق کے بعد ای معت ہے و یکر یی ءکیون ہاگ رہم ہلت عدت وی اورعلوق ماتۓ ہیں ب نو وہ رج کر نے والا ہوگا اور 
اگرطلاقی ے ل ا سے انی فو شوہ رھ را شع نیس ہہوگاگو یا اس مال کی طرف علوققکومضسو بک ر نے میس یک ے اور شک بے 
جعت ما بت یں مون لپا ہم اتل اورعلو کو قیام تکار کی جال تکی طر ف شو بکر میں کے اور ل بوقت اتات ام موجود 
بوک اورا ئی ما کا بجزء ون ےکی وج سے قد آزادہوگا اورا کی ولا اس کے مال کے والی کے لیے( قدا )ابت موی ہی بھی 
مال یش موا ا بک طرفل کس ہی 

وفي الجامع الصغیر الخ يساور بد ی۰ : ۳٣۱‏ کے ارس راذا تز تزوج عبد رجل الخ نان سے پان رہہ 
مت ایک عیفر تصرف بی سب کد ہا دلا ماد رت کا میان ہے اور یہا ل اورد یت کا مان چ ۱ 


رر5 ر ر ےچ رکٹ سے ک کے 27 رم 
قال وَمَنْ روج مِنَ العَجَم بمعتقَةٍ مِنَ الغرب قَوَلَدبْ له ا لادا ۳ لاء ا راا ماليا عند آبي حَييفاً 
E 1َ‏ ¢ ےد32 ۳۲ ہے ے عجودود ا ر 
علیہ ال کڈ رَه قول محمد وقال ابویوسف ححمة جک ییات لی الب کک مان 


م9 ۔۔6 ا ا ا ا ت سے و و رہ 
اب عَرَبّاء بتخل٥افِ‏ ما إا گان الب عَبْدَاء لاه الك مَعْي وَلهَمَا أن راء امتا ة قوي معتبر في حَق 
ب وو 0ط ہس ےو ۶2وہ 


الحگام حتى اغتَِرَتِ الْگفَاءَ ة فيهء وَالدسَبٌ في حَق الْعَجم صَعیْفٌ فَإنَهُم ضيعوا أنسَابَهم وَلِهٰدا لم تعتبر 


دہ و 


الْكفَاءَ ٥‏ فما بيهم باب وَالْقّوي لَايََارِ ضْه الضيْفء بخاکفی ما ا گان اب عَربيّاء لان انْسَابَ 


دو 
ور 


الب قَريَة مَعتِرَة ة في حُکم الْگفَاءَ ة وَالْعَقْلِلمَا أن تََاصَرَھُمْ بها اعت عَن الوَلاءِ 20 
جو اس ہس > اوضع في مُعْتقة عرب وف إنَفَاًا. دو نے رٹ 


انلم و شش یں رحد وول لی م الهم 


قوم 
الي امهم وال ابويوسف ولیہ الهم مالي ايهم ان اء ون گان أَصْعَفَ فهو ِن جاب الب 


و 
2 


ا انبا بلر) 277 E E‏ ۶ئ 1 


فصَارَ الود ن اجا ن المَوالي وبين الَّرَبیةء وَلهُمَا أن وَلاءَ المَوَالَاة اَضْعَفُ ختی 2 يقل القَسْحَء 


وب 


وَوَلء الْعتَاقة يبه لطب بغر في الد لمر ولو گان نون لقني دا إلى قوم الاب 
لانهما اسوَي والتر جي لجانبة یه شه السب او لان الضرَةً بە اکر 
تڑچه: نرا ےپ گر یی سی عر بک آنا وکرد وگوت سے شاو یکی اورا کی اولادہولَ و ایام ا 7 یہاں 
ا کی اولادکی ولاء مال کے موا یکی موک صاح ب کاب فر ما سے ہی ںک ابا مک وی کا کی بجی قول ے اہم ابو اوس قرم نے ہیں 
کہاولادکاعم ان کے پاپ کےع مکی ضر ہوگا ال کہ با پ نی ےنب چا سے کے اک باپ فی موتا ( تو موا اممکوولا دہ 
")غلا ف اس ورت کے جب باپ فلام ہ کیرک لامعا دہ ہوتا ے۔ 
حرا ت طرششن بم کی ول ہے ےک ولا سے تاق ایک مضبوط چچ سے اور اجام کے سیل می مح بھی ےی کاس یس 
کا ت ترمو ہے او ریو کےن یل نس ب کا موا لشف ے۔ ای ل ےک یو نے اپنے سب ضا ےکر د سے ہیں ای لے 
ان کے بایان نب کے ذ ری ےکفاء تریس ا ق ا ی کات رر کاب بر ی 
انل ہوہ اس لی ےک عرب کے ض ب تلم ہیں اورکفاءدت ودیت کے ھ انے سے ال نک اتتا رکا گیا ہے ؛کیوکہ ا نکا تماص را ناب ی 
قر تھااورا ماب سے تنا صرکو ولا ہے ی کروی 
صاحب ہدایہ ول فرماتے ہی ںکہ یہاں جواختلاف ے و ملق مضہ کے تخل ہے اورامام تہ ورک واھ نے جو مخ المرب 
تی ترو عکیا داتفا ہے لتصدی یں ہے ) ہا عنم ہےک ای ککافریھی نے کی قو مکی مق سے شاد یکی بر 
یھی لدان م وکیا اور کی ی سے عق مالا کیا اور بچ راس معت مکی اولا ہوا ت حرا ت ط رف کا قول ہے ہ کان الاد کے موی 
ا کی ماں ہی کے موالی ہوں گے۔ امام ابو بیست فرماتے می ںکہان کے باپ کے موالی ان کے موالی موں گے اس لیے اکر ج 
ضیف ہے کن دہ با پک طرف سے ےت ایا ہوگیا سی کی ادرظرب تر وکورت کے اشن پیا شد ہ بی جفرات طرفی نکی 
دمل ہے س ےک دلاۓ موالا ت اضف ونی ای لد" قول کل اردان اق قول ھکر ری سے 
سا نے شحف اپنا نہیں کھاسکق۔ 
اوراگر ماں پاپ دونو ںان ہوں تبیہ با پک تو مکی طرفمنسوب موا ای ل ہک مال پاپ دوٰول با ںاور ہاپ اب 
کواس لیے تی دی جاۓ رت ٹ وت 
اللغات: 
[العجم 4 وہ لوگ جوعرب نہ ہو۔ ڈڑہھالك ) پلاک ہو نے دالا العتاقة ٦‏ زادکرنا 0 و2 کردیا۔ 
الکفاء ةت )رک بہاری۔ انساب چن بک ی سے و استویا) برابر ہوں گے قد 
ربکا ژاوگرووا پا ندگیاے نیا : ا 
سر E‏ ین کرت 01 و" 


حرا ت ط رش کے یہاں ان بچو ں کی ولا مال کے موا یکو سے ےکی جج بک امام ابولیسف کے ہا دہ سے اپنے باپ ےم مین 
شال اور اقل ہول گے اور باپ تی سے ا کا نسب خابت ہوگام]شکی یر ولا ء باپ پر ولا سے عا نیش موی ال کہ ولا نب کے 
در ہچ می ہے اورنب کے تلق پاپ ہی اکل ہوتاہے بے اکر با پ ع لا ہوتا تو باپ ی سے شب دغیرہ ثابت موتا ای ط رح اس 
کے بھی ہون ےکی سورت یں کی نس بکا جورت اک سے ہوگا۔ الہت اکر باپ غلام ہوگا تب نب مال سے ثابت موک کیرک غلا م کم 
۱ ورمع مردہ ہوتا ہے اوراگر تق باپ د موتو ب مال سے ثابت وتا ےلپ امعت باپ نہ ہو ےکی صورت می کی مال ہی سے نسب 
ابت موا ۱ ۱ 
حرا ت طف نکی دیل ہہ ہےکرصودت مت شل باپ ی ہے اورتھییوں کے صب نس ب اکوئی ٹنیس ے اس لے ان 
یو ںی ولاء بال کے موا یکو ےکی اور ولا ۓ تا موی اور ولا ۓ اہ ایک مہو او رکم ولاء ہ ےن یلاس کنا دت 
ر ےن عر بک محم کم کی کفو رس اورم کے کا ہے عام س ےک خوونب می کنا تک اتپا ہیں ےا 
اسے سے ولا ےا اناب م سےتو می مو اور اناب اس کے متا بے یں ووک وڈ ی سے ہو اورووکوڑ کی والی چ کیرک چچز 
کے موا رٹ اورمتقائل یں ہوک ای سورت مستل ہم چم نے مال کے موا یکو ولا ۓ اولا کا ن قر اردیاے۔ 
بخلاف ما إذان کان الخ امام ابولیسف کے قا کا جواب ےکی با پک۶ لی پاپ ب تیا کنا درس ت گیل ے٠‏ 
کون یع فی باپ ہراخقبار سے کی ہوتا ہے اس ل کرب کے نس ب قو کی ہیں فوت اورا م ہیں اوران سکفاء ت ممجرے۔ 
اور تھی ااب کی بھی طرع ان سے ر یں نے کے ای لیے پاپ کے نمی ہو ےکی صورت مس بلاچچوں چا ہم باپ سے 
چو کا نب اب کرد ری کے اود ماں یاا کی کے موا یکا نا ہیں لیس گے 
قال رضي اللہ عنہ الخ صاحب راقرا ہی ںکمتن میس بمعتقة من العرب کے ل جس جولفظہ المرب ے وو قیر 
انفائی کے مود پر ہے ار ازی یں ہے او رح رات ط فی کے ییہاں ملق ولا ے عاق کم ہے خواہ مال معت رک العرب ہو ا 
ام موا لی ہک یول کے مہا ںبھی ولا سے اہ می سکفذاء تعجر ے اور ر مل ن ضا اور جولا ےکی مخت شریف ین خان 
اور چو دع ربی کے حن کیکفو ریس موی ۔ یم ا با تک بن ول ہ کک العر بک تیرقیر اتاق ہےء از از یی ہے۔ 
رفي الجامع الصغیر الخ ستل ہا ع سن رکا ے اورا کا عاصل بی ےک ہاگ رک یی کافر ےکی قو مک یکا فرومققہ سے 
شاد کی اورچے ہوے اور پر ےکی تس سے عق رمالا کرای او معقرات طرش کے ہاں ان پچو ںکی ولا دموا امک گی 
اورامام ابو لوست کے یہاں ا نکی ولا موا ا بکو ٹ ےکی کیرک ولا ہموالا ت اگر چم زور ےکن چو ںکہ با پک طرف سے ے 
جواصل ہےاس لے اکا اتقات مولع اب ہ یکو ےگ یلے اکر باپ تھی ہواورآ راد ہو اور ماں ۶ ب ےہ ہو ا نکا یکی باپ ہی 
سے اہ الضب ہو ہے ہاو یں کی موا اب یکوت تی ل موی حرا ت طف کی دمل وا ےہ 
ولو كان الأبوان الخ ستل ےب ہک اکر ماں باپ دونو ن اورآ زا رکردہ ہوں تو ان کے ےے باپ تی سے ثایت الضب 
یں ےی موی اب ن یکرا نکی ولاء گیا کیرک جب ماں باپ وونوں “ن ں کو کی ے فان اور ی یں ے اور 
مو نب ٹیل باپ اگل ہے اس لیے میم اپنی اکل پر برقراررےگاءخدیث الولاء لحمة کلحمة السب ےکی اے ` 


قو ری ے۔ 
فاندہ: ی سادا قک ١‏ ایک تو م مراد سے قر ہاإواللیت کے یہاں یر رن یی ے :خض حمر ت کے ہا ںکوف اور اصرہ 
کے مان بطا کی ایک قوم ہے جوک یکہلاکی ہے۔ 


وو او دو کرو وہ 
ليا لذي اشترای عبدا فاغتقَة 


قال وولاء العتاقة تعصيب وهو احق بالميراثِ من العم وَالْحَالَة لِقَوَله | 
7 ۔ سے ہو وی ے ر رور وق ہ!۔ G2‏ ےن sl,‏ ہو ر2 و2 
ر اوھ وم2 إن گر هو حبر له ورك ورن گفر فهر حبر ك وهر له ور مات ولم برك 


ود ڈو دو۔ 


ارہ گن نٹ ناء َرَت ابن مره ري الله نها على لصحيام ارہ ودا گان 
يقم على ري ازام َه روي عن علي با »قان گان لِلمعتقَ عَصبَة عَصَبَة من السب فهو الى 


مِنَ المَعْيْقء لان المَعْيقَ ار الْعَصَبَاتِ» وَھذا لان قول كيكلا ولم يرك و رار رثا الوا الْمراد منه رارت هُو 


سے اح ےس 


ع رو عَصَبَة يلي الْخَدِيْث الثاني فاخ عن الْعَصَيَة دُوْنَ دوي الَرحَام» قال فَإنْ انلم عَم ر من نال ب 

هو اولیٰ مه لما دگرتاء وَإِن لم يَكنْ لَه عَصَيَة م من السب فميرائه لمعي تا وڈ مع کن من ضَاِبٗ 
فرضٍ دُوَحَال: آگا إِدًا گان قَلَه البَاقي بعد قَرْضهء ته عَصَبَة على مَارَوَیتاء iy‏ لن العصبة من يكن 

لاص به ْب السب وَبالمَوالي الانيضَار على مَامَرَء وَالعَصَبة ياح ماقي 

تتجد: مات ہہ سک ولا ے اق کے ذر یر انان حپربین جاتا ہے اور یپوی اور خالہ کے پالتقائل مرا لف ا ؤاد تی 
ہوا ہے اس ل ےک حضرت نی اکر کا نے ایک خلا خ ی رکآ اکر نے وا ےی سے فر ای اذہ ترا د نی بھائی ہے اور مولی 

اک وہ کے برل وید نا ےنال کی مس ہوک اور تم سے لیے انیس وکین اکر وہ یر ے7 برا لیے 

ایچھا ہوگا اورا کے یں بر ا ہوا ۔ اور زگ وگول وارث وڑے خیرم رجا تا ہے توم اس کے عص کے اورا بن نے عصبہ 

مو ےکی پنیا بر تقر تمزہ اٹ کی صا حت زاو یکومیراٹ دلوا کی حالائککہ وارث موجود ے موالی التاق ا رحصب ہوا واے 

ذو الا رعام پر مقد مکی جا ےکا یمر فی اھ سے مردی ہے۔اک مض کول ھی مہوت وون سے مقدم ہوک کیو کن 

سب ےآ رک عص ےہ نگم ای وجرے ےکآ پک کےفربان ولم يترك وارثا سے مشار نے ار عحصبییرادلیا ے٤‏ 

اس لے ےک دوسرکی صد یت ال ړمل ےلین امنین عص ھی سے وت ہوا کن ذو الارعام سے وخرکیں وک 

راے ہہ سک ہرمک کا ہی عص موتو و تن سے مقدم ہوگا اس دش لکی وج سے جو ہم بیا نکر کے ہیں ۔ اور اگ رض کا ہی 

عص نہ ہو ا لکی می رات مت کو ع ےکی ست نکی تاو بل ہے س ےک کم اک صصورت ل سے جب ہن کے ااب الفرفش یں سے 
ایک حال دالا یکوکی تر ہواوراک ا کو شی اوروارث ہونذ صا حب فرش کے اپنا حص لیے کے بعد جھ ےکا وون کا ہوگا کیو 

مق حصبہ ہے لی اک ہم ییا نک ے میں پہاک دچ سے ےک عص ووی ہوتا سے جس کے ساتھ نا تدان اور تی ہک وج ےتا مر 


72 ن الہاے بلر۵) eS‏ اکا م ولا کے بان کان : 
وت ہے اورمواٹی ےکی پا بھی تنا ہوتا سے جلی اکگفر کا ہے اورحصہ ای لتا ے 
اللغات: 

لإتعصيب 4 عصب بنانا۔ ب[ العمة) بجو _ مإالخالة) الہ فإ ورت 4 وارث بنانا_ ف[ العصو بة )عص ہونا_ 
التناصر لاون بای الانتصار کیہ ردک تصول_ 
9 روہ توب اہ 
ولام تا خیب ے: 
۱ پک تحت 
ررم ملا خا اور چو بھی سے میرالٹ مس مقرم ہو ہے۔ اس ل کی سب سے ین ول ىہ ےک خضرت نی اکرم نے ایک تق 
ےرا تھاولو مات ولم یترک وارٹا نت انت عصبتہ ک اگ رتہارامض قکوئی عصب وار ث بھوز ے مرا ےلو ا کی میر اٹ 
ا ۔ رترت مزہ ری اال عد کی صاحب زاد یکوآپ نے ان کے کی نصف مرا کوان الاک عص ر یں اور 
می کی بھی موجوڑشھی۔ اس ےکی بی معلوم ہوتا ےک مول الحا حصبہہوتا ہے اور گرم یا ھی حصبہ نہ ہو جیے اپ داد تو 
۱ اصیاب افرش کے انا حصہ لیے کے تین ا کی یراک تن ہگن باپ داو کی موجودی میس ا ےک ں لگا یوک 
یردوفوں ااب الفرنش میں سے ہونے کے اتی اتی عص بھی ہیں شی ری ذدھا لین ہیں ای لیے گی عبارت میں تأویلہ إذا لم 
یکن هناك صاحب فرض ذو حال شی مال سے مال واحد والا صاحب فرش مرار اد ے اور وہ می کی لڑکی سے چا ریت 
کے ورناء یں صرف اورصرف اپ ےل ڑک مونو وو نص ف کی ن سےاور بای موالی اتا کا ے جیا 0۰ 
صاحب زادی کے تن بیس رت نی اک ضف نے بی فیصل ہف مایا تھا۔ اس لیے مو الاق جاک ہڑگا ہرگ ا سکا بی م موک 
.کہ اتاب الغو سے جو ےگا وہ ا سے حصبہہون کی ذیاد پر سے ےکا بش رطیلہمی کا سی حصبہنہہو۔ 


ووو و وی 


ن مات الْمَوْلٰی تم مات الْمُعَ مرا لي امول دون بتاته» نه ليس لِلیْسَاء مِن الَلَاء إلا ما اعتفنَ 
أو عق من اعفن أو اتن وكاب مَنْ کَاتْنَء بها اللَفظ ورد الْجَدِيت عَنِ النبي صا رفي اخرہ أو 
جر ولاءَ معتقهنء وصورة الجر َدمتاها ولان توت الْمالکیة وَالْقَ ف في المعتق م مِن جهيها فيسب بالولاءِ 


لیا وَینسَبُ ليها م یسب إلى مَولاھاء پعلافِ الب لان سب الیْسْيَة فيه الْمراش وَصَاحبٌ الْفرَاش 
ھا خو لوج ارا میٹ مم پر ہے سد يي الى يل هو 


َصََة اقرب قَال‌قربء ان لاء و ریا و من لیکن الصْرَةُر به ۾ تی و 27 الموَلی آبا رابت 


و اداد جتیرم) OIE‏ سو یہ 00 6 


وء لبن عند بي عَبْقة وی وحمو تاا لان أرما عَصُربَة رَكِيِكَ ءَج َون الخ 
عند ابي حَبْقَة علیہ » لاه اقرب فی اة عة ردك اران اة حتى بر ُن أب 
بت گ12 الا د أن عَقُلَ جتاية الْمُهَْي عَلی اَِيْهَ نه من قوم ياء وتات گجتَايبه . ولو ترك الْمَوّلى ابا 

اواد ان ار متاه يي ابن حر قَيْرَاث الْمّعتي لاي دون بني اوہ لان الرَلءَ ِلکبرء هو الْمَروي 
عن و ناسحا ينهم عر ولي وان مسر وغيرهم EE‏ وت > متاه اقرب 
على مَاقَالوٰاء والصلبي er‏ 

تر چه: فر اے ہہ سک اروق کے مرنے کے بعدمضمق مر ےت ا سکی میرانٹیمتق کے ل کو ںکو ‏ ےکی ب کیو ں اس گی 
کیو عورتو ںکوصرف ان کےمش کی ی ن کم نکی یا ہکا بک ی مکا ب کے مکاح بکی ولا مکی ےآ الفاظ کے ساد 
عدیث پاک وارد مول ہے اورعد بیث کے اخ ریس ےاضا فی ے ے Se‏ نے لا می 'اورھی کی صورت ہم ل 
۱ شس جیا نکر گے ہیں اورائں ہے رین س مئر اور با کی کی طرف ہے ایی اور کت ول ے٤‏ لزا ولاء تلق 
ن ای مت ہکی طرف وب ہوگا اور جو اس کے ن کی طرف منوب ہوگا ا سکی نہد ت بھی بواری لہ مض ای مو ہکی طرف 
0 - برغلا ف نب کے رو رنب موب ہو ۓکا سب فرش ے اورفرا کا مالک ش ہر ا و کورر ټلو ملو کے 
الک ے۔ 

اورت کی میرا ٹکا موی کےلڑکوں بی رخص ہیں سے بللہ اھر ES‏ ثول کے عصرکو لے ِ" 
کا س ےک ولا وی مر اراس چاق اور ولا میں وک مو یکا ب ہوگاجس ے ترز قن موی تک اگکرموئی نے بڑا اور 
باپ جھوڑا ہو حصترا ت طرنہ رن کے بیہاں بی ےکوولاء ‏ ےکی ہکیوکلہ جا اپ سے ز یاد قر بی حصبہ سے ۔ اک طرںح امام انم یھی کے 
ھال داواکوولا ء کی اور بھائی ہو ا کے یں ےکی کیو امام انلم وی کے یہاں عص ہے شی دادا بھاگی سے اقرب ے۔ 
ایے حزق کے بب ےکوولاء سے ےکی اور وی مک کا وارث ہوگاء بھائی وار ٹنیس بہوگا اس دن کی وجہ سے جم بی نکر کے ہی ںان 
مکی جنا تکی د یت مق کے بھائی بے ہو ی کیرک بھائی ای کے با پکی براددی کا ہے اورمش کی جنات میق ہک جنا ےکی 
رح ے۔ 

اکر مول نے بنا وڈ اور ہے بچھوڑ ےا مخ کی میراٹ ب وکو گی ء وتو ںکویس ےکی ۔ اس ل کہ ولا عفر بک بفیاد 

ہے یی اھ مکئی سی ب ہکرام سے م روک ہے جن میں حضرت فاروق سک مقر تی اورحضررت او خضرت ابن توو ری اللہ نم 
رست ہیں۔او 001 بی ما کاقول چ اوی اول قرب ہولی ہے۔ 

اللغاتث: 


«العتق 4آ ژادگردہ لام _ بى الموالی 4 قا ں کی اولا د الجر نا۔ ڈڑینسب وضو بکیا جات ۓگا۔ 


ر da‏ کک مر ABRIL‏ _ امام ول کے ان ما 
الفراش رماب نب ربت [عقل ) مال نا الصبلی ای تق خو 
تخرج: 
0 رواہ البیھقی فی سننہ الڪبری» رقم الحدیث: ۲۱۵۱۱. 
مول ارقلا مکی باتیب فا تکام 
صورت ستل بی ےک الزن سے پیل ا کا موی اوجن مرجاے تو مض نکی میراث مولی کے ل کو ںکو ےکی جس میں 
لڑکیو ں ک اکوگی حص یں ہوگا کیو عوقو ںکو پاچ طرع کے لوو ںکی ولا بای ے (۱) یں اھوں نے1 زا وکیا )٣(‏ ج نکوان ے 
:نکی نے زار ہو(۳) نی عون نے ماب بنا ہو۔ (۴) ج نور ن ودرتوں کے اتب نے ناب بنا یا ہوا میس ۱ 
بر بربھی دائل ہیں (۵) جن لوگو کی ولا ء ان کے ہن یی بے ہوں اور چو ںک سورت ستل شس ان پانچوں میس ےکوی کل 
موجو یں س ا لیے ورتی یی مع کی بیٹیاں اس کے مض نکی میراث مس جے وار ہو ںگی۔ جج ولا رک تیل آمل میں 
3 ہے اور برا کے ۲۳٣٣:‏ ما شب راا کی موجود ہے ملا کر لی اص٥‏ ل مت ےک تی ول دو عا یٹ ےجس کے الفا ظا لأنه لیس 
للدساء الخ سے مآ بک ہیں اک لیے صاحب ہرایہ نے بھذا اللفظ ورد الححدیث ال خ کر نا موی اخقیارکرپی ے۔ ای 
ےی خی مل سکن مم لمتق یک طرف ے کی ت اروت دا ہو لہا جہاں جا مت ویر ےاخا) ) 
ار ےگا دہال دہا لت کک دا وو کی رک روبلا داس ہو یی ےا نامعن با لوالب یا پے مک کامعتق _ ٤‏ : 
ہے ٹس بیقانو ن یں چ ےگا اس لی ہک ارچ کی ا ین ا کا ا مکردار موتا ےتا م مو تل پکا دار ویړار 
ف را بے ےاورفرا کا تھااورا الاش ا کک ہوا ےء ای یش لت نے ٹویٹ نسب کے وا نے سے شوہ رکواصس لقھراردیا ہے۔ 
ولیس حکم الخ فر مات ج ںک اگ رشن سے پیل ا سکامعتق مرجائے ومش نکی میرا کا مارادار ومداراور امار صرف 
جن کےلڑکوں برک ہہوگاء بک مو کا پر عص ان کا شی بوک اور برا خقاق اقرب فال قرب کے اختبار سے وگ کیوکہ ولا ء س 
EES‏ می تیوک رو 
کا ہے اک انار سے اسے ولاء سے بھی ا سے بجی وج س ےک اگرموٰ باپ بٹا چو ڈکرمرا تز اام نم ودرا مھ 
لٹ کے یہاں چو ںکہ باپ کے بالقائل بی ےکی عصو بت اق گی اوراقرب ہے اس لیے با تی اپنے باپ کےا کی ولا رکا دار 
ہوگا 0 0 روا .لہ ج کو ےکی کیرک بنا 
نی وو ئے ٹس او ی اور اقرب سے یکن کرو رشن جاک ا ار سے سن ون کک 7ت 
کی ل بی شارت کے ن ا ی انت کی ا و ان ےنا رواب اتن 
ےت کی جنا یت بھی بھائی ی بر داجب موی _ 
ولو ترك الخ ا کا عاصل یہ س ےکہاگر موک بنا اوھ لے (جوموجودہ سے کے نہ ہوں ) مچھوڑا تق مض کی میرا کا 
اتال بی ےکوہہوگا۔ بن ںکا ال حص یں موک > کیوکگ ىہ ا تختقاق قرب اورقر ابم کی وج ے ات سے اور با پت ں کی پت 
سے باپ سز یاد مریب ہوا سے کپ یع حضرت فا روق ام یرہ سے مروگ ہے۔ 


و ایا بر٢‏ 2 جو ر۸ لے XAK‏ اخم ولاء کان ں ۹ 


ت 9 ۰ - 2 ت 
فصل ولا المَوّالاتِ 


یسل ولا کے موالات کے بیان ش۲ش سے 


ولا ےا5 ولا ے الات سے ات وگ ہے کیرک اس میق اور اتانس ہوتا ج بک ولا سے موالات میں رس وا تال من 
ےا لے اق ضیف سے پیل یا نک گیا چ جیا کی طربقرادرضادے- 


ا ا ور 9ے س ت EO‏ کے ے6 دی 97 مر کو >٤‏ 4 1 
ال وَإِدّا أَسْلمَ وجل تی يد رَجُلِ وواه لی اَن بر وَیعقل عة إا نی او اَسْلمْ لی بد عرو وَوَالاهُ 
موو ور ۶س 


ب ہے َ‫ ر29 ت ص3 1 ہے و کی س ہ) > 1 7پ و کی کن 3 م 5 
َء ضحي وَعَفْل على موه فان مات وَل وارك لَه عَيْرّة قَميرَائةلِلمَولیٰء وقال الشافعي كمي 
ور پا کا سو ہے کہ 0 ف و مرو یں ا سو یہی e‏ م س ا ولا هه ت 7 
المَوَالاۃ لیس بشیءء لان فيو إبطال حَق بیتٍ المَالِ ولهذا لاتصح في حَقِ راث آخر ولهذا لایصح عنده 


و 175 0 کی 349 رط 5 ور 2 ۲ و رپ ر کس ر ار َ‫ : ۰ 7 ےک ےلوگ ور ١‏ 
الوَصِية بجھیع المَال وإن لم یکن للموصي وَارِٹ لِحَقٍ بیتٍِ المَالِ وإنما يصح في الغلثِء ولنا قول تعالى 
ےر ا 2م ی 3 کو 4 ت م و ل 7 
ولذ عَقَدَث يمانم وهم يهم سورة دہ :۳۳ء الاي في الموَالاة وسيل رَسُولَ الله صلی 


پس و عر 


و ےو ررر ا م9 ٤ر‏ ےا سر2 ص کی ور ٤ےج‏ 7 پ ے7 ا 0 
الله عليه وَسَلم عن رجلي اسلم عَلى ید رجل آخر ووالاہ فقال هو احق الناس به محياه ومماته» وهدا 


- 2 7 2 ر ہو یر ےرگ ہے ۔ے ET‏ ر یں E RE,‏ 9 
یر ِى لعفل وارب في حَالیٔی اء و ماله حف يضرف إلى حَیْث يَشَاءّ وَالضَرْف إلى بيْبِ 


ہے ع وو 49 


لمال صرورَة عدم الْمَسحَحق لا انه مُستَحق. 
ترچه: ا ی سلما ہوا اور ال بات پړاک سے عقر موالا کک موی ا ںکا 
وارث ہوگا ازرا وة جناب ‏ کر ےگا ومولی ایک دیت اد اکر ےکا یا ال EE‏ دوسرے کے ہاتھ سان ہوااو رکقر 
موالات تیر سے س کیا و دلا کچ سے اور ا کی د یت ای کے مولی برلا زم ہہوگی۔ امام شای واو فر ات ہی ں کہ موالا کو چچز 
یں کیرک ای میس بت امال کے کا ابطال ہے اک لی دوسرے اث ےکن یس عقرموالا ت نیس سے بجی وج ےک 
امام شای وش کے یہاں لو سے مال لک ات نت ن ہے اکر مھ یکو وار ث نہ ہو کیوتلہ بیت الما لکا ن ابت ے٠‏ 
إاں تھا ا کی صت ے۔ ٰ 

مما ری ول الد تھا یکا فر ان سے جن لوگوں ےکم نے دہ پیا نکیا سے انیس میراٹ سے حص رد یړو ےآ یت عقد الات 


72 ا (De‏ پل اب ےا کے یی بر اعا ولا ء کے اا جا 
سی تلق جازل ہو سے۔محعضر تم اکر نے ہنس تاق وریا کیا گیا جو دوسرے کے پاتھ لمان ہوا او زان 
سے عق موالا تک رلیا ت آ پٹ نے فر مایا کہا کا موی ا لکی ری اورمور تک حاات شی ا یکا زیادہ ن ہے۔ میف مان 
کرای ال جا تثارو ےا ےکرک م مول ا کی دت د ےگا و وت کے اعد وواک میا ٹکا یی وکا :وشن 
ےک موا یکا مال ا کا ایتا ضف ہےء بنا اسے انی میت کے مطا بی صر فک ےکا کے ہے اور میت الال میس اس ونت مال مت کیا 
ہاتا ےج بلول EE‏ نے 


اللغات: 
”اسم اسلام لان ملمان ہونا۔ ڈو ای چ وو یقکرناء رشع ولا قا مکرنا۔ انی ہچ جنای یکر ناء قائ وان جم 

کرناء سزاوار ہونا۔ طابطال & پا لکرنا۔ آتوا) صخ جع برک عاض نی دینا۔ إمحیا) زندگی۔ مات ) موت۔ 
«العقل )ءاقن e‏ ۱ 
اسلام لان ےکی ولا ءموالات: 

ہے سیسات مسھ مت 
ت مرک مرا ٹ تہارک سے اور اگر س جنابی کرو ں و تم ا یکی دت دیا و مارے یہاں دالا ت درست اور چا ے اور عقر 
موالات کے موجب پیش لکرتے ہو موالی گی جنایی کی دت اس کے موی بر ہوگی ورای کے مر نے پر مولی بی ا کی میا کا 
تن موا اسلم على ید غیرہ کا مطلب ہہ ےکہ زاود وم کے کی کے پاتھ پراسلام لاتا ضرور ی یں ےہ بک عقر 
موالا کر نا کل ےلپ ہا کی سے محقدرموالا ت ہوگااسی کی یس ےکم ایت بہوگا۔ 

اس کے پرخلاف امام شای وشوا کے یہاں قدرموالا ‏ تک یکوئی یی ت جال سے اوران سے مولی بے تد دیت واجب ہوگی اور 
نی وو موا کی مرا تک ن وگ کیو لم لاوار ٹکا بیت المال ذارث ہہوتا ے اور عق رمالا کو چا قر ار دیے شٹل میت 
الال ے٣‏ کا ابطال لازم آ۳ا ےج ای کے عق درس یں ہے ای لیے نی وارث کے تن بیس ایی اکر نا درست ہے اور نی 
امام شاق وو کے یہاں لے الک دعیت درست سے اگر چو یکا ای وارث نہ م وکیوتگ ان صورتڑوں س کی ن ر 
( سن بیتالمال ) کاابطال لامآ پاج - 

ماری کی س بآ کر ےہ ے والذین عقدت أيمانكم فاتوهم نصیبھم ہآ یت عق موالات کی جا وار ےء 
کیوئکہ ا سک ماسبق و لکل جعلنا موالي مما ترك الوالدان ال بول اورسند ہے۔ دوسریی وکل ہے ےکہ جب عطرت ھی کرم 
ےعقرموالات کے تلق بو ی گی تو آ پا ےر ای تاهو أحق به محیاہ ومماته ک موا یکا مو لی ا یکی حیات ٹل 
ان کی د یت اداکر نے ادراک کے مر E‏ لی ےکازیادہ کن ہے۔ اس سے گی عق دالا تکا جوازاورنفاڈ واک 
درہاے۔ 


ی لیس راس سض مرن تد 


5 ہے لر کاب 0 EAE‏ اکا م ولا ء کے یا ٹیش ۲ 
کے ر پا صت ہک اک عقا ے ست امال ےت کا ابطال لاز مآ ر ہا ےا کی ایم ہیں ہے کیوکلہ یت الما ل کی طرف ر0 
کرنا پا کک لآ خریی در ہچ شی ہوتا ے ودنہ ج بکک مال کک جان ٹس چان با سے اسے اپنے مال جس ہرطرع کے تر فک اخقیار 
سے اور ای تصر فکواگ کوک ابطال ھتاس میں مار کی ضور ے؟ 


9f 2 sf 9‏ مہو 


ال وَإِنْ گان له رٿ فهو وی مِنه وَإِنْ گات عَمَة أو حَالة أو عَيرَهُمَا مِنْ دوي الرْحَام» لان المَوَة 


ئ٣ ےب‎ Gos 

بالإليزام وهو بالشُرْطِ وَمِنْ شَرٔطم أن ليكو المَوْلیٰ من لغرب لان تَتَصُرَہُمْ بالْبَالِ اغى عَنٍ 
مرکو کن وزی ا ین رکو ہل کی حا ول عا ع کر آرم برا زیی 
زگ لی أن برا عن ولا یم ارز برط في هدا أن يكر حطر ون لاخر تا يي 
عل الوَكیْلِ قَصدًاء بخ : بخاف ماڏا فة اسل مَعَعَیْرہ قير محر ن اول ئه قسع حَکمي بمنز مَنزلة 
الَْزلِ الْحَکمي في ال ا ل ر عق یگنن عو لی روات عن تر 


سی سی سی ی لو سس ہم 


ر سس سس ۔٭ ہے۔ 


وم لم کن کل راجو متهت ان يَمَکَوَلَء اتهم في حَقِ الولاءٍ کشخص واج قال وَلَیْسَ ِموی اة 
ان يوّالي احا لازم ومع بقائه لَاَظهَر الأذنى 
تر چه: فماتے ہی ںک اروا یکو وار ث موت دہ وار ہو لی سے مقدم موک اہ چروارٹ ذ وک الا رمام شیل سے پچوچھی یا 
الہ ویره ہو »کو موالا ای جا قد ےالہفاان کے علا و ہو لا زم میں ہوگا۔اور ذو رتم وارٹ ہسے۔اوروراخت لیے اور دت 
د کو شرو اک رنا ضروری ہے ججلی ہا کہ ند ورک مل کور ے کیہ لین دن اترام سے ہوگا اور اترام شرط کے ور لے ن ہوگا_ 
ایک حرط کی ےک موک عرف د ہو >کیوککہالن مل قپائل سے تا ہوا ےی اا ی تتا ص سے موالا ت ایس یں ےیک ررکھاے۔ 
فرماتے ہی ںک موا یکو یق ےکا اوران وا لن ا ا ر مرف ض ل تن کے 
وی تک ط رح ہرک عق ر یرلا زم ہوتا ہے نیز لی ( موی )کوک کن ےکا یک دلایت سے پل تھا نے یوک یراک پ لازم 
نہیں کے تا یم مرا مرف فلا کے کے لے ضرری س ےکہ بیکام دوسر ےکی موجودگی میں ہو کے الہ وکی لکومعزو لکر نے س 
ہے۔ برخلاف اس صورت کے جب انل نے ا لی کی عدم موجو دی میس لی اوہ کی ددرت ہف الا ٹک ر0 ہا 
ےی یی تو ات ل ی وق پ05 
رما ہی سک گر ایی نے اط لکی طرف ی اتا 7۰ے ورس روک ہے؛ 
ال ل کاب دلاء سے یر (ائلی )کا تن واپست مو چکا ے اورا ل ےکا ںکوقشا ے تقاضی ا وگ سے اور اک وج ےک اب 


7 کل جملر(٢) AERA SOTO‏ اکم ولاء کے یانش ۴ 
. ٹل ہف کو لیے وا نے ہو کی ط رع م گیا ے بے ہکا عو ہوتا سے یز اط کا لک بھی ایی سے خی کی طرف ل یں وکنا 
ای نی اگراعلی نے ال ےا ک ےکی طرف سے دیت اداکردی فو اپ بے جس ےکی کے لیے بھی نل ہون ےکا اعقیار 
نین سے کوک لاء ےکن می دوفو ںآ واحدکی طرع ہیں فر مات ہی ںک موک القاقہ کے ےی سے عقر موالا کر ےکا 
تم یں ہے اس ل کہ ولا ےا3 تہ لازم مون سے اورا کے ہوتے ہو اون انا ریک دکھاسکتی۔ 


اللغات: 


إعمة) یوی الارٹ ) وارث بنا ,0 > دیت اٹھانا۔ الالترام) پابند )کون چ ا سے 
ڈڑے لبا -[تناصر چ با بھی ایراداورتحاون ۔ فڑیتبر أ براء ت انختیا رک ناء برکی ہو جانا۔ فإ نال کے اک لکرنا چا يتحول 
تر ىل ہو چان بكُلہونء! ایک حاات سے دوسرکی حالت مل ی والی یم والا تک عق رک رنا۔ پل محضر چم وجو _ 
والات ٹل ورچا تکا افظتپار: 

عبارت یں تین من زلور ہیں : ٍ' ۱ 

(۱)اگمر اش ل یی موا ی کاکوئی دارث ہوخواہ صاحب فر ہو یا ڈو رتم حرم مشلا ھی اور ال موتو ان یس ےکی ای ککی 
موجودگی می مول ایی کان اک وار سے م وخ ہوگاءاس لی ےک عق رمواا ت ایی اوراس کے ماٹین منعقد ہوا سے ءلبذرا ان کے علاوہ 
` کے یں بیعقد تو ری یں ہہوگا او راگ رمولی عر فی موتو بھی عقرموالا تخت نیس ہوک > یوک ائل عرب نماندان اورقا لکی بفیاد بر 
ایک دوسرےکا تخاو نکر تے ہیں او رای تدان وتتاص کے توالا تک چندال رورت نیل ے_ 

(۴)اگکرموکی ای نے موا یکی طرف ے دیت نہ اداکی موتو مولی شل سن موا یکو بین س ےکم دہ دوسرے سے عقدموالات 
کر نے اور کوا نی وراش یکاہ لک بنادے؛کیونکہدیت اداکر نے سے پیل پل یرحقدل زم کیل ہوتااورعقل یرلا زم می انال اور 
تول کان ہے۔ الہ بات ذن سمل رہ ےک ہاگ رای عق کر پا تو اس کے لے ام لک موجوکی رور ہے کروکہ مرن 
تضرا اوی لکومعزو ل کر ےکی رح ے اورقصدا اوی لمحو لکرنے کے لے ول رطع کنا ضروری ے اپا ایی E‏ 
عقر کے لیے اش لک پات رکر نا ضروری سے لین اک را عق دن کرنا جا ےت اع کی موجود کے یربج یکرسکتا ےہ ان کے 
کا ا کی سرت لصو کے 

(۳)اگر اع اش کی طرف سے بای کے کک طرف سے دیت اداکردسے تدان میس سے کی کے ےی عقن مکرنے 
اوراپچی ولاء دوسر ےک طرف کر ےک ہن یں ہوگا کیو شل اوردی کا اداکرنا شل کے ہن میں یش لن کی طرح ے اور 
جس طرں پش ۶ش لے سے سح اوررجوں یذ رہو جا ای طرں ہا ں کی ای کےدیت دید یے کے اھ نت 
ما ےک 

قال ولیس الخ ستل ہے س ےک مول الا ےکی قش ے عق رموالا تک سکرسکتا رکیونکہ ولا ے عتا ولا ۓ موالات سے اق کی 
جاور جب موی الا کات وی مکل ےلو ادف کے لیے اسے پر با نیش ہونا چا سے ورنہ ماقت اور بے تون موی _ دائل عم 
وام 


5 ایا بر9 لے لے EAE‏ انام اک را دک انش _ ) 


۱ کاب الولا ع کے میا بح کاب الاکرا ہک بیا نکر ےکا دج ہے س ےک ولا ءاور اکراو وولوں یس تق رتل ہوا ہے چنا چول عومیں 
لکی موت کے بعد ای کے لے اس کے ما لکوکھانا علا جہوجاتا ہے عالاکلہ ولا ء سے پیل ای کے لیے اف کا ال رام تھاء ای 
طرں اکراہ یں کر مکی مکی اورمخیدت ایند پک او رموری شی کی ہوجائی ال لے دوفو ںکو کے بعد وکر ے بیا نگیاگیا 
ےکن جوں )ولا ءادرعقرموالما تش رو اور کن سے اک لیے اے اکراہ سے پیل یا نکیا ي 

إکراہ کےافوئیعتی: مجبورکرناء می کے ضلا کا مکرانا۔ 

إکراه ک٤تری‏ :اسم لفعل یفعله المرء بغیرہ فینتفي به رضاه او یفسد به اختیارہ مع بقاء أهلیته_ اکراه اليا 
ل سے ےد سے کے ڈر سے انان انجام دیتا سے اور اس اضجام دی میس ا سکی رضامتد ی م ہوجائی ہے یا ا کا اغتیار اب 
موا ہے مان اس شی اخقیارکی امیت با رک ے۔ 
ره بت ر5 ضز نبیر لی قاع تارذ یہ سک کا از شه ائ رة س رٹل 
فل ال بغیره فينتفي به رصا أو فا به اختياره م بقَاءِ هله وَھٰذًا ان ي 12م ٰذا حاف المكرَه 

2ے للاڈے 2 “ph‏ ر ص2 o‏ ۲ 4 م ت در ر س5 ^ 4 

تحقیقَ مَايوَعَد به وَذْلِكَ إِنَمَا 2321 القادرء وَالمّلْطَانُ وَعَيرَة سيان عند تحقق القدرةء الذي قله 


سے سے 2 9ے ارت و 2 9 g9‏ 


کود۔ 5 5 ٤‏ 2ے ےہ و 1 -_ ی م ص ص سر 22 لس 9 NF‏ کی ا 
ابو حنيفة وی أن الا كرا لَايَحَفی إلا من السٌلطان لما أن الْمَنعَة له رالقدرة لایتحفق بدون المَنَعَة ققد 
7و 4 2 ےھ ے خر مر ہے 4 2 تھ 9 1 رط 92 ا ص ت رر ٤‏ ار 
قالوا هذا اختلاف عَصر وَرمَان لا اختلاف حَجو وبرهان ولم يَكَنٍ القذرَة في رَمَيه إلا للسلطان ثم بَعدَ 
ا ‌ 2 ے‫ 


س٣ر‏ بر 9 وور 


7 ر ود۔ ى۶ ۶و ۶2 2ور ر 22ر در ہو و دود 3 
ذلك تغیر الرمان وهه ثم كما یشترط قذرة المکرہ لتحقق الإ كراه بشترط خوف المكره رفوع مَا هدد 


و انال جلرزم) EAL DIOR‏ اک م اکراہ کے بیان ٹل ۲ 


به وَذِلكَ بن يغب لی یہ آنه عله لیر به مَحمُولا على ما دعي اِليه من لعل . 
ھی : کر م اس وت خابت ہوگا جب ا کت سے صادر ہو جو ڈرائی ہوگی کو ایام رین بے تادر موخواہ وہ 
سلطان ہو یا چور ویوا لرا اک لک کچ ہیں سے انسان دوسرے کے ڈر سے انجام دتا ہے اور میں کر ا وت 
ما سے یا ںکااخنیارنخم ہوجاتا ہے تا ہم اس شی ابیت یت بال راقی ے۔ اوراکراواسی صورت می انف ہوگا جبگر وکو اند لو 
زان یک ا ےا پان ا ری کے ی ماو ی اورت ہے بے فان او 
می رسلطان دونوں برابر ہیں- 
اورامام تنم وی سم E ee‏ 
ا ولک ر کے اف قزر یں ہوئی _ اس لیل می رات مشاں جا کی را ہے ےک فر مان عبعد دزمان کے اختلاف نی سے 
ل إان سے ا ںکالیناد ینیل ہے۔اورامام عم وٹ کے زان می صرف سلطان یکوت رت م تی بر بعد میں زان 
انز ہے ےلوک برل گن :راک را تق ہو ے کے ل جی سط رن ھکر دکی قد رت ےط ےی شرن بی ےرا وت کے 
کوک اف ہونا کی شرا سے اورا یکی صورت یہ ےک یمک وکا ال گان ہہک نکر واٹی شک انجام دے ےک کک دہ 
ل انام د نے پرمجیورہوجائۓے۔ 
اللغأاف: ٠‏ 
الاک راه کو رکرا۔ طایقاع دا کرنا۔ یوعد 4ک دینا۔ سلطان 4 ا دشاہ۔ لص 4 چ طڑینعفی : 
تم مون منورم ہونا ۔ بقاء) با رہنا طاخاف ) ڈرنا۔ القادر ) اختیار ر کے دالا پل ستان 4 برام [المنعة )قوت» 
مایت هدد )رک دیا و[ محمول پ4 گور 
اراو ےت کی شرط: 
صورت من ج سے وال ےک صرف انتا یادرھنا ضروری س ےک اکراہ اک صو رت می قن ہوگا ج ب کر ووی موی دی 
کوانچا م د پرقادرہواورمکر 7 SESE‏ ری منزلکک بم اکر می راکام 
تنا مکردےگا۔ دونو ں طرف سے جب دونو ں شرس لی جا کی تو 1کرا وتان ہوا اورا برا کم مرب ہوگا۔ 
ان را رة لجل عل بیع تال أ علی راء عو أ علی ن قر جل پاپ أو بواج رك اکر 
على ذلك بالْقتل او بالضرْب الشديد أو بالْحَبْس فاع و اشترای 2 و بالْخيار إن شَاء اَمُْضَی الع ران 
شاء ود وت تو می و ار ي ء قال الله تقالی أن تون يجار 
نتر ترَاض تنک والإكرَا بهذو الشیاء یعدم الرضا سد خلا ما إِذًا رة بضرب سوط أو 
حبس يوم و قید وم له یبای به بالتظر إلى الّمَاوَة احق به ره إ 1 ات گان لرجْل صَاحب 


ت 


و اناپ جلر(۴) ا کات ا ا کیک یڑ اام اکہاہ کے بیان می 1 


GT‏ ور وت 2 ار حه رجح جَنَةُ اليدق فيه على جَنبة 
اذب وعنة راہ يحمل أ َكذِبُ تفع لمَضَرَ لمَصْرَة "حم سیت تن 
کپ روګ وئدی کا وروی 


ِء رنڈ رک اه ب سور بت تپ ولس لے 
لإِجَارَة لایفید املك ۲ 3 کن الع صَدَرَ من أُمْله مَضَافً إلى مَحَلَه وَالْفَسَاد مقر د شرطہ وهو 
فيه 


اراي كار كابر ارط هو لت الك عن الس حى لز تة راغتقة ار ترت ینہ 

تصرفا يكن نقضة ججاؤ وَيَلَرَمَة اقيم ایر الاعات الْفَاِدَة ة وَياجَارَة ة 7 يرتفع المُفسدٌ 

رَه ر كرا وعدم الرضاءِ فيجوز ر ن 5 به ۾ ق استرداد نع َإِنْ تداوته الأيّدي رلم رض 

البائع ب بذلكء یخلافِ سائر الاعات الْفَايِدَةء َي الْفَسَاءَ د فيا لَحقَ الشرعَ وقد تَعَلَق يالیٔع الثاني حَقّ 

یہ حل مم کا جیہ, کا هه ٠‏ لین ود مو ل ع زی یع کیل اہ 

وَمَن جَکَل جَعَلَ الع اجار الْمعا بيا اسا يَجْعَلَُ كع ا کرو ي بف ا شتري مِنْ عَيْرہء لان 
ودے ر3غ ےے> 


القَسَاد لِقَوَاتِ الرْضَاءٍء َمِنهُمْ مَنْ جَعَلَه رھت لقص المَتعَاقَديْنء ومهم مَنْ عله باطلا اعبار بالَّهازل: 


رر دورد 2 9 ر ور 2وو ھ 


وَمَمَاِخٌ سَمَرقند یه جَعلوه بيا جَازا مهدا مض ا گام على ما هو المعتاد للْحَاجة إليه. 


تڑچه: ہے ہی کہاگ یکو نا مال چ کے لے کو سا ما خر یدنے کے لیے اکت کے لے ایک را ددم اقرار 
کرنے ااپناگھراسادہ پر دی کے لیے ہو رکا گیا اور رن یکا یا ضر ب شد ی اع کا اکراہ تھا چنا کر ہے تک دیایا خر ید لیا أے 
اختیار ہوگا اکر چا ےا ئ خکوناف کرد ے اور اکر چا ےا کو کر کیج وای لیے انت کے ہونے کے لیے اق 
کی با بی رضامت دک شرط ہے۔ اللہ پا ک کا ارشا ورای ے: فلا کہ دہ ما ل تہارک رضا مندیی سے بز ر ل تھا رت عاص لکیاگیا ہو 
اوران چیزوں کے اکراہ سے رضا مندی معدوم ہوعچالی ہے اس لے پیکقودفاسد وجا یں گے۔ برغلاف اس صورت کے ج بکوڑا 
نے یا ایک د نکی قیداوریس سے اکراہ م ھکیوکلہ عاو ا نک یکو وام سکی جا ءازا ان سے اکرا نف نہیں ہوگا الا ککرہ 
جا ہت والا ہواور یمعلوم ہوک شرب سوط ےکی اسے نقصان ہوگا اوا اک کے ا کا فور سے تج 
اترار کی جت س ےکر اتر ارس صدقکبپہلکنزب وانے پہلو نالب رہتا ے۔اوراکراہکی صورت ٹیں اال ہوجاتا ےک 
وفع مرت کے کر موث بول دبا ہے۔ 
چم اگ کرم نے بحالت اکراہ اپنا مال فر وخ کر کےکرھا ا سے مشت ری کے جوال ےکردیا تو مار سے یہاں ا تحلیم ہے مشت ر یکی 
لیت خابت مو جا ےکی ۔ اور ایام زفر ہاو کے ہاں خا ت نیس موی کیون کر مکی کے ا کی اجازت پرموقوف رک ے کیا د بت 
نی سک ارک ہ اجا زت دید ےا یع جائز ہوگی اورک موو ف اجازت سے یی ےکلہ یکافا کد وی دی ۔ 


0 ان Oe‏ 2 رم اب تی 79 اام اکراہ کے بیان جن 6 
ہارگی دنل ہے س ےکک کا رن اس کے الل سے صادد م وکر اس کے کی طرف سوب ہے اود مع کا فاو شر کت ممن 
ت ای کےمفقودہون ‏ ےکی وچ سے ےلو دنر مفمد و شرطو ں کی رح ہوگیا اہ کے وقت کی ت فابمت موی یک ار شتی نے 
٠‏ نلام پر چک کے اس ےآنز اکر ایا ا میں ایا تصر فکردیا جس کون ڑ اشن نہ موتو تم ماز موی اور شت زی بر یت لازم موی جیا 
کہ دیگر بیو فاسدہ ٹیش اہوتا ہے اور مال ککی اجازت سے فی ووعت A E EE‏ 
اس یش جوفماد سے دوج شر کی وج سے ے اورت مالی ےکن ال تلق ہو چیا سے اور ا کا تن ا کی ضرور تک وج سے مقدم 
ہے۔اور یہاں کو عبدکی دج سے ددکیا جار ہا سے اہر ادونوں برای ہو گے اور خالٰی کی وج سے او ل کان پاش لیس ہوگا۔ 
صاحب بدا ىہ ول فرماتے ہی ںک جس ۶ کے د کو فاسدقراردیناے دہ اے رہ ےم می سکرد ینا ےتیک یتر یکا 
“ھی دوسرے سے اسے فروضش تک رتا ہوچا تا ے کون کا فساوفو ات رضا کی وج سے سے مین مشار اسب کو را قر ارد نے 
ہیں کیونکہ رین ہی اتہک مقصد ے او رشن مار ازل برق کر کے ای ت کون با کے ہیں ۔ اور مار مرق نے اسے 
ہا زق ر ادد یا ے اور اع ام ےکن میس مفیدمانا ہے جیا کہ یی ماد سے وتا سک ضرورت ے۔ 
اللغات: 


إسلعة) سامانہ سریابیہ چز۔ فیواجر ہہ اہارہ پر یز فرا مکرنا۔ [الحبس 4 قیر۔ امضی) بای رکنا۔ 
جرجع ہ لٹا۔ التراضی) بابھی رضا مندی- سوط کوڑا۔ ٭یبالی به ہوا مکنا فإیستضر ) نتصان اٹھانا۔ 
لإالمضرة) ضرزہ نقصان _ إفقد 4 مفقور ہوناء نہ ایا جانا۔ إتداولة الایادی) اتھ در پت لے لے ہیں ج جانا۔ 
[البیاعات ‏ تع وشراء کے معا لات ۔ فو ات اوت ہونا۔ بڑالھازل چ نرا تک ۓ والا۔ 
بعالت اکراو سراٹیام و ےے گے معا لات : 

عل عبارت سے پیل ہے بات ذال میں ر“ سفق کا ضابطہ ہے س ےک ہمارے بیہاں مک م کےتصرفات منعقد ہوجاتے ہیں اور 
ان مس جوم کا اتال رکتے ہیں کے بے اوراجارہ یت رفات لازم یش ہوتے اور جن میس رخ کا امکان دا شا ل یں ہو وہ لانم 
ہوجاتے ہیں کے طلا نتان )د بی راور استیلا د وہہ ۔ ٰ 

ورت مسل بے ےک .ارس ین سکواپنا ال فروش کر کے ےکوی امن خرید نے کی کے لیے دوہ یکا اقرا رک کے کرک 
اجار ہک نے کل یا ضرب شد بد کی درا زکی دی کے ذر یج کو رکیا گیا اور ای نے تن دشرا ءک رت اے ایر ہوگا اکر چا ےت 
رای کے اور چا ا ےت کرد ےکیوکہ ا ن کقو ر یکت کے لیے مات د کی رضامندی شرط ہے (ججی اک إل ان 
< تجَارَةٗ ن ترَاض نک اں پثاہرسل ہے ) اوراکرا ہکی صورت یں رضامت ری معروم ہو چان چان ےک کوعقد 
ص۳ 0)0 ا a N‏ 
ولو ےتور ناز ہوچا میس گے_ او رر وکواخقیا ریس ہوگا کیونگ عر اور عاونا اس طر حکی رککہوں وچس دک چا اوران ے اکراہ 
قن کی ہیں ہوتا۔ ہاں اگ رمک وععمزت ووقار والا مواور مارنا ورات دیا بی اک ےک س پاعف ار مولو ای ککوڑا 


ج ai‏ یھر یں جج E‏ 
مار نے یا ایک لو مکی قید و ند ےکی ا کی رضا مندی فوت ہو چا ےک اوراس ےق دنا فی کر نے اور کر ےکا اختیار ہوگا۔ 

والإقرار الخ فرماتت ہی ںک ہاگ رک یک وی کے لے الف درام کے اقرار ر وکیا گیا اور اس نے اق ارک لیا و جم دشرا کی 
ر بھی اراد رقا سے یار س ےکا اختیار ہوک کوک ات ارمقر کے میس جت او ےکن خی راک را وکی حالت میں ہے اس 
لیے اک راہ اق رار کے لیے مغمدہوگا۔ رح صن کے أو علی أن یقر الخ ےکی بے 

. ثم إذا باع الخ الںکا عاصل یہ ےک اگ رہ نے اپنا ال فروضت کر کے بادل نا اعت اسے شت زی کے جوا لی ےکمرویا و 

ہمارے یہاں اس برشت ر یکا قتضہہوجا ےکا اور ا یکی کیت خابت موچ ۓےگی ہمان امام زفر پیا کے بیہالںمشتز یکی کیت ثابت 

میں مو ییون مک وکی بج موقوف ہے اورں موقو ف مفیر مک نمی موی ۔ ہماریا دمل ہے س ےکر ہ یں کی کی اہلیت لیت مون ے 
ور کارکن ال ال سے صادد مورک لچ ما لکی طرف شوپ اور شاف سے اور کا سا شر وتن تر ای مقر ہون ےکی 
وہے ہے برا در مفیدشرطو ںکی طر بیش رط کی مفمد ہوگی اور طرح شر وط فاسدہ یل بوق قضبہعکیت خابت ہو جال 
ے اک طرح صورت مل می کی بوقت مض کیت خابت ہوجائ ۓگی اور اکر مشت ری عم پر ن ےکر نے کے بعد اس سکول 
: ایل تمر کرد ےل ب دی یی ادنشت ری اسے ام ولد ام اد سے ا کا ضرف چا وگاومشتری پا یک 
تمت لازم ہوگی۔ 

ا ست کی ای تقر لو ں کی ہوکتی ےک رمک دک کے ن وج موقو ف کے مشابہ سے وتک دہ مان کک اجازت قوف 
ر ہے اورکن وجرت فاد کے مشا ہہ سء اس ل ےک اس م کتک ش رط ]شنی ت اضی معدوم ہوٹی ے اپا تم دونوں مشا توں پر 
تم لک یں کے اور کیج موقو فکی مشا بہت کے یی لنت راے مال کک اجا زت سے جا تراد ویر سی کے اورکیخ فاس وائی مشابہ یکو 
دب ہوۓ تہ کے بحعدمفید کک قرار دی بی کے ۔ 

ویاجازۃ المالك الخ ړا سوال مقر رک واب ہے۔سوال ت ہو لآپ کے کر فاد کے در ے 
نیس ہے و بعد میس مال ککی اجازت سے اسے چات یں ہودنا جا ہے کوک بیو فاسدہ اجات لاحقہ سے ہا ہیں ہو مالا لکہ 
مال کک اجات ےآ پ کر کو جائمزقراردے رسے ہی ںآخ رکیوں؟ ا یکا جواب دینے ہو صاح ب تاب فرماتے ہی ںکہ 
صورت ستل می جس تن کا کہ سے دہ کال اورل طور پر فاس نہیں سے بلک دج فاسد کے مشاہ سے ال لے اجازت 
لا حقہ سے اس کے نفا اور جوا زکا راس کیک ہو چا ےگ اور ییو فاسدہ پرا سے قا کا یں ہے کیو یک دومن وجرفاسد ہیں اور 
بیو فاس دہ یں اگ رشت ری خر ید موی چ ےکور وخر یکرو ےت ب ن او لوح واییں لی کا کے ہیں ہوتاکیوکہ ان میس اتر دان شن 
سے اورشرلعت استزاد نی ے چ بک مکورہ بن میں شری کے فروش کر نے کے بع بھی کون اسراو للا ہے خاو 
لکوں ںی کی خر یدوفروشت ہوئَی ہو کیو یہاں با اول جوکرہ ہے دوبھی عبد ہے اود بای انی یجس نے اول سے خر رک 
فر وخ تگردیادہنگی ہد ے او رکید یت ڈل روزوں برای یں اور چو ںکہ باع اول مر تھی ای برای کی ووا راہ 
نی موا اورا ےج واب لکا حن حاصسل ہوک _ 

قال رضي الله عنه الخ عبارت مل البیع الجائز المعتاد سے نع وفاءمراد ے اور پالفاظاجارح الشریعد ا کی صورت 


رآفالء EL SOFI De‏ 
ول ے ان یقول البائع للمشتري بعت منك هذا العین بکذا على أني لو دفعبٌ إليك الغمن تدفع العين إلي» ا 
یں کے لابعت منك هذا بمالك علي من الدین علیٰ اني متی قضیت الدین فھو لي ن با شت ری سے کک میس اپا 
یسا ما ےشن یل تہارے پات فر وش کرد وں ءائس شر کے ات دک جب یش نہیں تہارائشن والیں دیرو ںگا توم کے مرا 
سامان دید ینا یا قرو ترش خواہ سے کی ےکی ہا ےق سے کش تم سے انا ہے امان ت را ہوں کان جب می لتہاراقرضہ 
اراکرووں ت تم 2 ااك وو مق ق O‏ ے اور ال کے ای رارت مار کے٣‏ پار اتال U‏ 
() مار بغار نے تع وفا مکو یع امک و کے مشای ہق راد د ےکر با کے ن استردا رکو اکا قرار دیا سے (۳) امام الوٹچاع 
سر نی ء قاضی ابواصن ات یرک اور الاسلام حضرت عطاء اورتحخرت مزه ویره ا وفاءکو رن قر ار دیا ے »وتک ہے معنا رین 
ہے ادرف کا ہے بہت رور ضا بطر ےک العبرة في العقود لمعانیمقوومیش معا فی یک اختبار ہوتا سے (۳) امام اب وشیا اورقا 
خی ست ری ویره نے بیع دفا رو ال قر ار دیا ہے ؛کیوککہ عاق بن لفظا ‏ کتک کرد ے میں کن وہ یع کی کنا ا س کو یا دہ زرل اور 
ا نے نے ون اور رت کے ان ےک کرن کا ما کک سے( )مشا فارگ نے اس ئ کون ئتزقرار 
دا ہے اور اغا کے جن بیس اسے مفیدکھی مانا ہے اوران کے ییہال طر یت ہکا یہ ےکہ دو لوک گے وفا کو لا زی او رھ یس رار و ےے 
ین ا ی وک کت یی کے رای کی لی ر کے بی ررداوراستردا کو غاب تکرتے ہیں اوی قاضی خان میس ےک اکر 
عاق ین نے لفظا کی صراحت کے اتر عق رمنعق دکیا مونو ےکی ہی ہوگی رک نیش ہوک اوراگراھوں نے رداو رح کی ش رط دا ہو 
تو چا ترک موک وبه قال الإمام ظھیر الدین۔ (باے:٭ا/۵۱٥۵)‏ 

قال قان گان قب العْمَنَ طَوَْا قد َجَاز اليم لان دَِیْل إْجَارَة کُمَا في الع المَوقَوّف گا إدا 
طَائگًا بان گان كرا i‏ اع ا عَلَی ١‏ تفع ته یل الإِجَارَِء بخلافِ مَا ذا اَكِرَمَهُ عَلی لهه ولم 
گر الع لوقب وع عبت كر بط لا صر لَه ويفاق لا محر الط رك في 
هة باقع وَفي ال يعمد على کا هُو الصْلِ قَدَحَلَ الم في الإِکْرَاہ لی اله دُونَ اليم قال رَإِنْ 
َه ره قَیْسَ ذلك يجَارَو وَل رهن گان ايا في َو لقمَاد الف .. ۱ 
زچه: فرماتے ہی ںک اہ باع نے وی س پر جح کیا ووی ای نے کے کی احجازت دیدکی »کیرک پہاہاز تک وکل سے ہے 
موقوف جس ہوتا سے سکیم اس سورت می بھی سے جب با نے خو شیج شت ری کے جوا لت ےکر وی پا ی و رک ہ اک را وف وضت 
کے پ ہو دی پر نہد ءا کہ پیک اجاز تک وکل ہے۔ برخلاف ال صور کچ ب می ےکی کو ہک نے پ جو رکیا اور 
دش کا کر ہک کیا او رمک نے بادل نا خواستت م ےکر کے بوشی مو موب مووب لہ کے جوا ےکردیا بے پال ہوگا کیو کر وکا 
قمر اتتا ( ہن ابر تکرنا) ےش تاف او ریس ے اور ہہ میس مقص ر و ےے سے اسل ہوگا ج بک ع نس عقر ے 
ماگل ہو جات ےگا ججی اک سی اکل ےپ زاھ میس اکر اہ وٹ تاق ہوک کان بجع میس دح سے ا سک ان ہیں ہہوگا۔ 


۲ 
۶ >ے+د5 


LEELA E 703 >‏ احم اکا ہے یانش 7 
نفرماتے ہی ں کہا اکر بای نے اگوارک کے سات پر قح کیا تو ا و آ0 
وور مولو قاس پیش نکووائی کر ضروری سے »بوق فا سد ہو چکا ہے۔ 


اللاث: 

لاطو ع ہنوگیء برضا رفت E‏ لجاز پچ جا زقراردینا کک تو 
کج کر دک اجاز تک صورت: 

متلہیہ ‏ ےک اکراہ کی کے لے تھا اور با ےک ا کرنے کے بحو م خوش قب کیا ی وش یم کو مشت ری کے حوال ےکی تو 
ان یش سے ہردو پا کی طرف ےک کو جائز اور ناف کر ےکی دعل ہوک اور ھا جا ےگگاکیشن لن ایج شت ری کے جوانے 
کرت وقت باع کا خص فور ہوگیا تھا اور ا کی تا رسکی وور موی ی اس کے برخلاف اگ رح کر نے کے لے اکراہہہواور ما ک کر با 
جب ہکر د سے اور یمر خویش ت وت 0 کن ای لی کب اور میں فرق ے اور وہ 
۱ ہک ہبہ یں مہ مو موب پرموہوب لک ا تختقاقی پاتا سے اور یا ختقاقی دع سے حاصصل ہوگامگویاحب کا از ا E‏ 
دن مج جب آکراہ ہگ 2ا بک مت مہم ہون ےکی دج سے ہہک کش وگو ہیر س اود ایک ی چو سے اس کے 
.. خرخلاف ت یی کیج اوردخح دونوں | تک الک ںاوراک راہ علی البیع اکراہ علی الدفع نل ہوگا 77 
ہو کام پیل جا ۓےگا شی اس دمح کی جات قرار دیدیا جا ۓگا ۔ ہاں اگ باح پاد نا خواستہ اورکرپاشن ہے ی کرتا ےو اسے 
اجاز نل ہیں کے کیو گر ورکس ےا تع پیل ھی دے چکا ےشن نہ نےکر اس ےکی پا کے صو ٹیش ےکا بی وجرےکہ 
اکر باک کے پا لن مو جود ہوا شعت نے اسے ہا خقیاردیا کشت ر یکن اسے دید ے اور اپ وائیں لے ے۔ 


شن ر 7 ووي 


گال وَإِنْ لَك المي في يد الْمُشتري وَهُو عَْرُ مکرو صَمِن يمت ائم مَعْتاه والبائع مره لانه مضمون 
CEs‏ مت وھ 


9 2 سی 9 


3 جو 5 ت 
و a‏ س اسر مم تو 
1 ر کت رت دا 9 
اه بت 292 الإستتاد لی رفت کلب بیکفی ر اجار 
امالك المكره عَقَدا منها حَيْث يجوز ماله وماعد لاله ساط حه رَھُ الْمَایع فَعَاد الكل إلى الکواز 


ٹور یھو 


وَاللَه عنم 
۱ تشم : سے ہیک ار شت ری کے ب مب لاک و جا اوردومکز ہن ہو مشت ری با کے لے ا کی تم کا ضا 
ہوک ا کا مطلب ہے س ےک باع مز ہ ہو »یوت قد فا عد ہو ےکی وجرے ریگ شت ری مون ی _ اورک و (بائع )کو اغقارے 


2 آنْ ال FGA 7 SED‏ اکا اکر کے بیان م 
اکر جا ےلو مر ہکوضا کک بنائۓ یرتک کک بلاک ہونے وای چی ٹس ال کا آل کا ے اور ہے ایا س ےکوی مر و نے ی باح کا ال 
خت ر ی کوویا ہےء پاب ان شش سے ے چا ہے ضا بناۓ گے ضا صب اور تا صب الغا صب وولوں مل ا سے ما نلیا 
جاسکتا ہے۔ اب اکر با کر وکوضان بناتا ساو وہ شت ری سے ا کی تیت وائیں ےکا کیک مکر ہ باک کے قاعم تتام وکیا 
سے۔اوراکر با مشت رز کی سےعمان سے ایا و اس شراء کے بعد واٹےتھا شراء نافد ہوجا میں کے ال بحر کی عق ہو سے ہو 
لے کان دی ےکی دج سے ا لم کا ما لک ہو کا ہے اود ہے بات وا ہو یکا نے اپنی کیت فروخ تک ہے ہا اس 
شراء سے لہ جوخ یدار یی وہ ناف زس موی مت یس ملکیت صرف اس کے تا اش ہونے کے وق فک مفسوب 
7290 لک ان شش ےک عت دک ہا ق رار دی ےت ا یکا ال اور مابعرسب چائز وگ یوک 
اجازت دےکراسل نے ابناعق ساقاکردیا ہے اورا کان بی جوازحقورے ماع تھا لا تا معقد ہا موچ یں گے وااق اعم ۔ 
اللََاٹ: 
[إمضمون) وہ نز جو مان میں شائل ہو۔ طلیضمن یہ ضا راا الاتلاف یہ ضا کرنا_ الغاصب) ٠‏ 
غص بکر ے والا نفد پچ تانز ہوا ق رکا با کیل کی چنا سر رت ۔طاسقاط ماقتنا 
کی بلاکت: 
متلہ یہ ےکہ باح مک تھا او رشت ری پکوئی کاو یں تاک شت ری نے خر یدک راس بر ع ہک رلیا اور دم مشت ری کے پا 
لاک موی نو شت ری پر الس کی تبت لازم موی کیوتکہ با کی ضام دک فوت ہن کی دج سے برک فاس اورک فا سد میں 
جلاک ہہون ےکی صورت می شت ری بر تمت لازم موی لت باع چو ںکہمکر ہ کے اکرا وی وجہ سے اس کے بر راشی بناجا س کرم 
شت زی سے وہ تست والیں لی کان دار ہوگاء اس لک ہمان د سے سے مر وع کا ما کک اور با کے قاسم متنا م کیا ےلپ ا اب 
با کا کم وت یکر ےگا۔ اور اکر پاج مشت زی سے ضمان نے کا تد اس شراء کے بحد حت بھی بین ون او رعق ہو ہوں کے وہ 
سب جائز ہوں گے مین اس شت ری سے جن لوکوں نے خر یر وفروض تکی ہے اور ن مجن لوکوں کے پا یں وع کی کر ایر میں 
لاک ہو لی مو سب کے صن میس عق پا ت ہوگاءاس ل ےک ہمان دی ےکی وج سے شتزیی اول ا فجن کا ما کک ہوگیا ہے اور یہ بات ظاہر 
وق کشت رک نے دوسرےلوگوں سے اپنا مال اورا نی لیت فروخت ک ہے اس لیے بعد وا نے تھا مق دباغز ہوں گے اتر اس شراء 
سے پل دانے شرا تاف یں موں کے ؛کیوک ہاگ ران دینے سے بلاک شد عم یس ا کی کیت خابت موی کان کیت ای 
کے قجضہ کے وق کی طرف شوب وگ لہا اس شراء سے پیل وا ےق میں شت ر یکی کیت معدوم ہوگی اوران یش عق ناف ٹل 
ہوگا۔ اس کے برخلاف اکر با کک مم تتن پم اول نے پرکورہمقوومیں ےکی عق رکو ہا قر ار دید یا تو اس عقد سے لے اور بعد 
ٹس لے عقد ہو ہیں وہ سب جائز مول کے »کیو شرو ر سے ےکر اتی رکک کےکقودکا نناز صر فن باح او لکی وچے کے ٠‏ 
تھا اور با نے جب ایک عقد یں این ن اڈ اکر دیا تہ رتو شرو رع سے مو ہوگا اور از ابنترا تا انچاء پر پرعقد درست اور جائز 
ہو جاےگا۔والله أعلم وعلمه أتم. | 


و نال جلر(٢)‏ اھ لاب لے EAT‏ اکا م اک راہ کے بیان ن ۹ 


Gs‏ و ۶ م 2 و ہ5, 
ق ھا فصل بیان حکم الا کرات 
کی ا : 2 ۱ ٣‏ 
الوَاقع ي حقۇق الله 
نعل اس اکراد ہے بیان میس ے حقو ن ابش دی وا ہوتاے 


اور چوک تقو قی الع رصقو ال سے مقدم ہیں ای لے ھی اس سے پلیہ میا نکیا رین 


٦ 


fs 1‏ ہو ل وو و وی 9 َ‫ 3 و وید ہو پک ےر کک 
کی وع ا پا کا TR E O A‏ یت E E OO‏ گا 
ون رة لي ان يكل الْمة َو شرب الحم رة على ذلك ببس أو برب او قب م جل إل 
لے ہے روط و ے 7 9 ور 9 کے سے 7- 06 7 
ان كرَة يمَا ياف منۀ على تفه او على عضو من اغضائہ قدا اف على ذلك وَسِعَه ان يقم على مَا 
و ا 4 ری ےو د9 ر رہ وے دو ے 9 : ر 
رة عَليهء ردا عَلی هدا الام ولحم الخنریٔر لان تتاولَ هذه الْمُحَرَمَاتِ إنما بباح عند الضرُوْرَةِ گم 
نے وب کے کے 2 2725 ذے ےص صے بے ے وورہے کے سر ےے> 1ت2 رڈ کو 

في حَالَّة الْمَحَمَصَة لقیام الْمَُحَرّم فِيْمَا وَرَاءَ ها وَلَاصَرُوْرَةإِل إِدَا حاف عَلّى النفس أو عَلی العضو ختی لو 
خف لی ذلك بالضّرْبِ الشَدِيِّ وَعَلّبَ على عه ذلك یاځ له ذلك وَلَاَسَمُه ان يبر على توعد به 
کے سے ر 945٤‏ رد سا روج ٍ9 گی ہی گا دے کے و و h2‏ 2 
ان صَبرَ تی اوقعوا یہ ولم یاکل فهو اٹم لات ما ايح گان الماع مُعاونا عيرم على هلاك نف 
امو ےے ۔ یں ایا سے 5 کے ۔ 2ے رف 9 4 ب 
اكم كما فی حَالَة الْمَحَمَصَةہ وَعَنْ أبي يوسف مااي أنه ليام ان رحصةء إذ الْحَرَمَةقَِمَة فگانَ 

سىۃ در ور 99ے ر 7 وو ان رور سے و ا E‏ 

اعد بالَزیْمَةء قَلََا حَالة الاضطرار مستفنى بالنضص وهو تكلم بحاصل بعد الي قلامحرم ae‏ 
له وحص إ9 ته ِنّمَ يكم ِا عَم اة في ذو العَالة لان في ككف الْْرْمَةِ اء بعر بالْجَھُلٍ 
د ر 1 “٠‏ فو ٤و‏ ,9ے ورد 
فيه كالجَّهل بالخطاب فی اول الإسلام او فی دار الحَرب. 

> وض ص ج 
زچه: اک ری کومردارکھانے یا شراب نے ہہجو رکیاگیا اور ہے کرای باضرب پاقید ے تعلق مونو حکزہ کے لیے مردار 
کھانا یا شراب پینا علا ل یں ےءالا کرای چک اکراہ ہوینس ےس یا کی عض وی ہل اک کا خرش ہو۔ اک رمک وکو ی اند یش ہوتة ای 
کے لہ ہ عل یک کرک رن ےک یکی ششش ہ گی ۔خون اور ضز کان کا کرا کی اکم پہ ہے ۔کبوکنہ بوت رورت ان مھ ما یکو 
استحما لکرنا ماب سے ی ےک کی عالت یل مہاں کوک ر مرد رت کے علا دہ یل مو ہوا ے اور عام مالا ت یں ضرورت 
نیس رتتقی الا ےکک کو اتی جان یا سض کی ہل اک کا خطرہ ہو کہا رضرب شد ید ےکی جن یا عض وک پل اک کا خطرہ ہاور 


2 آنْ ال AUS SAFER DRIER,‏ 
مک وکا نا بممان ہوک ضرب شد ید سے بلاکت وات ہو جات ۓےگی فو اس کے لے مھ رما کا استعمال ما ہوگا اور اس کے لے دی 
وی دی بر رکرنا ا :یں ہوگا چنا غچراگراس نے رک رلیا اود کی دینے والوں نے اسے اجا مک ہنی دیا اور ریا تکرک سکھا یا تو 
ریش خودگززکارہوگاءکیوکنہ جب ای کے لی نھ رما کو مہا کرو گیا تو کھا ےکی وجرسےمک رہ ایی ہل اکت ل دوسز ےکا معاون 
وکا ای ل ےگزہکا رہوگ یفص کی عاات یل لھا نے سےکزکا ر موتا سے۔ 
رت امام ابو لوست سے مر وک کک کیک ریس وگ کیو اکل ام رخحصت ہے اس ل ےکر مت مو جود ے اپا کیا 
کر ووس عزیت لکردہا ےت کے ہی ںکہاقط را رک حول تن 0 ے اور اسشاء وہ بات کی چواسشیاء کے بعر ی ل 
ماپا رمت ہوگیا اور اب ابا حت ثابت مول نہک رخست کک کرو ای صورت بی نگنگارہوگاجب اس عالت میں اے ابا تکا 
م یوت مت کے اگشاف میں خفاء ہے اپا ا یکی ججہاات ےم رہکومعدو ر ھا جات ےگا تھے اول الام یس خطاب سے 
واف ہوناعذ تھا یا دارا رب شی ر ےکی دج سے جہالت ع نی ْ 
اللاٹ: 
لالمیعة) مردار۔ (الخمر) شراب سے اسع گن ہدنا۔ ویقدم ہک رگزرا۔ الدم) خوان۔ 
[المخمصحة) شر یر حاات افطرار۔ إخیف ) اندشہ ہونا- تود دی ری جاے۔ الا متناع پ4 رکتا۔ ایا 
اسشاء۔ م اباحة) ہا تزفرارد ینا۔ وإ ر خحصت ) کپھوٹ دینا۔ ® 
ری نویا تکا اکراو: 
صورت ستل ےس ہک ار کی کوشراب پے یا مروا رکا نے ا خزیراورخون اسما کر نے ہجو رک گیا تو ہد یما جا ےگ 
کہاکہا ھک در ےکا ے؟ )کہ یر اکراہ چان سے ماد ےکی یبای عضو کے پلا کر ن کی تید یدااوروازننک ‏ شقل ہواورکر واو 
قوف 6 وکر ہک جات بل نہک رنے سے جان با عضو بلاک ہو کے ہیں نے اس کے لے کنو عات وھ رما کو اسما لک ےکی 
ھاش اور اہاحت ہوگی۔ ال لے مک ہضرورت کے وقت شریعت نے محرمات کے استھا لکر ےکی اجازت دک ے اور استعال تہ 
کرک صورت میں خودمعخطراورکر ہک مجر مقر اردیا ہے۔ ال ۓی کش راھ تکی اجازت دباحت کے بع ری جب ای ےکر وعلی کو 
استعال کی ںکیا نو انی موس اور پل اکت گل وہ دو ےکا معاون اور یر دگار ہوگا اوراس اختبار سے ا یکی مورت میں ورش“ اورخود 
سوز یکا اش شمائل ہو چا ےگا اور یی تحص کی حالات میں اگ کموک 023 انان کر کے تم ن گناہ وتا سے 
ای رح صورت مسل میں کی کر وھ یگزگار وگاب یہی جمبودفتتہا ہکا قول سے اور ای پر کی ے۔ 
اس کے برغلا ف امام اب ولوس سے ایک ددایت ىہ ےک ورت ستل م ام چ نہکھانے سے ایی جا نگنوانے دالا رہ 
گنپکا ریس ہوگاء اس لی کہ بوت ضرورت را مرکو استعال کر ےکی اباحت درتقیقت رخص ہولی سے اوراس میں مت موجودرتقی 
ےا وراگ رکنش رخص ت پک ل کر ے۶ بیت کک ےو وآ میں ہوتا ایر اصورتے سل ہیل ہر ویآ ہیں ہوگا۔ : 
ہو رک طرف امام ابو یس کی اس ردای ت کا جواب ہے س کہ عالت اطرار ںی حرمت ضحم ہو ہا ہہ رآ کرم نے قد 


0 لیے بلر0) EAGAN DSI‏ اکا م اک راو کے بان س :1 
فصل لکم ماحرم علیکم إلا مااضطررتم ران میں ے عالت اضطرا رکو رمت سے سم کروی ے لپا امات 
اا حت ہوگی رخص ت ہیں موی ہاں اتتاضرور وکاک کک واسی صورت می ںآ م موک جب اسے بمعلوم ہوکش بجعت نے اس عالت یل 
رما توصلا ل اورمیاںح رار دے دیا ے٭ ای ل ےک کرم کا عات میں تپ ر ہل ہون ایی ام رے اور اس سے خوائس بی واقف 
ہیں :لپا اگرکوئی کر اس علت واباحت سے واقف نہ ہو ا لکی جہالت مزر ہوگی جیے ابر اۓ اسلام می احکام اسلام اور فر وع 
شوہ ہچ و ھت شدوت نی سای 
شا رکیا جا ےگا اور ادات کی وچ ےکر وحور ہوگا_ 


ان ون ار علی افر اللو تکالی واد بال أ سَتٍ رَسُولِ اللو صلی الله علیہ وََلم بق از 


یک ا تو سس وس ہر ع ر و 
ارہ رازہ کشو ی پاخزاو فی مرب اہر ین مر کھی الکفرہ ورم أ از زاخری ر 


بس شی سش رسس ربہر سے 81 
ليت عكار بن ار کا حن بتي به و ذل کہ ل تا ينت جذ فلك قال مما بات 
کل علو ام کی عق ات رر ترک یی زیڈ طز ره را ق زی هه ا 
بھا الإظهار يفوت ت الإِْمَانْ حَقيْقَة ليام التصدييء رفي اناع قوت النفس حَقیقة حقیقَة حَقِیْقَة يسه المَْلَ ! إليهء 
ل کن صر لی ی ولم غر نکر گن اورا خی ول تر علی ذلك خی سیب رسک 


9 ا 


سو لله علله لام 


ہے کت 


وہ 


ت تھے ل لے م وور ر ٴُ 
سيد الشَهَداءِ َال في مله هُو رَفيْقيّ في الْجنة ولان الْحْرْمَة باقية رالإمجناع 


و 3ے 


لاعزاز الذين r‏ د م تقدُم! للاستفتاء . 


تر چه: نات ہی ںک انحو بیش یق کوخہ اکا انارک نے یا حضرت اک رم کی شان اقدس میں سب بش مکرنے کے 
. یر وی باضرب کے ذر ہی کو کیا گیا او ہے اکہا یں ہوگا یک ای چ ےاکرا وکیا ہا ے یں ےش ماس یع وک ہل اک 
کا خرش ہو کیوگہ ان پچچڑو ںکاا اكرام جب شرب خر می میں ےکر کی ےمج رہوگا ج بک کرک حم ت شر بغر ےکی 
زیادەقت ے۔ 
فرماتے ہہ یک اگر جان یا عضو ہل اک یکا مر ہو و رت 2 9 ل ےر 
کے اور اگمراس ےکا کف رکو اہ کرو اکر اکا ول ایمان ۶ے ےی تھ اس پرکوئی گنوی موا ا کی رل 
ححقرت نمار جن یا رٹ کی دہ عد یی س ےک جب انی اس عالت ںای ہونا ہڈا تو خضرت نی اکر ما نے ان سے در یات 
کیا تھا ای وت تار ےد لک یکیا حال تی ؟اآغوں نے ۶کیا میرا دل ت ایھان کے تعلق کن تھء اس رآ پا نے اراد ۔ 


۶2 الال 707 SARE SS‏ ا 
رما ا کے اگ روہ لوک ووبارہ ا یں لص نک ر لین کی ع ارک ہی 
ازل مولیےإلاآمن آکرہ الخ اوراس سی کہا رع کے اظمارے یق ایران فو ت یں مو کیرک رل میں تمر ان مول ٤ے‏ 
ج بکرائارکر نے میں ٥ق‏ سکوفوتکرنالاز مآ جا ہے اذا ظھارکرنےکیکائش مکی فر با ہی ںکراگ رر نے ی رکرلی ا یک 
الا گیا اورا ےکفرظا ہنی کیا تو وہ ن و اب ہوگا ای ل ےک تضرت خیب ری الشدعنہ نے ای برع مکی یک یں 
سوٹی دید یکی ی اور مم نے یں سیر الہ ا ہکا نام دی تھا اور یل فر مایا اک وہ جنت میں میرے ر شی ہوں گے اورا 
سس رش سے ال موت نو ۱ 

کوت وہاں اشا ے۔ 


اللاٹ: 


ست ی شف رن مین 12 - یور ی )ر کر ناءکنا یکنا “م با تک را - اظھر 4 تلا رکرا ام ر 
ہں به بتلا ہونا۔ وا لامتنا ع رکنا ہف رنا۔ صلب پیا سو پر چ د جانا طرفیقی ہہ دوست ‏ ساگی۔ ۱ 
© رواہ البيهقى» رقم الحدیث: ۱۷۳۵. 
© قال الزیلعی غریب .۳۸۲/٣‏ 
: اریز اواورلو ن ساف راکراو: 
ستل ہے س ےک ہاگ رنھوذپائق ریخ کو ای بات کے لے ہو رک گیا کی دہ ابنی زبان س ےک کف مار یکرد ے ی الحیاذ بائ 
حضرت رسول اکر فی شان انرس م ںکتا یکر ےت وکر کے لے اک صورت میں ھکر و کک نی لک ےک ناش موی 
ج ب کہ سے جان بار کے با کی کض وکو پلا کر سے ےکی دی دی مو اور اتنا اور اور طاقت وال ہوکہ ا کی امام دی پر تادر ہیوک 
ال فد رخنت می کے !خر جب ترما تکااستعال مہا ہیں سے نذا کف رکا ہا کین موک ج بک امم کے میا ہونے 
0 لا کف رکا ا ظا رڈ امین ہے اورا یکی مت مر مر ش روخ زے سے بہت بلند ہےء اس ےا از کی مرت عر کے 
لیے ش ربج تکام ہے ہ کد کر ہیا بات کل وکر ےکن تقد کر لے نشی اہین د لکوا یمان ےم ر کے اورصرف ذبن 
سے ادل ناخواستردوکلمات ار کرد سے او کات ری س ےک ایی افطاکا اتا )کر ےجس کے دی ہوں اورر عکف رما ت ہا 
0 کر سے  -‏ 2ص 7۶و 2 
حر ت مار جن پا رف کی عدیث ہے ج وکاب شی مو جود ہے اورا سک ہر رج موا سے_ اور شی ول ہے ےکیہایما ن تح ا : ۱ ۱ 
تچ یک نام ہےاہنرا اگ رقلب میں تد ان موجزن ےق بال اکراہ ز با یحلمات سے اس تھ ران پر انیس ہوک ںہ ہم مورت 
میں اگ مز وھ رر نے او رکفازوکر ین کے پاتھوں شی دکردیا جا فو اللہ کے بیہاں ا کا مقام بہت جلند ول خہوگاء ای لی ےک 
حر یب ری الشدع کوب کر نے اورشہید ہوجانے برنخر تح اکر نے بے دہ ہاں فزاء نایا تھ اہ هو رفیقي في : 


و ایل برم) ARE SSI‏ امام کر کے ان شش جا 
الجن ا سل یی ویل ہے ےکہ یہا ں کی ا اورنص م کف ری کما ت کے اتلہا ر اور اج رامک اسشا ی سکیا گیا ے اس لیے اس 
کی حرمت چاق ےکی اوردی نکی سرع روک و بلندکی کے لیے ای ان پچھاوکرد ینا ھی ز ایس کا متصداورحیات جا ودای کا تصل 
ہےےاس یی یہاں عز یت بش لکرن ھائ کی ب ہہت رگ ہے۔ 


ال وَإِنْ رة عا ضر وو کو یہ و کو ر ےد وہر ود دگوے, ہے ےم 
قال ؤإِن اکر على إتلافِ مال مسلم بامر یخاف منە على نف او على عضو من اعضائه وسعه ان یفعل 
وہ Ed 9٤‏ 


م و رو2 7ھ 
لمخمصة وقد تحققت» ولصاجب المَال ان يضمن 


کھو ووس و2 وي 


ذلك لان ال الغير يستباح إ ورو كما في حَالَة ا 
7 ۰ 0 ور f‏ ۶ 5 ت ت 4 - ے 
مره ِا مره اله ِلمکرہ لع يصح اله 5ه وَالَِلاف من هدا ايء ون أكرة بقعي على کل 


م 


1 . 
ر9 2ے ورش وڈٹہ ہے د ي 27 ووش ۶ے وروی 


وی ٤‏ و 9 ا و2 ۶وو 7 

غيره لم یسّعه ان يقدم عليه ويصبر تی يقتل فإن قتلة كان اثماء لان قتل المسلم مما لايستباح لضرورةٍ 
ەھ ب ب 2 2ب 2 ۴ دور وا ر 2 ا کو ھا نیپ ا کن ور ےم 5 
ا فكد بھلذہ الضَرٴوْرَةِء وَالْقضَاص عَلی المکرہ إِنْ ان المَتل عَمَداء قال وَھٰذا عند ابي حَنيفة ية 


یی ٹیہ جب لبهم لزکر وا أ عل من لكر حَقبقة جس رارع مُکمَ عه 
س لقعي فی وپ لمر وؤ علی ارہ اش وجو اسب إلى لقنل ينه وليب 


وو ور 


في هذا حكم المباسَرَة عند كما في شُھُودِ القَصاصء وَلابي يوسف أن لفل قي مَفصُوْرا عَلی المُكرہِ 
ہو ت کی او لے ہے دو رر ور E‏ رر وہ ہج ورو دہ 2 سے 
من وجو نظرا إلى التاثیمء واضیف إلى المكره من وجو نظرا إلى الحّمل فدخلتِ الشبهة في كل جَانب» 


ہر کھے۔ ۴ 7 9 2 کے 2 ر 1 < ور اا 4 f4‏ 9ے دے د ۶ ٤‏ یھ 
هما انه مَحْمُول عَلی القتل بطبعه إِیعَارا لِحَیاتِہ فََصِیَر ال للمكره فِيمَا يَصلح الة له وهو الفعل بان يلقیَة 


َيه وَلَاَصْلحٌ اله َه في اْجنَيَة على ديه قي الل مَفَصُوْرا عليه في حَقِ الُم كما تقول في ارا 
على الإعتاق» وَفِي كرا المَجُوْيي على وبح سَاة لعٍ يقل مل إلى المُگرہ في الِنَلافِ دُوْنَ الگا 
ختی يحرم دا هذا . 
تڑچه: نات چ سک اگ رس یف سکو جان ی عض وک بلک تکا خوف دااکرسی سلا نکا مال ہلا ککر نے ریو رکی کیا وکر ہ 
کے وک مر ےکی کیتش موی کرو ضر ور کی وج سے دوس ر ےکا مال مہا ںکرلیاچاتا سے بے ص کی حاات میں ہوتا ے اور“ 
یہاں رورت تق ہوچی ےاورصاپ ال لن ےک وور ہ ےمان وصو لکر کوت کر ولیہ تن وا ی ر کر کا آل 
کار ے اورا حلاف یی و آل ین سکتا ہے۔ 

ای وی کی ی کو زو ےل ا ا قمکز و کے لے دوسرے کیل پراققداممکرنا نہیں ے بللہ 


3 ا جلر(م) کیب نر میتی یا بر اک اک راو کے بیان ن 
اسے چا ےکی کے اورخو وش لکردیا جا او اگ ای ى دوسر ےک کرو و کی کار ہوگا کوک سلا کو یکر کی کی 
۱ صرورت سے ماب یں ےلپ زاخو رمتل بے جان ےکی رورت ےکک مہا ں نیس ہوگا۔ اوراگر ہلل عر موتو کر تما 
ہوگا۔ صاحب ہدائیأفرماتے ہی ںکہ ےکم ححفرات طرفین کے یہاں ہے۔ امام زفر وٹ فرماتے ہی ںک قصاص کک ہے ہوگ۔ امام 
ابولوسفأفرماتے ہی ںکران میس ےکی برقا نیس ہوگا۔امام شاننی و اف ماتے ہی سک دونوں پر صا ہوگا۔ 

امام زفر ویر کی ئل ہی ےکی ہک طرف سے صقت ادر حا دوٰوں ط رن رتال یا“ اہ اورش راجت نے ای یکایم 
یکنا و مرج بکیاے۔ برغا ف دوسرے کے ال کد الا گکرنےکاکراوہ اس لی ےکا می مک و سے اعلا فکا عم ی یکنا سا 
پاتا ہے لپذا الا فکودوسر ےکی طرف شو بکردیا جات ےک کر و ےکی میں امام شاش وای بھی یی دییل ین کر ے ہیں اور 
وہمگر یکی تھا س واج پک سے ہیں کیونکہ ا کی طرف ےکا سیب جن ای گیا ہے اورامام ش انی واوا کے مہا ںآ مس سیب 
کوسہ شر تکام حول سے جییشہودقھاصس میں ے۔ ۱ 

صرت امام ابو پوس کی دل ہے ےک گنا بے ہے وکر اوو ر 
رر ے ہو ریگ یمن وجنگر ہک طرف سوب سے اور ہربپپلو میں شیہہ ال ے حرا ت ط رن نکی دیل یر ےک کک وای 
اپ ند یکو وسیک خر سے :فاضا ےطیعت ا قش کل پرآماد+کیاگیا پا سے اداو وکر میں مر وک آل وگو 
کر ہے مک وکوا نخس 79 90 ر د کے جوانے ےکر ہکا آل یں ہوگا یز اگناہ 24 
نعل ل کر رگا یی ےاکراوکی الاعاقی تان مارا یی فیملہ ے اورددسرےکیبکری زئ کر نے تاق کو یکو 
تو رک ےکی صورت مل اخلاف کےا ےےل حر ہک طرفل ہوجا ےگا 20 تلق ھل عر وک طرف شوب 
یس بوگاوردہ چترام موا ای طر آل بھی ہے۔ 
اللَاتٌ: 

ہے اتلاف) ضا اکرنا۔ إيستبا ح) ماج ہوناء علال ہونا۔ «[المخمصة) عالت اغطرا کت 

مشاہرے میں قزر ےکنا کی رک۲ یع مسك ہہ ات دلا ل کر اء وکل بنانا۔ م التسبیب سیب بنانا۔ المباشر پ4 
براو راس کا کرنا۔ جالعاقیم گنا گا ر قر ارد ینا۔ ایغا را دینا۔ 
ملمان پھائ یکا الت فکرنے راکراو: 

عبارت یل وول بیان کے گے ہیں : 

)اکر یفن کو جان پا عضو بلا کر ےکی بی کے ذر میتی سلا نکا مال ہلا ککرنے وکیا گیا تو اسے جا ےک ٠‏ 
ای جال بچانے اوردوسر ےکا مال ضا کر ےکک ھال ںی رح ون م یں کی بای ف کو مزا کن ےکی رورت 
ابت سےا کر دکے سے اہن جان میک یکا اجام د ےکی کنیل موی گر چو ں کیک ہ ا یکا م یس رورض ے اورمکر ہکا 
آلہ ہےاس لیے صاحب مال مر ودی سے مان لگا اور اکل مضمان کر دی پر واجب ہوگا۔ 


) الہاے (Dlr‏ ماف را OEE‏ اکا اکراء کے انا ۹ 
ی کے ل اور کرای چان وی کت جل ق وع کے ررر 
ی مک ہک بات پک لکرنا اوران اھا م ینا درس ت ٹنیس ہے کیک سلا نکو کر کی کی عالت میں اوس یھی رورت کے 
تحت میا یں ہے لپذا اکرا ہکی وچس بھی مہاںح نی ہہوگا۔ او اکر یش قنل وہ ہو ححقریات ط ریغ کے یہاں مک ہ برقا س 
ہوگا۔ امام زفر وی کے یہان مکزہ پرہوگا۔ امام ابوبیسف کے یہا کسی برک یں ہوگا اور امام شاق ول کے بیہاں کر و اورککر و 
دواول پر ہوگا۔ 
امام زفر وٹ کی وکل یہ ےک رمک کی طرف حا ء ضنا اور سوا یڈ حل آل پاب گیا سے اورشریعت نف کی اخ وی سرزا نی 
گناہ اس پرمقررکیا ہے اپا د نیاوی سزاء ( ]نی قا )بھی اک پر داجب ہوگی اورسکر ہ سے اس کاکوگی وا سرک ہوگا۔ اس کے 
برخلاف اتلاف مال دای صورت ٹس چو ںکہگرہ گناہ سا کرد یامگیا سے ال لیے عتما ن کی ال سے ساط موا ے گگا جن 
صورت ململ جب ال پ گناہ لا زم ہے تما بھی واجب ہوگا کر ہ پر وجوب قفرا کے جوا سے سے امام شاف ولچ ھی کی بھی 
بی دمل سے اور چو ںک وومر و کی قاس واج بکرتے ہیں اس لے کر و کے تلق ا نکی کی دی ہے ےک یکر ونے می مز وکواسں 
پ گول او کو رکیا تھا اکر وہ بج رت کرت فو کہ پر کنا تاوف کت انام تہ اگوی کر ہن کا سرب اور ذ رجہ ے اورمگر و کے ساتھ 
ال جم ین شریک ہےء بج مکا رک اوردائی ہے لان پریھی تما واجب وکا کیرک ابام شاق ول کے مہا تسم بل 
کک ہاو زی یکرم اشرت اعم امل ہے بی ےاگرددووں نے یوگواہی د کہ ید نے عم رکوعی را کیا ہے ورای نے ا نکی 
گات زی راوقصاص) لک راو چھرمعلوم موا کوان عون ی اور رزندہ راو چو ںک ز بد کان ا نگواہو ںک سیب ے ہوا تی 
اھ بھی تی ق کی ہا ے٤‏ 
رت امام ابو لوست وی کی وکل ہے ےک گنا وکو و گنا لازم ے او راگ 
تح یک اورک ریش نظ رد وڈ ای ہا سے تو اض کا بجر صر ف کر ہ ےک یا یہاں وجوب تما میں شبہہ سے اورشہہ سے قا سا قط 
و چاتاے۔ 
حفرات طرین پا کی وبل ہے کہ جا نکی شی کے ذر سیک ور کی طرف سےا ننس ال برآماد ہکا کیا سے 
اورفطر تکا تقاضہ ہے ہب ےک انان ایی جا نکودوسر ےک جان پرتز ہی٤‏ دتا سے لپ اا ی ل میں تال یی مکز مآ مرس مکر وکا آل کار 
ہوگا اور وتی شتی اتل نو رکیا جا ےگا اس لیے ق دا بھی اک پر داجب بوگا ہلان چو کل کک وکرم نے انام دیا سے اس لے 
شریعت نے اس پ گناہ لاز مکیا ہے اورازو گناہ س مکز کروی آل یں ہوگا بے زید ےک رکواپنا خلا مآ زاہکرنے کے لے چان 
مار کی مکی سے کہ و کیا اورک نےکر پا دہ خلا مآزاوکردیا تو صرف اعتاق کےےتی می بل رمک وکا آل ہوگا اور و وکر و سے ضان لیے 
کان دار وکا کان جوت ولاء ےکن میں کر وکر وکا لکیس ہوگا اور ولا ممکز و اورمعضق ب یکو گی »ای طرح صورت ستل میں کی 
دوب قصا ی ےن یں ت مز مر وکا آل ہوک یا نترو مکنا ںآ لک موک او رگن ومک ہر لا زم ہوگا۔ 
وفي إكراه المجوسي الخ الک عاصل بی کاک کی لدان ن ےکی جو یکودوسر ےک یجکری فان کے کے یور 
کیا ت یہا بھی مک وصر فک حیٹ الا حا ف کل می کر وکا آل ہوگا اورمکر ہی ران ہوگا لین کن حت اکل مکو وکر وکا ضا س 


و انال جطر(٣)‏ ا ا @ 


وک ادرو وب ملا لال ہوگا بی حال صورت مت لکا کی ے۔ 


ق رن تی ای مرا از می ی قعل راع کر مت بد وڈ ا ی ر با رَد 
مر في الطلاقء قال ويرجع عَلی الذي أكرهَه بيه لَب لن صَلُع اله له فيه مِنْ حَيْب الإتادفي فَالْات 
۱ سی ریس سر سے سیت بتعا جب لشَخ رح کی ارہ 


د 99 


۱ أو لي حن الغير ولم جد وَاجذ مهما ولایرج جع المُگرَه على الع بالضَمَان لاه ماحد يانلفهء قَالَ 
ويرجع يضف مَھُرِالّْمرَأَِإِنْ گان قبل الذخوْلء » وا لم يكن في الف مُسمٌی يرجع عَلى المُکرہ ما رمه 


من المععّةء لان مَا عله گان على شَرَفِ السَقَوط بان جَاءَ تٍ الفرقة من قَبلها وإنما يََاَكد بالطلاق فَكانَ 
إتلاق ِلمَالِ مِنْ هذا وجه يضاف إلى المکرہ مِنْ حَيْث انه إتلافء پیخلافِ مَا إا حل بهاء لان المَهَرَ 
در بالل کا بلق . 


تڑچه: فرماتے ہی کار ی سکواتی بیو ی لوطلا دست ی ایتا غلا مآ زا دک نے کے کیو کیاکی اور ای نے ہکا کروی ت 
مار ے با کر علیہ وال ہوجا ۓگا۔ امام شا فق وٹ کا اختلاف ہے او راب الطلا ق میس ہمت ہگذر کا ے۔ فر ماے ہی ںک 
مز ومکز ہ سے غلا مکی تمت دای لگا ال لی ےکک حیث الا علا ف مز کر وکا آل ین ککتا ے اپا ریکل ا سکی ط ر ف موب 
:و اور شر م کے ره سے مان لین کا کی ہگ خواو ھکر و موس رہو تک مال اور غلام پر سعا یش ہوگا کوت سعابہ با لو 
7 یتک طرف کے سے ب اغلام کے ساتھ دوسر ےکا کن وابست ہو ےکی وچرے اتپ ہوتاے اور بیہاں ان س ےلو چر 
نی پا یگئی ہے۔اورعر ہ لام سے ضمان میں دی مول تمت ہیں وائییں نے سک اس لات کی وج ےم ر ہکا 
مواخز مکی گا ہے۔ 

ا ن ےگا آود ا راغ ینم نین نہ مونو ھکر مر م سے 
> لازم شد ہہ کا ءکیونکش ہر پر جھ چچز لازم ہے اس میس ساقط ہو ےکا امکان سے بای و رک ہیوک یکی طرف ے فرت کا مطالبہ 
ہا ےکن طلاقی سے وہ جر موکد موی ہے اپا ای اختبار سے وہ ما لکا اتلاف سے اورا حلاف ہو ےکی وچ ےا ےکر ہک طرف 
مضو پک جا ےگا خلاف اک صورت کے جب شوہ مز ونے ای سے دخو لکیا یوگ اب مرو لک و سے مود ہوئی 
ہے ن کس طلا ق کی وجے۔ 


271 
عق فلام زا ررم ۔ الاتلاف 4 فاح کر ۔ [انضاف ‏ وب ہونا۔ ۔ موسر 4 ۲ سووو عالء ران 
E‏ _ ل التخریج ې ان le d<‏ ۔ مو اخذ ہج کا مواغذ ہکا جاۓ۔ 


9 نا بل لام FUL BERE SIE‏ _( 
لالمتعة) ییو ی6 پر وبول الفر قة ہہ جدائی۔ ناکد ) پت ہوناء ب ہونا۔ 
پو یک طلاقی رکو رکرا: 
صورت متلہ ہے ےک ہاگ رکوئ یھ اپٹی بیو یکوطلاق دی یا اس غلا م وآ زا دک سے کے کے سے کو ہکیا گیا اور ای نے 
مک وکی بات ما نکر بیو لوطل ت د یری یا خلا مکوآزاوکردیا تو طلا بھی وا ہوگی اور بھی وا ہوگا کیک یمک مکی طلاق وات موی 
ہے۔ الہ مکز و بعد میں مر ہ سے اپنے فلا مکی تت وسو لک ےگاء اس ل ےک اس اع ق یس ا سک ضا تد فو ےکی اورو در 
کے ججبراوددہا کی وج سے اس اقدام پ مور موا ے اور ای نے مر ہ ےآ کار کےطود پر ےکا م انام دیا ہے اس لیے الا ف کر 
کی طرف سوب موک اور ای ران اتلاف داجب ہہوگا خوادوہ متس ہو یا موس ہکیونلہ عفان اتلاف کیک راور یص رس ےکوگی فرق یں 
وتا اور اک غلام پر سعا ہیں کا یکنا واج ب کیل ہوگاءاس ل ےک سحامہ ا تو اس لیے واجب موتا ے ےک خلا مکوآز اد یکی راہ کی 
جاۓ اورسعا یگ راکے اسےآزادکردیا جاۓ عالاتکہ بیہال غلام یلب یآ ز اد ہو چکا سے اور یا تو ال لیے سعایے داجب موتا ےک وہ دہ 
لوگوں میں شترک بواورایک کے اتات کے بع دای میس ووسر ےکا تن با ہو ھالاکمہ یہاں ش رت او رح خی رکا امکان معدوم ےء 
اس لیے اس ب سعا یی ہوگا اورمکر ومک وکوما نکی جورم ےگا اس رکو ای غلام سے والیں لک ےکا کن دا ریس ہوک یوت ینم 
اور رمان الا فک وچ ہے واجب ہوا ے اوران لاف مل ضا کان رج یں 
قال وير جع بنصف الخ ا کا حاصل یس ےک اکر وشوہرنے وخول اورظلو یی سے کل یالت اکراو یو کوطلاق 
دک سے اورم ر ین تھا ت شو مر و سے نصف مہ روصو کر ےگا اور بیو یکو ےک اورا رجن نہ مولز شو پر متعہ داجب ہوگا سے 
وہمگرہ سے نےکر ییو یکودےگا۔ ال لے کاک مر ہے وجب رہ اکا کی وج سے ہوا سے ورنہ کی کن تاک خود یوی فرق 
طا رف اورشھ ہرکودینے کے بجاے یوک بی سے مال متا مین طلا کی وج سے شو ہر ےن می د ینا دن وکیا ہے ابذرااسے وہ 
عکرو سے ری بیو ہکودےگا۔ پاں اکرش ہر نے وی ے نو تک یک رل ہو یا دخو لکر نے ہے بع ر اکا ہک وج ےا ےطان 
۱ دی ہوقھ اب شوہ رع رکی رم مکرہ نے کن ےکگاء اس ےک مہ رکا وجوب اورشموت وخو ل کی وجر سے ہوا ےک طاق کل وج ے اور 
شوہرنے ا می ے دخو لکیا ے اس لیے اب مر وم رکا ضا کک ہوگا یوت اس کے اکراہ سے مک کا کا اتلاف ہوا ہے 
اور مکل کا با لڈل ے فلایضمن المکرہ باتلاف مالیس بمال۔ 
ولوا تر ةَعَلَی الیل بالق رالاق فَفََل الرکیل جار استحساناء لان راه مړ في قَسَاد الْعَفْدء 
َالْوَكَالَه لاتبطل بالشروط المَاسدَةء ة» ویرجع عَلَی على المُگرہ ! اسَمَحْسَانا لان مَقْعٌ مقصود المُکرہِ َوَالَ ملکہ إا 
بار الوكيل والنذر يعمل فيه الإكراه ته ايحتل اْقَسْمَء جوع لی الْمُکرہ یما لَرمَهُ ن 
لامُطَالبَ لَه في انی َلایطَالَبْ به فيا ركذا الیْمیْنْ رَالظهار لايَعْمَل فِيْهمَا فيع فيْهما الإ کر راه عدم احَيِمَلِهِمَا الْفَسعَ 


ET 


و 9 دودو ور - 
ل ءوَالْقَیء فيه باللسَان ل نھا ها صح مَع هرل وَالْخَلم مِنْ جانبه طلاق أو يمين لَاَعْمَل 


۱ ۱ 
SDSL ds‏ سے رما عورش حم 
ور 9 ر وار س ووو ور >۔۔۔ کو۶ و چا او گنت سا سس 2 

فيه كرا فَلَوْكانَ eS‏ 
ےن و . کو وم ELIT‏ 2 لے 
َجَبَ عَليه الد عن آبي حَيیقة ری إل أن َكرِمَة الس الا کا کت واج تنا ول 


سے وو و I‏ ا 


لایلزمه الحدء وقد ذک راه في الْحدودِ. 


ترچه: فرماتے ہی ںک اکر یک ضکوطلاق و سے یا اپنا غلا زادکر نے کے لیے وکیل بنانے پ ریو رکیاگیا اور وکل نے دوکام 
کر دیات اتسا پتل جائز ےء ای لی ےک اکر وفسادعقہ ںاو مو سے کان وکات شروب فا دہ سے پاک یں موی اور گر وا 
کر پررجو )کر ےکا ای لی ےک کر دا مقر ہے ےک (اگر ولیل وہل انیا م دید ےا )مک مکی کی تم ہوجائے۔ اورنذ رش 
رام نیس ہوتااس س ےکرنذررمیس نے کا اتا فی موت اورک و جو چ ڑ لازم ہیئی ے اس کے تخا و ومک پررجوں یں ہوگاء 
کیک واس اس ےکوی مطا س ے اما کر ہ عليہ کے تحلق وی یں اس ےکوی مطا تش ہہوگا۔ ا ہے ی کین اور ہار 
مکی اکراو مو ہیں موتا کیوئکہ دونو ںی ب کا ا ل یں ریت _ ر جع یکر نے ایل ۶ک نے اورایلا ع زہافی رجع یکر ن گا ۔ 
بھی یم سے ای ل ےک مہ چ زیی ال لیے می یں جزل اود براقی مم کی ہج ہیں۔ اور شو ہرک طرف سے طلا ہے ی کین ہے 
اورا میں اک راوس کی کا اکرش ہر کی کے ایغ کر نے کے ل اکرا ہکیامگیااورعور وقلع ورک کیاکی تو عورت بر پل 
لازم ہوگا کوک ای نے ہنی بدل اپے اوپ لاز مکرلیاے۔ 

کرک سکوزنپ کیا ق ما اعم یھ کے یہاں مز ہ انی بعد داجب ہوگی الا یک مہ سلطان ہو_حنظرات 
صا ین مووا فر ہے ہی کرای میں موی او کاب الی ووس تم اسے با نکر ے ہیں 
اللغأث: 
التو کیل چ ولیل باناء دکاات دینا۔ طاقبطل ) پال ہونا تم ہونا۔ فإباشر کچ براه راست خودشل انام دینا۔ 
لار جع رجو نکر یلپ یوی سے کب کیا ےک مھا الفی )رج ۓ۔ الھزل 4 ذاق ۔ نعل )یوک 
سے نی نےکرزوحیت سے فا کرنا۔ 
اویل طاق اکراہ: ٰ 

صورت ستل یہ سے ال ی کو چان سے بار ےکی مکی دم ے کرای یو یکوطلاقی د ےۓ ی اپنا غلا مآ اہک نے کے لے 
وکل جنانے بر کو رکیا گیا اور ای نے ا کا موں کے لیے وکل بنا دیا اور وکل نے ی رکا انام دیدیا نو ]طن اورعتان دوٹوں 
زی وا ہوجا تی سکی کن تیا آوائع اور تاف یں ہو ںی ای ل ےک اکر اوھے وکا لت پل ہوجائی ے اور وکاات اگل ہونے 
کی سورت میں وکیل کا حل تاف یں موتا جا مش رلت نے اقسات ا سے جاتر ارد یا ے اور جوا زک علت یہ بیا نکی ےک اکراو فاد 
عقر بی موز ے ن عق رمعت رتو ہوتا ےکن اکرا مکی وچ ے وو فار ہوتا ے۔ اوراکراو شرا فاد کے درج میں موتا ے اور 
وکال وط فا سدم سے فان داور پا ین چو اشن لے اراو ےکی وکاللت اط لین موی ادزا شام ویلک کل ورت اور 


ANS SFL SSID ai 
چا تد وکا کر د اور موک کا جونقصان ہوگا ]شی بیو یکا مبرادر خلا مکی قبت دوکرہ سے والیں لگ ےکا تن اورجماز موکاء کیرک مک وک‎ 
مق ری بی س ےک اگ ر وبل قح لکرم کواضام دید نو اس ےکر کی کیت زائل ہوجاۓ ادرت دای کک کی صورت میں مکرہ‎ 
ملف ہوگا اور ناف ضا ن ہہوتا ےالہفرا ہشکر ھی ضا ہوگا-‎ 

والنذر لایعمل فیہ الإکراہ الخ ا یکا مال ہے ےک نز ریس اکراو مو ہیں ہو ن اوس نت 
گیا ڈمکی د وکا کاو زوزہ با کین ےا ان لک گی کوک زر س ر کا اتا لبیل ہوتاڑے؛ 
اس لی اکرادجھی اس میں میں ہہوگا۔اوراس اکراہ س مک ہ پر ج یز ازم ہوئی ے اس کے تاق وکر و سے رجوںنہی ںکرکتا, 
کیڑک کہ پراڑی نز لازم موی سے جے اکر دہ نکر ےلو ونیا یں اس سے مواغز وی ہوک بل ہآخرت ٹل باز یں موی ءا 2 
سر بھی ونیا کر ہ ےکوئی مطال یی سکرسکا کین او تھا رکا مبھی نز د ےمم جیما ہے شقی ىہ چ ب کی اکراہ کے ساتھ ورست 
ہیں کیہ نز کی رع ان می بھی رک ٹنیس جونا۔ اگ ری نے اپی ہوک سے رجع تکرنے با الا مک نے ىا ایلاء سے وہای اور لی 
ردص یکر نے کے ےکس یکوجبورکیا فو اکرا کے پا وجو دنک و رن انا فال ی اا کف اور ہوگی رک رت اور 
ایا وغیبرہ زل اور نرا کی مالت مش لبھی درست ہیں اور ج نز ر لکی عالت می سج مو وہ کا اتا لنئیں کی اور ج چ غ کا 
اتال یں عتی ان میں اکرا وموک ہوتا اورٹح الاک را ھی وو و ے۔ 

والخلع من جانبه الخ صورت متلہ یہ ہک ہاگ رٹ کواں بات کے لیہو رکا کیا کردم ای کیش ع کر نے اور 
سن ع نکی وا لاق شا رکیا جا ےگا اوراکراء کے باوجود سک بنا ا بالر رف ہر ارا ہواور یی اکر اہ نہ ہو 
تو یوک پر بد لع لا زم موک ءکیونکہ یوی قلع اور بد لع قد کر نے پرداشی ے۔ 

قال وان آکرہہ الخ اکا ماگل مہہ ےک اکر کی سے کی کو نا اود بدکاری کے لیے جو رکیا ت امام عم ولچ کے بیہاں اکر 
کرو سلطا کے ملاو کول اور ہو زی پر جد موی ای س کہ جب خی رسلطا کا اکراہ ہوگاتذ ظا ہر ےک تامس زالی ک بھی پھ رل 

بی موی کوک اشا لہ کے لخر زا شن نہیں ہوگا او لہ بیس ای وقت اختظار ہوگا ج بہت او رمیا معت کے تل انان ہچ 
ا ایل اریت ال اگرسلطان مکر ہ موتو زاف بر دیاش موک ءکیون م دک مقصید زج وتتبیہ سے اور اکراہ کے ہہوتے ہہوئۓ ای 
مقص رکو ی لکرن ےکی چنال شرو ر ت نہیں ہے ۔حضرات صا کین ےتا کے بیہاں زالی طاق دیس ہوگی خوا کر م سلطا ہو یا 
کوئی اور یرہ ہر طاقت ورادر زو رآوراکراہ پرقاور ہوتا ہے۔ اور بجر انل یل بے وضاحت ہیی ےک شرت امام 1م ول ا کا 
ور وقول پر اورک کے اختلاف ہق ے۔ 


ور ة على الردة لم تبن امراته من ا نٌ الرَة تعلق بالإغْیقّادِء ال تری اه لو گان قله مَطمَينا 
رو و ٹرولاوسں دیھے۔و 2و( 


فر وَفي اعتفَادِہ الَکفر سك ليشت البينر تة بالشكء قن قَالتِ المرأة قد بت منك رقا قال 
قد اهرب ذلك وَقلبي مُطمٌَْ بالْإِیْمَان الول 07 سیسات بان الفط کيرموضو ي رة رهي 


ق 


بالايمًا 
و 
جو 


رو 


ال الا غیقاد دومع اکا يدل على التدّل گان القول قول بخلاف راه عى الِسّلام حَيْث 
يَصِیرٌ به مسلمًاء كت احمل امحل رخا سام في الحالن ل یناز رلايغلى. وها بيان الحم 
آت وتا تن زی الہ کی إا نة ی یی ول رة علی نلام لی می ندیه که 
زجع لم يتل لمن الم وهي ڈارنڈ ِء ول قال الذي رة لی إجْراء كلمَة الكفر حبرت عَنْ 
ور وت منه حکما لا ديائة اه اکر آنه طائع پاتيان مالم يره لوحكم هلا 
۱ و ردت مَاطلبَ مني وقد عَطرَببَالي الَيِرَعَمَا مَطی باَب ديانة وَفَصَاءء اه اق 
اله ميتي بال مر ازل به حَیْث عَم تفه ا رھ ار و و و کی 


وَس محم الي عليه لسم قعل وکال وُت بو الال تعالى ومحمدا خر غ غير التي عليه 


4 


السام بَا منه فَصَاءٗ اديائ وو صلی للب و :مما الي انه الم کڈ حر اله 


0 .7 ص 4 رھگ ہے 71 
الصلاة لله تعَالى وَس سب عير النيي عَليه السام بات ينه د دِیَائَة وَقضَاءلِمَا مَر. وقد 


2 


او ٤وو‏ 


في کَفاَة المنتهىء» والله اعلم . 

تنجہ: فرمات ہی سک ار ی کوم تر ہوتنے جو رک گیا توک 7727 ر 
اعقاو سے ہے کیا وکت کیک اکر ا کا ول ایمان کے جوانے ےہک موو و وکا ف ریش ہہوگا اور اس ک ےکف رکا اعا رک نے میں 
تک ے اذا کک دج سے جوت ثاب ت نیس ہوگی۔ اورت کے ٹیل تھ سے پاک ہو ہوں اورشو پر کک میس نے ای حال 
می سکف رتا کیا تاک یراول ایمان ک ےتیل مک ن تھا تق اسان شوہ رکی بات مت رہوگی اس لی ےک یکل کفرفرفت کے ےکی و کیا 
گیاے ج بک فرقت اعنقادکی تیر بی نے وا ع ہوگی اوراکراہ کے ہوتے ہے ب لفٹاتی رل عتتا دک ولی لیس موک ار اش ہرک بات 
مت موی ۔ برغلا ف اکراویگی الا سلام کے چنا خی اکراہ مر لدان ہو جات ےگا ءکیونکنہ جب اس لفظ یش اسلا مک قص کر ن ےکابھی 
اخال ہے اورک ےکا بھی اال ہے و ہم نے دونوں عالتوں میس اسلا مکوت بی ویرک اس لی کہ اسلام الب ر ہتا ے ‏ مغلب 
نیس ہوتا اود ی یا نام ہے ن ٹم بین ون اشا اگ راس کے ول میں اسلا کا انفائئیس سے دو لان یں مرگ 
۱ ری کواسلام لا نے کے لیے و رکا گیا اور ای کے لمان مو کا فصل مرگ ار امام ے ریا وا ےی یا ۱ 
جا ےکا ۶ھ بس کے مرن نہ ہو ےکا شیب موجودے اورشبر داع 7- ند 

اور اکر کرم ےکی اک یں نے ز مات ا کی (چوٹ) دی مالک یش نے زات ا سایس کیا ھا تو ال کی بیو 

کال سے بای ہوگی ء دیا بائ نی موی وکاک نے اق رارکرلیاہ ےکر ےک رکف کان مکیا ےا اگ چرازراہہڑ لکیاے۔ 
| ج بک کفرز بان پلانے کے ملا ووی اس کے لیے چا ةکارتھا۔ 


0 نا بل جلی۴) کر SOE‏ اام گرا کے مان می .ح۲ 
اکم ہے جب اتےصلی بکا کچد ہک نے پیا صرت واو( العا ہلل ) سب بش )کر سے پرجبو رکیا گی او نس نے ۱ 
کرلیاادد یو ںکہاک یش نے اس س ےک رہ خداکی تبی تک کی اور حر اک رتو کے علا دہ دوسر ےمج کومرا دا تھا تو ناء سکیا 
یوک بائنہوگی دیانے با یں ہوکی۔ او رار ای نے صلی بکوحجد ہک رلیا اور (العیاذ اٹہ ) حطر تکوسب وتم کر دی اور اس کے ول یں 
۱ اھ کے ل کہ وکرنااورخی ری یکوسب وکر ےکا خیال تھان ا لک یوی دیانے اورقشاء پر وط رع ہا ہوجا ےگا ءاس وکلک وج 
سے جوگذرچی ہے ۔کفایۃ ای میں چم نے اس رمز یرم واو کر دیا ہے۔ وار کم ۔ ۱ 
اللفؤاٹ: ٠‏ 
بار دة مرن ہوناء اعلام سے بر جانا (الاعتقاد ) قير تز ہے ڈاپبینو ذة ہچ میاں بیوئی کے درمیان جدائیٰ- 
[التبدل )ت بی ۔ جار جحنا ہ74 بد ینا۔ یعلو ‏ فاب ون بلند ہونا۔ إیعلی عليه مغلوب ہونا۔ اتمکن ) 2 پلڑناء 
ترا با إدارئة) ہا کہ نے والا۔ إخطر بال دل میس خیال آ نا کا گزرنا۔ إمبتدیئ ‏ ابنا ہکن والا۔ 
پڑہھازل نا نکر نے والء نی یرہ 
ار او اکراہ ٹل نی تک اتپا ر: 
عبارت میں پا رک رکود ہیں جا شاء ا شرب بیان مصن فآ پک رمت مس پیٹ کے ہا س کے (ا) ای تو سکومرنر 
نے ورک گیا رحو پاٹ وہ مر ہوک کین ا کا ول اندر ےکک تھا اور ایا سےگھر بو رتاو اس کے ار ادکا فیص یں ہوگا 
اور نہ تی ا کی ییوک اس سے پاک ہوگی ؛کیونکمہاکرا کی وج سے ا کف یل شیک ہے ادر کک وجہ سے توت وفرقت نابت 
نیس ہوٹی ء پیز فرت اس وقت خابت موی جب اعقاو تیر یآ ہاے اوراعنقاد یں برضاو رشبت تید گی مون ےک کر واکراہ 
۱ اپا اس جوانے ےکی ا مک کی یوی ہا یں ہی ۔ اس کے برخلاف اگ رک یکا رکواسلام لا کے کے لیے ہو کیا گیا اور اس 
نے الا تیو لکرلیا ت م اسے مسلمان قر ار دی دی گےء اس لی ےک اکر چ ہے اال تام س ےکر اس نے ول اور اناد سے اعلام نہ 
بولک x‏ تم ےاخال کی موچور ےکر دہ ول ےلان گیا ہولبفراان رونوں یش سے جوکھی اخال ہو پہ رمورۓ وولوں 
عالتڑں میں جم اس کےمسلران نی ہو ےکا فیس کر ہیں کے ”لان الإسلام علو ولایعلی“ ف الحالی ن ک فی ر وی ے جو 
اتقرن عمق کی و ہے حضرات نے فی الحالین سے ارہ ادظاہرکر نے اور اکرا وکی عالت یں لان ہون ےکی دونوں حا 
راو لی ہیں-۔(باب:٭/ ۰ رحال اک مک امان کے اسلا مکا مہ فصل ا ہرأاورقضاء موک اور دیا ا یکا موا مل الہ کے حا ے ہوک 
چنائ اکر ای کے ول میں اسلا مکی عبت اورمظم یں ہوگی تو وہ دیات مسلما ن کں ہہوگا۔ اور لدان اگ رفیصل“ اسلام کے بعر 
اسلام سے پھر ہا سے و ا ےك یی کیا جائ ےگا اس لی کہا کے مسلران ہون ےکا فیملس تی اون تی دی ےکی نک ا اہ 
بک اخا ل اسلامکوت نی در ےکک امیا تھا ور اس اخا ل میس ہے ا حال مو جودت کہ ہوسکتا سے وومسلمان نہ ہوہ او رکف ری ہام ہوذاا یکا 
ار ادعی میں ہےءاسل لیے اس اتال اورشم کی نیا د ر ا تیآ یی کر بی گے > کوک شمہہ سے صد ودا یوچا کے ہیں- 
(۴) اگ رر ری ا ا نے اضی سک زک ن تخل ق مون خر 


ر AER SSE u Û‏ امام اکر سے ماش ا 
دک یھی اورکف نمی ںکیا ھا تو ا کی بوک اا اور ضاءال سے با کموک دیاٹے با یں ہوگی کوت ا ےکفرکرنے مکو کی گی تھا اور 
ال کف ریخ ردک ہے اوراخبار پر اسےمجبو رکا کیاکی تھا ای یکو ا اس نے ماضی میں خو یکف رکا اق را رکیاے اور ماضی میں نوی ا 
کف رکا اقرا ہک سے کے بح د اکر مقر اس اقرا رک کک ی بکمردے قد یانے ا لک بات مت رہوگ نین تیدا ءا کا اتبا ری ہوگاءاىسی لیے 
تم نے قتا ءا مق رکی بیو یکوال ے ہا تقر اردیا ے۔ 
( )کر ءکپتا س کک کف ر کےا جرا اورا تلہار سے می راقص رتو بی تھا e‏ کل 
یس ہے خیال ت اک میں ز مان ای کےکف رکا ہا رکرر پا ہو ں تو ا یکی یوک دیا اور قضاء دوفو ل رح اس سے پا ہو جات ےگا ءکیولہ 
سے خو یکل کف ریا مکیا ے اور اکر ہو لکواورول کے خیال ارقم کو ای کی طرف کر کے و ہکف رکا نراق اور بر کرد یا 
سپ اور ییا م گی کے مہا سے اکرو لکوایمان سے رکتا و دیانے کافرہونے ے ت جاتاحیٹ علم لنفسه مخلصا غیرہ کا 
۲ بی مطلب ہے نین ا تقاف دل میس لاک گیا حال اور ای دونوں بیس کرک ۓ والا سے اس لیے دبا اورتضاءدونوں طرں ال 
گی وگ اس سے باک ہوگی ۔ ال مک کی ای ک تقر بھی ہوکتی ےک انس نے فی الما لکل فکف رکان مکیا اورا ۓآ پکواس وبال 
سے بچانے کے لیے ز ما تہ ای می سکاف ہون ےکی ھون نہر وی گرا یکی مت یی رکام ہآ سح ال ل ےک فی ایال اس ےک ہکن رکا 
تن مکرلیاہے اس لے اہ رات قاضی اس کےکف رکا فیصلہکر ےگا اور باطن ]شی دیا ا کی بیو کے باصن ہو ےکی دش یسپ هک بل 
اوراخواف کےطور ہرک یکن رکا وی اظہارکنفرے اورک کف ر ےکم سے ہراتقبار سے یوک ہا ہوجالی سے ۔ ۱ 
(7)وعلى هذا الخ أ ایشا میب کےا عر وکرنے پانتوز پال ر حمر تہ ارم کد برا بعلا کے کے س ہو کیا 
گیا اود اک نے بیکا کدی رک کک یل نے ا بد سے الل کے لی بد ہک ےکی می تک ی او رآ جاۓ مرف کے علاد وگ 
مر سی ےکا اراد ہکیا ھا تو ا یکی بیوئی اما اوقتا ای سے باک موی کیرک اہ راتو اس نے ود یکا مکی 
سے جومگر وکا مقعم رتنا لمت باطنا دہ ووسر ی شک اورحالت مراد لیے ہو سے سے اس لے باطنا ا کی تد لن نوی اور دبا ا یکی جیوگی 
اسے باتو ہہوگی۔ اوراگک راس نے صلی بک وکر وکرلیااورنتوذ پاوقہہمار ۓ حطر کو برا بعل اہو یاعد یش سے کک مرا خیال تا 
تین نے ال کا جر ہکا ہے اور کرس کے علادہ دوس ر ےم ھکوگالکی دی ےکی بات ول مھ نھی ت اء ادرو یا 77 ال 
کی ییو اس سے باک ہو جات ےکی ءکیونکہ اس نے کو یکچہ کیا سے اور سب وتک ہل اضجام دیا ےکیوکہاسے پارا ےک اس 
نے یکا مکیاہے الک بات س ےک دہ خطر ببالی ال کک کر ا کی ج تک برل د پا ےکن اب اس کان میس جہ تک خبد کی 
مفی ہیں ہوگی اس ل ہکا کا ھکر اور مر مکی بکد با کاک نے مرا کا مکیاے او اکر ای کے ول یس دو ےم کوب دم 
کک باتک فو دہ اک ت رکوگالی دتا او رمک ہ کے سا سے ای کے با پکا تام لے لیا یا اسے ا لکی قو مکی طرق فو بک ے 
١‏ سب وت مکرتا اور مرت کان حفر تج اکر مو برا بعلا نو تا صاحب پرا یتر سے ہی ںک کم ن ےکفایۃ اتکی میں اس پرھزید 
مواداورخ راک م کردیا ہے جے یہاں کی اور تہ موو ہو پال سے سرا فی ماک لکر نے۔ وان گم وغل آم 


¢ 


و a‏ مھ OG $Y‏ ےصرع مر ےر 


:. | 1 
۹۹ مم © ۰ 
2 = 
اتل سے متاسبت: ۱ 
کاب اگج راو رکتاب ال کراہ دوفول می مناسبت ہے سے کہ دولوں یس ولا یت اورتصر فکوسل بکرلیا جانا سے مان اکراہ س 
س و کن ہے اورت میس نان الق رت او رغی تار سے ولا یت تصرف سل بکی جا سے اس ااه 
کا ساب سلپ بر سے اتو ی ہواای لیے صاح بکتاب نے کتاب الإ کر ا ہک کتاب الحجر سے پل یا نکیاے۔ 
اوی اورر ی ن: 
حجر کلغو ی ن ہیں : ر وکناء ت خحکرنا۔ 
بأی سبب کان۔ ن مج ر کے اسیا ب ٹلا ٹیٹس سے کی کی سب بک دج سے ن رکوتصرف ےک نے اورروک ےکنا مر ے۔ 
ہے جج دے ھ اوو در و ے ص9 س 97 اس ڈوئلدو ےت ودوےڑ 0ھ 1-07 ٔ e‏ 
قال الاسباب الموجبة لِلحَجر ثلاثة الصغر والرق والجنون فلاییجوز تصرف الصغير إلا بإذن وليه 
ری کے اھ وہ9 1 کک س ہے دو دو دوج 8ھ کے و7 وو ہے وق ا 3ہ سر 2و 2ے ر 
ولاتصرف الد إلا يإذن بے ولایجوز تصرف المجنون المغلوب بخالء اما الصغر ؤلنقصان عقله 
٤‏ 2ے .رر ,5 >و و و ا و 99و و ہے 9 س ررش رہ 9 رو CS‏ 0۹ب 7 
عير أن إِذنَ اولي اي اهليته» وَالرق لرعَاية حَيٍ المولى كي لايتعطل متافع عبرم وليميلك رَقبتة بعلي 
الذّين به عَير أن المَولى بالاڈن رضي بفَواتِ حَقهء وَالَجنون لايجامعه الامَلیة فلایجوز تصرَفَة بکالء آم 
یں 0 صا تس ہج ہے مت ي 
دروو ٤و‏ کے ہی َ‫ 5 ووے 5٤‏ مر ے ‏ سے روو 
اقل في تفي وَالصیي بُرتَهبُ اَم لها َي ارق . 
اھ : فر مات ہی ںک ہن اسباب سے ججرخابت ہوتا ہے (ا) صفرنی )٣(‏ رتیت (۳) جنون اور اکل پء چنا نچ اپنے ول یکی 


رر آن با بدھتھ ELAS ARE SOS‏ سط 
اماز ت کے اخ مخ رکا تصرف چائزنیں ہے ا سے ہو کی اجازت کے !خرفلا مک تصرف جات زنڑیں ے اورمغلوب ایال و کا 
تصرف جائزنٹیں ہے مخ ر کے نر فکاعدم جوا اس لیے ےک اس می نف لک یکی موی ہے مان ول کی اجازت اس کے ائل ہونے 
کی علامت ے۔ اورغلام کے لصر فکا علیم جوا زجج موی کی وچہے ہے اوراسی لیے ےک لام کے ماع ضا نہ ہوجا یں او ررض 
لازم ہوجانے سے ا کی رق یلو شہ ہو جائے ا لے ا کا تصرف نوع ہے تام اجازت د سے سے مولی اف کے ضیا ا پہ 
رای ہوجاتا ہے۔ او رون کے ساتھ اہلیت جع ہیں ہوک اہر بای بھی مال می ہس کا تصرف درس تگال ے ۔ اس کے برغلاف 
فلام فی نف تضرف کا ال ہوتا ہےادر ےکی المت توح ہو چ الپ ب لیے نلام کی اورنون کے ان فرق 2 : 
اللَاتٌ: 
[الحجر) پابندی لگاناء روک لانا۔ الم وجب( باعث نے دالے۔ ط(الصغر ہہ کین ۔ [الرق) غلاق 
عازن ارات ور نے وت رس شا وا نہ سر اض کن 
لإ یجامع با مح ہوناء مت ہوناءاکٹھے ہونا۔ :ڈیر تقب بی انا کیا جات ےک و . 
معاعلمہ یندگی کے مان اسباب: 
صورت ستل یہ س کمن چ تحص E‏ 
اورحضرا ت فقہاء نے ان تنوں کے ساتھ تین نمی اورککی لاھ کردا سے (ا) مفتی جن )٣(‏ طبیب مل (۳) مفل کر ین 
والاگوباان ٹیم کےلوگو ںکا تمرف نیس ہے۔ان میس سے تی نکابیان بیہاں کور یم می کٹل اورشحور یی ہو ہے اس 
لے ا کا تصرف چا میں ہے اور چو یکہ اس کے چھملہ امو رکا ذمہدار ا کا ولی ہوٹا سے اس اہول ال کی اجازت دید ےا 
اکا تصرف جائز ہوگا۔ اور غلا مکا ستل ہے ےکآ تا کی ضرمت می شغول رب ےل وج ہے ا ے نتر فک ط ریت اور ا ی کی کی بک 
میں ہو پا ادروم قرش دار مداتا ہے جس کی وج سے اس ےکی پان مو ہے اور جب اقرش روخ کیا ہا چاو موی 
ےت کا ابطال موا ےاپ زا مو یکی اجا زت کے اخ را یکا تصرف درس ت یں ہوگا ءا ںا اگرمولی اجازت د ےکراپٹا ن سا کے 
برای م وجا ے نو تا یکو ا یکا تصرف رو کے کیا رڈ ی ےجب ا کا مولی ے رای وکیا کر ےکا تی > ان دونوں کے 
غلا ف تون ن دو بنون جےبھی افا دت ماود موقت اس جن طاری رتا ہوا کا شرف بھی مال میس ورس یں 
ےکیوکہ اس یس نتصر فک ای یی پراش بق ج بک ھی اور لام مل با ای ضوح ہے اس ےا نک تصرف ن الال 
اجازت سے با بعد شی امیت پیدرا ہونے ےل ناف اور چا اہو چا ےلکن نون لبق 6 تر ف گج بھی اس ہوگا اوراسی سے 
گی اور فلام میس او ربنون بی فر کیا گیا لپا ا فر قکوذ کن می رکھنا ضرو رک ے ۔ 


گال ومن بَا ع من هُوْلَاءِ سینا و اشترای وهو یعقل بیع وَیقَصدَهُ 2 بالخيّار إن ن اء أَجَارَةُ! ١‏ ذا كَانَ فيه 


2 


٦‏ 2 00090 مو فيه رفي الطَبي اتون ن¿ ترا هما 


ر الہ کچھ زجج ر AEA‏ 


یری وو تی سر یمیس اٹ وَالمتونَ 
ےد ےھ روء ورو ےو 


قد يعقل البیع وب چہیں کت سی ہے الْمَعتوْہ الذي يصح وكيا عَنْ 
يره ما ينا في لاله ن قل التوفف عِنْدكُمْ في في الع أما اليْرَاءٗ قالأصل فيه الیْقَاذُ على المباشر 
رو وو تا ورس چم 
۱ .ل لب سس رر رس سی سور رڈ 
۱ و مُمَامَدَة ہس شارت ہد ما گان يغلا نتاق ب 


۳7 ت س 


ووو ۴ 


7 د ری بالشبهات ادود وَالقَصَاص فَيجعَل عَلم قَصدِ فی ذلك د شبهة في حَق الصبى وَالْمَجنون. 
ترچه: ہے جو وہ جح جا 
نے بیکا کیا واو اس کے و یکواتتیار ہےاگراس کے عق می کو ی کت ہو اور وہ چا ہے نذا یکی اا زت دیدے اود اکر ا ےا رح 
کرد ےکرک فلا مکا علق رح مو یکی وچ سے موقوف ہوتا ہے لہا مو یکواس میس اغقیار لگا اور ے او رتو کا عق دان برشفققت 
یغ سے موقوف ہوتا ےاپذااس مم ا نکیمصلوت دیکھی جا ے ک٠‏ اور بیضردوئی ‏ ےک می او ر تون کے ے واتف ہوں کے 
عت کا تق و نے وا کا عقدو یکی اجبازت پرموقوف ہوک رمنعقد ہوچاۓ او ربنون کک متا کی سے اور ال کا قم رک یکرتا 
ہے اگ چوصلح تکومضمدہ پت بیس دے پاتا۔ دی موہ ہے جودوسر ےکا طرف سے یل بن کا ہے۔ تچلی اک کتاب 
الوکال شی تم اسے میا نک کے ہیں ۔ 

اکر اکت ڑا کیا ہا ےک ہار ے ہا ھال کے قف ہوا ہے اور شرا کےا ال بی ہ کہ دہ عاد نخ ہوناہےہ ہم 
کچ ہی ںکہ ہاں شراء عاقد پر ال وقت نافد ہوتا ہے جب نغاذ پایا جا ے جیے فو ی کا راء اس پر ناف ہوتا سے اور یہاں اہلیت 
معددم ہونے امو یکا ضررہون ےکی وجرے نفاذکاگوئیامکان تی یں سے ای لے ہم نے شر یھی موقو فکردیا ے۔ 

فرماتے ہی ںکہ ہے تنوں اسباب اقوال ہیں چ راو رما تع غاب یکر ے ہیں ۔ افعال می ل نیل > یوک ایال تا اور مشاہ موچور 
ہوتے ہیں او رای رو سکیا ہا کا برخلاف اقوال کے وکا کا مت رونا ش رلت سے عحاصل ہوتا ے اور اس اتپا کے لیے 
تمر اور ارادم شرط ہے۔الا یک کوئَی ایل ان سے مرزدہوٹس ے ا متاق ہو چو ہا ت سے سا قط ہوجاتا ہو گے مرو اور 
تاک اہم می نون کے میں عر م تکوش تر 0-0 
اللَات: 

لإیعقل € ناء سو جھ بے رئا ظ(یقصد 4 اراد ہ/رنا۔ التو قف )مرا إمصلحت ٤ہ‏ مفاد_ إیتخیر 4 

انقیار لےگا۔ یتح ری) تلا کر ےگا۔ دیو جد ) وجود س لانا۔ المعتو کلم کل ۔ «[المباشر ) براو راست 
عق سانجا م د سے والا آ دی۔ ایر 3 واج ںکرنا۔ مڑیندری 4 ہونا۔ 


. کے اجازت: ۱ 
صورت متلہ یی ےک یھی اود را م ویر ہکا تصرف ان کے وی اورمو یکی اجازت پر موقوفر ہتا ےاگر ہلوگ کے دشرا ہک کے 
ہیں تو وی اورمو لی چاہیں تو ان کے تر فکو چا تقر اروید میں اراک حت نہ بھی نے اس تر ف کوٹ کر دی ۔ اور پھر ےے اور تون 
کے تصرف میں تو شفقت ا وراو ٹیش نظ ررہتی ے اس ےکی ا نک ا کرای ط رح شفق تکا موا اور 
ما کرای ا سے اورشھوک ب اکرا نکا تصرف چائزقراردیا جاے۔ 
ولابدٌ ان یعقلا الخ اک مل یہہ ےک جج اور ون کے شرف کے لے ایک شرڈ یگ ہ کر وہ دوفو کیج کے رگن 
ی تملیک ے واقف ہوں اور بی جاتۓ ہو ں کہ گے ےئ ات ےئل جا ۓگ اور شت ر یکوا کا با لگ بنانا پڈ ےگا ادر ہاں 
نون سے وہ نون مرا سے کے راتک باورا کا کے ولا وی مو ب الال د ہوا کر کے جو نکو 
“ھی کچ ہیں اود تون دوسر ےکی طرف سے وکیل بن سکتا ے۔ 
فان قیل الخ ہاں سے ایک سوال مقررکا جواب ہے سوال ہے ےک بجنون اورھی وغیرہکی کے کا توان تھے ںآ سے یکن 
ان کے شرا مکو موقو فک ںکرنا چا س یوگ شراء کل ضائط ہے س ہک دو پاش راور عافد ناف ہوچاتا جملا گآپ ےا ضا اک 
خلاف درز کر تے ہوۓ ان کے شرا کوک موقو فکردیا ہے آ خر ای اکیوں؟ ا یکا جواب د ےے ہوئے صاحب ہدا بیقر مات ہیں 
کہ بھائی شرا کےتحاتں نف کا ضاطہی بھی معلوم ےلین برنفاذ ال مباش رک ےی ٹس ہوتا ے ننس میں عق رک ےکی اہلیت اور 
لات موی ہے مالک تی او رجنون مس عت کی اہلیت یک ہو اور خلام کے عق دشرا مکو ناف کر نے میں مو یکا ضر ہے اس لیے 
م نے ان کے شرا وکوک موقو فکردیا سے ورتہ ضارا یں کی معلوم ے۔ 
قال وهذه المعاني الخ ا کا مکل ہے س ےک صض جو ناور رتیت ب تل ب ٹئوں اسیا ب قول تصرفات اورز اف عقود ےل 
ا ہیں لک نکی اون یداو تص رجات سے مال نہیں میں چان برک رخلام پاصصی با مجٹون میس سے یکیلو چ لا ککردی ت بک 
اورسخلف پان لام ہوگا کوک پلا ککردو چزمعلوم اورمشاہر ے بک ن قوی ترقا معلوم ومشا یں ہو تے اور ا نکی مجر بت 
شرب تک طرف ےم اگل موی ہے ای یتو لی تصرفات کے لے تصر فکا تصداورارادوشرط سے ما مگ ھی اور نون و کہ سے 
اراو ہکا تاق اور رتو پان ہے ای لیے ان کے اقوا یپ اکوئی ابا ریس کیا گیا ب کیرک إذا فات الشر ط فات المشروطکا 
ضار طبور ے۔ 
ال إذا کان فعلا الخ ہے تل دون الأفعال سے می ےم تج کے اسیا بے خاش افعال میں مو یں ہی ںیا ن اگ رکوئی ایی 
کنن اورا رف کن واوو ضر ا تیان مور ل ی کی تن یو می کون ےت 
یں شمہہ عر م قد کے در ہے شی ہوگا لپ زا جس ط رح ہہ سے عدودساقط ہو ای ہیں اک رع ان کے بیس عر مق رک دج سے 
. حرو راط ہوجا انی کی اور لام کےج مس قوط اک وجرسے موک کہا سےمعجر مان میں مول یکا ضر ہے الاک وای مفت بل 
ضرر برداش تک سے پر رای یں ہے۔ ای کے شراب ٹے ور کر نے اورز نا وی ر ہک ہت لگانے سے ان ھکال 


ہوگی۔ 


1 


رفالے SARL SDI O‏ عسشس 
کیےے۔ے۔ رج وعیوےی۔ ول دو”وھو۔ ت 2ر وو 7 ر ے58 e‏ اور ر و ووے ما N‏ 
قال وَالضبي وَالْمَجْنون لاخ عَقَودمُمَا لا إفرارهما لما بین ليقع طلاقهما وَلَإِعَْ قُهَمَ قول ° ا 
ت و 7 2ے 1 سے ڑے واو 3 دے و ےہر ہی دیو ے۔ے ک ہے و دہ جع ےک جو ےو 
كل طلاق راقع إلا لاق الصبي وَالمَعْتوهء والإغتاق يحض مَضرَة لاقوت لِلصبي عَلَى المَصلَحَة في 
27 0 
مان لی جاه وَلَاينفدان بِمُبَاشَرَتہء پخلافِ سَائر العقودء وَإِن اكا سيا لَرِمَهُمَا ضَمَانَة إِحیَاءً 
یح نپ علیہ وها لان کون الف مُوْج لوٹ علی الد الي يف انقب ازم عله 
وَالْعائط الال بَعَد الأشهادء بخلاف القولي على مَابیَاة. 
۱ رتجد: فرماتے ہی ںکہ پر او گنو نکا ۶۲ قر ہے اور شی ا نکا اقرارممر ہے اس دی لکی وجرسے جو ہم میا نک کے ہیں 
نیزا نک طلاتی اورا نک اتان دوٹوں یز ہیں داع ہو ںگی اس ل ےک خضرت نی اکر مق کا رشا وگ رای سر سس 
گی طلا کے علادہ برطلا ت وا مون ہے۔ اور اا ض ریکل ہے اور بیس بھی عالت میں طلا ق کت سے وات نی ہوتا 
یئک اس ی ہو ت کد ہہوٹی اور اس ہے کے ص ہو کو جانے کے اقبار سے ا کا وی میاں یوی شس موافقت نہ ہونے بر 
وا کیل ہوا ای لیے چک طلاق اور اتات دولوں ول یکی اجازت بداو موقوف ہوں کےاورددی و کی اجازت ے پائزوں 
لے راف مور ےر 
ری او رکون ن ےکوگی چ ر ضا کروی تو ان برا کا ضان لازم ہوگا تاکہ ما کک کے ت کو زنر وکیا جا کہ م ال وج سے 
ےک الا فکا موحپ عان ہوا قصر و فس ہے۔ ال یکی مال ای سے ا وا نے کےکروٹف رل کن 
رجا اوراشہ اول اتقض کے بع رکو وار ی کر جائے ۔ برضا ف قوی تصرف کے جیا اکم یا نک کے ہیں۔ 
اللغاث: ) 
[الصبی( بے المجنون) دواد ہاگلں۔ إعقود) معاللات۔ یتمحض ) خاس ہوناء جرد ہونا۔ 
إمضرة 4 لقصان _ إوقوف علی ی ہونء اورا ککرنا۔ ڈسائر العقود) با تمام معالات۔ ماتلف ‏ ضا جکرنا۔ 
طانقلاب چ پا اکھانا _[الحائط المائل ن ہوئی د یوار ہیی چول لوار ۔ ۱ 
© روی معنی هذا الحدیث ابوداود رقم الحدیث ۳۹۸ والنسائی رقم انف N.‏ 
اور پاک لک طلاقی: 
صورت ستل ہے ےک می اور بحتو نکی نہذ طلا وا اور تافز موی سے اورنہ ہی ا کا اعا تافز او ہت موتا ے »کو 
حفرت ی اکر نے صا ف فظوں میں ا نکی طلاقی کے وا نہ ہو ےکی صراحت فرمادی ے کل طلاق واقع إلاّ طلاق 


7 0 جلر۵) DIES‏ ایا یا بر اھا م تر کے بیان شس ۹ 
الصبي۔ ا سکی دوس ینعی وکل ہے ےک باو رکون دونو م فو الم ہیں اوران کے پت فا ت ایے ہیں جو اکل لواو رکااحدم 
ہیں ال یک وکل بعد ی پاک سے یرف فع القلم عن الصغیر والمجنون والناءء أخرجه ابن ماجة عن علي كلذ ا 

1ئ نل بی کی اور ون کے وی تصرف تمصت ر ہیں جومفیر او راع نشی ہوں عالاککہ اتاق میس ا نکی 
کیت زائل ہوجاتی ے جوسراسرنقصمان ے۔اوران میں شبوت معدوم ہوئی سے ی مغاوب ہوئی ےیک وچرے وہ لزت ڑوجہ 
سے ناداقف ہوتے ہیں اود نا کی اور تاوائ کی بنا مصلحت طلا ےکی بے ببرہ ہوتے ہیں اس لے ا نکی طلا بھی شما مم نہیں 
ہے۔ برو گی یق کل س کہ ہے کے با مو ےکا اتبا رک کے ا کی طلا یا ان کے اعتا قکو ہیی نی کیا دے »کوک 
ٹی مال تر وی ہے ےتا ںوت اورقام کا سے باخ رچ کین اسے اس بات یتیک یں ےک باوت کے بعد ےکا ٠‏ 
بوجا ۓگاءپنرا یوقت کے بع کی حال کا تپا رک کے وی کی فی ایال ا سکی طلا قکونافزکر کےم جودد ا حکیش ییک کا 

وان لف الخ ا کا مال ہہ ےک اگریھی با جنون نے سیک یکوئی چز ضا کروی تو ان پان کے مال شس ضیان واجب 
موک کلف علیہاود مال ککواس کے کا بر ولوایا جاۓ او ری ونون رجگ کن مان اورک چا یکر نے سے با ہآ ہا ی ۔ ورنہ 
اکرمان نہ واج بکیامگیا تو یر الم ریگ شرا کہ تے نظ رآ میں کے اور نا قائل حاف فقا نکر یں گے ر پا یصو کان س 
تصدمعدوم ہوتا ہے اس لے ان کے اطلاف برعا نک ہونا پا ے؟ تو ا لکاجواب ىر ےک اطلاف موجوب مان ہے خواوقصد ہو یا 
کےا سپ یں سیا ہوا اس کے ٹل می دوس رای وکیا اور ٹیر گی مال ایک د+سرےپ پیٹ گیا اور وہ رگیا 
ا ا کاکوکی حضونو گی نو اکر کالب و متصدععدوم ےگ بھی بل والا ضا کن موک ای طط رع ارک ےکوی دا رکڑ یکی 
جام راس کی طر ف بھی موی زفو ےڈ ےک سست مرن کا مطالبدتگ یکیا اور اس پےگوا بھی بنا لیے پھر دہ 
دیوارکری اور یکا نتان ہوگیا توا اگ ماعب اذ طرف ےترم پک رگ دو ضاسن ہکا رع مورت د 
می سی او ربنون مدرم القصد ہو نے کے باوجودضاشن موں کے _ ۱ 


31 ب ۰7۸ 2 وي2 9 ۰ م مان ےج 2 س2 9 ر ا o1‏ ا 7 
ال اا الب رازه اف فی عق تيم يتاع | ماع میں افد في ی مو اه رعابة لجا ان بعاد 
کے۔د5 اد رن 7 a2‏ 2 ے ہے CGI‏ تھے ر u9‏ ود 
لایغرای عن تلق الین برقیتہ أو گسبه به وکل ڈا لك إتلاف ف ماله . قال فان افر بمَا رمه بعد الحرية لو د 
س سس ۶ 2 2۰7 
یاب عص سر ا ت i‏ رس گ52 َ‫ te‏ گے کس وو 
هة وروا لني ور ني الخال يقد امان ۱ أو قصاص لَزمَة في الال لانه مبقى 
و 


»إن ا قصَا 
۵ لئم عن یځ قرز لزل علو لك وََنقّة ااه ِا روي ولقوله ااا 


((لَايمْلِكُ عبد وَلَالْمْكاتَبُ َا القلاق))» ولات عارك بوجُہ الَضْلَعَة فيه لگا اهلد ولس فيه 


ووتو 


نال ملك المولى ول تفويْتُ متافعه فينفدٌ . واللهأعَلّم. 


تتمد: فرماتے ہی کے غلا مکا ات رار اس ےکن میس تافز ہوتا ‏ ےکیونکہ لام بیس اق را کی ا ایت ل ںی 00 
اعات میں مول ےکن جس ناف کی موتا نے ا او یت ا انمت 


و انال جلر(م) ت701 اکا م تر یانش € 


گا اوران یں سے پر مر چ یل مال ککا لاف ے۔ 
غلم نے اکر کی ما یکا اقرا کیا و آزاد ہونے کے بد دہ مال اس پر ازم موک کیوکہ اب اس مس اہلیت القزام پیدا ہوئی سے 

در ازال ہوا ہاور چو ںک رٹ الوت ماع موجود ہے اس لیے ن ایال اس پہباقرارلاز مکی موی ۔ اگ رفلام نے صد یا ق اض کا 
اقرا کیا تو مقر ہن الال اس پر لازم ہوگاءکیونکخون کے تلق وہ اکل م ت پہ باق رہتا ےتیک غلام کےخلاف موی کے عد یا 
تھا ٣ا‏ اقرار یں ہے۔ خلا مک طاق اف ہو ای دی لک ووسے ج ہم روا تک کے ہیں ادرای ےکآ اا اراد 
کرای ےک غلام اور مکاحب طلاقی کے علاد ہک کی چیز کے ما کیک کین ہیں اورا سل کلام طلا کیک سے واقف ہوتا 
لذا دہ ا یقارع طلا یکا ایل ہوک اوراس یش او موی کی مکی ت کا ابطال ہے اورنہ تی اس کے منا نکی تقویت سے اس لے ا یکی 
لاق :نز گی وام 
اللغاث: 

۱ دپ نل ٹک پپنا ہما عت ا - يعر ى ) غا >-0 رقبە لام كسب كال ۋاتلاف 4 
ضا جک نا۔ مبقى با رکھا ہوا۔ إعارف 4 ) ا ضارا 


خلا مکا اچ خلاف ا رار: 

صورتے ست ہے س ےک غلا اگ ریچ کا اق رارکت ہے و ا یک اقراراس تلام کےا ےکن یں ناف ہوک یکا میں اقر ارگ 
` ابیت جود ہے اوآ زاد ہونے کے بعد ای سے مقر کا مطالہہ ہوگا البتد ہے اقرارمولی ےکن میس ناف نہیں ہوگا کوت عقر اک بال 
کی ر موند ورین غلا مکی رق ہکوحیط ہوگا او راگ رط نہ موتو اس کےکسب کے تلق بہوگا۔ اور دوٹوں صورتڑں می مو یکا صان ہے ای 
لیے مولی کے تن میس براقا ناف یش ہہوگا۔ 

وإِن أقر بحڈ الخ فرماتے ہی سک ہاگ رخلام نے جد یا قتصائ کا اق رارکیا نو اھر ار فی الال اس پر لازم ہوگاء اس لی ےک عدود 
وقصا لآدمیت کے خوائس میں سے ہیں او رآ دی بہونے یس خلا مآزاد کے برابر سے اورخوفی قوت میں ووی اکل م ت پرقا م ہے 

ادا یں طط رع آزادکی طرف سے مد یا قاع کا اقراردرست ہے اک ط رح خلا مکی طرف ےکی براقراددرست اورمحتجر سے مان _ 

ُ اکرموکی خلام کے فلاف عد یا تسا کا اقرارککرے لے ا کا اتتا یں ہوگا ءکیوکہ جب خودخلام اس میں اسل ہے اسے دور ےکی 
نام یک چندال ضرورت' شائیں ے۔ 

وینفذ طلاقه الخ انم ےلما روینا ے کل طلاق واقع إلاّ طلاق الصبي والمجنون والی روات مراد ے۔ اتی 
9ئ ےن جب طا ا یکی وگ ےا اہر ےکوی ا کی طلا یکا ھی یاکک موا واللّه أعلم و علمه أتم 


444 


EAE AS سج ےی‎ BTR De alî و‎ 


7 27ے 
باب ا َجْرلِلفسَادِ 


ےون اور چہال تک وج سے نصرفا تک بنمن کا باب 


دا رہ کہ یہاں شاد سے سفاہت اور چات مراد ہے اود چو ںک اک پاب کے مآ ل صرف حطقرات ص ایی پیا وی تا کے 
تول نتر ہیں اورامام م واوا ے > یہاں سفاہ تکی وج سے ب رک یکوئی قیق ت یں ہے اس لی ےگویا مالف یہ ہیں اور 
آمل وانے مآ تفن علیہ تےء ای تفن علیہ مسا لکوخطلف فیرمسائل سے یع میا نکیا گیا ہے۔( بنا ی: (1e:‏ 


قال رة تی َبْحَْجَر عَلی الْحُر اْعَاقلِ الغ الكَفیْه وَتَضَرَفَهُ في ماله جائ وَإِنْ گان مدر 
ث ھ ۔ ہی دے ک ‏ ۶ے م 9 7ص ہے عودودھو PE‏ 4 ,9ر 
هفسا يلف ماله فما لاعَرْض ل ا ف رَلمَضْلحة رکال یرف ول رمک سا رر ل 
1 س ہے روے ودةہ 9 
الشَافعيٰ علیہ حجر ويمع من الصف في ماله انه مر ماله بصرفه لا عَلی الج الذي یَمُتَضَيْه 


اَل فَْحْجَر عليه تظرا له اعارا بابي بل الى لان لیت في حن الي احمل اير رفي حه 
غزا ‏ یع ع لم کم کر 3 بی رزو لخر ی یسیو تین تہ ولي عتا 
۱ رص وو رقو ور 


کي له ماعب اول 5 جر علي فور َو رھ لان ہی کلپ ون ِمْدار اويح 


ر ر 


لحا بالایم وهو اَذ صَرر مِنَ اتير َكَل إا إلا تفع لی حتی و گان في الْحَجْرٍ دقع صَرَرِ 
عام گالْحَجُر عَلی الطب الْجَاهل وَالْمقٍٰي المَاجنء وَالْمگاِي املس جَار یما یروَی عَنهإِذ هو دقع 


ضررا لی بای ريص لیا على مَنع لمال لان الْكَجْرَ بلع منه في الْعَقَویء و عَلَی الصبي 
لن تاج SS‏ الة افدر وَالْجَرْي على جلف 
السوء اخټیاره ونع م المَال مفیذء ان غالب السَفهِ في اهباب وَالعرعاتِ وَالصََدَقَاتِ وَذِلِكَ قف عَلىی 
الد 


تنجد: ضرت امام ابوحذیفہ لی نے فر مایا راع فو ابندکیئیں ا جائۓے 821-7 


موا پ پ 


ر SORT DYE Dw aa‏ کک : 
تصرف چائز ہوگا ار چ وہ ا سرا فکرت ہو مال بربادکرتا ہواور ے مقصد اور حت اسے ضا کرجا ہو۔ حطرات صا شین ہیوت 
فرماتے می کرای بے پابندی لگائی جات ۓےگی اور اسے اس کے مال بی تر فک نے سے روا جات ےگا 7 اود کا کی سی قول 
ے »ہوک مقتنا تل فلاف طرتے بال خر کر ےکی وچہے وہ سرف ے ‏ پا اں رشفتت شفق یکر ے اکل ے 
تصر فک پابندیی عات کروی جا ےکی جیس اہ بچ ےن یی ہوتا ہے باس سحن میس پایندی لگانا زیادہ شرو رک ےہکیوکہ جے 
ےک تہ کا اتال سے ادراق کت مق تہز رخات ے اکا لیے ا سکامال(ندرەسال تک )ا ےس دیاجاے 
او بج ر کے بغیر مال ر وکنا فی رکد ے کیوککہ پات اور جع کیٹ ےکر دہ چ ےک وہ ز بان سے ضا کرد ےگا ۔ححضرت امام امم وی کی 
دمل بی ےکرسفی کی اکا شرع کا خا طب ے اور عاق ے٢‏ لپا ای پہ یایند یں کا جائۓ TT‏ 
ہا ۔ یز ا یکی ولا یت سل بکر نے میں ا یک آومی کو مکر نا ہے اور اسے مہا کے سا لا نک نا ے ادر ہے تب سے سے زیادہ 
خط ناک ہے اہنراادٹی ضررکودورکر نے کے لے ا یکو روا شک کیا ہا ےگا۔ ہاں کہ پاندی لگانے میں عوام سے ضرردٹع مور ا 
ہو بی مولا ماپ ڈ اک پر لا برداہ اور رض ر “قلس وکیا لکراے پرد ہے وا لن پام ام ی سے مرو روایت 
کے ماب پان دی اتا اتا ہے یوت ای میں ادف ضر رکو برداش یکر کے ای 21 کیا چا تا سے اور مال نہد سے راوتا سکرنا 6 
نہیں ہے کون چجر کی زاء کی عقوبت سے زیادہ ہے اور ےے بی فا ںکرنا ابی یی نہیں ے کیہ با سے لیے شفقانہ امور اخقیار 
کے سے قا رہوتا سے ج بک سفیہ اک ب قاد وتا ے اور شرلجت نے ایک رہ ا آلہ ترت غا ےا کے س ات یم 
درو یکی ہے ذرا ا کا غلا ف شر لھ کر ا ای کے اتی رر کےفساداورخرال یکی وچ سے ے۔ اور مال نہد ینا مفید ہے اس لی ےک موا 
س بتر اورص دق یل بی بیوتو ق کا مظاہرہ ہوتا ہے اوران شس سے مرم چ تل الال برموقوف ے۔ 
اللات: 
لإیحجر) پابنری لگانا۔ السفیه) ے قوف کم قل وإ مہذر چ ضول خرجء ضا کرنے والا۔ طغرض 4 
مصلحت, فائدہ۔ إیقتضی ‏ تفاضا کرنا۔ إنظر حت بئی۔ الر شید نر مار ۔ وإسلب ) چفناء وائیں لھنا۔ 
لاھدار) ضالح کرا۔ البھائم) جانور۔ إیتحمل) برداش ت کیا جاۓ گا۔ المتطبب ہہ عطائی گم۔ المفتی 
الماجن نان وبرمعاشش سق ۔ڈالمکاری E E‏ 
کے وقوف ک> ایند ی ا ےکایان: 
صوررت لہ ےکا اک رکو یمر زا ےہ اٹل اور بائ ےو امام م و کے بیہاں اس کے تصرفات اور اخحتیارات ے 
بن لگانا ہا ہیں ےء اگر چ وہ اصراف اورنضول ‏ ر یکا عادئی واور پلا نفعت حت کے مال اڑا او ریا جا ہو یوت وہ ا سے 
ا کا مالک سے جو جا ےکرسکتا ے ۔حضرات صا کین ےتا کے بیہاں اس طر ح کی فضول خر پت یکر نے وا سے بے پایندی کنا ضروری 
سے اورا ے تغرف سے ر وکنا وق کا اہم تقاضہ ہے۔ اورک ر چے کے میں شخقت وتم دروک کی وچ ہے اسےلرفات سے 
کرو ل گیا سے ای رب سف ہک وی تصرفات سے روک دیا ما ےکا ہکبونکہ سے ےکن ٹیس لو تز مراور اسرا فکا اتال موتا ہے اور 


1 07 جلر(م) جات یک ایک یک اھا تر کے بیان مل ۶ 

رگ اس راک درا ا ماں مخ جب يتا تبز کر ے ہیں اور ای بآ مادہ میں بعلا اتی کے چھوٹ د یرک جائے۔ مر 

تفقطور پر ا سکا مال اس ےکییں دیا جا تا نی امام ا م ولٹی کے یہاں 25 سا لکا ہونے ےک نیل دیا جات او رتا ت صان ےتا 

کے بیہاں سفاہ تک بقا ی میس دی جانا اب ظاہر ےک گر مال دمی ےکی پابندی ب٭واورتصر فک پابنریی نہ موتو ہز بای تصرف ے 
مارا ال ت کرد ےگا اور تت والامع با کل ےار ادرو ہوجا ‏ ےگا اپ اع کن الیدرکومفید بنانے کے لی کی اس بن کن ارف 
کروی ہب 

خضرت امام نم و کہ سب رع فص e‏ 
ات ازافایث ال کے مت راوف ے او رکیز و وا راف سے زیاد مین ہے ھا لالہ ف ہکا ضا ہے ےہ ”إذا اجتمعت 
مفسدتان روعي أعظمھما ضررا بارتکاب اأخفھما“ ین اک ری سل میس دوخرابیاں شع ہوں تو ان می ے او یکو 
احقیارکر کےا یکو رو رکر دیا جا تا ہے اس لے تب مہ والی ایی جو یہناں ادف ےا ے افققیارکر کے اتی ]شی اہ را رآ دمیت وای غا یآورور 
کیا جا ےگا اوراس بے ایند یکن عائ دک جا ۓےگی۔ الہت اگ رضررعام اور اتو ہوا اسے دو رکیا جات ۓگا جی جوا بچھاپ ڈاکٹ کی 
ڈاککی اورحیلہ ان وا غق کی دیہگری ارغاس انا نک یکرارخور یکا ضر کی لوگو ںکوشائل اورمحیط ہوتا ے اس لیے ان کے 
تصرفات بر پابندی ای جا ےگ۔ 

ولایصح القیاس الخ فرمائے ہی کرات صا ن تا کا صو ررس مت کو سف کو مال نہ و سے برق یا کنا ناش ہیں سے 
کوک مال بر قح کی نت اورتصرف ایک ز ادامر ہے چناں چ الہ بال نہ ہو ظاہر ےک اک برسفی ہکا یکی بس بوکاہ ا کے 
ظا ف ز بان وبا نک مت اصلی مون ہے اور غداداد موق ے لپا ای پہ پایندی گان انان کے لیے ذیادوگرال ہار ے اورانسا نکی 
و سحت سے مار اود ای کے ل ےگراں بار راس بے لاز مکرنامناس ب کیل ہے ۔او یھر ال کے جوائے سے پابن ری مفیر ے بای 
می کے کو سفیے اور ے وقوف لوگ عطبہاورصدقہ وغیرہ یش مال لٹا نے ہیں اورحبہ اوردق کے لیے ما لکا ما کک اور اس مرق اش 
ہونا ضروری ہے کہ د وسر ےکو ا کا مالک با ا جا کے اور ظاہر ےک کیا وج ے جب اں اون مال یں ہوا و وہ 
دوسر ےہا کک کی ہیں بنا ےگا اورخود ہن دا کا م سے رک جا ئےگا۔ 

ولا علی الصبي الخ رف کت رصھی تیا سکرنا کی نہیں ہے کوت پیر اپ عق مم سفق کش تصرفات ے ما ج ہوتا 
ے ج بک رمف کوت رت نعل ودد ےک رح اورنتصا نکا فر ق بن 7 ۶ی ےار سو 

ان اتتا راو ر یال با نکی نا ی ےا ھن او وتر رر ا ورد ی ی۲ نقصان ےلہزااں ےک روج ری رال 


کرنا درس ت کیل ے۔ 
ال وا حجر الْقَاضٍي عَليْه تم رقع إلى قاض حر ابعل حَجْره وَاطُلَقَ نه جار ان الْحَجْرَیِنه فتولى 


۶7 اَي ولف E E‏ ر2 الْقَضَاءِ ف دیع فيه 


َي مي الْمَصَاء حتى لورَكَمَ َة عد الحَجْر إِلی القاضِي الاجر از إلى عَْرہ ققطى ببطلان تصرف 


و ایا بل "ب01 اکا م تر کے بان جن ٠‏ 


َه رقع إلى قاض احَرَنَفد إبْطَالَةِلاصال الْإمُصاءِ به قلديقبل النة ا نن بعد ذلك . 


رچه: فرماتے ہی ںک ہاگ رقاضی نے سفیہ پہ پایندی لگادئی بجر اا یکا معاطہ دوسرے قاضی کے بای لابا گیا اورا نے قاشی 
اول کے ج رکو اتراو ےکر ا ےتصر فک اجازت دید فو ایک تصرف جائز ہوک ہوک تی او لکا ترفن ی تواء قا بس تی 
6 ا ی ر اورستتشی عل مو جودنہ ہوا رتا ٹیس ہوگا اوراگر ہم ا سے تتضاء مان لیس فوفس قا ءختلف ف ےاپزا 
اسے دوسرے ققضاء کے ذد سے ہار یکنا ضرو ری ےک اکچ ر کے بع دا کا تصرف ما ج با یرما جر تی کے پاس بای گیا اور 
اں نے بطلا تر ف کا فیس ل کرد ا چھردوسرے اضی کے پاس معاملہ نے جاب گیا تو وہای ای کے ابطا لکو ناف کرد ے »یوک اس 
کے ات ا جرا تل ےلپ زاس کے بعرو نف کوئیس قبو لکر ےک _ 
اللکات: 

لإحجر ) بابندری لگانا۔ طارفع الی ‏ دوسرے تاضص یکی عداات بیس مقرم ٹیل ہونا۔ الب مبلا حظ ہکیاجاۓ بفور 
کیا جاے۔ ظ الا مضاء*پ باق رکھناء جار یکرنا۔ الاجر ہی4 پابندی لگانے دالا۔ ا بطلان ہہ اگل ہونا۔ وذ پچ فی کرناء 
ا کی لک منیا النقض چا نان مکرنا۔ 
اید کے بارے سس دوقافے لکا اخلاف: 

۱ ستل ہے س ےک ایک اص نے سفیہ بے پا نکی لگادکی ین اس نے دوسرے قاش یکی عدالت یس سوام ی کرد یا اور اس تی 
نے اض اول کا یط لک کے سف کور فک اچاز ت دید تذ اب ال کے لیے تر فکرنادرست اود ہا کہ ہوگا کیک ا اول 
کا جوت رتا وہ رصیق فو کی تھاء ضا تھا کوک فا کے لیے تصومتضروری ے اور تصومت کے دوک او را وکا کی ضر ورت 
ہے اور بیہاں ان یل ےکوی چ یں ےکیونکہ یہاں توکو تھی لہ ے اور تی تی علیہ ے اور ایی یکا فو ی دوسرے 
فو ی سے پگ ہوسکتا ہے۔ اس لیے ییہاں اض خی کا ابطال درست اور جا ہے۔ اور ارم ا سے فقضاء مان لیس می سف کو 
من کمن )کرای کے لیے مفید ہے اور چو ںکہىےتضاہ اک دا 2 ہے اک کےخلاف ہے!ہنامضی عل یکی ا کوشا رک یں 
تو بھی قاضی او لکا قضاءبالججرنافزنیں ہوگا رکیوکینٹس قضا ملف فی ے او رحطلف فی قتضاءامام انعمم وو کے یہاں جائزکئیں ے 
اس لس فم لک ناف کہ نے کے ےم یرای قضاءکی ضرورت موی بی وجہ ےک ایی اض کے فیصلہ تر کے جب ودوسرے 
تا کی عداات یس بہمعاملہ من کیا گیا وراک نے بھی جج ری ہر کرسغیہ کے تر فکو ماگل قر ار دییات گویا ال کے مات ارا اور 
فی زکااتسال وکیا اب اکر کی تیر ےق کی فرت میں مہ مقدمہ جا تا ہے فو وو اس می تم نی ںکرستا اتی ا سے چا سب ےک تی 
اول او رتقا شی شا ی کے فیصل ارطا لیکو برق ر ارر کے اور ای لوی چ ید تما سے کیئال ے فضاءکا اتال لا e‏ 
وراب ال شش اورردکا انیس ہے۔ 


۳۰۰٤7‏ عير ر شدلا د ماله حتی بْلُْ حمسا وَعشْريْنَ سَنَة ان 


7 
لا ر انم S18‏ ےدک ہی (EA‏ 
ہے پ6 ہے .9 4 ہے ےر ا کپ ےس ہےے رد ھ ےر 5 در ےلاو ہو ۱ 


۱ 
تصرف فيه قبل ذلك نفد تصرف ادا بغ حمسا 


س 


4 سے گے و ےو وو و و و 
وعشرین سُنة يسّلم إليه ماله وإن لم يونس منه الرشدء 
وو۔۶ بو ٹ وگ رھ“ ن وو َ‫ 


الہ ماله ادا تہ م ت شد ول تص فا فہ, لا عله الم الف کے یا 
إليه ماله ادا حَتى يونس رشدۂ ولایجوز تصرفة فيوء لان علة المُنع السفه فيبقى مَابقي 


ہے ہے رس۔ ‏ ےہ ا ے ‏ ےج ی رہ 2 پر2 ARS‏ موجہ 2 ٤‏ 
وَصَار گالصبًء لابيٰ حَييْفَة علیہ أو مم امال عَنه بظریٔق الَدِیْب رادب بعد هذا اھر وَعَالً, ا 
کک ےو 7 پر 4 س ےے سے ےے ے2 ہے Td‏ از صسص کی ر رور ڈ2 
ترای انه قد يَصِیْرُ جَذا في هدا السَنٍ قلا اة منم فَلرِمَ الفع, ولان المَنع باغتبار اثر الصَبَا وَهُوَ في 


گے دوو پ و و‌ 1 E‏ 4 و 2 | 4 و و‌ “٤‏ سرا 
ارال البلوغ وَبتقَطع بتطاول الرَمَان ایی المع لها قال اَبْوْحَیْفَةً وا َو مع ردا ي ضار 
ل وو 


و اا چ م 0 گآ کس گت 56 وئے کی ظٗر ا وا ے کم r9‏ 
ھا ليتع امال عن ا یس باکر اليّباء تم لایتاتی انفرع لی وله ونما فرُع لی قول مَنْ ری 


حجر فينتمُتا لگا ص الجر انفد بع إا ع ورا لقاندة الجر َل ون گان ق تَضْلعۃً 
ایوا بد من حجر الي عند لان العَجر دار ين الصرر والطرء وَالْعَجْرِ رہ قلا من 


رودو 


فمل اقاي عند محَكو وطاق تجوز إا يلع َحْجُورا عندة إو اله هي اه رة لاء 
لی هدا لاف إِکا بل ردا م صَار سَفبها. 
تتجد: امام م وی کے یہاں اکر نادان کا باع مو جا سے تز ا کا مال ا ےیل دیا جات ۓگاء ہا ں م کک دہ یں الک 
ہوجاے او راک اک کرک ونی سے پیل دہ اپ مال میں تر فکرتا ےا ا کا تصرف ناف ہوگا اور جب و ہیں ا لکا ہا ےل 
اکا مال اس کے دا ےکر دیا جا اکر چرای سے داش مت ر یکا ص رور نہ ہو ۔حطرات صا خن بیو را کے ہی سک ج بتک اں 
ے واش من یکا و ریس ہوگا اس وذ کک ا کا مال اس کے جوا ےک سکیا جا ت گا او رای می تر فکرنا پا ہیی جوک یوک 
۱ ترد ےکی علت سفا ہت ہے لبذ اج بکک بیعلمت با د ےگا ال وق ت تک مکی باتقی رہ ےکا اود بی کی ط رح ہوگیا۔ 
حفرت امام کم یی کی دمل ىہ ہ ہک سف ہکواد ب سکھان ےکی خرن سے ما یی دیا جاتا ہے او راکش وییشتز ۵٢سا‏ لک مر 
کے بعاد بی ٹکھایا جات کیا دکتا بس ےکی ٢۵‏ سال یل انان داداجن جاتا ے اس لیے دو کے اور تہ د ہین مکو فا کہ 
نیس ہے اورد ینا ضرورکی ہے۔ اور ال ل ےک مال ر وکنا ین کے اش کی دج سے وتاہے اور پاش ابترائۓ بلغت کے مان ےتک ر ہتا 
ہے او رم ری ہونے کے اتک ماھ ےا م و چاچ ہے ہڈا کیسے با ر ےگا ای لے امام م ھی نے فر مایا کو کے 
دار ہوک بائ موا ھر فیک کیا ت ا یکا مال ا سےنئس وکا جا ۓگا ءکیوکنہ ہے فا ہت ہیی کے اش کی وچ ےل ے۔ 
کر یاد دک ےک امام اکم ولیہ کےقول پر یہا ںکوئی س تفر نیس ہوگا بللہ قا ین جج ر(جرات صا خرن )ی کے قول بر 
ست تفر ہے چنا ران رات کے یہاں جب ات برج درست ےلو اکر وولو چزفروخ کرم ےلو اک فروش لرا نافز 


0 آنْ ابا ملر9) GDS‏ ےا LA EDS‏ 
نی ہوگا تاک اا بج رکا فانندہ ظاہرہوجاۓ او راہ اس کی کے زغاذ می سکوئی کایرت موتو مام اسے چا تر ارد بے اکل کہ 
تر کا رگن با اگیاے اور کا موتو ف ہوناا کی ہم دروک کے یں نظ ہے اور چو ںک تی چم دردہن اکر ھی تی نکیا جانا ےہا 
وہای اتی کے ساط یس صلحت دک ےکا یے اس سے کے تلق ( و یکواختیارہوتا ہے ) جو سے واقف ہوتا سے اورقص رائ کرتا 
کڪ ۱ : 

اگرسفیہ نے قاضمی کے اس بے پابن دی عا دک نے سے ب کوگی یف روخ تکی تو امام ابو لوست کے ییہاں ےکک جا کا ے »کیرک 
ان کے بیہال یایند ی کے ے قا یکا تج رضردری ے٭ اس لی ےک ہج رض رر اورت ر کے مانن دا ہے ارچ رصرف شغققت کے بی نر 
ہوا لپا اش کی طرف سے جرش رو رک ہے۔ 

اما مھ وی کے یہاں اس صورت می لبھی ا کی تخ ہا نیش موی کیوکک ان کے بیہاں سفیہ کور ہوک بی با موتا سے »کیو 
تچ کی علت یں سغا ہت مہا کے در سے یس ہے۔ائی اختلاف پر یر مکل می سے جب لام بک دار کی جال ٹس با ہوا پھر وہ 
اللَات: 
طابلغ پ4 ےکا ا ہدنا۔ فار شید پچ مگعدار۔ ینس کو ں کی جاے۔ جال شد 4 کہ داری۔ السفہ) بے 
وقونی۔ طالصبا پ4 ہین [التادیب 4 ادب صلا نا۔ ڈاوائل پچ ایتراء یں۔ تطاول الزمان 4 ایک ابا زمانہگزرچانا۔ 
میحر ی 4لا کر ےگا۔ [محجور 4ں ب پاندی لگ ی ہے۔ [توفیر ہمہ اکرنا۔ ل[الضرر بی تصاان۔ 
بے وو فلا ما لکب دیا جائۓ؟ 


صورت ملہ یہ ےک امام ام سفیہ تر کے قایس ہیں ء اس لیے ان کے یہاں سغی ہکا تصرف درست اور ہا ہے۔ ربا 
سارح اموا کا تو جب ووسفیہ ۲۵ سا لکا ہوجاۓ نو جضرت الا ہام کے بیہال ا یکا بال اس کے جوا لن کرد یا جا ئے خواہ ال سے 
تل مندروں وا ےکا مک صمدور ہو یا نہ ہو۔ ال کے برخلاف حطرات صا کین تا کا لک ہے س ےک ج بکک اس سے واش 
مند یکا دوس موک اوراحنماہافعال و کات سے ووگی طور ہکنار ہک ہوگا ال وش ت کک نہذ ا کا مال اسے دا جا ےگا اور 
نی ا کا تصرف محر ہوگا اکر رد چٹ کی ۳۵ سا لکا مو چا سے ءال لی کہا کا مال دو کک ےکی علت ا لک ماقت سفاہت ہے 
باج بتک بیعلت قائم ر ےگ اس وق تک اسے ہیی ےکم میں شارکر ہی کے اکر چہ وہ پچ فی ہوجاے اک ط رح فی شش 
جب کک سنا مت وحماقت ر ےکی اس وق ت کک ووسفیہ بی ےکم یس رہےگا۔ 

ولأبي حنیفة الخ ضرت اہم م ول کی دل ہے س ےک فلا مکا مال صرف سفا ہت اورجماق تک دجہ سے ج ینیل ر وکا ہاج 
یلگا سے تہ یب وط ر تہ اور اب سکھا نے کے متقصد ےکی اکا مال رہکا جات ہے اود اد ب سکھان ےکی ایک معلوم اور ن رت 
ہے اود اہر ےک ٢۵‏ سال کے بعد انان بال سے دالا ہوجاتا سے اور اد بک کے جا کے سکھانے کے تاک بوجاجا سے او رتش 
لوک و اس عم یس داوا ہن جاتے ہیں اس لیے ای ر کے بع را کا مال روکنااس کے تن می نلم اور ناانصاٹی کے مترارف ہوگا اور 


9 آنْ ال جلر() وک ڈور BEER‏ امام ہرک مان یش _ جا 
یں ٢وک‏ اوراسے مہا ادر پچ رق لکرن دست کل ہے کیرک صا کاٹ لیخت کے ابا مر ےتک موتا ہے او رپ ررفۃ رف داز 
شت ہو جاجا ے اور ۲۵ سال میں نو ا سکاوجودی مٹ جا تا ےلپ اا عم ری لک بھی حوالے سے درست ہیں ہے۔ 
بی وج ےک ہاگ رکو ڑکا داراو رز ہک ہوکر اخ ہوا چھردوسفیہ م وکیا تو صرت الا بام کے بیہاں ا کا ما نیش ردکا جائۓے 
گا کیہ بیسفا ہت اش مہا کی دج ےکی ہے اور اب ال پر درس کا ہے ۔ 
ثم لایتاٹی الخ اس کا ال ہہ ےک ہام تم لٹ کے بیہاں سغیہ پر درس ت نیش ہے اک لیے ئن اورشراء رہ کے 
مال ان کےقول برتضر کی یں ہیں۔ ہاں صا یں ےتا کے یہاں چو ںکہسفیہ پ تج رانا درست ےلپ اسفی کی کی ان کے 
یہاں اف ہوگی او راگ اکم وت اس کے نفا سک کت اورنفعت ےگا تو اے ناف کر ےگا ور نز ند 
ولو باع الخ اگ ری سغیہ نے ای کے فیس جر سے یی ےکوی روخ کی تو امام دیوست کے یہاں دہ کج ناف ہوگیء 
کوت جرح اورنتتصان کے مائین دائر ےی تج رکی ورت مس ا کا عقد ناف یں ہوک اورا یکی فروخ یکر وہ چ رض ب ابن ای 
کی کیت میں ر ےکی یکن عدم مج کی صورت میں عق اف وکا اور ا کی یز اک کی کیت سے خا ہوجاے کیت جا ۓ کیت 
میس اس کے س ات شخقت تمت ہے میک نچ عفد کے جوانے سے ا کا قول رہکرنے میں ا کا شر ہے او چم میں صرف د شفقت پٹ ل ظر 
ر ے ابا قغاۓ تاک کے بی تج را یت یس ہہوگا۔ اس کے برغلا ف امام کہ وی کے بیہاں ضا سے تی سے پیل بھی فی ہک کے 
تاف یں موی ای ل ےک عدم جواز اورعدم نفاذکی علت ان کے یہاں سفاہت ےجہل اتنا یکی موجود ے اس لکل امنا کی 
ا لکی کے اف زس ہہوگی۔ ا یلے بی اکر سفیے بححالت باوخ ت بھی دارم وکیا تھا کرو د سا ہم تکی طرف کو رکآ ی تق امام ابو یسفن کے ییہاں 
قاۓ تاک کے اضر وہ ہجو رکہیں ہوگا یوت محالت بلغت دہ زمیک ہو چکا سے ج بک ابا مہ بای کے بیہاں سابقہ سا ہم کو 
و کے ہوۓ ا بگھی اس برسغا ہت ی یکا م لاومو 


َإِنْ عتَقَ بدا َد عِتقَه عندَهُما وَعند الشافعي لاينفذ» والأصل عِنلَهُمَا أن كل تصرف بور فيه ا فيه الهرل 


یوٹر ۴ ر فيه الْحَجر وَمَالَا اہ لآ السَفْيْه في م مَعتی الْهَازلِ مِنْ حَيْتُ اَن لزل يحرج کلام على تهج الْعُقَلاِ 
قاع لی زازه شی اھر و عند عبت کت َالٰعتق مما لایوٹر فيه الْهَزْلَ فيص 


صل عند ا عجر بسب اون بعر الجر تنب الق حى لا بده و : 
تَصرقاته إا الاق کَالْمَرقرٴقَء راعاق يصح مِنَ الرقيي فَكذْلِكَ مِنَ ال“ في فيه وَإذَا صح عِنْتهُمَا کان 
غَلَی الْعبْدِ أن يسع فی قيمته ت ته» لان الجر لمعت التظر وَذِلِكَ في رَد العتقء ء إلا آنه م متکڈر قي يجب رده برد 
َة گن في الجر علی لر ون حكر مما آهب ب السعَاية لاتها لو وَجَمَبُ إِنَمَا جب 


علیہ َال نا قود وجرد ب بی شرع ر يڪن عبر له تقء ولو دير عَبْدَه جَارَء انه يجب 


٦ 


9 نایا بر بد6 RESIN‏ ام ےا( 


حى العتتي قيعتبر بحَقيقته إل اه ليجب السَعَايَة مَادَام م الى ياء لات باق على ملکه» ودا مات وَلَمْ 


م بحقیفت؛ ‏ 


ین ب نہ سی م تی ہگ ایز رکز یڑ کر که قاد ایر زز 


و کر ثر ہو وی 799 N‏ 


جَاءَ ٺ جاريتۀ بوي قَاذَعَاه يعبت تسه م من گان الول حرا وَالْجَارِيَه ام وک له أنه محتاج إلى ذ لك لابق 


تنیو وق بلح بی عق إن تم يك مََها ولد ال هه ام ولي انت بمنرة ام الود لایمد 
على بَْعِهَاء وَإِنْ ماڪ سَعَث في جَمیٔع يها ء لان گالإقرار بالْحريةء د لیس له سَهادَة ولد بخلافِ 
الفصل اَل لان الول شَامَّد لَهاء وئظیره الْمَريْض دا ادى وَلَدَ جاريته فَهَُ على هذا التَفُصيّل . 
رڑچه: ےر یہ ےکوی فلا مآ زا وکیا او رات صا ین ٹا کے بیہاں اک حن اذز ہوگا ج بک امام شاق یپ کے 
یہاں دہ تافز کدں ہوگا۔ حرا ت صا ین چا کی اکل ہہ س کہ ہرد و تصرف جس میں جزل مو ہواس میں جج ربھی مو ہوگا اوس 
س برل مو نہ مو ای میں چ ربھی مو یں ہوا اس ل ےک سفے پا زل ےن ں ہوا سے > کوک ھل مندو لک بات کے فلاف ُ 
فو ھی کو کی وج ےکی ہہوتا اورسفی ےکی ایا ی 
رو کو ھی کو جو مک زک ایل یر ےکم سفاجہ تک وجرے 
ا ہندگی عا دک نا رق تک وج سے پابندی کا نے کے در چ ٹیس ےک یکم تو کی ط رح طلاق کے علاوہ ہجو رکا یکو گی تصرف نافز 
یں ہوتا اور رت کا ق یں ےا پذاسغیکااعا ق کی ی ہوگا۔ 

ترات صان چوا کے یہاں جب فی کا اتیک ہے غلام پہلازیم ہےکہاپٹی تمت اداکر نے کے ل کا یکر ےہ 
کیرک سفیہ پر شفقت کے یش نظ پابندیی عاندکی جا ہے اورشخقت اس وف ت نف ہوگی جب مت نکوروکردیا جا یکن ا کور وکرنا 
حع زر ے/پزا تمت دای کر کے اے واپی لین ن ہے کے م رع کے جج ریس ہوتا ہے۔ححضرت اما گج و سے ایک روات ہے 
ےک فلام پر سعا یکس ہے ءکیوکک اکر سعایے داجب by:‏ وج مت کی وچ ے واجب ہوگا الات شر جت میں خرن کے لئے 
مارکا وجب سے( کن کے لے )۔اگرسفیہ نے اپنا لام ب مھا دیا ت ہاگ ے > ھوک تہ یرت حن اہ تکر می ے ادا 
عت نکوحقیق ت حن تیا سکیا جا ےک کن ج ب کک مولی زندہ رکا اس وق تکک مد ی پر سعا ہیں داجب ہوگا کیو مد برای 
سیر مو یکی کیت برقا سے ۔ ہاں جب وہ سفیے رگا اورا ےش کا اظہارکیل ہوا تو ہہ براپٹی بد برانہ ست کے ےکا یک ےگاء 
یوک بد را موی کیا موت ےآ زادہوا ے اور إوفت بن وید برا اما +وگیا ےل بر کے بح رور ے ا ےآزاوکردیا مو۔ 

اگ رسغی بو رک پات یکول ڑکا ہوا اورسخیہ نے ال کا وکو یکرو یا تقو وول ڑکا ای سے غا برت الب بوک او رآ زا ہوگا اور پا نکی ال 1 
ام ولد موی رسف ردا ی سل باقی رن کے لے اتیل کی رورت ہے اپ اتیلاد کے تفای ا ےکک ورن کے ساتھ لاتق 
٠‏ کرو اگیا۔ 

اوراگر بان ری کے ساتھول ڑکا ن اورسف کرد ہا کہ یمیرک ام ولد ہل دوا A‏ ےک 


۶ پک 


1 ابا 027 اک ARA‏ 1 اکا تر کے بیان مج چا 
نی ہوگا اور اکر فی مرجائے فو دہ اپٹی پھر تمت کے یکا اک ےگیء اس ےک (سفیہ کی طرف سے ) استیلا رکا دوگ 
یت کے اتقرار جیما ہے اس لی کہا باندکی کے پا لے ک ےکی شہادت یٹس ہے۔ برغلاف بی صورت کے ہکیوکہدہاں بچ باندیی 
کےام ولد ون ےکی ول ہے ا کی روہ م یل ہے جو میں اموت میس اپ باندی کے چے کے نس ب کا دکو یکر ےک وی ای 
ال ےر 
اللاث: 

نفد نافز ہوناء معا لے کا ار مل کک با إیوٹر 4 مور ہونا۔ الھزل) مرا زات a‏ ۹ 
٠‏ پاند ۔ نهج 4 يت طاتباع الھوی )4 خوا کی پروی ل[مكابرة العقل ) بث دع ھریء »کور - الرق 4 غلاق 
ظالمرقوق )غلم فڈیونس کو ں کی جانا مدبر 4 دہ غلام ےآ قا م نے کے بحا 0 


۱ فی کی طرف سے لا مآ آزادی: 


مورت مت یہ س کاک راود پابندی عا تد ہو نے کے بحدسفیہ اپناغلا مآزادکرتا ہے و ہمارے ییہاں و وکن تانز ہوگا عبارت 
مش عندہما اط سےا یقت بے ہک ام نم بے یبال بھی بین انز ہوگا رامش کے یہاں بین فز 
یں واو به قال أحمد وهو قياس قول مالك۔ (بنایه) 
احا فکا ول ایک شا ی سے اود دہ یہ ےک جردو تصرف جس ن پل موڑ ونا ےن تقر سے جزل ان 
ہوا سے اس می کی با ہوتا سے کہ ٹہ رپ رکی با ی کر سے اور می مکی اس میں سف اور پازل دونوں برای ہووت میں لزا 
ہزرل او رر دونو کا کی برابر ہوگا اور چو ںکہ پر لحن کے نفاذ سے اح ہیں ےلپ زا ری نفا ز7ت سے ماع نیس ہوگا اور پازل 
سکیطر سف کا حن کی ناف اور جا مز موا 
ححضرت امام شاف ای کی ول ہے س ےک ماقت او رسفا ہہ کی وج سے ج پابندگی عا ګر موی ے وہ رقی تک 7ھ رک 
جانے دالی نیش کے در چ یش مو ہے یں ط ررح تق ور ے خطاب اونلف ت یں کے جاتے اک ط رح فی ےکی 
زی زا لیس ہوشل اور چو کہ رف کا اتان ی ج سے اس لیے سفی ہکا اعتا ق کی درست اور تاذ کی ہوگا لیکن مارگ 
طرف سے اکا چا ب ےکن رت کا اق اس ویر رست کن ےکنا کٹا اور کقیز شس دوضرے لی مرق ےک ۷ا 
"٤‏ 
عق ری کا را قرف فا ہے اس کے ظا ف سخ تمرف مک ددسر ایس ا کیک اس برا ی کی 
شفقت کے لے پابندی عا کی اتی اپ اسف ےکا اتتا ناف ہوگا اور اسے ر مق برا کر اشلم ہوگا۔ 
واذا ص الخ فرماتے ہی ںکہ جب مار ے ییہاں سف کا اا درست ہے نو فلا م ت کا کا م ہے ہ ہکوہ حت سے روپ 
کاسے اور ایی تمت سف کو اکر سے کیونکہسفیہ ہے بر متا سے شفقت پابنلدی عات کی جا سے اور یہاں قت اورصورج شفقت ہی 
کا ےک ن کونافز کر ےا یکی کیت (ظلام)اسے وای کروی چان لین فان وت ثلاثة جدهن جد وهزلهن هزل 


(AEA BRE درم کڈ ہی‎ ai 
الخ کے پیل راس اعا قکووا یں لدنا وذ ر ے» اس لے فلا مکی تمت ےکر مجنا فی کے سا ہم وروی وج رخوا ہی کا ظا ہر ہکیا‎ 
۱ ٠ ہاگ‎ 
وعند محمد وش الخ امام زی سے ایک ادایت ہے ےک صو رر ستل میں فلا م ن ر سعابرکں ہوک کیرک یہاںمتق‎ 
ایک ہی ہے اور اک کے لیے عایے داجب ہوگا ج بکش ریعت یل ورمع کے نی سعاب واج بکیا گیا ے اس لے ہا یجاب‎ 
اھاب شرع کے خالف ہوگا اور درس کال ہوگا_‎ 

ولو دبْر عبدہ الخ ا یکا ماگل ہے ےکہسغیہ کے لیے اپن غلا مکو مد بر بنانا کی چا سے کوک جب وو تقیقت اعا یکا 
ا لک ہے وج اتتا کا برج اوی با کک ہوگا ادرسفیہ بد کی رعایت اور شفقت کے یی نظ را سک موت کے بعد مد رمعا بے 
واجب ہوگا سفیہکی زندگی اور حیات میں اس برسعای ہیں ہوگا ءکیوکہ ا کی گی ٹیش و بد بر ا کالوک رےگاء اتد اس کے 
ھمرنے کے بعد ب ہو ےکی الت میس دہآزاد ہوگا ای لیے بح داز رک سفیہ ال پرسعايداجب ہوگا- 

ولو جاء ت الخ ستل ہے س ےکہسغی ہو دی با دی ای ےل ڑکا نےکر ی ارسق کے وی کردا کہ ی کا مرا ےلو وول ڑکاسفی 
سے خابت السب ہوک اور چو ںکہ با آزاد ے لیڈ ابا یآ زاد ہوگا اور ا یکی ماں سفی ہکی ام ولد موی اور ای ما لے یس سفی کو 
رشبد ما نکر ا یک سل کے تحفظ اراتا ءکا فیص لگردیا جا ۓگا۔ اور اراس پاٹ ری کے ساتجھ مو جو وت ہواورسفیہ اس کےام ولد ہونے 
کا ہوائی اورخیالی دوٹ یکر ےلو یہ وکوک درتقیق تآ زا کر نے کا دوک موک ادراب بن با نکی ام ولد کے در سے مب ہہوگی+ ام ول یں ُ 
مول ای ل کہ ہا ں ڑکا سے اورا کی شہاد تفقو سے_ اس صورت ٹیل مولی کی موت کے بعد باندی اتی تمت کے بقدر 
کن ا و کیل صورت میں اس ب سما یس ہا اس ل ےک کےکاوجددادرمولی سے اس کے ` 
بک شوت باندی کے لیے ام ہو ےکی شہاد بھی ہے ادر کے کے ہوتے ہوئے دوسرے ےن کے ارطا کی وسل بھی ے۔ 
اورووسرکی صورت میں“ نی چ بل ڑکا موجودنہ ہو اس کے ام ولد ہو نے کا وکوک اکآ زادگی کے اترا کی طرحع سے او راگ رسخیرمولی 
اس باند یکو زا کرات ا نکی پرسعا ی لازم ہوتالپذا او کا قر کر ےکی سورت شی بھی با نکی پہسعابی ازم مو 

ا کی شال ای ہے بے م رٹل مد یون ے چنا اک میم لین اپنی با دی کے تلق ہنا ےک یمرک ام ولد ےا ہے وکیا 
جا گگاکیلڑکا مو جود سے انیس اکر ڑکا مو جو و وتوب تک پر سعا یس ہوگا اورک رلک نہ موتو مو یکی شوت کے بعد اس برسعا ر داجب 
ہوگا۔ ای ط رح صصور ت مسل می کی جرا ں ل ڑکا ا ان کان سرن اک سی 
ال وَإِْ َرَج اة جار نُه لان لایوٹر فيه الَهرْلء e‏ وان سی لھا هر 
جار من مقار مر يعلق انه من صَرُوْرَاتِ النگاج بطل المضل» أنه اضر ور فيه وهو ر الام ب بالسَسْمِيَ 
وله نظرله فيه فَلمْ تَمِحٌ اة قضَارَ کَالْمَرِيْض 7 لوت وَلوْ عَلَقمَ بل الذُعَزْلٍِ با وَجَبَ لھا 
تال ھا ےتا یں شر ۱ ۳ ا 


واحدة لما بینا. 


yy‏ ابا SOFA DIOR DE‏ صص سب 
ترچمه: فہاتے ہی ںک اکر فی سے سی عورت ے کا نکیا ا کا لاج جا س کیرک کا ی بل میں سے اوراس 
لی ےک ہ ناب جوا اصلیہ یش سے چ اکرسیہ نے اس کور کا نشی نکیا مرل کے بر رم کا تمہ پا جج کوک 8 
یا کی ضردرت یش سے جرش سے یادن ال مکی کو دک رور تکل ہے اور بی یادیک یکول مکر نے سے 
لاز مآ سے کی عالانکہ ای میں سغیہ کے تیر ش خفق ت یں ے اس لیے زیر بی میس موی لزا ےس عمق اموت کے م ری کی 
رع ہوگیا۔ اگ رسغیہ نے اپ مکوح کے سا دقو لکرنے سے چیہ اسے طلا دید یا سفیہ کے مال میں ا سںعورت کے لیے صف 
۵ "۶ ےق ہت وو ا ادن ا 
حورنوں سے نا ںگیا- 
اللغاث: 
تزو ج نکا ںکرناء شاد یکرنا۔ طاجاز 4 درست ہونا۔ ب الھز ل کے نرا فطاحوائج 4 رور یات ۔ طاسمّی 4 
مقر رکرناء نٹ ےکرنا_ فإضرورات النکاح )ہہ کار کی لاز چزیں۔ فا العسمیة ہہ نام رکا اربع نسو ة4 پا رورمل _ 
لإنظر تي 
سفیہ کے لیا اعم : 
ستل رید ےک اکر فی کو رتا اا کا نا درست اور جا ہے ؛کیوکہ کا جیا ت انسالی 
کا جزدلا ینک ہے اور ہرمردکی ضرورت چ اور اح ضرورت ے اپزا E‏ ا و ں یشرع 
0 +)وھ+۶ نت کی کی N‏ 
زا ست رکیا ہواورریشل ۷ رار ہو ال چھ راک مب ری این تی گی او نا کی کی ہو و مل کے کی 
نا کی ایک دل ریا ہ کہ رل مکاح سے مان نیس ہے لہ سا رضا یم ےکی رنیم فا ہت بھی اح سے ماع یں ہوگی اور 
سفیی کا کا درست او رجات ہوگا_ 
وبطل الفضل الخ فرباتے ہی ںک شل ے یاد وہر بنانے ٹیل سفی ہکا تتصان سے اور اس ےن میں شذنقت اظ رکا 
فقران ےا لیے ےم رض اوت وا ےم ربل کے مب ر نکر ن کی صورت میں ہین لک 02 ارد جات ےا ی طرح 
سفی کیا ین یی یکین ی ا ارمق رار ال موی _ 
ولو طلقها الخ تہ یہ سب ہک اگ رسغیہ وقول اورخحلو یھر سے پسلے ا یکت مو حہرصاد کو طلاقی د یر تا ےت مکو مہ 
ل TPS‏ مر ر ی رن کرای سار ات 
کی ون وار موی ۔اورسفیے نے خواہ ایک عمق ٹل ای کعورت سے اکا کر ے با چا رگورتڑں سے ایک کی عقر بل کا کر ے یا پا ردن 
الگ انگ عت میں پچارعورقوں سے کا حکرے ہبرصورت ا کی تلود م ہل یکی ن موی خواوش ری ہو یاد یہائی کال ہو إگوری۔ 


ہے5 رود و و ر9 


مر 9 7 ۶۶ 3 237-7 کہ کے 7 ے‫ ج 
قال ويخرج الزكوة من مَالِ ا سينا واجبة علیہ قق لی اواد وَرَوجَی وَمَنْ تب فقت عَليِ 


سش٤ ع‎ _ SARA SSIES ai 


ہے 92ر یپ ى و و رت 
ِنْ دَويارحايه »لان ن اِخْیا ءَ وله وَرَوَجَيه من خوازجہء الفاق على دوي الرٌجم راجب عليه حف 
س 2وی وو ۶ د1 64 


لقرابه» الف لابمطل حُقوق التاس إل أ القَاضِي يدقع رر الر وة اليه ل ليصرقها إلى م مَصرفها انه لاب 
دع ا رگ ہے د ردے ATE‏ 
من نت لگنا عبادَة لیکن بَبعَتٌ نت امتا عه گي يضرف في عَیْر وَجُهه وفي اق يدقع إلى امه لِيْصركَه 


تھا سب باق قلحا ج إلى رہ رھدا پوعافِ ما دا عَلت أو تدر َو اهر عَيْث لَالْرَمة اَل بل 
یگفر يميت وَغهارة باصم لات مما يجب یفغیلہ فو حا هدا الاب يذ امول بهڈا الطريي وله كدر 


ہے ےو ےت و 


مَايَجب ایتذاء بغیر ف فعلہ . 


تزچه: فرمات ہی ںکسغیہ کے مال سے زکوق کال جات ےکی ءکیونکہ(اگردہ صاحب نصاب ہو )ال زاو واجب سے اورال ۱ 
کی ادلاد ا کی یوک ادر اک کے ذ کی رت چرم میس سے کا ای پ فق داجب موان س بکواس کے مال یں سے نفقہ دیا ہا ےگ 
ال ےک ییو بچوں پر کہ کے ھی ز نرہ رکتا ا کی ضرورت ہے اورک تر ابم تک وج سے ڈگ بعرم مال خر کر داجب 
ہے او رسفا ہت لوگولی کے توق با لی سک۷ ری فوراپ a‏ سنہ بت تر 
اس ما لکومصرف زکوۃ مس صر فکرو ے اال ل ےک زکوۃ عبات ہے اور ای E‏ کے لیے سفی ہکی نیت رد ری سے ال 
قاصی یکا مشرد کہ س ےکااس کے مہات اپنے ایک مت کو کا دے :کہ سغیہ خی حرف میں وہ رتم خر کر کے۔ اور نف کوت 
اپنے اشن ےپرد تاک ران تن می ات خر کر روک یں ہے اپا ای یی سفی کی خی ت کی چتراں -- 
وت ہے۔ ۱ 
ا تک قائ چ ھی ہف تم اص رک ےکا نیک با یک تاد یہ 
ایس لازم ہوا کہ وہ رو سے رک اپن یم اور ما رکاکفارہ ادا ےگا ءال ل کہ یہا یکفار ےکا و جوب اس کے" کرو ت 
سے وا ہے۔ اکم اس صورت ٹیل مال واج بکرد یں تو اس را سے سے وہ اپناسارامال ضا کرد ےگا۔ اور ج چز ا ےل E‏ 
ای رابتاء اجب ہے ا کا یگ میں ہے۔ 
للَات: 
پبخر ج ہہ مال جاے۔ السفیه) ہاگ نم گل ینفق ۸€ کیا جائے۔ احیاء پچ ز نرہ رکنا۔ افق 
۶ چ فحلف مان ۔ ندر نز ر مای۔ إطاھر اما رکرنا۔ یکفر پچکغفارہاداکرنا۔ امین € ابات دار یبر 4 
خر کرناء ےن الانفاق )غ کنا ` 
سف کے بال یں زک : 
کے O‏ سط تک نُو لاو تاب 
ے اے مصارف زک کو یرس ےءکیوئک زوج عبارت ے اورعپاد تک ادا 2 کے لے نیت فرط جال 8 ال راو سفے 2 


(LAS ARE SES D+ بلح‎ ١ر‎ 

وا کرو ینا نر ےا ی ط رع بال پچو ںکا نفقیھی سغیہ کے مال یس واجب ہوگا اور بط فقہقاشی ا ےکی حت اور اکن کے ذر لج 

قان پرفر کے اورسفیہ کے پاتھ یش نہ د سے »یوتف باد ت نیل سے اوراسے سفیہ کے بات سے خری کرانا ماسب 

۱ یں ے۔ ۱ 

وهذا بخلاف الخ فرمات ہی ںک ارف نے الل کے نا کیا کھائی ا صرق ویر کہ ےکی نہ مال یا کی یوی سے نظھار 

کرلیا تو چو ںکہ تام امورخوداں کیل سے واجب ہو ہیں اور اللہ نے واج بی ںکیا ہے ال لے ان افیا لکی دای ما 

کے ذر یں ہوگیء بل سغییہ روز ے دک کر ان سے برک ال مہ ہہونگا۔ ال کے برخلاف زکو؟ اور وغیرہ اش کے داج بکر نے سے 
واب ہیں ینا نکی ادا گی مال 2( اور پر مال خر جکر نے کےعلاودا نکی دا یکول راتک یں ے۔ 


ووت تو سو 


قال فِإِنْ اراد عَکُة الإسلام لم یمم نها نها راجبة عله یجاب الله الى مِنْ عير صلعہء وَلَايَسَلمُ 
فاضي النَقَقة إَِيه وَيسَلْمَهَا إلى قَة ءِ ِن الحا بها علد في کربی احج گي يتفه في َير ھا 


الرجهء ولو اراد عمرة واحدة لم يمتع منهًا اسْمِحْسَان اہ سس ا ی 
ا ر27۴ ہہ ووے 9 
مرو وَاحدق مِنَ الَْجء رلايمنع , من القرْان لاه ليمع ع ين فر السقر لكل واج متها ليتع مِنَ 
ا وو M2‏ سے 1 
پر ولام ن أن رت رر ہک تہ یٹ 
و بدو س ووو و 9 و او ا 9ی ور فو کی تھے ا 
لايجزيه غيرهًا وهي جزور او برق قإن مَرض رأوطى بوَصَایا في القرّب وَابواب الخیرِ جَاز ذلك في 


و ر 


کیہ بان شر فيو رذ هی حالة قاع ن اموه الولف ءار ترا وذ گن ِن اعات 


اکٹر من نذا في ك كفاية ية المنتهي. 
تنجد: اس 7 تی ا سو 0007 
فش )سے اور اس میں ا سکاکوئ یگل رن ل نہیں ے۔ تقاصی زادراوسفیہتونردے, بک کی مت عار یکواس م قد بد ے جو ام ٤‏ 
یس اس پر خر کرتارے اورسخیہ ا یکا م کے علادہ شی خر کر کے مال ضا :کرد ے_ ام رسخیہ ایک رھک نا چا ےآ ااا سے 
ر ہک سے سےجھ کیل وکا جات ےگ کون رہ کے و جوب میں حصت رات علا ۓےکرا مکا اختلاف ہے۔ برخلاف اس صورت کے جب 
وہ ایل ےزا یچ (ناچاے۔ 

اوراے ر ترا نکر نے ےکی ع ںیا جا ن گا ا ےک جب ا ےتا ار وک سے کر نان ہے نے ایک کے 
وولو ںکمرنے سے برچ اوی ت کرم ع موا _ 
اوراے بدنہ ن کیچ سکع نی سکیا ہا ےک اختلاف سے یت ہو سے ء اس ل ےک حطر ت کب ایند نگھرنٹی اڈ ما کے 
بال بدنہ کے علادہ دوسرکی یز ےکا میں ےگا۔ اود پان نے اونٹف یا گے مراد ے۔ اکر سفیے پار ہوجاۓ اور ٹر بات وطافات 


: 1وب 7 Aus! SORE‏ 
غر کر ےکی وصیس کر ے نے تھی مال شس وعییت جائز موی ہیوک شفقت اک مق ار س ہے اس ل ہک پار ی کی عالت اس 
کےاموال سے نا طاو ڈ ےکی حالت موی ے اور وصیت ابچھائی یا وا بکو کے بوڈ ہا ےم ےکفای ا انی ان ی 
زیادآطریعا تل یا نگ/دیاے۔ 
لإصنع افق رل ل با لعقۃ )حت ری قال برو تھی حایعلف 4 ضا کر نا۔ ایر ان )ایی ہی اترام 
ٹیس ن رہ اداکرنا_ 
فی کے ل ۴ : 

صورت ستل ید ےک اک رسفو 0۷280820 کنا چا ہے لوا سے رع یمر مکی اوا ج ےکی در وکا چا ےگا کیونلہ 
ا نے ف کیا ہے اوراس مس بن ےکاکوئی پات یں ہے لپا یں ط ررح زکوۃ کی اوا کی کے لیے سغی کا مال شر کیا جات ےگا 
ای رن کی اداحگی کے ےکی مال خر اک کان اور اخقزیار ہوگا۔ الہ سغر ری کا غر ری سف کو نہ د ےکر کی حت عاب یکرو یربا 
جا گا تاک فی ررد ری اخراجات سے نی جاۓ اود ا یکا رض سفراس پر تز رضرورت خر خکرتارے۔ 

رپا مت لک ر ہکا تو مر ہک دیشیت ک تعلق حص رای فقہم ےی اقوال ہیں () سنت م کدودہے (۴) فر کیہ ے(۳ )فض 
ہے اس لیے اسقسانا ایک ر ہک ادا گی سےسفیہکوئیس روکا جا ےگا ا جس ط ر ںی ری ےا کیا ما کت سے ای مرن عر : 
کے ےکی ا لکش کیا جا ےگا ۔ 

ولایمنع من القران الخ ا وج قرا نکر سے اور ہوا کے لیے بت روا 00۰ 
OE‏ سا یا جاۓ »یوک بدنہ کے تع کوٹ اتا ف کیل ہے اور دنہ کے علادوجرکی دغیبرہ ٹس اختلاف ہے مار ے یہالں 
بی می بی کا فی سے کان ححخرت این عم رش اشنا کے بیہا کرک وغیرہ سےکامننیس گا بک صرف اونٹف یا گا ےکی ری 
ضروری ے اورا یکا نام بدتہ ے ازا جب وہ پد تہ روا کر ےکا و وک یک اختلا ف کیل وگ ای لیے فی قار نوعو 02 
روکا ہا ےگا 

فان مرض الخ ہے ہی کاک ر فی مر اموت یل رفا یکا مو ں کی دی کر ے یا ص قات چا ہے کے طور پرمسچد اور 
: اط ویر ےکا م د ےآ ا کی ہہ وصیت تبان ال می نافذ ہوگی ای لی کہ جب سف کوش ریت نے مرب شا کیا ےت 
سفیہ مرلیئ پدر چ اوی مرش ہہوگا اور تھائی مال یں ا یکی ویس تک نغاذ ہوگا >کیوتک اک مقار س اس کے سفت تن ے 
a‏ لواز ک ا فی جا ا ےکی موت کے بد لوگ ا لک شو یاں اورا اتال بنا کہ بی کے او ارقم 
کے لیے وی ت کی نو بعد از مر گآ غر می اسے ال عم لکا قذاب لگا ا یکوصاح بکناب نے والوضیة تحلف ثناءٗ أی 
فیما إذا کان للغني أو ٹوابا ی فیما إذا کان للفقیر ے یا نکیاے۔(ناے:٠/۷٣۱)‏ 


قال ولا حجر على الْقَايق إ ھا گان مصیلځًا لمَاله عندتء َالْفْسَق الصَلی وَالطارِي سوا وقال الشافعي 


2 ابا NESLE O‏ ار ماب : 


ابر 


علیہ حجر علي رَجْر له وَمُقوَة عليه گا في اسنہ لهد لم س0 ےت 


ہے ےول و وو يوو ب وود د کہ وو مو2 ود ہہ رلو 
' ولا قول تعالی ان اتستم مهم رشا قادقَعوا إلَمهم امُوَالهُْ))ء الأية. وذ ی نوع رشد قیتناوله 
۶ دو ہے2 لا ے 9 
الْكرَۃ الْمَطْلقَةُ ناڈ یوین فی از کو یڈ زی کر رو ہز هره م 
مم رر ٤د‏ ۔*۔ 


تحجر القَاضِي عندَهُمًا ايتا وه قول الشافيي ي طايه بسب لعفا ذ وھو أن يَعَنَ في التَجَارَاتِ 


رد ور 


یصبر عَنها لسَلَامَةَ لبه لما في الحجر م من النظرلً لَه . 
تے فرماتے ہی ںک فا اک اپنے ال ےی ہوت ہمارے یہاں اس پہ نشیس ا جا ےکی ۔ اورا مکل میں 
فق اصلی ارچ طاری دذں برا یں ۔ ابام شال بل فراتے ہی ںکہاسے ڈاے اور ڑا دس کے لیے اس پر پایندی ھا دکی 
جا ۓگی کے فی میس ہے ای لیے امام شا ولچ کے یہاں فان ولا یت اورشہاد یکا ا کٹل ۹۳/۳۷۸۵ھ 
رمان ےک اگر یتاک تم صلا و ںکرلوتے ان کے اموال ایں دید و “اور فان سے ایک طط رح کا رش اہ رم وکیا ہے لی رانک ر٤‏ 
مطالقہ اسے شال ہوگا۔ اور اس لی کہ جمارے یہاں فا کن ولا یتک ا؟ ہے یوت وو لمان ہے لزا وو تصر فک گی وا ی ہہوگا اور 
اٹیل مس ہم اسے خاب کر گے ہیں۔ : 
جحفرات صا کین تا کے یہا ںبھی سب غفا کی وج ہے قاضی تافل پر پابندی عات دک رکا ے امام شاق ولیہ کا بھی بجی 
ول ٤ھ‏ ۶ E‏ جاتا وو لک ہونے 2 واا پگوتارنوں ے 
نہر دک پا ہو اہر ےک ای پہ پابندی لگانے میں اس کے سا تح وشفقت ے۔ 


اللَات: 
۱ جس پاندکا گان ۔ #مصلح 4 درس تک نے والا_ #الطارى موی ۔ ڈازجر 4 ڈانٹ ڈیف ی 
لإعقوبت 4 زا۔ ڈنو ع( ایک طرح +عر بت تناد ل ب شال ہونا۔ جذیغین پش یک رناہخرد بردکرنا۔ 
فان ب> با تھی کا ےکا یات: ۱ ۱ 
صورت ستل ےک راگ فان اور بدکارن اپے اسوال و س0 می :و ہار ے یہاں | سےکادد پا رر ۓ اور 
کرامورانیام د ہے کی اخقیارہوگا اور اک ب پایندکینئیش عات کی جا ےکی ۔خواہ ا کان اصسلی ہو بحر جس پیا موا ہو ہب صورت 
ال پٹ رکیل ہوگا۔ اس کے برخلاف امام شاف لٹ کے یہاں اسے زج وت کہ نے اورسزاء دی ےکی یت سے اس پر پاہنلدی ع اھ 
کیا جاۓ رض O‏ ےاورای زجری می خیش سے ام شال نے فا وکات 
کی دا یت اورشہاد تک امیت یت س۶ر مکردیاے۔ 
مارک ول فآ نکر مز لان د فان انستم منهم ”رشدا“ فادفعوا إليهم فضجم تم 
دصلا اہ ہو چا سے توان کے اموا ل اکل د ےدےے جا ہیں ۔ ا ںآ یت سے مارات لال اس ط رح ےک تا ےچ اموا ل کی 


0 ابا ہل جو ےہ۱ لک بر احا م تر کے بیان مجن ۲ 
عل رخ رکا ممروم ہونا ے اور جب رش دکا پور ہو ہا ےو صپ صراحتت شر جر ہو جات ےگا اور 7 یہاں ”ر شد“ دے 
اورنگر وکا ایک ضابلہ ہے ےک متا م اشات مس جوگرہ وتا ہے دہ ماس موتا ہہ مامش موتا اود چو کہ یہا ہا ککرہعقام اتات یش 
ہےاس لیے بک نما ہوگا اور انس سے خا کا رش ]شی صلاح فی الاموال مراد ہوگا اور چو ںک سور ہیی ستل یل فا کو سے 
اموا میں سی انا پیا ہے اس لے اہر ےکا سے امام رش کلاپ راورن ہے اس نے اس پہ اہن دیش عا کی جا ےگ۔ 

0ص 009 
سے بوتا ے ابا جب وہ ور ےک زات س تعرف(ؤاں وغبرہ اکر ےکا اٹل ہے لو انی ذات ٹل بارج اوی تر فا ال 
موک کوک ااا کک چ کا او ہیں کی اب کس ہوتا۔ 

. ویحجر القاضي الخ ستل یہ س ےک اگ رکو ی ت تال اور لاپرواہ ہے اور ان دن وخر ید ور وخت یس وھک کھا جا ا ےا 
انس یکی پابندی ارک جا کن ہے کیوکلہ پاین دی عا کنا ای ےکن می باعث شفقت ے اور رآ نکر مکی ا ںآ یت سے ابت 
ے:ولاتؤتوا السفهاء أموالكم الأایة۔ 


و 4ت 


و ایا © NES ELD GD‏ احا تر کے مان کن پچ 


َ‫ و چو ر ٹا کو 1 
فصل ف ڪل البلوع 
ےت 


وا ب کے ان نے 


ود د 


ال برغ ام بازخیةم رخال ورای 5 وء کون ل جذ ذلك قحتی يم لكاي رة س 


عند ابی عَییْقَة اء > وَبلُوغٌ الْجَاریَة بالْحَيْض والإحتلام وَالْعَبْلِ 407+ تم لَه 


ےھ 9 ہے۔ 


سبع غَشرَةٌ وهلا عند یي ية ریہ فا ا للل اة حمس رة سه كذ بَا ومر 
رواية عن ابي حَیِیفة مايه وهو قول الشافعي تم اي ي ونه في اغلام يسع عَشَرَة ست وقيل المرَادَانْ 
لی بی شیج عر ریم کدی عر ستل ریت رق لہ رلینٹ اوت2 بر 
فی بَمُض الس تى بتكمل يسع عَشَرٰة سنه آا العامة قن الو ع بارال حَقيقةء وَلَْبْل 
الخال ایکون ا مع انرا ركذا الَْیْض في ران لحب فَجَعَل كر ذلك عَلاِمَة لوغ 7 
الم ة ذلك في حَقِ اغلام اتا عَقَرة م وهن حي کان ية سع سين وَامَا 0 لو اوہ الفَاشيّة 
يا لماوع یار هما عَنْ هذه امہ وله قر تعالی (حتی يبع سء واش الصبي تَمَانِي عَشْرَۃ 
سَنةء هگذا قَاله ابر بن اس ري الله هما تابن وهلا أل ما قل فيه بتي ا : کم عَليه ليقن به 
غير ل لات رہم وَإِنْرَكُون رقص ف حه سة ديالا على الَسْرلِ ال‌رَبَكَة ایی 
يوافق واحد مِنھَمَا الْمُرَاج لَامَعَالَة. 
وی ا چس اوج کے ری سے ےو بح ا ہے 
تس۹ : ف مات ہی ںکرلڑکا الا مآنے حا دک نے اود وٹ یکر نے پر انال ہونے سے باغ ہوجاتا ہے او راگ ان یش ےکوی 
جزنہ پائی جاے ذ ام م واھ کے یہاں اٹھارہسال پودا ہونے پر دہ با ہوجا ۓےگا۔ کی حائحضہ ہونے ٭ انا مآ نے اور ما 
ہونے سے بالغ مون سے اراک ان میس ےکوئیچز نہ بای جاے تو تروس لکی ہونے پر بالہ ہگ ء ریم ضرت اام م ولے ر 
پک ان ہے۔حرات اتی یاف سے ہی کہ جب کلک چددہسا لک مرک جا یں تو دہ با مھا یں گے کی امام 


LN A سج جهر‎ SSIES e 
ا ویفہ واش شی سے ایک روات ہے اور بجی امام شای لی کا قول سچالا کے کے بارے میں امام م سے ایی رایت انح سا کی‎ 
ہے۔ ایک قول ہے ےک اس دوایت سے امام ام ول کی مراد ہے س ےک کا اٹھارہ سال پور س ےکر کے انیو میں سال میں واشل‎ 
ہوجاۓے ء ای صورت می ںکوئی اشا ف کل ہوک دا قول یہ کرای ئیں روا شف ایںہ اس ےک فوں میس حتی‎ 
٠ ایستکمل تسع عشرۃ ستة واردے۔‎ 
علامت سے باوت اس وجہ سے ابت ہو ےک لوغ درخیققت انال بی ےن ہوٹی سے اورازال کے بی رمام جو نایا‎ 
عاب ہتکن یں ہے اوری کی ابتذاء می یت بھی انز ال ب یکی طرحع ہے انان مس سے ہرای ککوبلوخ کی علاصت ارد ید یا‎ 
گیا۔ اور بلوغی کی او بدت ا کے کے میس ارہ سال ہے اورلڑکی کے من میں نو ال ہے۔ ہا ں جک عم ر سے بلوعخح کا محاممہ‎ 
_ اذ امام ابو لوست دی رہ کے یہاں عادت غالبہ ہے س ےک کے کی میس بلوغت اس وت سے مت خریں ہو‎ 
حر امام کشم ولیہ کی وکل ال ا ککاارشاد سہے یہاںک کم پچ اپنی عم رکی جن یکو جائے اور ےکی عم جار سال‎ 
یں پت ہو انی سے ۔ میں ضرت این با کی رشی اکنا کا قول ہے اور اا می نے ا نکی ماب تکی ہے اور اخ ینمی ریش تول‎ 
سب ےکم رتل ہےاپزا اس کے ی و ےکی وجہ سے اس رکم مرج بکردیامگیا یکن کورتز کی نٹو ون زی سے مون سے‎ 
اوروہ جلد با وہای ہیں لپا ہم نے ان کےعن میں پٹنوسا لمکردیاء اس ل کال پا رمو موں تل ہوتا ہے اوران ٹیش‎ 
سے کی موم سے نی طور بر مان مآ یگ موتا ے ۔‎ 
اللغاث:‎ 
م[الاحتلام) خواب۔ ف الاحبال ) عامل ہکرنا۔ م[ الانز ال شثوت کے سات کی کا خروع۔ او طی کیہ تکرنا۔‎ 
4 م[ الجاریة ہل کی م الحبل 4 عالمہ ہدنا۔ طیطعن عر کے کی سال می سکمناءابتا ہونا۔ ٹإیستکمل پچ کائل ونا۔ ڈڈاوان‎ 
ونت العادة الفاشیة ی4 عام عادت او رمول _ ذڑالتیقن 4 شی بات اسر ع4 جلری۔ #الفصول الاربعة) ار‎ 
_ صوکم۔ فلائضؤ نووا جا لائاٹ ورس‎ 
کی اور ڑکا ہا کب کے جا میں گے؟‎ 
عبارت میں لڑکی اورلڑ ک ےکی باوت کے جوانے سے علاصت اور عم رکو بیا نکیا گیا ے اور امام شاو رح رات صا ین ےتا‎ 
کے بیہاں علاصت نے ایک بی ہے الہ عم ر کے جوانے سے دوٹوں حضرات کے اقوال میں فرق سم بر تی قول ححضرات صاحین.‎ 
ےی کا ہے اور اکر کا یا لڑکی می وخ کی لا ری علامت تا جرت واو دہ سا یکا عمربران کے با وک فص کر دیا جا تےگا۔‎ 
صرت انس ریشی ار عدر ےمروک ے قال رسول الله طا إذا استکمل المولود خمسة عشر سنة کتب ماله وماعليه‎ 
وأقیمت علیہ الحدود ن جب ڑکا پد رہ سا ل کی رکو جا سے نے احا مکا مکلف ہوچا تا ے اور ای پر اقات حدکا راس کر‎ 
وجات ہے اس ےبھی معلوم ہو اک یت در ہما لک ترک کی با مو جا کے ہیں۔ ہے لوغ تکی اکر مرت ے۔ اور ادف رت‎ 
لڑ کے کے تت میس بار سال اورلکی کے تن نو رال ےا کے ےا ق رآ ں کے مکی یرآ شر یہ دحل ے ”و لاتقربوا مال‎ 


es‏ یجس ARA‏ ۶۶ے ماگ سے 
الیتیم إلا بالتي هي أحسن حتی يبلغ أشده 6م انی ری چپ یکو جج جا ال وکل اس کےا یکو 
اھ نہ لگا “'۔ بیہاں لفط اشد سے اتر لک گی ہ ےیک ین امم جن رق حضرت اہن عباس کی اٹ کہا کے یہال اشد 
سے ہار و سا کی مراد سے او راک چہ اس میں ۲۳/۳۴/اور+۳/ سا لکی عم ری بھی ردب ہیں ما ۴ سال انل ہے او جن بہونے 
کی وجرے وی تین ہے اورلرکوں کے بالتقائل لڑکیاں جلد ہبڈ ی ہوچائی ہیں اورک رست مس باو تکی راہچ یی ہیں ء اس لیے جم 
نے کیو ںکی ادف برت بلوغت میں پوس لک کر کے ا کی دتو سا ل کر وک سے اوربچلرا مال عا کشر اپ بھی تو وسال ب یکی عم میں 
اغ مو رحض رت نی اک رم وھک ز وجیت می تخ ریف لای یں جو ای ارک سب ےکن ممل ےک لی نوا ل کیرک باغ 
الا ے۔ 


م ص ےو رو 


ال ودا راق الغلام أو الْجَاریَة الْحْلم اشكر مره في لبوغ قال قد بلغت قالقول قولهء وَاحَکامَة 
گام الالِغین لان معتی یعرف إل من جھتھما اھر دا حبرا به وَلَمْيَكذِيهُمَا الطَاهر قل قَوَْهمَ فيه 
کُمَا يقل قول رأة في ا غ 7 
رز چه: زا ہہ ںک ار کی ڈگ ترب الا ام موہ یں اور بلوغت کے جوانے سے ا نکا محا شتی ہو کان ان میس سے 
ایک سے میں با ہوں تو ا کا قول مر ہوگا او ای کے اکا م بالخوں کے اکا مکی ط رح موں کے کیونکہ بلوغت ایک بای ار 
ہے اورا راا کی جاب سے اکم ہوگا اپا جب ان لوگوں نے بلوغ کی تبر دی اور تا حال نے ال نکی کن یب می کی تو اس 
سل میس ا نکی بات مت رہوگی ی تی کے علق کور یک باصت ر مون ے۔ ۔ 
اللغاث: 
لإ راھق قر یب اللو ر ہونا۔ [الحلم بلغت خواب۔ اشکل شت ر ہوہاے۔ 

قرب الل چے کے احام: 

مورت ستل وا ےک بلغت ام تی سے اور ج بک بای میں لز کے ا کیک طرف سے ا لکی وضاحت شہ ہو جاتۓ 
ال وق ت کک ا کاس ہوتا لپ زا جب لوگ با ہون کی خر د ہی اور ظاہرعال ا نکی تنالت کر ےق اکر ڑکا رو ےووہ 
پارو سال سے کا تمو اور کر کی ترو ےا ووتو ال س ےک مکی نہ موتو ا نکیا بات مان گا جات ےگا اود بات ما نکر ان کے ب 
i‏ فصل ہدیا جا ۓگا ےت کے تلق عورس تک جات ما نکر فص لکلا ہا ے یاولادت کے مرائل میں واک قول صل 
ہوتا سے ای ط رع باوت کے تلق لڑ کے اورلڑ یکی با تبھی نیل اورائل موی _ فقط و الله أعلم وعلمه أتم 


444 


(KULAN BERI SSE Du: آنْ ال‎ ۶2 


اٹ ال يسبب الي 


"۶٦‏ ہر جا 


وین او رت رخ لکی وج سے عات کی جانے والی پابتری اساب ولون اور با کا فرش کے مطالیے کے ات رش روط ہے اور ال 
حوانے سے جرع لی السغیہ کے بالقائل رکب کے در ہے میس سے اور رک بکومفرد کے بعد بیا نکیا جانا ےلب ای ہا بکوجگی باب 
الحجر على السفیه کے بعد یا نکیا گیا ے۔(نای:٭/۱۳۷) 


2 سج r‏ 2 سا f‏ ا سے 2 
ال ابو ية علیہ لا حجر في ايء وَٳا وَجَبَٺ يون على رَجُلِ وَلبَ عُرَمَاوة عَبَمَ) ۹ 
عَليْه لم اَحجر عَلَيه, لان فی الجر دار اه 5 جو دفي رر حاص کون گان مال رف 
و ۱ 
ف اکم ته وع حجر ونه جار لا عَْ تراض فیکون بالا بالنص وَلکن يَحُِْة بدا تی ييه 
ری و کو ے 9ر ےو روو 


في دی ايء حي روما لہ رقا إا علب َرَمَاہ فلس الجر َل سس 


0 


این ال رای راقرا تی برقال اجر لی الین إا جره تفر له وقي 
طا اجر تر رماي نه اهيجي ماله يفوت عَقَهُمْ . وَمَعٰی قولهما مَنَعَة من الع أن يَكَوْنَ باق 


٠‏ من تَمَنِ المۂ ای رو پر سی ہو یش م مال اِن 
امتنع املس من بيعه وَقَسَمَة بين غرمائه بالْٔحضص عِندَمَمَاء أن الع مستحق 0 +0 


PEE 


يحب لأجله قدا امتح ناب الْقَاضٍي عَتابَة كما في الْجّبْ والعتة وَالْعَبْس له لقَصَاءٍ الذَينِ بِمَا يَختارة مِنَ 


٦ 
ا‎ 
1 


وو 2 ودے 


الط يق فون ت صح الع گان إِضرارا بهما بتاخیر حَق الڈائن وَتَعذِیْب المدین فَلایکُون مَشروْعا. 

جم : حضرت امام اون ول لٹ فرماتے ہی ںکہ یس دی نکی دج ےج رلور واک ایتا اگ رک یٹس پر بت ساد ےر کے لہ 

م یس اور رش خاو ا یک مطال کر قاصی اسے قیدرک رد ےمان ای پہ این دک کے کون جم میس اس کی اہی ت کا اإطال کے 

اپا ضرر ما کو کے کے س جر ہا یں بہوگا۔ او راک دیون کے پاس مال ہو حاکم اس میں تصرف کر ے »کیو اکم کا 

تر بھی ایک طر کا مر ہے اوراس ل کہ برای تھارت ہے جوم لو نکی می ے خالی ےلپ زااز رو ےن ہے پل ہوگی الہ 
2 


3 آل اہاے De‏ فی KOE‏ انام جھرکے بان _ ) 
مام اس کے با کور و کے ر کے کاس کے ق رک اوا سی می ا ےف روخ کر ےاور ترش خوامہو ںکا ن ادا موا ے او راقو نک 
س2 حم ہوجائۓے۔ 
نرات صا نین تفر مات ہی ںک اگ یفلس رون کے رماء اس پر رکا مطال ےکر یں تو قاصی اس پر ابن ری اکر اسے کے 
اورتصرف واقرار سے روک دے تا ینا تمان نہ ہو کیرک سفیہ رشن تکی خرس سے ہم نے اسے جو رکر ن ےکو از رار دیا 
ہے اورا لت میں قر خواہوں رش فقت ے» ای ل ہک موتا ہے لوان اپنا مال ضا کرد ےاورغ ریا ہکان فوت ہوجائے_ 
او رخات صا بین بے تا ےس بسانت ےت من کت و 
کر نے سے غ رما کا کن پا نیش موتا حالائہ ان ےت کیا وج تش٠‏ کیا ہا ےلپ اجب تب سے ا کا ہن ال نیس ہوگا و 
لو وع ےن کک سکیا ہا ۓگا۔ 
فرماتے ہی کا الس اپنامال ی برقادرت موتو حرا ت صا ٹن یوو کے ہا ں ت ی ا کا مال فر وخر یکر کے ےم فلس 
کرش خواہو ںکوان کے تصموں کے بز نی مکردے ؛کیوکہاپناد بن اد اکر نے کے لیے اس پراپنا مال فر وخ تکرناواجب ےت یک 
گی نک رن کی دجرے ا یہو ںکردیا جا جا ہے اور ج مفلس وع کر کن ای اس کے انم تا م ہوک ری کر ےک کے جوب اور 
مین میں تی ان کے قا مقا م ہوا ےم کے زک کل موہوم سے اور دین اداکر نا واجب ہے اور اداۓ ولون کے لیے 
ترو رک کل ہے۔ برخلاف بوب اورگنین کے_ اورف کوت ر اداکر نے کے کو کیا جا جا ہے کک کے لے اس لیے تع 
میں ہی او ار 07 جا و تو کو ںکرنے میس دای اور ید یو ناوضر ہکا کہ دائ کا کن مو خر ہوگا اور ود لو کو کف 
ہوگی اس لیس مشرو نیس ہوگا۔ 
اللَات٘: 
غر ماء 4 ر خواوء مطالہ ہک نے دانے۔ جلاحبس پہہ تیر جیل میں ڈالنا ٦‏ ضا کرناء ب ےکا رکرنا۔ 
طأتراض ) بای رضا مندی۔ طایفاء یہ پوراکرناءاداکرنا۔ وإعساہ 4 موتا ے شای کہ امتنع 4 رکتا_ [الحصص 4 
جے۔ اناب قا متام ہونا۔ م[الجب چ مقطو رع الذکر ہونا۔ م[العنة) نامردیی۔ مالین 4 نرم۔ إتعذیب 4 تکلیف۔ 
اضر ار رف و 
کال مقرو کے ا لک میان: 
عبات مل ووک بیان کے گے ہیں : ۱ 
0( اکرو ین مقر و ہوجاۓ او رر خواو اس و رج کر ےا امام انم لے نے یہاں 
ای اس دلو نوکو کرد ے اورا کا ال ت ےکا کاب د لون کے تر ہے اد اکر ے او رای مو ا ےکور ہنا ۓ اور ہی اس کے 
الک طر کا کون تر کر ے۔ اس ل مکی ا نک المي تلم کک نالاز مآ تا ہے الاک ضر رخاس ین خرماء 
کے ےک کی ا لیت ولیاقتک ب لکرا درست یں ہے۔ اور ال بش تر فک نا اس لیے درستنجٹس ےک تصرف ایک رح 


3 اا E E‏ ا e‏ 
گی حجارت ہے اور دوسرے کے مال میس ا کی می کے لخ جار کرنا درست ہیں سے بک از رو ےن ”لاتاکلوا أموالكم 
بینکم بالباطل إلا أن تکون تجارة عن تراض ہنکمم“ مام اور ناچا ہے اور بر تصرف ایک طر کا جر ے اور اام اکم 
نپ اس پر رور وا یں بک لپا اس جوانے ہےبھی تصرف درست اور ہا رل ے۔ 

ترات صا یں تا کے بیہا ں م ہے ےک ج مفخلس ب لون کے فرماء لون تاور پابندیی لان کا مطال ہکر ںو 
قا یکو چا س کہ اس بے پابن دی اک دکردے اور اے کی ور اور اث رار وره سے کرد ےت کہ ہے لون اینا مال ضا کے 
پاسے وناو ترما ءکا صان موک کان ہے بات ذ کے شل ر ےک حطرات صا یی چیا کے کے بیہاں اک صورت میں بر لو کو ے 
تزاجا ےکا جب وش نف ےکم تمت میں ا ےر وخ تکرر پا مواور اکر وھ شل ی عم تمت می فر وخ تکرر ہا موان کے 
یہاںجھی اسے تق وشراء سےن یں کیا ہا ےکا ۔ 

(۴)اگر بو نخاس اپنا مال فوخ تکرنے پرقادد نہ ہو قاضی ا لک تیاب تک کے ا کا مال فر وخ کرد ے اور ا سے فرماء 
کےتموں کے بقرر ان می نی مکردے سے بوب اور نین اگرانی انی بیو یکو وڈ نے بر تادر نہ مول ی تددرت کے پاوجود نہ 
بمو ڑب نے تی ان کے قائم متام وکر ان تان کرد یتا سے اک ط رج صورت مت مل بھی ت ی اس مد لو نکا مال اس کےفرماء 
میں تی مکردرےگا۔ 

قلنا التلجية موهومة الخ یقرت امام ام ول کی طرف سے معظرات صا مین ےت 0,7 یا سے اور ال 
جوا بکا ماگل ہے سب ےکہ مد ون کے مال ضا کر ن کا ستل کوک اورموہوم ہے اور دی نکی ادا گی واجب سے لیا 27 د 
کے لیے تی ضردری یس ہے بلک ہہ اورت رض ن ےک ربھی دین اداکیا ہا کا سے اس لے تم درس ت نیش موک یوک اکر جیا 
ہوگی نمس نہیں ہوک اس لی کہ میس ت رض خوا ہکا عم موقر ہو جا ےگا اورمفلس بد یو کوک ی یف ہوکی ء مالا با نا ے مقہاء 
میمش رد ہے اور ج سمش روم چا ظاہرہ کک نیل موک یوک ایک میان جس دوکواریں کس ر یں ۔ 
فائك: لی لجن ل سے ےس ےتفہ لاجر ہے دی یو ناج ۱ 
بان اہر کےخلاف مواورا یکا نام ضا کنا بھی سے ۔ 


ےگ و و را نے رھ سے سر ل ےَّ چ5 ۶2 ہو ۶ و 373 9 کے EE EE ٢‏ 2 
قال ون گان دنه راهم وله راهم قي الْقَاضِي عير امہ وهلا باإجْمَاع ن دای حن الح من 


عير رِصَاه قَللقَاضِي ان ييه وَإِنْ گان ين راهم وله دانير أو على صد ذلك با 


2ے 


ڪَها الْقَاضي فی دنه 

وَهٰذَاعند آي عرلقة اق یخان القاس ن لا بيع كما في الرَوْضِ لها لم يَكنْ لِصٌاجب 

الین أن َأَخدَه جبراء وجه الإسُیِحْسَان انهم مجان في اَی رَالْمَاليَةَ مُحْحِلقان في الصورَة قبالنظر 
ہد۔ےھ-ھ۶ 


اك الَِحَادِ بْب لِلقَاضي وليه النْصَرّف وبالتظر إلى لاف یسلب عَنِ الڈائن لاد الخ عم 
E 4 7 :‏ 2 
بالشْيْهَينَء لاف الْرُوٴض لان الغرض يعلق بصُوَرمَا اينه اما قد وسال فَافترَقاء ويباع في 


۱ 031 جلر(۴) 2 SACLE‏ انام خر کے یا نیش ۹ 


الذيْنِ ارد ث ثم الرُوْض د ثم م المِقَار تا بالایْسَر ايسر ! لما فيه مِنَ الْمسَارَمَة إلى قُضاء الین مَ م راعاق 


او ہے5 ے9 


ججانب e‏ سان لات إا ل 
تید ففرماتے ہیں 7 ب97 پر درا مکا رض ہواوراں کے پاک وراتم موجوو موں نو تی ای 22 کپ بی وراتم 
کی ادانجگ یکا فی دکردے۔ کمن علیہ ہے یوت دائ یکو بد یو نکی می کے !خی ہنا ہن لی کا اخقیار ے بنرا تا یکو وا کی 
اعام کر ۴ O‏ ہے۔ اکر دن درا مکابہواور بد لون کے پا دنانی ہوں یا اس کے نکی و قاصی اس کے ذین یں ونائ کو 
فروش یکرو ے۔ رگم محفرت امام انم ول تر ٹیا کے ییہاں ہے اورنی براخسان سے ۔ قیال ےس ےک تاک اسے روخ یکر ے کے 
عرو می ہوتا ہے ای یقرش خواءکو جبرآددمال لی کا نیس ے۔ 
اتان ک نل ےک ونام وونائ می اور مات میں مت ہیں او رصورج لف ں لزا اتھا کو و بک ہو ۓ ت یکو 
ولایری تصرف ل گی اور اختلا فکی طرف نظ رک میں تو دائی سے ولا یت اخذ سلب ہوجا ے گی دونوں مشا:چتوں پگ لکرتے 
۱ ہدے - برغلا فر کے کیوئلہ ان یش صصورت اور اعیان سے خر وابست ہوئی ف0 ووا ی ےا ن 
رن ب 
دین اداکھرنے کے لے ےق دفروشت کے جا فور ھن لے اک ےآغا زکیا جا ۓگاء 
کی وک اہی یس ع لو نکی ر عات کے سا تو اتد اتکی وین یس جلر بھی ہے اور مد لون ک ےکپٹروں میس سے ایک جھڑا چو کر بای 
سب پجھوفروتفکر درا جا تے بوت ایک جوڑا کان ہے ایک قول ہے ےک دو جوڑےمچھوڑے ہا" یس ء اس ل ےک جب ود اپ 
سکپٹرے وکو ےگا تو اسے ایک جوڈ ےکی ضرورت ہوگی۔ 
اللات: 
ڑامدائن ترش دہنر۔ «[الاخذ ) لیناء وسو لکرنا ۷ و ض پ4 سا مانہ اء جوشن کے علاوہ ہو۔ پجبر :- 
زور زردی ۔ لإیسلب سل بکرنا رن _ الغرض 4 فا ترو تید اعد درام دار ادگ درب (الایسر 4 
زیادہ] ادال #المسار سر عو 
تفن: ۱ 
ستل ہے س کاک بد لون پرد راب مکا AE‏ درا ہم ہوں نے مد ین کےعم اورا سکی می کے 
بخ رقا ی ان درام سے ا کا رف و الان ےن کیک سے سے اور دائ نکو ر لون کی می کے فی راپنا ن 
لی کا ن ہے اپا یکو اس سلسلے بی اا کا ھاو نکر ن کا کین ہوا کین اکر دن درام کی کی سے مواور لون کے پاک 
دنانیرہوں پاد بین دتانی رمو اور لون کے پا درام ہو ں تو اسان قاصشی خلا گن کور وخ یک رکا ے قیا] ا فروختکرا, 
کیوکہ جب د ہن اورموجودہ مال مل اختلاف اور چان ہے وب رشن دن کے لیے ما کک اورھ لو نکی اجازت ضروری ہے۔ خسان 


ر A SRR DILL Hi‏ 
کی دبل ےس ےک دراہم اوردنانی اکر چصورج]اورھم] اف اس یں کن نق ی اور مال ہہونے کے جوانے سے ان س اتا رک ےاپزا 
اتحاد کے یش نظ رمم نے ا تسا نا تی کے لے ولا یت تصرف ماب یکروک اور اتا فکود کھت ہہوۓ دائ یکو جب رواکراہ کے ذر لے 
ال لیے سے کر دیا تک دوفوں مشا تل ل ہوجائۓ- 
نتر کے برضلاف عرو کا ستل ےلو عرو کی تق اس لیے درس ت ہیں س ےک عرو یں ف عرو اور ورت عرش سے 
٠‏ مقمہر ومطلب واإست ہوتا و 0 مدا مون ہے ان لے یکو ع شک اہاز تش موی اور تیج تقو ری 
اجازت ہوگی »کیرک کی نت و ے مق ری حا نہیں ہوا پ نو نیل متا ص رک و کے ی 
خر اورمقص کا نتصا نہیں ہوتا بی چ تقو راور پش یں نمل اورفارقی ے اذا کپ اسے ذجن میس رک اور گے پڑھیں ۔ 
وباع في الدين الخ نوراو ییے او ریا نے می سآ سای ونی ہے اس لیے مد اون کے دیو نکی اداٛگی کے لیے سب سے پیل 
قوووف ر وخ تکیا جا ۓگ پچ رع رو سکواورسب سے اخ می عقا رکا بر ے کوک ایی اک نے میس دوفا تد ہے ہیں (۱) ولون جل ری اوا 
سے ماک کے٣‏ )او نکی رعابیت ہوگی۔ اور خب م لو کا سامان فروخ کیا ہا کے تو اش ام رکا خا خیال رکھا چا ےکا سے 
اکل بوک ہکیاجاے بک ا کا لای اورض رور یات زن گی کے بتر طعام وغیرہ وڈ دیا جاۓ ت اک ہو کے بی د ہکا کرای 
ےلرروڑ پر تہآجاۓ۔ 
فائڈ: دست ےن ہیں راس ڈرلیس مض فیچ ٠ہ‏ ازاراورمامہ ویره ۔ 


قال إن رفي َالِ الَحَجر زار رمه ذلك بعد قضاء الڈیؤن, تمل بت لمال كَُ حى الاوَلِینَ 


ا ار 


یگن مِنْ إُطال حَقهم بالإقرًار لعَيْرممْ بخلافِ یکا اله ماهد ل مر لاہ رساد ما 


۰7 سے 


ار بل الجر تقد رار ونه إا حلم لم کن یق رفك الجر . قال وينقق على الْمُفْلِس مِنْ 


و e‏ 231 عو 2 9 ہو۔29 


اله وَعَلى رَوّْجَیه وده الصعَار وَدٌوي أَرّحَایه مِمَنْ يجب نفقتةُ عليه 0 خی 


(9۵۔ ي و روو او 2ے ووے 


حي الغْرمَاءء ولان حَقٌ ابت ليره قبطل الَْجْر و ا وروج مرا گات في فڌار تهرغلټ ا 
لْغرَمَاء. 
تن ھی : غرماتۓ ہہ ںک اگر یون ععال تج رکوئی اتارک ےو قضاۓ دن کے بعد ییار اراس پر ازم ہوگا ءکیوکہ اس مال سے 
پیل قرش خواہوں کا عق تخا ہو کا ے پا دوسرے کے لیے اقرارکر کے وہ اولشن کے تن کا ابطا لک لکرس ےگا۔ برخلاف ال 
اس مال میں ہجورکااقرارناغز ہوک ہکوہ بوتت تمر ہے مال معدوم قا اور ای سے ترما مکا عق تل کی ہو پایاہے۔ 

ہے ہی ںکیمفلس کے مال سے اس پء ا کی بیوئی پر اس ک بد ٹے بچوں یراو ای کے ڈوک ارعام یل سے اس یک 
افق داجب ے اك سب غت کیا جا ےگا یوک ا لک عادت اشک قربا کےا سے مقدم ہے۔اوراس لیک نقرو غاس سے" 


7 ناب جلر(7) SALA SK OX‏ کا مج رکے یانش ۹ 
علادہ کے لے ایت شد وت ے اہج راسے پا ل ہیں کرم انی نی اگ ہجود ےکی عورت سے کا ام گی مد ما 
عورت نر ماء کے مساوکی ہوگی۔ 


اللغأث: 
إقضاء الديون4 تر لکی واگ ۔ يتمكن) ردت رن ۔ الاستهلاك4 پلا ککرم 1 مر 

وابی تر دید المفلس ی کگال۔ اسوة ود با رکاشریک۔ 
حالت افلال مُل یہ لو نک اقرار:.. | 

صو رن ستل ے س ےک ارغ رون ر اور تند کی 0 0۰ ا 2 
بعد ی اق رار اک ب لازم ہوگا 0/007 و یتکور کی پاک ج وچک بال ۔ 
ہے اس مال ےخرا کا تق اتی ہو چا ہے امقر ان ےت می شال اوردائ لیس ہوک ورد کہا بک یہلا ےکا 
. حالاک ہکباب بغر پک کے درست ہوتا ہے اس لیے جب کک مھ اون غرماء کے ولون سے فارع نیس ہو جا تا ال وق تکک ای کے٠‏ 
اقرا رکوک وقاراور اتپا یں ہوگا۔ اں اکر اس ن ےک یکا مال ہلا کروی موتو ملف علیفرماء کے سات اپا تق وصو لکر نے میس 
شر یم ہوگاء اس ل کہ ہلا کک نا مکی ہے اور ا ری پر رش نہیں ہوتا E‏ کے ساتھ نی د لون بلک 
کر دہ چ کا ا بھی واک ےکا ّ 

E BE E a ولو استفاد مالا الخ‎ 

جن دیا جا ےگ کک بوتت مر یل مد قاو رای ے خیرات تا کی بدا ےا ال ارارک نے سے 
رما ای پا یں نے۴ 

قال وينفق على المفلس الخ مفلہ یی ےک یملس کے مال مس سے اہ ا لکی یوی ےچ او رن لوکو ںکا اس پرلفقہ 
واچپ ب ہے ا تماملوگو ںکوففقردیا جا ےگا > کوک افق حادت اصلیہ مل داشل ہے اور انا نکی عاحت اصلیہ دوسروں کے قوت ے 
مقرم موی ے اور چوک افق ہد وسر ےکا ثابت شر وکن ہے جواپے قورع اور وجود کے انتبار ے غر ما کے ولون ےکی مقدم ے 
ناس حوا لے ےبھی تج راس پر مو یں ہوگا۔ ہے سج 7 
ل َون لم بث ِلمُفْلِ مَل وَعَلبَ مر در رت 
امه ب بعقد ٍ کَالْمَمر وَالْگقالّةء رَفَذْ ذَكرتا هذا الْقَصلَّ بوجو کتاب ادب ب القَاضِي من ھذا الْكتَاب 


وی : 9 


قلانعیدهًا إلى ان قال و رگذلك 


0 ال 9 د 


إن لام يي حلي بيا وجب انر إلى ليره راز 
ص 2 0 ر 1 3 ےھ ہ66 ایی سے م2 عر 

تر فی لی ای نو ی کیا رز عن کک 
وَالْمُحترف فيه لمكن مِن الاشْتقَال بعَمَله بعَمَله هُو الصَحيْح يضر قله ب بُ لی قَضَاء ده لاف تَا 


انبا IOS O2‏ .یسک ے7۶ ع رظ ےم 


رور ووا دھ ورو فیعتبر 2 


7 م ر ہ98 و رو ے9 ف 
إذا کا تث لَه جَاریة وفيه ۾ وضع يمْكة ف فيه وطبها ليمع عَنهء أنه فَصَاءٗ إحُدی الحْھَرَتینِ فيعتبر بقضاء 


یک 


و۶ 9ا رد وس وو ر روو 
¢ 4 


وَلایحول بینَه بی تلن رتال بل رجہ بن اخس بز رمت شترا من اف 
والسفر لقوله عليه الام لصَاجب الَْق يد وَلسَانء ارا بل الْمّلَازَمَةوَبالِلَمَان التقَاضِي . 


تر چه: ضا ے مںپ رفلس کے ی ما لک کم نہ ہواورانس کے قرش خواہ اس ک ےج کا معلا کر یں اود دہ کہہر ہا ہو 
میرے یک مال یں (i‏ ہراس دین کےموفش ا ےک و کر ےک سیکا عق کی وجہ سے اس نے اترا م کیا ہو ےہ راو رکفالہ ۔ 
تم نے اکتا بک ی کراب ادب القاخضی میں اسل لوقتام اباب میت بیا ن کرد یا اذا یہاں م ا یکا اعاد ھک کر ی گے۔ 
اییے نی اکر لون بین شی کرد ےک تیرے پاس ال کین سے یں ا کا راستہچھوڑ دیا جات ۓ گا > کوک لیس رک اضنظا کر نا و اجب 
ہے۔اگم لون قید نا ۓے س ار وچا سے نذا سے ای می رکھا ہا ےکا رمیا وی ادم ہو جوا یکا علا یح مھا ےک سے اور اکر 
غاام نہ مولو تو ھام اسے تیر نمانے سے باہ رکردے اک وہ بلاک سے ہاسے۔ اور پش د رآ دٹ یکوقیر خانہ کا م کر ےکی 
جاز نی دی جا ۓےگیء یی ہے کہ ا کا ول مول ہوچاۓے اور وہ اپنا قرضادار نے کے ل ےکر س ہو جا ۔ برخلاف 
اس صورت کے جب ا لک باندکی ہہواورقیدخانے می کوک ایی جک ہو چہاں باندی ےم اسر یک رن لکن موتا ےمم بس ز کی ہونے 
ای جا گاء اس لی ےکم یړ دوش سے ایک ہو کو و اکنا ہے لپذراا سے دور ی موت پور یکر نے تیا کیا ہا ےکا۔ 
ریا ے سک یفلس کے قد خمانہ ہے کے کے بع دتقاصی اس کے اود اس کے تر ماء کے ما ان مال نہ ہہ بغر مء جیب شای کے 
سار ہیں اور ا سے تصرف اورسف رح کر می اس ل ےک حر تنم | اکر فی کا ارش کرای تو یت 
۱ یراو ان کی ہے ۔ ات سے اھ ےد ناد انت الکن غاد ۰ 


اللغاتث: 
لإغر ماء رش خاو مطالبہ دار۔ لإجبس ہہ قیر التز م ذم داری لیا طانعید که دوبارہ 277 و 
راس بچھوڑد ینا م النظر عت ی ”ہلت و المیسر )۲4 سودگی »شای تحر ز 4 اصاط اجتناب- پڑالمحترف )4 
صنح ت کار کا رکم ۔ لإیضجر باتک ڑا فإینبعت 4 مادہ ہونا۔ یحو ل چ مال ہوناء رکاوٹ جنا۔ ڑیلاز م سا تق سا تج 
ےر ہنا۔ یدب اھ إلسان زان ۔ التقاضی 4 تقاضاءمطالہ- 
مرش کے لیے تی ل کا م: 
سورت ستل یہ ےک اک رشن کے پا مال نہ واو رای کےخ ما ءا سے قیرکران کا طا کم میں نو ھا - زین ےش از 
تی رکرو ےکی اگ راس 0ھ "ھ۳۳۷8" اسک جود بن عق کر ےکی دجہ سے ا پ لازم ہوا ہو یل کاششن ہے 
نیا کا ہے او رکفالہ یرہ ہے ۔ پال اکر دہ اس بات پر بی ین کر دتا سےکہواٹقی میرے پاس مال نیش ہے تو اقامت بینہ کے بعد 
راو ضر ران کے اورای کے مو ہو ےت کبس وٹ ہوا تطاکرد یں گے »یوت سی رن وناب سے ہمت سے 


DIOS DL i‏ کہا lul‏ ہر 
ارشاد ے وإن کان ذو عسرۃ سس ê‏ لی میسو ة ی مس رکوموسرہونے ہل دیا اور اک سے مطا ل ےکوموخ زکرم ایی 
بات ے۔ 

ا ولو مرض 0077 الخ ا یھ 0 یار ہوجاۓ اورا کی دک بعال کر نے وا لا کوئی ناو موجود ہو 
ےق خانے تی می رکا ہے داگ رکو نام یرہ نہ ہو اسے تیر خان سے کال دیا ہے درن کردم رگیاق حم وٹ روس بک 
گرو ن پلٹڑیی جات ۓگ اور لے کے ہے م a‏ 

والمحترف الخ سے ےک کروی صنعت وقرفف می بابر مواورقید اد می کا مکر پا ےا تولا ےطان 
اےو اکا مرن گ١‏ اجاز تی دک جا ےکی یراک احجازت دید یگ ت وہ اپنا اور ا سے عا لکا خر چ چلا لگا اور اے قید 
غا کو رات اورشرمندگ نیس وی اور ہی وہ اپ ےآ پکوکول مو رکر ےگا اور جب ا کام وخیرہ کی اجات یں دی 
چا ےک ددقی نا کو ںکر ےگا ادرال کے دل پ بوچ ہوک پاد بی وکاک بھیا نا بی س ےک ہقید خاش ےک کر 

ہی فرصت یش اساب دیون کے تر تھے اواکر وا کا مکی اجازت نمدیاد ینگ ادا کک روسان اقال الصاف الاصح 
أنه يمنع من الاكتساب وبه‌قال الشافعی مايه في قول ( 0٣۱/٠۰:‏ 

پاں اگ رم فلس ھوں گی اترک مواورقید نات میں و یکر ےک چک ہو کیو ںکو یم بست ری ہونے ےک دروکا جا ےگا کیونکہ 
جب ا ےکھا ا ال دیا جار ہا سے اور اس کے پبی فک موت پو رک ہوددی ےلو ا وروت فرع پور یکر ےکا بھی مو دیا جات ےک 
اراس سے رو کے او کر سے میں اوا کی دی نوا یت کی یں ےکی اپ ابلا و جکیوں ال کے زام پان چیھراجاسے ۔ 

قال ولایحول الخ فرماتے ہی ںکہ جب مھ اون تید ان سے با برل جاۓ و تی اس کے اود ای کے غر ماء کے ما ین راستہ 
کلب رکرو ے او رخو وورمیان ٹف جاۓ کر ماء ال کے بلک لی کرای سے اپنے دیون وسو لک ریس > یوت حر نیٹ ا 
ٹش بے صاج بن نک بد لوان کے ی گے سے ادر د رہن کے مطالہکر ےکا ہن حاصل ہے اس لیے قاض یکو چا ےک اسیں ا ھن 
کی وصولیاپی ےت کر ےاورشں ہلت سے ہوکےدواپقوی دی مو کرای 


قال ََأحَذُوْنَ قصل گس یِقَمْ نَم بالجصص ليوا مَقرْھمْ في اوہ رقا ِا َة ای 
ححال بين الغرمَاءِ وينه إل أن هموا لينا أن له مال ن الْقَصَاءَ بالإفلاس عندهما يصح فلت العسرة 


م 9 روو 


او سح النظرة إلى الم رہ عند بي حَیْقَة علیہ احق لاء لاسء لان ال الله تعَالی غاد 
ورائحء ج ولا وفوْت الشهُرد على عم الَالِ لََتَعقَنْ ا إا ر e‏ 


سردم ےچ ہے اعت ر دہ ور 2ود ۶ 
وقول إا أن بقَيمُوا اة إِشَارَة إلى أن بين اسار تعر جم لی نة ة الاعسارء لأنها اکٹر إثباتاء إذ الأصل 
م ور رس 99 ی ر 9 9 و در وہ ر 
هو الْعسرة وقوه في المَلَارَمَة لَايمَنََوْنَة من التَصَرفِ وَالمَفَر ہت يدور هَعَه اينَمَا دار يجله 


2# 7ے 


في وضع له حبس فيه وو دحل في داه اجه َيب َل جس على باب دارو لی أنْ ر يَخرُج 7 


ر آنایاے 2© تی سا ہے اکا مجر کیان س  _‏ 


لإنْسَانَ لبد ان کون لَه مَوٴضٍِع خَلوَق لو امار المطلوب الک وَالَالِبٌ الملارَمَة فَالخیار إلى 
الطَالب انه بلع في حُصُوْ ل الَْقَصُودِ لاختیارہ الأضيق علي 7 إا عَم القَاضي أَنْ يذل عَليْه 
بالملارمَة ضرر بین NEE EAE‏ 
على الْمَرأة لا لامها ِا ھا من الْخَلوة بالات َلك بت امراة أمينة تلازمَها. 
نجد: او اکن کات ا کت ی ن ا 
نموت میں ان کےت وق براجد ہیں ءضعخرات صا ین میا فر ہے ہی ںک جب مام ربو نکومفلس ت رار ویر ے نے اس کے اورشرماء 
کے مان ای ہو جا الا رکف رماء اس بات پہ یفن کر دب کہم ون کے پا مال ہے کیونکہمخرات صا کین ےتا کے یہاں 
افلا کا فیصلہکرن درست ہے لپا اس قضاء ےکس ر ت خا بت ہوجات ےگ او ز مان لیس رکک اطا کر نا واجب ہوجا ےگا خضرت 
امام م بشید کے یہاں قضاء بالل فلا شف نی مون اس ل ےک اکا دیا ہواما لآ تا جا تاد پتا ہے اود ای سل ےک مال ےنم ہونے 
: اہ ا ہرکی طور ری واتف ہو کے ہیں ازا وقوف دن سک صلاحیت و رک ےکا کی نن ملا زمت کے ابطا لک وتلم کی ہوگا۔ 
امام تد وری وش إلا أن یقیموا البینة کنا اس با تکا اشمارہ س کہ مال دار کا پیک د کے بونہ سے راغ ہوگا یوک وہ 
زیاده شت ہے اس ل ہک کرت نی اکل ہے۔ اور مل زمت کے تح امام تہ ورک ویز کا کہ نک غ غل سکوتصرف او ر سے 
ٹم رکم اس با کی وکل ےک مد لون ہا بھی جا ۓخریم ای کے ساتھھ جاۓ اورخ رکم اسے سک کی چگ میٹ ہکیوکلہ ہے 
یس می ۔ اوراگر لون انی ضرورت سے اہی ےگ میس دال موت رکم ا کا ہیا 77 0 
جا بہاں ک ککدہباہرآ جائے گوگ انان کے لیے غو تک حم ضروری ے۔ 
اک رمطلوب( یر لون )عو سکواخخقیا رک ے اور طالب ملا زم کو پیٹ دک ےو اختیار طال بکو ہوگا نکی ا سکا اتی رقو وی سل 
کرنے می زیاد ہکا رآم ے اس ل ےک طالب مطلوب پر ز یادوگمراں پارراست اخقیارکرےگا۔ ال اگ اص یکو راد میق ہہ وک لاز مت 
1 ور ےمطلاوب وضرر ہوا ا یں ورک دہ اپ 77 ین بھی این م ا ےکا نو اس صورت میں ق ی مطلوب سے ضرردورکر نے کی 
خوش ےا ےق درد ےگا۔ 
اگرمردکاعورت پد ین ہو مر کوت کے ساتح ھکیس رس ےگا کی وہ اس سے ایی عورت کے سراتھ رخلور تک نال ز مآ ےگا ہا 
قاصی ایک ابیضکور تک د ے جواس کے سا تج کی رسے۔ 
اللَات: 
37 فإفضل )یہ کیا ہوامال اقال نات ڈالحصص پہ جے_ ڈالغر 0 اء برابری۔ 
طفڈس ا ی کا وان جار یکر:ا۔ العسر ة جح تی النظر 4 ول ہلت ۔ غاد پ14 نے دالا کے وقت میں _ 
طرائح شام جانے والا۔ الدفع ‏ دیناء دو رکرنا۔ ف الملازمة) ساتھ لگا رہناء پء ھا کا بإ الیسار را رک 


e‏ 2 ط(العسر ة4 گرق- و . رار رگتا۔ لو ت تمائیء لی ٠‏ ات 
ل[ الاضیق یادەگ والا _ يعت 4 دے ۱ 
ملو نک یھ اکرا: 

۱ ھ نے ا‎ NT TT TE 
اپ دین کے بدا سے بال لے نے اود کسی 2 جن دی جاۓ کک وتک سان ےنیس او رق ابر میں ء‎ 
لپذاا نکی ضولیا لی س کی سب برا ہوں کے اور یک کی ر بیس دی جا ۓگیا۔‎ 

وقالا الخ متلہ ی س ےک اکر تی رلو فلس ت رار ویر ےل جو ںکححخرات صا جن پت ے 7 چ درست 
ہے اس لیے ان کے ییہاں غرماء ز مان یرتک م دلو ن کا گا چھوڑدس اوراال ےکی طرح کا مطالبہ کر م٠‏ اس کے برخلاف 
حفرت امام م یٹور کے یہاں اض یک یفلیس میں ے اس ل ےک مال الل کا علیہ ہے جآ تا جاجار بنا سے اور اس تق يافید دور 
و انان مالدارر جتا سے شا مکوختاج مو جا ے اور رگواہی اور بیذہ ےکی افلا کی تقیقت برع خی ہوا جا سک کیہ ہے 
طا رف ا رط لکن ہے اذا ےچوس ارت یکا یا مامت تحت کا اتوس وگ لے ام 
اعم لیم کے یہاں اض یکیولیس درست اورخحت یں ے۔ 

وقولہ إلا أن یقیموا البینة الخ فرماتے ہی ںک راگ رر ماء اس جات پر بیغ شی کرد ی ںکہھ لون کے پاس مال ہے اوردہ فلاا 
کل بی بین لت رہوگ کوک بینراشجات کے لیے ہوتا سے اورانسا نکی حیشرت می سک اوررق اکل ہے۔ اب ام رک جب 
یم پر بین کیا جا ےگا وک رکا نات اور یس رکا اشبات ہوگا اس لیے یہ ہین ملتراورمقبول ہوگا_ 

ولو دخل فی دارہ الخ فرماتے ہی ںکہاکر مھ لو نکھانے ہے یا قضا سے عاجت کے سل ہک میس جائے اور ای کے با گی کا 
خرش نموت وک می غرم اوا یکا چان کر نا چا ہے بلک کے باپ رک سے ہوکر ا کا اننظارکرنا چان ای لک اند ورن خان 
لات تات سے ا تیف ہوگی ادروواپے یہت سے شور اموک امام دی سے قاصرہوچاےگا۔ اگنن بیچاہ چک 
اسے تی رک دیا جا ۓ اور دائن اہ مس کے سات کک لی فک رابنا دبین وضصو لکرنا پا ےلو ات ب یکی من او رشت کے موان 5" 
انل ل ےکہدائن اپا می وسو یکر سے کے لے اس پر با وا ےگا اورا سکی مک کی کسی تقوو میس زباد کا راید موی مان 
دائ یکی لازمت بد لون کے لیے وال چان اورسو دوہ صدت مھ ای ںو کے ای سے ش ہہ 
کرد سے یوت لوگو ںکی راحت رسای ہی کے لیے قاضی تی نکیا جا تا ے۔ 

ولو كان الدين الخ واے۔ 


ہے درد ٹہ ےر ےر ر ہے 9 ۳۲ .7 2ے ا ۱ ثے۔ E‏ .2 کو 97 
قال وَمَنْ افلس وَعِندۂ ماع لجل بيه ااه